واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


میڈیا اور مذہبی انتہا پسندی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-11, 03:44 AM   #1
میڈیا اور مذہبی انتہا پسندی
شفقت پراچہ شفقت پراچہ آف لائن ہے 09-01-11, 03:44 AM

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، تعیناتی سے لیکر آخری سفر تک شہ سرخیوں میں رہے، جب انہوں نے عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی معافی کی کوششیں کیں تو مذہبی جماعتوں کے علاوہ میڈیا کی بھی زبردست تنقید کی زد میں آگئے۔

ناموس رسالت قانون نے ایک اور جان لے لی، پنجاب کے گورنر محافظ کے ہاتھوں قتل۔ ملک کے کئی اخبارات کی منگل کو شہہ سرخی کچھ اس طرح کی تھی، مگر اس کے ساتھ مذہبی جماعتوں اور علما کے بیانات اور بعض اخبارات کے اداریے بھی نظر آتے ہیں، جو کھلے یا دبے الفاظ میں اس واقعے میں ملوث اہلکار ممتاز قادری کے اقدام کی حمایت کر تے دیکھائی دیتے ہیں۔

اخبارات کے علاوہ بعض ٹی وی چینلز کے تجزیہ نگار اور صحافی بھی سلمان تاثیر کے قتل پر افسوس تو کرتے ہیں مگر اسے رد عمل بھی قرار دیتے ہیں۔

سول سوسائٹی کے حلقوں میں ایک مرتبہ پھر میڈیا کے کردار پر بحث چھڑ گئی ہے۔ عباس اطہر روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر اور اس گروپ کے ٹی وی چینل کے اینکرپرسن بھی ہیں۔ بقول ان کےمیڈیا نے بہت گندا کردار ادا کیا ہے۔ ’سلمان تاثیر ایک قانون کی مخالفت کر رہا تھا، جو جنرل ضیاالحق کے دور میں بنایا گیا۔‘

’بہت سے لوگوں نے ایسی باتیں کی ہیں جن میں ممتاز قادری کے اقدام کو درست قرار دیا گیا۔ ٹاک شوز میں مولویوں کو لانے کی کیا ضرورت تھی جو الزام دیتے ہیں کہ تاثیر نے کہا تھا کہ وہ صدر کے پاس رحم کی اپیل لیکر جائیں گے، ان مولویوں کو آئین کا نہیں پتہ، آئین کے مطابق صدر سے کسی بھی سزا میں معافی مانگی جاسکتی ہے۔‘

مذہبی انتہا پسندی کے نقاد، کالم نویس ندیم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر کے قتل سے قبل بھی میڈیا کا کردار متوازی نہیں تھا۔ ’میڈیا نے خود فروغ دیا ہے کہ اس قسم کی نفرت پھیلے۔ جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں انہیں تو میڈیا سے ترغیب ملتی ہے، اس ملک میں نفرت والا جو کلچر پھیل رہا ہے اس میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔‘

نائین الیون واقعے کے بعد جب دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی ابتدا ہوئی تو اس وقت پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کا ابھی جنم ہوا تھا۔ بقول بعض مبصرین کے دائیں بازو کی جماعتوں اور دانشوروں نے اسے اپنا محاذ بنا لیا۔

افغانستان میں اتحادیوں کے حملے، طالبان کی کارروائیوں اور خود کش بم حملوں کے حوالے سے مختلف دلائل سامنے آئے، ملک کے ایک بڑے چینل کے پروگرام میں احمدیوں کے قتل کے فتوے تک جاری ہوئے۔

ڈاکٹر توصیف احمد وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبے ابلاغ عامہ کے سربراہ ہیں۔ وہ میڈیا کے کردار سے رنجیدہ ہیں۔ بقول ان کے میڈیا نے جس طرح سے انتہا پسندی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اس کی تریسٹھ سالوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

’ملزموں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، فتوے نشر کیے جا رہیں، ہم ایک ایسی صورتحال کی طرف جا رہے ہیں جس میں صرف وہ ہی لوگ زندہ رہے سکتے ہیں جو انتہا پسندوں کے ساتھ ہیں۔‘

ڈاکٹر توصیف احمد کا خیال ہے کہ میڈیا انتہا پسندی کو ایک پراڈکٹ کے طور پر فروخت کرکے اپنی مقبولیت میں تو اضافہ کر رہا ہے مگر پاکستان کو جو اس کا نقصان ہوگا اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔

پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے ساتھ ساتھ نئے اینکرز اس میدان میں اتر آئے، جو اخباروں کے کالم نگار تھے انہوں نے بھی بحث مباحثوں کی محفلیں سجانی شروع کر دیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے رہنما مظہر عباس کا کہنا ہے کہ میڈیا میں تربیت کا بھی فقدان ہے، جب الیکٹرانک میڈیا آیا تو پروفیشنل لوگ دستیاب نہیں تھے۔

’زیادہ تر جو لوگ آئے ہیں ان کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا یا وہ لوگ آئے جن کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اب ان ہی لوگوں کا تسلط ہے۔‘

مظہر عباس خود بھی اے آر وائی نیوز چینل کے اینکر پرسن ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم الفاظ کے استعمال سے لیکر بہت سی چیزوں کا خیال نہیں کرتے اور حساس معاملات پر بھی اسی طرح سے بحث کرتے ہیں جیسے سیاسی معاملات پر حالانکہ دونوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔‘

HTMLکوڈ:
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110105_media_role_taseer_as.shtml

شفقت پراچہ
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 2
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 215
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شفقت پراچہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (09-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11)
پرانا 09-01-11, 12:55 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میڈیا پر تو الزام لگ رہا ہے کے وہ ممتاز قادری کو پروموٹ کیوں نہیں کرتا
آپ کہتے ہیں میڈیا مذہبی انتہا پسندی پھیلاتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-11, 05:26 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار ان سب پروفیسروں سے بندہ پوچھے کہ حد سے بڑھی ہوئی اباحیت اور بے غیرتی کو جو میڈیا پروموٹ کر رہا ہے وہ انہیں نظر نہیں آتی؟؟؟؟؟؟؟؟

نیم عریاں رقص اور ڈرامے دکھانے والا میڈیا انتہا پسندی و پروموٹ کر رہا ہے...............سبحآن اللہ

جو بات کی خدا کی قسم لا جواب کی

اور حدود آرڈیننس پر انتہائی شرمناک انداز اپنا کر.............وہی انداز جس کی آڑ اب توہین رسالت کے قانون کو ضیا کا قانون کہ کر بھڑاس نکالی جا رہی ہے............زنا بالرضا کو جائز قرار دلواتا ہے...........اور اسے خواتین کی آزادی قرار دیتا ہے.....................وہ میڈیا انتہا پسندی کو پروموٹ کر رہا ہے؟؟؟؟

یہ الزام تو مذہبی طبقے کو دینا چاہیے کہ ان کو صحیح نمائندگی نہیں دی جاتی...............

آج بھی مفتی تقی عثمانی صاحب سے جا کر کوئی پوچھ لے کہ کس طرح جیو نے ان کے انٹر ویو کو کانٹ چھانٹ کر نشر کیا تھا کہ وہ بجائے حدود اللہ کی حمایت کے اس کے خلاف جاتا نظر آتا تھا.............!!!

کیا کوئی جانتا ہے کہ لائو ٹرانسمیشن بھی لائو نہیں ہوتی..........بلکہ..........

اور آپ نے نوٹ کیا کہ بی بی سی کو جتنی تکلیف ہے اس ہفتے کے دوران............. اس کی مثال نہیں ملتی................

روزانہ 4 4 آرٹیکل لکھوا کر شائع کیے جا رہے ہیں........................کیوِں؟؟؟

روح محمد کو یہ لوگ اپنی طرف سے نکال چکے ہیں پاکستان کے وجود سے..............اور یہ بات حقیقت ہے بی لیکن.......................کوئی کوئی چنگاری ایسی اٹھتی ہے کہ.................!!!

انہیں بڑا بھیانک مستقبل دکھائی دینے لگتا ہے....................اور ان کے لیے تو ان شاء؁ اللہ ہے...............
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

Last edited by عبداللہ آدم; 10-01-11 at 05:28 PM. وجہ: word correction
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (10-01-11), عبداللہ حیدر (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 07:17 PM   #4
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سچ ہے کہ میڈیا انتہاء پسندی کا باعث بنتا ہے اور اس انتہاء پسندی کاشکار نہ صرف مذہبی مسائل بلکہ سیاسی و سماجی اور معاشرتی مسائل بلکہ تمام طبقہائے فکر بنتے ہیں اور اس کی اصل وجہ ٹڈی دل کی فوج کی طرح نت نئے اور بھانت بھانت کہ ٹی وی چینلز ہیں کہ جن میں چن چن چکر ایسے جاہل اور بیووقوف لوگ بطور صحافی یا اینکر پرسن کے لائے جاتے ہیں کہ ان کے مطالعہ پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے ۔


اقتباس:
عباس اطہر روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر اور اس گروپ کے ٹی وی چینل کے اینکرپرسن بھی ہیں۔ بقول ان کےمیڈیا نے بہت گندا کردار ادا کیا ہے۔ ’سلمان تاثیر ایک قانون کی مخالفت کر رہا تھا، جو جنرل ضیاالحق کے دور میں بنایا گیا۔


اس غلیط ترین لوٹے اور لفافے صحافی کو اتنی بھی خبر نہیں اور یہ بھی ادراک نہیں کہ کسی قانون کے تشکیل کی بنیاد پر اصل ماخذ اور تنفذ کی بنیاد پر دوسرے ماخذ میں فرق کیا ہوتا ہے بوڑھا ہوگیا قبر مین ٹانگیں ہیں مگر اب بھی اپنی حرکتوں سے یہ لوگ بعض نہیں رہتے کسی بھی اوپن فورم پر سروے کروالو سب بلا تفریق اسے لوٹا اور لفافہ جرنلسٹ قرار دیں گے ایک یہ ایک نذیر ناجی اور تیسرے جناب حسن نثار صاحب ان تینوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔ ۔



اقتباس:
ٹاک شوز میں مولویوں کو لانے کی کیا ضرورت تھی جو الزام دیتے ہیں کہ تاثیر نے کہا تھا کہ وہ صدر کے پاس رحم کی اپیل لیکر جائیں گے، ان مولویوں کو آئین کا نہیں پتہ، آئین کے مطابق صدر سے کسی بھی سزا میں معافی مانگی جاسکتی ہے۔

جی ہاں بالکل بجا فرمایا جناب کی فہم و فراست پر قربان جاؤں کہ ٹالک شوز می اس نازک مسئلہ پر مولویوں کو نہیں بلکہ بھگوت گیتا اور رامائن کا علم رکھنے والوں کو بلایا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ مسئلہ کو صحیح ادراک کرپاتے اور مسئلہ کو اصل روح کہ مطابق عامۃ المسلمین تک پہنچاتے سبحان اللہ ۔۔
اور جناب نے بالکل درست فرمایا کہ مولویوں کو آئین پاکستان کا نہیں پتا اور نہ ہی مولویوں کا یہ دعوٰی ہے کیونکہ انھے تو آئین اسلام یعنی قرآن و سنت کا ہی فقط علم ہے مگر میں جناب کی خدمت میں عرض کردوں کہ جناب کو نہ صرف اسلام کا علم ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کا بھی علم نہیں اور جناب اپنی اس بصارت کے ساتھ اسلام اور آئین پاکستان دونوں کی بصیرت سے محروم ہیں سو اس لحاظ مولوی جناب سے قدرے بہتر ہیں کم ازکم ایک کا تو بھرپور علم رکھتے ہیں آئین اسلام یعنی قرآن و سنت میں اس مسئلہ کی سزا بطور حد کے نافذ ہے کہ جسے دنیا کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی کرسی صدارت یا کوئی بھی طاقت معاف نہیں کرسکتی ہے اور آئین پاکستان کی اصل یہ ہے کہ یہاں اس ملک میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا ۔ ۔ ۔فاعتبروا یااولی الابصار ۔ ۔ ۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
طاھر (10-01-11), عبداللہ آدم (10-01-11)
جواب

Tags
pakistan, فروخت, کوششیں, کلچر, پاکستان, وقت, قادری, نفرت, نیوز, ندیم, نظر, میڈیا, الزام, اردو, خلاف, سفر, طالبان, عیسائی, علما, عالمی, عباس, صورتحال, صحافی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
صوبہ پنجاب میں طالبان شدت پسند جڑ پکڑ رہے ہیں ،نیویارک ٹائمز فرحان دانش خبریں 16 22-04-09 09:37 PM
لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج عبدالقدوس خبریں 0 07-12-07 08:27 AM
جیو کی بندش اورمیڈیا پر پابندیوں کیخلاف لندن ، ٹیکساس ، نیویارک ، ٹورنٹو، بارسلونا،برمنگھم اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے عبدالقدوس خبریں 0 19-11-07 05:34 PM
پرنٹ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ،کچھ مشکلات الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ہیں،طارق عظیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:03 PM
پسند کے ممبر سے پسندیدہ سوال کریں، مسٹر رائٹ گپ شپ 63 14-09-07 09:00 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger