واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


وجود زن کے مصنوعی رنگ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-07-10, 03:55 PM   #1
وجود زن کے مصنوعی رنگ
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 20-07-10, 03:55 PM

عورت کا وجود نوعِ انسانی کی بقا کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کا۔ عورت بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ایک نعمت ہے ۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک ماں ہے جس کی آغوش ایک نومولود کی طبعی ضروریات ہی پورا نہیں کرتی بلکہ اس کی نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ لہٰذا ایک ماں کی گود سے ایک بچہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ دنیا کی اعلیٰ ترین درسگاہ بھی فراہم نہیں کر سکتی۔ اگر ماں خدا کو بھگوان کے روپ میں پیش کرے تو بعد میں اس بھگوان سے خدائے حقیقی تک پہنچنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ ایک بچہ خیر و شر، شرک و توحید اور جبر و قدر جیسے دقیق موضوعات سے لے کر صبروقناعت‘ سادگی و حیا اور فقر و استغنا جیسے عملی مسائل پر ابتدائی تعلیم ماں ہی سے حاصل کرتا ہے۔


علم کی اس اولین درسگاہ کا اپنا قبلہ ہی درست نہ ہو تو قدرت کے فطری نقشہ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس بگاڑ کا عملی نمونہ کبھی دنیا ہٹلر‘ میسولینی اور چنگیزخان کی شکل میں انفرادی سطح پر دیکھتی ہے تو کہیں اجتماعی سطح پر قوم لوط، قوم عاد اور ثمود کی صورت میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ خواتین کی طبیعت میں کئی پہلوؤں سے بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے مگر اس تحریر میں ہم صرف ایک خاص چیز کی طرف توجہ دلارہے ہیں یعنی نمود و نمائش کے جذبے میں حد سے بڑھ جانا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ عورتوں میں نمود و نمائش کا جذبہ مردوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ اگر اپنی حدود میں رہے تو دنیا کے حسن میں اضافہ کرتا ہے اور اگر ان قیود سے ماورا ہو جائے تو فساد برپا کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی نمود و نمائش کے بے شمار پہلو ہیں لیکن ان کاسب سے نمایاں اظہار ملبوسات اور زیورات کے ذریعے سے ہوتا ہے۔

جہاں تک لباس کا تعلق ہے تو اس کا بنیادی مقصد سترپوشی ہی نہیں بلکہ زینت و آرائش بھی ہے بشرطیکہ اس میں اسراف نہ ہو ۔لیکن اگر ہم خواتین کے طرز عمل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطمح نظر اکثراس سے مختلف ہوتا ہے۔ اکثر خواتین ملبوسات کو مقابلے کے جذبے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی لباس کو زیب تن کر لیا جائے تو دوسری تقریب کے لیے وہ شجرِ ممنوعہ بن جاتا ہے۔ پھر اگر کوئی یہ بدعت کر بھی لے تو اسے غربت کے طعنے دے کر راہِراست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لباس جتنا مہنگا ہو، اتنا ہی خاتون کے اعلیٰ ذوق اور اسٹیٹس کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب زیورات کا شوق بھی خواتین کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ سونا جو کہ انتہائی بے مصرف دھات ہے خواتین ہی کی وجہ سے انتہائی قیمتی بنا ہوا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اسٹیل کی چوڑیاں پہننا عار اور سونے کی چوڑیاں پہننا وقار سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں محض دھاتیں ہیں۔ سونے کی قدروقیمت کا تعلق قدیم ترین نفسیات سے ہے۔ چنانچہ یہ زیورات تالوں میں بند الماریوں میں پڑے رہتے ہیں ۔ اگر کبھی خواتین سے یہ کہا جائے کہ ان زیورات کو کسی منافع بخش مصرف میں استعمال کیا جائے تو ان کے لیے یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔

خواتین اسی نمود و نمائش کے جذبے کے تحت تقاریب کو رونق بخشتی ہیں۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے نت نئے لباس پہنے جاتے ہیں۔ منفرد نظر آنے کی خواہش میں لاکھوں روپے کے زیورات بنوائے جاتے ہیں اور پھر اسے مووی میں محفوظ کرکے امر کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اسی طرز عمل کی بناء پر آمدنی کے ناجائز ذرائع کو فروغ ملتا ہے۔ کرپشن پیدا ہوتی ہے۔ سادگی کی جگہ تصنع و بناوٹ آجاتی ہے۔ معصومیت کی بجائے چالاکی پیدا ہوتی ہے۔ ہمدردی کی بجائے حسد گھر کر لیتا ہے۔ یوں انسانیت کی یہ عظیم ترین درسگاہ بگاڑ کا شکار ہو کر ایک بڑے بگاڑ کو جنم دینے کا سبب بن جاتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ خواتین یہ فیصلہ کریں کہ انہیں اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس جھوٹی شان و شوکت کی ختم نہ ہونے والی جدوجہد میں جھونک دینا ہے یا انہیں سادگی اور وقار کا درس دینا ہے ۔ کیونکہ سادگی ہی وہ راستہ ہے جس کے ساتھ کسی شخص کو اپنی شخصیت کی تکمیل کے لیے ظاہری سہاروں کی ضرورت نہیں رہتی۔





پروفیسر محمد عقیل
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز

Last edited by ابن آدم; 20-07-10 at 04:00 PM..

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 283
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (20-07-10), محمد عاصم (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), آبی ٹوکول (20-07-10), حیدر (20-07-10), سحر (20-07-10), عبداللہ آدم (21-07-10), عبداللہ حیدر (20-07-10)
پرانا 20-07-10, 04:56 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے یہ سونے کے زیوارات تو مجھے نا سمجھ آتے ہیں اور ناپسند ہیں‌
ہر کپڑوں کے ساتھ یہ پیلے پیلے زیورات ۔
آرٹیفیشل جیولری ذیادہ خوبصورت ہوتی ہیں
اور کانچ کی چوڑیوں کی تو بات ہی اور ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), آبی ٹوکول (20-07-10), ابن آدم (20-07-10), بلال اویسی (20-07-10), حیدر (21-07-10), عبداللہ آدم (21-07-10), عبداللہ حیدر (20-07-10)
پرانا 20-07-10, 04:56 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے یہ سونے کے زیوارات تو مجھے نا سمجھ آتے ہیں اور ناپسند ہیں‌
ہر کپڑوں کے ساتھ یہ پیلے پیلے زیورات ۔
آرٹیفیشل جیولری ذیادہ خوبصورت ہوتی ہیں
اور کانچ کی چوڑیوں کی تو بات ہی اور ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (20-07-10), ابن آدم (20-07-10)
پرانا 21-07-10, 02:55 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نو کمنٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (21-07-10), ابن آدم (21-07-10), حیدر (21-07-10)
پرانا 21-07-10, 03:04 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم یورپ کی عورت کو دیکھیں تو کتنی آزاد اور خود مختار۔ لیکن انتھائی ذہنی دباؤ اور تنھائی کا شکار۔ عمر گذر جاتی ھے بے چاری کی ذہنی سکون کی گولیاں کھاتے کھاتے۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
ابن آدم (21-07-10), حیدر (21-07-10), سحر (21-07-10), عبداللہ آدم (22-07-10)
جواب

Tags
کوشش, نظر, موت, ماں, ماورا, مسائل, معلوم, اللہ, اعلیٰ, توحید, تحریر, تعلیم, حسن, خواتین, خدا, راستہ, زندگی, شخص, عورت, عورتوں, عقیل, علم, عظیم, غربت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مصنوعی دل نے دھڑکنا شروع کر دیا جاویداسد دلچسپ اور عجیب 3 03-10-10 05:36 PM
مصنوعی ٹانگوں سے چلنے والی بلی جاویداسد خبریں 0 03-07-10 11:00 PM
بھارت کے خلاف پاکستان کا مجموعی ریکارڈ محمدعدنان کرکٹ 2 26-09-09 12:48 PM
آئی لمب ٹیکنالوجی اورمصنوعی جسمانی اعضاء wajee عمومی سائنس 1 11-09-09 10:35 PM
’مصنوعی جاندار بنانا ممکن‘ چاچا کمال عمومی بحث 5 01-07-07 05:42 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger