واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-12-10, 06:14 AM   #1
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 15-12-10, 06:14 AM

عشق تو ایک کیفیت کا نام ہے جوکسی پہ طاری اور کسی پہ بھاری ہوتی ہے ، جنہوں نے اِسے اپنے وجود پر طاری کیا اُن کے فیض کے چشمے آج بھی جاری ہیں اور جن بدنصیبوں نے اِسے بھاری محسوس کیا، رب نے اپنی رحمت سے اُنہیں ہمیشہ کے لیے مایوس کیا…کسی مرید نے اپنے مُرشد سے پوچھا،”حضرت یہ تو فرمائیے کہ ابلیس نے آخر سجدے سے انکار کیوں کیا“؟مُرشد نے مسکرا کے کہا ، بہ زبانِ ایمان سننا چاہتا ہے تو جان لے کہ میرے رب کی یہی مشیت تھی اور اگر عقل کی حجتوں میں گم ہے تو سن لے کہ ہزاروں برس کی عبادتوں کے باوجود اُس کے پاس صرف تین ہی ”عین“ تھے، چوتھا ہوتا تو انکار نہ کرتا!…مرید نے حیرانگی سے دریافت کیا”کون سے عین“؟…مُرشد نے مرید کے استعجاب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکان کی سلوٹوں کو شفتان کے کناروں سے تہہ کر کے جواب دیا…وہ عارف تھا، عابد تھا، عالم بھی تھا مگر ”عاشق“ نہ تھا، اگر عشق کرتاتو سجدہ کرتا اور سمجھ جاتا کہ خالق کے نزدیک انسان ”محترم“ کیوں ہے ؟عشق سے خالی تھا، اِسی لیے احترام نہ کرسکا،ناموس کے معنی نہ جان سکااور قیامت تک کے لیے بے عزت ہوگیا…کیونکہ عشق نے تو آنکھ ہی ادب کی آغوش میں کھولی ہے …پست نگاہوں کی کلکاری نے بلند مرتبے کو رفتہ رفتہ جوان کیا ہے…جھکاؤ نے اُٹھان اور تواضع نے کلام میں رس کو پیدا کیا ہے مگر اُسے توعبادت، ریاضت، علم اور تحقیق پر غرور تھا، اُس نے کبھی عشق کے سجدے ہی نہیں کیے تھے تو کیسے جانتاکہ سجدوں میں لذت تو آتی ہی اُس وقت ہے جب وہ حکم پر کیے جاتے ہیں…”اوقات“ میں تو سب ہی کو سجدے مل جاتے ہیں مگر جنہیں ”سوغات“ میں ملتے ہیں وہ خودسپردگی کے زینے کی ہر سیڑھی پر ہونٹوں کے قدم رکھتے ہیں…عبادت کے شوق میں سب سے آگے نکلنے کی خواہش نے اُسے”خواہ“ اور ”ہش“ میں تقسیم کردیا…اور دربار سے آواز آئی ”خواہ“ تو ہو یا نہ ہویہی نائب بنے گااور”ہش“ کہ ہم نے تجھے دھتکارکر رجیم بنادیا…اے ناموس کے دشمن! دور ہوجا ہماری بارگاہ سے اور بہکا جب تک ہم تجھے بہکانے کی مہلت دیتے ہیں،تُو آج عزت سے غریب ہوااور اب یقینا عزتوں پر ہی پر ڈاکے ڈالے گا …حیلے تراشے گا، بہانے بنائے گا، وسوسے ڈالے گااور ابنِ آدم کے بدن پر پیرہنِ ناموس کو حاسدانہ ناخنوں سے تار تار کرے گامگر مجھے اپنی ناموس کی قسم!تیرے بہکاوے میں صرف وہی آئیں گے جنہیں ہم نے صحفِ تقدیر کے ہر صفحے پر پہلے ہی سے بے آبرو قرار دے دیا ہے …!!
بے شک ایسا ہی ہے ، شراب کی چسکیوں سے دانتوں میں پھنسے سؤر کے ریشوں کو حلق کی امانت بنانے والے کل بھی ناموس کے دشمن تھے اور آج بھی اِس پر وار کرنے سے قطعاً نہیں چوکتے…دراصل اِن کی اپنی ناموس تو ہے ہی نہیں،گرم بستروں میں شہوت کے قطروں سے حرام کی قطاریں لگانے والے کیا جانیں کہ عزت کسے کہتے ہیں اور اِس پر حرف آجائے تو کس قدر تکلیف ہوتی ہے ؟…اورپھر اگر بات ”ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ کی ہوتو تعظیم و توقیر کے قرآنی حکم کی حفاظت کے لیے امتی کو کبھی ”قانونی سہارے“ کی حاجت نہیں رہی…یعنی اگر قانونِ توہینِ رسالت نہ ہوتا تو کیا ادب نہ ہوتا؟…آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیوانے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پروانے مخصوص دائرے میں سفر کرتے ہیں نا پرواز؟…اور ویسے بھی یہ قانونِ فطرت ہے کہ بدبو میں رہنے والے کو خوشبو میں بھی خوشبو نہیں آتی اور خوشبو میں رہنے والابدبو کو ایک لحظہ بھی برداشت نہیں کر سکتا چہ جائیکہ وہ چمن میں کچھ دیر کے لیے قیام کرے…ہم اپنے آقا اور مولا سے ساری دنیا سے بڑھ کر اور ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں کیونکہ اگر محبت میں ٹوٹے ہی نہیں تو جوڑے بنانے والا جوڑے گا کیسے؟…اور معاف کیجیے گا! عزت کامطلب اور اُس کی حد کیا ہے ، یہ وہ کیسے بتا سکتے ہیں جنہوں نے اپنی عزتوں کی بین الاقوامی منڈیاں لگا رکھی ہیں…کم از کم برطانیہ تو یہ نہ سکھائے کہ ”ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون کو کیسے ختم کیا جائے “ بلکہ یہ بتائے کہ ”اینگلو اور سیکسن“ نامی قبائل نے جس ”انگلینڈ“ کو جنم دیا ہے، وہاں آج بھی عورت صرف”افزائش نسل کی مشین“کیوں سمجھی جاتی ہے؟میں نہیں کہتا ، برطانوی جریدے ٹیلی گراف کی سالانہ رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ برطانیہ میں ہر سال46.5فیصد خواتین”بن بیاہی ماں“ بن جاتی ہیں اور اِن میں سے 95فیصد وہ خواتین ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سے بائیس برس کے لگ بھگ ہیں …لہٰذاآمنہ کے لال کی حرمت (معاذ اللہ ) پامال ہونے پر ہمارے عشق کی بھڑکتی ہوئی آگ کو سرد کرنے کی تدبیروں کے بجائے پہلے اپنی عورتوں کو ”سیدہ مریم علیہا اسلام“ کی وہ عظیم پاکیزگی یاد دلائیے جن پر انگلیاں اٹھانے والے وہی ناہنجار تھے جنہیں قرآن نے ”انبیا کا قاتل“ کا قرار دیااورآپ کے ہاں Mel Gibson نے Passion of Christبنا کر دنیا کی سب سے بڑیBlasphemyکرنے والوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے…میں اورمیرے ماں باپ مریم علیہا السلام کی عفت پر قربان کہ اُن کی عصمت کی گواہی تو پالنے میں لیٹے ہوئے مسیح اللہ نے خدا کا کلام سنا کر دی اور کیوں نا دیتے کہ وہ اللہ کے سچے رسول تھے…مگرمسیح سے بولنے کا فن سیکھ کر رسول اللہ سے محبت کی گواہی مسلمان گھرانوں کے وہ 6سالہ بچے بھی دے دیتے ہیں جنہیں حفظ کی غذا پر قرآن نے قرأت کے لاڈ سے پالا ہے…اہلیانِ یورپ کا چونکہ اصول ہے کہ وہ ہر برائی کو علمی رنگ اور فلسفے کا جامہ پہنا کراُسے اعلیٰ ذوق کی علامت بنادیتے ہیں چنانچہ جرمن یہودی فلسفی سگمنڈ فرائیڈ نے جنسیت کو عام کرنے کے لیے اِسے کائنات کا ماحاصل اور کل قرار دیتے ہوئے پورے یورپ کے کپڑے اُتروادیے جس کو بعد میں کانٹ، ہیگل، نشتے اور لاک نے ”آزادی“ کے خوبصورت نام سے تعبیر کر کے عورت کا رہا سہا مقام بھی گرادیا…لیکن ہم تو اپنے ماحی کے ایسے غلام ہیں کہ ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بن کر غلامی ٴ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنی آزادی بھی قربان کردیتے ہیں یا پھرثوبان رضی اللہ عنہ ، بلال رضی اللہ عنہ انس رضی اللہ عنہ اور ابوضمیرہ رضی اللہ عنہ کی طرح عمر بھر سرکار کے نعلین تھام کرسگِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اُن کے پیچھے چلنے ہی کو زندگی بنا لیتے ہیں یہاں تک کہ سماعت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلاموں کے عاجزانہ قدموں کی چاپ جنت میں بھی سنائی دیتی ہے …
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور کوپن ہیگن یونیورسٹی کے Gender Studiesڈیپارٹمنٹ کے مطابق امریکا، ڈنمارک، ناروے، سوئیڈن، جرمنی اور فرانس دنیا میں ولد الحرام بچوں کاہر سال76فیصدحصہ آپس میں بانٹتے ہیں… گویا اپنی اِن حرام حرکتوں کو درست کرنے کے بجائے اللہ نے جسے حرام قراردیا ہے اُسے حلا ل کرنے کے لیے انسانی حقوق، آزادی ٴ اظہار اور جنسی تفریق کے خاتمے کے نام پرفضائل و دلائل کے ذریعے حرام کے خصائل بیان کرنے والے اِن ناموس کے دشمنوں کی زبانیں نہیں تھکتیں…یہ کیا جانیں کہ تعظیم رسول کے باعث نظریں جھکانے، آوازوں کے پست کرنے ، سوال کرنے سے ڈرنے، بستر نبوی پر مشرک باپ کو نہ بیٹھنے دینے، معاہدے میں رسول اللہ کا لفظ مٹا دینے سے انکار کرنے،میرے ماں باپ آپ پر قربان جیسے الفاظ تکیہ کلام بنالینے، بے ادبی کے شائبے سے بھی گریز کرنے ، اُس کے خیال کو بھی بُرا سمجھنے ، برابر کھڑے ہونے اور آگے بیٹھنے کو گستاخی سمجھنے ، آپ کی رہائش کے اوپر اپنی رہائش کو توہین جاننے، حضور سے کیے گئے عہد کو پورا نہ کرنے پر رنج میں مبتلا رہنے، حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے میں سخت ناراضگی کا اظہار کرنے، مسجد نبوی میں بلند آوازی پر تنبیہہ کرنے، موئے مبارک سے برکت حاصل کرنے، حضور کے وضو کا پانی جسموں پر ملنے اور جسدِ اطہر کے پسینے سے گلاب کا پودا اُگانے جیسے عشق کے اِن مظاہر میں کیا مزا ہے ؟ اِنہوں نے توعمر بھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے بدکلامی کی، مسیح اللہ سے چرب زبانی کی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روگردانی کی …کاش یہ موسیٰ کے میم پر مصر رہنے کے بجائے محمد کے میم کی اتباع کر کے ختم نبوت کی گرہ کے ساتھ اگر مسیح اور مہدی کے میم کے منتظر رہتے تو شاید فلاح پاجاتے …!!!


ماخذ
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 341
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-03-11), فیصل ناصر (15-12-10), نعیم۔ (15-12-10), مہتاب (16-12-10), مرزا عامر (01-04-11), احمد بلال (31-03-11), سحر (16-12-10), عبداللہ آدم (15-12-10)
پرانا 16-12-10, 07:28 PM   #2
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
عشق تو ایک کیفیت کا نام ہے جوکسی پہ طاری اور کسی پہ بھاری ہوتی ہے …کاش یہ موسیٰ کے میم پر مصر رہنے کے بجائے محمد کے میم کی اتباع کر کے ختم نبوت کی گرہ کے ساتھ اگر مسیح اور مہدی کے میم کے منتظر رہتے تو شاید فلاح پاجاتے …!!!


ماخذ

ماشاء اللہ بہت خوب انتخاب کیا ہے ۔ ۔ ۔ اسکے لئے آپکا بہت شکریہ
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (31-03-11)
پرانا 31-03-11, 08:11 PM   #3
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
search, فن, قدم, قرآنی, نفرت, موسیٰ علیہ السلام, محبت, مسجد, مسجد نبوی, آج, ایمان, اللہ, انسان, اعلیٰ, بچوں, جواب, حدیث, ختم نبوت, خدا, دریافت, عورت, عقل, عشق, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سینٹ : مختلف جماعتوں کی مخالفت، سلمان تاثیر کیلئے فاتحہ خوانی نہ ہوسکی گلاب خان خبریں 0 29-01-11 03:44 AM
امداد کی شفاف تقسیم ،قا بل بھروسہ افراد پر مشتمل بورڈ بنا نے پر نواز شریف اور کیلانی میں اتفا ق جاویداسد خبریں 6 15-08-10 09:57 AM
شاید غم حسین کا موسم قریب ہے رانا امر اسلام اور معاشرہ 0 28-12-09 03:30 PM
غم حسین ّ کا موسم قریب ہے محمدخلیل شاعری اور مصوری 6 18-12-09 08:01 PM
پیغمبر اسلام (صلی اللہ و علیہ وسلم) سے جنگ جیتنا سیکھا۔ گولڈامائیر ابو عمار اپکے کالم 2 03-09-08 11:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger