واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


وطن یہ مٹ گیا تو تم بھی مٹ جاؤ گے دیوانو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-03-11, 08:21 PM   #1
وطن یہ مٹ گیا تو تم بھی مٹ جاؤ گے دیوانو
زارا زارا آف لائن ہے 22-03-11, 08:21 PM

وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھنا اس نے وضو کیا ،جائے نماز بچھائی ،نفل پڑھنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ پھیلادیے :اے اﷲ! یہ بیٹا تیری امانت تھا۔ توجب چاہے اسے لے سکتا ہے لیکن آج ایک باب بیٹے کی محبت سے مغلوب ہوکر تیرے سامنے انوکھی التجا کررہا ہے ،ضد کررہا ہے تو اسے خالی ہاتھ نہ جانے دینا ۔

یااﷲ! میرا بیٹا جوان ہے اور اسے اپنی زندگی کی کئی بہاریں دیکھنا ہیں ۔میں بوڑھا ہورہا ہوں ۔جنگ ہو یا امن ،خوشحالی ہویا بدحالی عیش یا فاقے ،زندگی گزار چکا ۔اے اﷲ!تو ایک بوڑھے باپ پر جوان بیٹے کو ترجیح دیدے ۔تو اس کی بیماری مجھے ،میری صحت مندی اسے دیدے ۔

میری زندگی میرے بیٹے کو عطاکردے اور اس کی موت مجھ پر طاری کردے ۔آج تو سوداکرلے ۔میری جان کے عوض میرے بیٹے میں زندگی کی لہر دوڑا دے ۔پھر وہ دوبارہ اٹھا کمرے میں گیاجہاں اس کا بیٹابستر مرگ پر نیم دراز تھا ۔اس نے ایک نظر اپنے بیٹے کودیکھا ،وہاں مردنی کاعالم تھا ۔وہ تڑپ اٹھا اور بے تاب ہو کر بیٹے کے بستر کے گرد چکر لگانا شروع کردیے ۔آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے جھرنے میں وہ یہی کہتا جاتا :میں نے اس کی بیماری لے لی۔

تاریخ کی کتابیں کہتی ہیں کہ ہندوستان کے متعد د علاقوں میں فتح کے پرچم گاڑنے والا یہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر چکر لگاتا جارہا تھا، ادھر اس کی آنکھیں بند ہوتی جارہی تھیں ،ادھر اس کے بیٹے کی آنکھیں کھلتی جارہی تھیں۔ابھی ساتواں چکر مکمل نہ ہواتھا کہ بابر گرگیا اور اس کی روح پرواز کرگئی ۔اس کا بیٹا یہ ہوش وحواس اٹھ بیٹھا ۔تاریخ عالم کے انوکھے واقعات سے اسے تعبیر کیاجاتا ہے۔

جس طرح تمام ترخامیوں کے باوجود ظہیر الدین بابر کو پاکستان کی بنیادوں کی ایک اینٹ قرار دیاجاتا ہے اسی طرح محمد بن قاسم محمود غزنوی ،ٹیپو سلطان جیسے ہمارے بڑوں کو بانیان پاکستان میں سے ایک شمار کیاجاتا ہے مگریہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جس طرح ہماری نئی نسل کو بابر کاعلم نہیں اسی طرح ان بڑوں کے کارناموں کاذکر آئے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتی ہے۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ان قومی ہیرو نے جس آزاد سلطنت کے سینے دیکھے تھے وہ اپنے قیام کے 62برس گزرنے کے باوجود محفل ایک خواب ہی ہے تعمیر کی نوبت نہیں آسکی ۔ہمارے ان محسنوں نے جس عظیم مقصد کے لیے ساری جدوجہد کی،اسے ہم فراموش کرچکے ۔جس نظریے کو پھیلانے کے لیے وہ گھر سے نکلے ،دربدر ہوئے ،انہوں نے زمانے کے سردوگرم حالات کابے جگری سے مقابلہ کیا، وہ اپنی جانوں سے بھی گزرے شہادت کا جام بھی نوش کیالیکن اس نظریے پر آنچ نہ آنے دی ،اس کی رتاہ میں حائل تاریکیوں کو اپنے لہو کی روشنیوں سے مٹاتے رہے ،وہی اسلام آج پاکستان میں اجنبی بن چکا ہے ۔اسی اسلام کا روشن روایا ت ہمارے نامہ اعمال کی سیاسی تلے دب کر رہ گئی ہیں ۔

محمد بن قاسم کو بانی پاکستان کے اس قول کہ پاکستان اسی دن بن گیا تھا جس دن پہلے مسلمان نے ہندوستان کی سرزمین میں پرقدم رکھاتھا کی روشنی میں تحریک پاکستان کا متبدی گروانا جاتا ہے ۔دیبل کی بندرگاہ پرراجہ داہر کی قیدمیں موجود عرب خاتون کی آہیں اور فریادیں جب گورنر حجاج بن یوسف تک پہنچیں تو وہ تڑپ اٹھا ۔اس نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو بھیجا جسے صرف 17سال کی عمر میں اﷲ نے وہ عزت بخشی کہ اس نے نہ صرف اس عرب خاتون کو رہا کروایا ،راجہ داہر کوشکست دی ،بلکہ سندھ کو بھی فتح کیا۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی بن قاسم کی طرح جرات دکھانے کا موقع ملاتھا جب امریکی جیلوں سے بے گناہ عافیہ صدیقی کی صدائیں گونجی تھیں۔ اس پرہولناک تشدد کی داستانیں اس کی آہوں نے سنائی تھیں لیکن ہم پرڈالروں کا بھوت سوار تھا ۔ہمیں امداد کی ہوس تھی جس کے لیے ہم نے اپنی پاکستانیت اورعافیت بھی داؤ پرلگادی۔ صرف یہی نہیں 500ڈالر کے عوض اس تعلیم یافتہ ذہین خاتون کو امریکا کو فروخت کردینے والا مشرف آج بھی دندتا پھرتا ہے۔ڈکٹیٹر شب ختم کرنے کے دعویداراس ڈکٹیٹر پر ایک مقدمہ قائم نہ کرسکے۔

محمود غزنوی نے ہندوستان پر17 حملے دین اسلام کا جھنڈامضبوطی سے گاڑنے کے لیے کیے تھے ۔وہ ہماری طرح سونا چاندی کادیوانہ نہ تھا ۔اگرہوتا تو وہ سونے کی اشرفیوں سے اونٹوں کے اونٹ لاددینے کی پیش کش قبول کرلیتا اورسومنات کا بت نہ توڑتامگر اس نے تاریخ میں بت فروش کی بجائے بت شکن کہلانا پسند کیا ۔ایک ہم ہیں کہ خدا کے بجائے بڑی طاقتوں سے امیدلگاتے ہیں اوربڑے فخر سے خود کو محب وطن اور مسلمان بھی کہلواتے ہیں۔

سلطان ٹیپو نے سعادت کی زندگی گزار کراور شہادت کوگلے لگاکر یہ سبق دیاتھا کہ فرد ہویاقوم دونوں کوزندگی کے لیے غیرت ،جرات اورحمیت جیسے جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ انگریزوں سے تقریبا 25سال نبرد آزما رہا ۔ اس نے اسلامی سطوت وشوکت کاپرچم ایسے دور میں بھی تھا ماجب صرف ہندوستانی ریاستوں کے حکمران ہی نہیں بلکہ خود اس کے کئی وزیر چندٹکوں کے لالچ میں انگریزوں سے مل چکے تھے ۔انگریز اسے شکست نہیں دے سکا ،غداروں نے خود اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں پرماری ۔ٹیپو سلطان کہاکرتا تھا: انگریزوں اس کی لاش سے گزر کر ہی سلطنت خداداد میسور پرقابض ہوسکتا ہے۔اور اس نے اپنا یہ قول سچ کردکھایا ۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سلطان ٹیپو توکوئی جنم نہ لے سکا ،میرصادق کی بھرمار رہی جنہوں نے ہماری ہرمسند ،ہرکرسی پرڈیرا جمالیاچنانچہ آج کا انگریز امریکا ڈرون حملوں کی صورت میں ہماری خودمختاری کو للکارتا ہے تو ہم شیر کی طرح دھاڑنے کے بجائے بکری کی طرح منمنانےلگتے ہیں ۔ہم امن معاہدوں کی پاسداری کے بجائے اپنے ہی بھائیوں کالہوبہانے کے لیے کاندھا پیش کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

پاکستان لاکھوں قربانیوں کے ثمر میں دنیا کے نقشے پرابھرا تھالیکن جب ملک مل گیاتو ہم نے اسے ہی اپنی منزل سمجھ لیا ۔چنانچہ آگے بڑھنے سے پہلے ہم جو سستانے کے لیے لیٹے تو اب تک غفلت کی نیند میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔وطن عزیز کی ترقی میں رکاوٹ بننے والی غلطیاں دھڑادھڑ کیے جارہے ہیں اور اس کا قصور وار بھی اپنے ہی ملک کو قرار دیتے ہیں ۔یہ سوچنے کے بجائے کہ پاکستان کو ہم نے کیادیا اس میں مگن رہتے ہیں کہ پاک سرزمین ہمیں کیادے سکی؟کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم سب خود کو ہمایوں سمجھ بیٹھے ہیں اورپاکستان کوبابر ۔ ہم چاہنے کے بجائے کہ اس ملک کے لیے قربانیاں دیں ،یہ خواہش کرتے ہیں کہ ہمارے ملک ہمارے لیے قربانیاں دے ۔ہم اپنی زندگی خطرات میں گھرے پاکستان پرنچھاور کرنے کے بجائے پاکستان سے اس کی رہی سہی حیات کے طلب گار ہیں لہذا جیسے جیسے دن آگے بڑھنے جارہے ہیں،پاکستان کی آنکھیں کی آنکھیں ڈھلکتی جارہی ہیں اورہماری بند آنکھیں کھلتی جا رہی ہیں ۔ہم یہ بھول کر کہ جب اپنا ملک نہ ہوگا توپھر ہم کہاں ہوں گے ؟ پہلے سے مضبوت تو انا اورزندہ ہوتے جارہے ہیں۔

تحریر: محمد جمیل اعجاز

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 233
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (24-03-11), ابوسعد (22-03-11)
پرانا 22-03-11, 09:24 PM   #2
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,513
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بڑی فکر انگیز تحریر ہے شیئرنگ کا شکریہ
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-03-11, 01:21 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بابر تقریبا ملحد آدمی تھا۔"بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست"‌ اس کا مشہور قول ہے اور جناب شراب اور دوسرے نشہ آور اشیاء کے بھی دلدادہ تھے۔ الفاظ کی چاشنی تو ہو سکتی ہے لیکن انکا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (23-03-11)
پرانا 23-03-11, 12:25 PM   #4
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر ہے

شکریہ
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-03-11, 02:48 PM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ہم تو ٹھہرے اجنبی مراسلہ دیکھیں
بابر تقریبا ملحد آدمی تھا۔"بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست"‌ اس کا مشہور قول ہے اور جناب شراب اور دوسرے نشہ آور اشیاء کے بھی دلدادہ تھے۔ الفاظ کی چاشنی تو ہو سکتی ہے لیکن انکا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
کبھی کبھار الفاظ کی چاشنی وہ کام کر دیتی ہے جو حقیقت کی نظر رکھ کر نہیں کیا جاتا۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-03-11, 02:49 PM   #6
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
بہت اچھی تحریر ہے

شکریہ
جی شُکریہ محترم مہتاب بھائی
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, پاکستان, پسند, واقعات, وزیر, نیند, نماز, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, محبت, آج, اجنبی, اسلام, اسلامی, تعلیم, جام, خدا, دعا, زندگی, سال, عزت, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مقام عبرت ہے ایسا تو حیوان بھی نہیں کرتے منتظمین پاکستان میں دہشت گردی 15 22-04-11 07:26 PM
سوچتا ہو گا کبھی تو اپنے دیوانے کا حال The Great شعر و شاعری 0 15-09-09 09:49 PM
دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 0 13-06-08 04:46 PM
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے Zullu230 شعر و شاعری 6 10-04-08 04:58 AM
ہیلن میرن کو بہترین اداکارہ کا یورپی فلم اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا عبدالقدوس فلمی دنیا 0 04-12-07 11:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger