واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


نومولود کااستقبال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-07-10, 11:18 AM   #1
نومولود کااستقبال
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 15-07-10, 11:18 AM

نومولود کااستقبال

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہ قَالَ كُلُّ غُلاَمٍ رَہِينَہٌ بِعَقِيقَتِہِ تُذْبَحُ عَنْہ يَوْمَ سَابِعِہ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى
{سنن ابوداود:2838 الاضاحی ۔ سنن الترمذی : 1522 الاضاحی ۔ سنن النسائی : 4225 العقیقہ}

ترجمہ : حضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہوتا ہے ،{لہذا}پیدائش کے ساتویں دن اسکی طرف سے{عقیقے کا جانور }ذبح کیا جائے ، اسکا سر منڈ وایا جائے اور اسکا نام رکھا جائے ۔

{سنن ابوداود ، سنن الترمذی ، سنن النسائی }

تشریح : بچہ اللہ تعالی کی نعمت اور نسل انسانی کے چلتے رھنے کاذریعہ ہے ، بچہ ہر میاں ، بیوی کی خواہش اور انکے دل کی دھڑ کن ہے ، بچہ کھر کی زینت ، اہل خانہ کے آنکھوں کا نور اور انکے دل کا سرور ہے ، یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد میاں بیوی کی سب سے بڑی خواہش اولاد کی ہوتی ہے، اولاد اللہ تعالی کا عطیہ ہے ، اس الہی نعمت کی قدر وہی شخص جانتا ہے جسے اللہ تعالی نے اس نعمت سے محروم رکھا ہو ۔

بچے کی شکل میں گھر میں جو نیا مہمان آرہا ہے اسلام نے اسکے استقبال کیلئے کچھ آداب رکھے ہیں جنکا لحاظ رکھنے میں متعدد شرعی ودنیوی فوائد ہیں ، بدقسمتی سے آج مسلمانوں نے ان شرعی آداب کو تو بالائے طاق رکھ دیا ہے ،جبکہ انکے عوض بہت سے غیر شرعی آداب غیر قوموں کی تقلید میں ایجاد کر رکھے ہیں ، زیر بحث حدیث میں نوزائید بچے کے استقبال کے تین آداب مذکور ہیں ۔

{1} عقیقہ کرنا : عقیقہ اس جانور کو کہا جاتا ہے جو بچے کی پیدائش کے ساتویں دن بطور شکرالہی کے ذبح کیا جاتا ہے ، اس بارے میں اہل علم کی زیادہ صحیح رائے یہی ہے کہ عقیقہ سنت موکدہ ہے ، جس کے ترک سے گناہ تو نہیں لا زم آتا البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی تاکیدی سنت چھوٹ جاتی ہے جسکے ذریعہ بچے کی پیدائش پراللہ تعالی کا شکر اداکیا جا تا ہے ، حضرت ابرہیم علیہ السلام کی سنت زندہ کی جاتی ہے اور یہ جانور بچے کا فدیہ بنتا ہے ،چناچہ اس حدیث میں یہ کہا گیا کہ" ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے " یعنی اگر اسکا عقیقہ نہ کیا جا ئے اور وہ بچپن ہی میں فوت ہوجائے تو اسکے والدین اسکی شفاعت کے حقدار نہ ہونگے ، اور اللہ تعالی کی اس عظیم نعمت کا شکریہ ادانہ ہو گا ۔

واضح رہے کہ شریعت نے عقیقہ کے لئے ساتواں دن متعین کیا ہے اسلئے ضروری ہے کہ اس تاریخ کا التزام کیا جائے اور بغیر کسی شرعی عذر کے محض اس بہانے سے کہ ابھی اہلیہ ہسپتال میں ہیں ،یا بچے کی صحت برابر نہیں ہے ، یا ابھی میری تنخواہ نہیں ملی ہے ، یا ہم اپنے اہل خانہ اور اہل خاندان سے دور ہیں وغیرہ وغیرہ عقیقہ کا موخر کرنا قطعا مناسب نہیں ہے۔ جبکہ یہ امرمشاہدے میں ہے اس قسم کا عذر پیش کرنے والے حضرات ایسے موقع پر ٹیلیفون ، مٹھائیوں کی تقسیم اور دیگر غیر ضروری مصروفات میں عقیقے کے جانور کے قریب یا اس سے زیادہ خرچ کردیتے ہیں ۔ بعض ضعیف روایات اور بعض صحابہ کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی شرعی عذر کی بناپر ساتویں دن عقیقہ نہ کیا جاسکا تو چودھویں یا اکیسویں دن کردیا جائے {مستدرک الحاکم } یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ لڑکے کی طرف سے دوجانور اور لڑ کی کی طرف سے ایک جانور عقیقے میں ذبح کئے جائیں گے

{سنن ابوداود:2836 ، سنن الترمذی : 1516}

{2} سر کے بال اتارنا: سر کاوہ بال جو بچہ لیکر پیدا ہوا ہے حدیث میں اسے "اذی" { گندگی یا تکلیف}کہا گیا ہے {صحیح البخاری }لہذا ساتویں دن جب کہ اسکے چمڑے میں قدرے پختگی آگئ اور اسکے بال اتارنا ممکن ہو گیا تو اب اسکے سر سے اس گندگی کو دور کردیا جائے جسکا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اب دوبارہ اسکے بال اور خوبصورت شکل میں اگیں گے اور بالوں کی چڑیں مضبوط ہونگی ۔

واضح رہے کہ اتارے ہوئے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا مسنون ہے {سنن الترمذی }

{3} نام رکھنا اوراچھے نام رکھنا: اس نئے مہمان کے استقبال کا تیسرا ادب اس حدیث میں یہ بیان ہو اہے کہ اگر اس سے قبل اسکا نام نہیں رکھا گیا تو اسکا نام رکھا جائے ، یعنی ساتویں دن تک اسکا نام رکھ جانا چاہئے ،اس سے موخر نہ کیا جا ئے ، البتہ نام رکھنے میں اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ وہ نام ظاہری ومعنوی لحاظ سے شرعی تقاضوں کے مطابق ہو یعنی وہی نام رکھے جائیں جو مسلمانوں میں معروف ہوں ، ان میں کافروں اور فاسقوں کی مشابہت نہ ہو اللہ کے نیک بندوں اور صالحین کے نام کے موافق ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا : "اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبد اللہ وعبد الرحمن ہیں "

{صحیح مسلم }

اسی طرح نام رکھنے میں معنی کا لحاظ بھی بہت ضروری ہے ،ہر ایسا نام جس سے شرک لا زم آتا ہو ، یا اسمیں غیر قوم کی مشابہت ہو جائز نہیں ہے جیسے عبد الحسین ، پیر بخش ، امیر بخش ،عبد النبی یاکافروں کے ساتھ مخصوص نام ۔ اسی طرح جن ناموں سے خود ستائی کا پہلو نکلتا ہو یا انکے معنی میں مذمت کا پہلو ہو وغیرہ نام رکھنے مناسب نہیں ہیں ، چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے بہت سے ناموں کو بدل دیا تھا

{سنن ابو داود }

{4} اذان کہنا نوزائید ہ بچے کے استقبال کا ایک ادب حدیثوں میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ پیدائش کے فورا بعد اسکے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جا ئے ، اسلسلے میں مروی حدیث کی صحت علماء کے نزدیک مختلف فیہ ہے، البتہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ وغیرہ سے اس پر عمل ثابت ہے اور جمہور علماء کی رائے بھی یہی ہے ، لہذا اس پر عمل کرنے پر کوئی حرج نہیں ہے ۔

{5} تحنیک {گھٹی دینا} کھجور یا کوئی میٹھی چیز چباکر بچے کے منھ میں دینے کا نام تحنیک ہے، علماء نے اسے مستحب لکھا ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تحنیک کرتے تھے {صحیح مسلم و ابوداود} البتہ بہتر یہ ہے کہ کوئی نیک اور صالح آدمی ہی یہ عمل کرے ۔

فوائد :

1۔ اولاد اللہ تعالی کی نعمت ہے جسکے شکریہ کے اظہاریہ ہے کہ اسکا عقیقہ کیا جائے ۔

2 ۔ عقیقہ سنت موکدہ ہے ۔

3 ۔ عقیقہ ساتویں دن ہی مشروع ہے ۔

4 ۔ جس شخص کا عقیقہ نہ ہوا ہو اسے اپنا عقیقہ بعد میں خود کرنا چاہئے ۔







خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 532
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (15-07-10), کنعان (15-07-10), یاسر عمران مرزا (15-07-10), نورالدین (15-07-10), محمد عاصم (15-07-10), محمدخلیل (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10), حیدر Rehan (15-07-10), سحر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 12:07 PM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن آدم مراسلہ دیکھیں

{5} تحنیک {گھٹی دینا} کھجور یا کوئی میٹھی چیز چباکر بچے کے منھ میں دینے کا نام تحنیک ہے، علماء نے اسے مستحب لکھا ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تحنیک کرتے تھے {صحیح مسلم و ابوداود} البتہ بہتر یہ ہے کہ کوئی نیک اور صالح آدمی ہی یہ عمل کرے ۔

فوائد :

بے شک یہ سنت رسول صلی علیہ والہ وسلم بھی ہوسکتی ہے جیسا مستحب لکھا گیا ہے کیونکہ کہ تاریخ میں بیان ہے کہ

رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے سب سے پہلے مولود کعبہ یعنی مولا علی علیہ سلام کو اپنے لعاب دہن مبارک کے زریعے اپنا علم و حلم منتقل کیا۔

۔
۔
۔
۔
اور جب ان کی اپنی بیٹی جناب فاطمہ (س) دنیا میں آئیں
اور اس کے بعد ان کے نواسے امام حسن علیہ سلام
اور اس کے بعد نواسے امام حسین علیہ سلام جب دنیا میں آئے تو رسول اکرم حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے لعاب مبارک کے زریعے اپنے علم کے سمندر کو ۔۔۔۔ اور اپنے حلم کو منتقل کیا۔




اس لیے شاید یہ کہا گیا ہے کہ ’’البتہ بہتر یہ ہے کہ کوئی نیک اور صالح آدمی ہی یہ عمل کرے ۔‘‘
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (15-07-10), کنعان (15-07-10), محمدخلیل (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 12:23 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہجرت کے وقت حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کی کی پیدائش ہوئی
تھی ان کی پیدائش پر تمام مسلمان بہت خوش ہوئے تھے اورمسلمانوں نے خوشی سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو اپنے لعاب مبارک سے نرم کرکے بچے کے منہ میں ڈالا تھا ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (15-07-10), کنعان (15-07-10), محمد عاصم (15-07-10), محمدخلیل (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), ابن آدم (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 12:31 PM   #4
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن آدم مراسلہ دیکھیں
نومولود کااستقبال

{5} تحنیک {گھٹی دینا} کھجور یا کوئی میٹھی چیز چباکر بچے کے منھ میں دینے کا نام تحنیک ہے، علماء نے اسے مستحب لکھا ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تحنیک کرتے تھے {صحیح مسلم و ابوداود} البتہ بہتر یہ ہے کہ کوئی نیک اور صالح آدمی ہی یہ عمل کرے ۔
بات چونکہ گھٹی کی ہورہی ہے، عوام الناس میں یہ خیال عام پایا جاتاہےکہ جو شخص گھٹی لگاتا ہے، اس کے عادات و خصائل بچے میں آجاتےہیں۔ مثلا شخص سخی ہوگا تو گھٹی کی وجہ سے بچہ بھی سخی ہوگا، یہ بات کہاں تک ٹھیک ہے اس بات سے کہ بہتر یہ ہے کہ کوئی نیک اور صالح آدمی ہی یہ عمل کرے تو یہی محسوس ہوتا ہے۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), شاہ جی 90 (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 04:30 PM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
ہجرت کے وقت حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کی کی پیدائش ہوئی
تھی ان کی پیدائش پر تمام مسلمان بہت خوش ہوئے تھے اورمسلمانوں نے خوشی سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو اپنے لعاب مبارک سے نرم کرکے بچے کے منہ میں ڈالا تھا ۔
ہوسکتا ہے کہ صحیح ہو ۔۔۔
چونکہ رسول اکرم حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے لعاب دہن میں بہت تاثیر تھی اس لیے ان کا علم و حلم و قوت و شجاعت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا سے فضائل کا ظاہر ہونا لازمی امر ہے ۔۔
کیا اپ سمجھتے ہیں کہ عبداللہ ابن زبیر (رض) کے علم و حلم و شجاعت و بہادری تاریخ سے صابت ہے
یا ان کے کچھ اقوال ایسے ہیں جن سے کم از کم ان کا ’’علم‘‘ ظاہر ہو۔۔۔
پلیز شئیر ۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ اور اللہ کی سنت کبھی نہی بدلتی۔

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُواْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (2:247)

ان کے نبی نے ان سے کہا بے شک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر فرمایا ہے انہوں نے کہا اس کی حکومت ہم پر کیوں کر ہو سکتی ہے اس سے تو ہم ہی سلطنت کے زیادہ مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی کشائش نہیں دی گئی پیغمبر نے کہا بے شک اللہ نے اسے تم پر پسند فرمایا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخ دی ہے اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے

ان کے نبی نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے. ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدار حکومت ہیں. نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لئے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحبِ علم بھی ۔

اور کہا ان سے ان کے نبی نے کہ اللہ نے مقرّر کیا ہے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ، کہنے لگے کیونکر ہوسکتا ہے اسے حق حُکمرانی ہم پر جبکہ ہم زیادہ حقدار ہیں حکمرانی کے اس سے اور نہیں دی گئی ہے اسے بہت سی دولت، نبی نے کہا بیشک اللہ نے فضیلت دی ہے اسے تم پر اور عطا فرمائی ہے اس کو فراوانی علم و عقل میں اور جسمانی طاقت میں اور اللہ عطا فرماتا ہے اپنا ملک جس کو چاہتا ہے۔ اور اللہ ہے وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا۔


یہ بات اس لیے بھی لکھی ہے کہ تاکہ اندازہ ہو جائے کہ ہم
اگر ہم امام علی (ع) امام حسن (ع) یا امام حسین (ع) کےبعد دوسری ہستیوں کے کہے پر عمل کرتے ہیں تو ی جانتے ہوئے کہ وہ ہمارے حاکم ہیں ۔۔

یہ بات اس لیے بھی لکھی ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے زہن میں فورا امام علی و حسن و حسین علیہ سلام کے مقابلے پر کسی کو لے آئے ۔ کوئی بات نہی اگر کسی نہ ایسا نہ سوچا ہو تو بہت ہی اچھی بات ہے
مگر ہمارا فرض ہےکہ مقابلہ اول تو کیا نہ جائے اور اگر کیا جاے تو صابت کریں قرآن سے اور صحیح احادیث سے تاکہ کل اگر ہم ان سے منصوب کوئی بات پڑھیں تو اس پر عمل کرنے یہ نہ کرنے کا اختیار ضرور ہو ۔۔یا کم از کم علم میں یہ بات ہو ۔۔۔ کہ اصحاب کا اپنا مقام ہے اور آل محمد علیہ سلام کا اپنا عظیم مقام ہے ۔۔۔اور یہ بھی کہ سب برابر ہیں ایسا کسی کی زہن میں نہ آئے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 04:42 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترمہ سحر میرا تاریخ پر اور حدیث پر علم تھوڑا کمزور ہے میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو کس نے گھٹی دی تھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے شیطان ڈرتا ہے۔ یقینا بہت کمال کا شخص ہو گا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گھٹی دینے والا
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 04:56 PM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر ریحان صاحب
صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مقابلہ کرنا ہمارا کام نہیں
ہماری نظر میں سب قابل احترام ہیں ۔
جہاں تک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے واقعہ کی بات ہے
یہ بہت مشہور واقعہ ہے اور مستند کتابوں میں ہے
میں نے یہ واقعہ پڑھا تھا اس لیے لکھ دیا ۔
اور جہاں تک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حاکم ہونے کی بات ہے
تو عبدالملک بن مروان کے دور میں
اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حجاز کا خلیفہ منتخب کیا تھا ۔
اور مروان بن حکم نے حجاج بن یوسف کو حجاز کا گورنر بنا کر بھیجا تھا ۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حجاج بن یوسف سے جنگ ہوئی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا
اس جنگ کی وجوہات اور کربلہ کے واقعہ کی وجوہات میں کوئی فرق نہیں ہے
دونوں ملوکیت کے خلاف تھیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (15-07-10), محمد عاصم (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), آبی ٹوکول (15-07-10), ابن آدم (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10), حیدر Rehan (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 05:03 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Mirza Amir مراسلہ دیکھیں
محترمہ سحر میرا تاریخ پر اور حدیث پر علم تھوڑا کمزور ہے میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو کس نے گھٹی دی تھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے شیطان ڈرتا ہے۔ یقینا بہت کمال کا شخص ہو گا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گھٹی دینے والا
انسان کو ایسے سوالات سے گریز کرنا چاہیے ۔ جن کی زد میں انبیاء اکرام بھی آجائیں ۔ اور آخر میں اپنا ایمان بھی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نومولود بچوں کو کھجور کھلانا ۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منہ میں رکھ کر نرم کیا کرتے تھے ۔
ثابت ہے ۔

میں نے یہ کہیں نہیں لکھا اور پڑھا کہ اس طرح نومولود کو کھلانے سے کھلانے والے کی عادات اس بچے میں آتی ہیں ۔

میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پڑھا اور اس پر ایمان لے آئی۔

اللہ کا شکر ہے اللہ نے مجھے ایسا دل دیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نا کوئی سوال میرے ذہن میں آتا ہے اور میں اس پر ایمان بھی لاتی ہوں اور اس پر عمل بھی کرتی ہوں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد رضوان (15-07-10), محمد عاصم (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), آبی ٹوکول (15-07-10), ابن آدم (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10), راجہ اکرام (15-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10)
کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
15-07-10 ابن آدم اللہ کا شکر ہے اللہ نے مجھے ایسا دل دیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نا کوئی سوال میرے ذہن میں آتا ہے اور میں اس پر ایمان بھی لات 150
15-07-10 بلال اویسی میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پڑھا اور اس پر ایمان لے آئی۔میں زاتی طور پر آپ کی اس بات سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں۔ 150
پرانا 15-07-10, 05:45 PM   #9
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پڑھا اور اس پر ایمان لے آئی۔

اللہ کا شکر ہے اللہ نے مجھے ایسا دل دیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نا کوئی سوال میرے ذہن میں آتا ہے اور میں اس پر ایمان بھی لاتی ہوں اور اس پر عمل بھی کرتی ہوں
اللہ تعالٰی آپ کو ایمان کی دولت سے مالامال فرمائے اور زندگی کے آخری سانس تک اسی طرح عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین
میں زاتی طور پر آپ کی اس بات سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں۔
اللہ تعالٰی مجھ سمیت تمام مسلمانوں کو بھی ایمان کی دولت سے مالامال فرمائے۔آمین
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), سحر (15-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 05:49 PM   #10
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بلال اویسی مراسلہ دیکھیں
بات چونکہ گھٹی کی ہورہی ہے، عوام الناس میں یہ خیال عام پایا جاتاہےکہ جو شخص گھٹی لگاتا ہے، اس کے عادات و خصائل بچے میں آجاتےہیں۔ مثلا شخص سخی ہوگا تو گھٹی کی وجہ سے بچہ بھی سخی ہوگا، یہ بات کہاں تک ٹھیک ہے اس بات سے کہ بہتر یہ ہے کہ کوئی نیک اور صالح آدمی ہی یہ عمل کرے تو یہی محسوس ہوتا ہے۔
یہ صرف خیال اور محسوسات ہیں پلیزاس کی آڑ لےکر صحابہ کرام پر اٹیک نا کیاجائے، آپ کی مہربانی ہوگی۔
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), ابن آدم (15-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 05:53 PM   #11
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
میں نے یہ کہیں نہیں لکھا اور پڑھا کہ اس طرح نومولود کو کھلانے سے کھلانے والے کی عادات اس بچے میں آتی ہیں ۔
سحر بہن آپ نے صحیح کہا ہے اس بات کی کوئی بھی دلیل نہیں ہے یہ بات ہے جو لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے حالانکہ اس بات کا رد ان لوگوں کی نظروں مینن ہے کہ ایسا قطناً نہیں ہوتا میں نے خود دیکھا ہے کہ گھٹی دینےوالا نیک تھا مگر جس کو دی گئی وہ بُرے کردار کا نکلا اس طرح کی بےشمار مثالیں ہیں مگر لوگ سنی سنائی باتوں پر ایمان ایسا بنا چکے ہیں کہ زرا متزلزل نہیں ہوتا حالانکہ انہی لوگوں میں سے بعض کو قرآن و حدیث کی باتوں پر ایسا پکا ایمان نہیں ہوتا جو یہ ان کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہیں۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-07-10), ابن آدم (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10)
کمائي نے محمد عاصم کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
15-07-10 بلال اویسی میں آپ کی بات سے ایک سو ایک فیصد متفق ہوں۔ 50
پرانا 15-07-10, 06:02 PM   #12
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دوسروں پر الزامات عائد کرنے والے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے سب سے پہلے مولود کعبہ یعنی مولا علی علیہ سلام کو اپنے لعاب دہن مبارک کے زریعے اپنا علم و حلم منتقل کیا۔

۔
۔
۔
۔
اور جب ان کی اپنی بیٹی جناب فاطمہ (س) دنیا میں آئیں
اور اس کے بعد ان کے نواسے امام حسن علیہ سلام
اور اس کے بعد نواسے امام حسین علیہ سلام جب دنیا میں آئے تو رسول اکرم حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے لعاب مبارک کے زریعے اپنے علم کے سمندر کو ۔۔۔۔ اور اپنے حلم کو منتقل کیا۔
‘[/COLOR]
تم بھی زرہ اپنی اس بات کی دلیل لاؤ صحیح سند سے،
اور ساتھ یہ بھی لکھا ہو کہ اپنے علم کے سمندر کو اور اپنے حلم کو منتقل کیا،
اگر تم اپنی کتابوں سے دلیل لاؤ گے تو وہ جھوٹی ہیں ان میں 99% جھوٹ ہے،
تم ہماری صحیح احادیث کی کتابوں کو جھوٹا کہتے ہو جبکہ جھوٹ تمہاری کتابوں میں ہے سوائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لعن طعن کے تمہاری کتابوں میں ہے ہی کیا ہے۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-07-10), ابن آدم (15-07-10), احمد بلال (15-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 06:11 PM   #13
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
تم بھی زرہ اپنی اس بات کی دلیل لاؤ صحیح سند سے،
اور ساتھ یہ بھی لکھا ہو کہ اپنے علم کے سمندر کو اور اپنے حلم کو منتقل کیا،
اگر تم اپنی کتابوں سے دلیل لاؤ گے تو وہ جھوٹی ہیں ان میں 99% جھوٹ ہے،
تم ہماری صحیح احادیث کی کتابوں کو جھوٹا کہتے ہو جبکہ جھوٹ تمہاری کتابوں میں ہے سوائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لعن طعن کے تمہاری کتابوں میں ہے ہی کیا ہے۔
اپنی باتوں کے آپ خود ذمہ دار ہیں مجھے ""بھی"" کا مطلب سمجھا دیں۔

Last edited by بلال اویسی; 15-07-10 at 06:16 PM.
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (15-07-10)
پرانا 15-07-10, 07:08 PM   #14
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بلال اویسی مراسلہ دیکھیں
اپنی باتوں کے آپ خود ذمہ دار ہیں مجھے ""بھی"" کا مطلب سمجھا دیں۔

دوسروں پر الزامات عائد کرنے والے


تم بھی زرہ اپنی اس بات کی دلیل لاؤ صحیح سند سے،

بلال بھائی اب سمجھ آگئی؟ اصل میں اوپر والا حصہ میں نے ٹائٹل کی جگہ لکھا ہوا ہے آپ غور فرمائیں۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (16-07-10)
پرانا 15-07-10, 07:51 PM   #15
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں نے یہ کہیں نہیں لکھا اور پڑھا کہ اس طرح نومولود کو کھلانے سے کھلانے والے کی عادات اس بچے میں آتی ہیں ۔

آپ کے ساتھ ساتھ یا یہ کہیں کہ اپ کی پیروی کرتے کرتے کچھ لوگوں نے بلکے بچوں نے یہ کہہ دیا کہ اس طرح کے عمل نہ کہیں پڑھے نہ کہں سنے ۔۔۔۔۔
نہ ایسے عمل سے کچھ ہوتا ہے کہ کوئی گھٹی پلائے یا منہ کا لعاب دہن میں دے کوئی فرق نہی پڑتا ۔۔

کچھ دن پہلے ابوہریرہ (رض) پر بات ہورہی تھی میں نے موضوع کے مطلق نیٹ پڑ رہا تھا کہ ایک جگہ لکھا دیکھا کہ ۔۔۔۔
جب لوگوں نے پوچھا کہ ابو ہریرہ (رض) سے پوچھا کہ اتنی احادیث کیسے بیان ہوتی ہیں تو
ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک روز رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے پیالے میں دودھ پیا تو میں نے ان کا جھوٹا دودھ کا پیالے لے کر بچا ہوا دودھ پی لیا اس دن سے میرا حافظہ اتنا اچھا ہوگیا ہے کہ کئی ہزار احادیث مبارکہ یاد رہنےلگی ۔۔۔۔۔۔سبحان اللہ

(ویسے تو ہمیں اس واقعہ میں شک ہے لیکن اپ کو تو نہی ہونا چاہیے اور اپ کا ایمان پکا ہونا چاہیے ۔)
۔
۔
۔
۔

لیجیے جناب دلیل بھی دے دی اور یہ بھی صابت ہوگیا کہ اس دور میں بھی سب جانتے تھے کہ اگر رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے اگر کسی برتن میں پانی یا دودھ پیا ہو تو بچا ہوا پانی یا دودھ کی تری بھی پی لی تو اس کا حافظہ انتہائی عظیم ہوسکتا ہے ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔تو پھر بتائیں کہ جن ہستیوں نے یعنی حضرت علی علیہ سلام ، امام حسین و حسن (ع) نے براھے راست رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم کے دہن مبارک سے رزق حاصل کیا ہو اس کے بارے میں اپ کو شک ہے کیوں ہے ؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (16-07-10), احمد بلال (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10)
جواب

Tags
color, پسندیدہ, موقع, ممکن, معلوم, آج, آدمی, اللہ, امیر, اسلام, بچپن, ترک, حدیث, حضرات, شخص, علم, علماء, عذر, عطیہ, عظیم, صالحین, صحیح, صحابہ, صحت, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ عادل سہیل اسلامی عقیدہ 1 23-06-10 05:13 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں وجدان عمومی بحث 2 04-07-08 03:00 PM
شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد پاکستانی خبریں 1 09-09-07 09:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger