امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک گمنام چرچ میں بیٹھا ہوا جرمنی کی عدالت سے جھوٹ بولنے کی پاداش میں 3800ڈالر جرمانہ کی سزا پانے والے جعلی پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ، فرنیچر کے کاروبار میں ٹیکس چوری کرکے اپنے اثاثوں میں ناجائز اضافہ کرنے والا،فراڈ کے الزامات کا ہمیشہ سے سامنا کرنے والا
پادری ٹیری جونز اپنی علامتی عدالت میں انسانی حقوق کی سب سے بڑ ی محافظ کتاب قرآن مجید کو پیش کرتا ہے اور قرآن پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ
”یہ کتاب دہشت گردی پھیلاتی ہے، خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرتی ہے “۔
اس لئے اس کتاب کو دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اپنے چرچ میں موجود اپنے ہمنواﺅں سے سوال کرتا ہے کہ اس کتاب کو کیا سزا ملنی چاہئے؟اور پھر خود ہی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے کہ اسے جلا دیا جائے۔
اس کے سارے چمچے اسی کا راگ الاپنے لگ جاتے ہیں،
ایک بد بخت اٹھتا ہے وہ قرآن مجید کو مٹی کے تیل میں بھگوکر اسے آگ لگاتا ہے اور جب تک قرآن کے اوراق جل نہیں جاتے اس وقت تک اس کے گرد جشن منانے کے سے انداز میں کھڑے رہتے ہیں۔
ساری دنیا منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھی رہی۔ یورپی یونین جو ایک کتے اور بلی کے مرنے پر آپے سے باہر ہو جاتی ہے اسے سانپ سونگھ گیا۔ لیبیا میں ”انسانی حقوق“ کے نام نہاد تحفظ کی خاطر آنسو بہانے والی امریکی لونڈی اقوام متحدہ زیر لب مسکرانے لگتی ہے،خود ساری دنیا میں انسانی حقوق کا نام نہاد علمبردار پادری کے اس عمل کی مذمت تو نہیں کرتا مگر اس گستاخی پر غصے میں بل کھاتے مسلمانوں کے احتجاج کو شدید مذمت کا نشانہ بناتا ہے،غیر تو غیر اپنوں کا یہ حال ہے کہ او آئی سی ایک مذمتی بیان دے کر خاموش ہو گئی، عرب لیگ کے ایجنڈے میں یہ بات شامل ہی نہیں کہ وہ عالم اسلام کے کسی مسئلے پر کوئی بیان ہی جاری کر دے۔
اسلام کا قلعہ”پاکستان“کرکٹ کے حصار سے نہ نکل پایا۔ صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب آصف علی زرداری نے اپنے پارلیمنٹ سے خطاب میں اس واقعے کی مذمت تو کر دی مگر امریکہ کے سامنے احتجاج کی بجائے اقوام متحدہ کو فریق بنا لیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب جناب عبد اللہ حسین ہارون نے چند دیگر اسلامی ممالک کے ہمراہ ملکر یو این او کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر سمجھا کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا۔
خود پاکستان کے اندر کچھ ایسے بھی لوگ موجود ہیں( جو خود کو دنیا میں یکتا دانشور تصور کرتے ہیں)جنہوں نے زیر لب طنزیہ مسکراہٹ بکھیری اور کہا کہ ”لو جی!مولویوں کو ایک اور ایشو مل گیا“ ایک ”بزعم خود دانشور“ ایسے بھی ہیں کہ جب کبھی ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو انہیں یہودیوں اور عیسیائیوں کی ایجادات یاد آ جاتی ہیں اور وہ اپنے کالم میں کبھی انسانی حقوق کا نام لے کر کبھی پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی بعض مسلمانوں کی عملی کوتاہیوں کی آڑ میں جو شروع ہوتے ہیں تو بس اسی ایک بات پر آکر ان کا قلم رکتا ہے کہ جناب سب کچھ تو یہودیوں کا استعمال کرتے ہو، یہودی سائنسدانوں کی ایجادات سے اپنی زندگی کو پر تعیش بناتے ہو، یہودیوں کی گاڑیاں استعمال کرتے ہو، یہودیوں کے بنائے صابن سے اپنے ہاتھ اور کپڑے دھوتے ہو وغیرہ وغیرہ۔
مگر جب انہیں مسلمان اکابرین کی ایجادات کا تذکرہ سنایا جاتا تو پھر علامہ اقبال کی اوٹ میں جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ”تھے تو وہ آباءتمہارے ہی مگر تم کیا ہو“
قارئین عظام! پادری ٹیری جونز نے کہا کہ
” قرآن خونریزی کا سبق دیتا ہے اور اسلامی تاریخ خونریز ہے“
کیا کوئی ہے جو ٹیری جونز سے پوچھے کہ ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھو، کہ تیری تاریخ کتنی خوفناک ہے؟ تیرے آباءو اجداد نے کتنے بے گناہوں کا لہو پیا ہے؟، کتنی معصوم عصمتوں کو پامال کیا ہے؟، کتنے کروڑ انسانوں کو اپاہج اور زخمی کیا ہے؟ تو مسلمانوں کی تاریخ کو خونریز قرار دے کر اپنے منہ کی کالک پاکیزہ اسلامی تاریخ کے منہ پر ملنا چاہتا ہے۔ذرا بتا تو سہی!کائنات انسانیت کے سب سے بڑے محسن
جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا قصور تھا کہ تیرے آباءو اجداد نے ان پر حملے کئے، ان کی بیٹیوں کو طلاقیں دلوائیں، ان کے ساتھیوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے کہ آج بھی ان کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ حیات کو ماننے والی ایک خاتون سمیہ رضی اللہ عنھا کو دو انٹوں سے باندھ کر مخالف سمت میں دوڑا کر دو حصوں میں تقسیم کر دینا تیرے ہی بڑوں کا کارنامہ ہے۔بلال حبشی رضی اللہ عنہ جیسے غلامی کی چکی میں پسنے والے غریب آدمی کو کوئلوں پر لٹانا، دہکتی ہوئی ریت اور پتھریلی زمین پر گھسیٹنا بھی تیرے ہی آباءو اجداد کا کارنا مہ ہے اور یہ تو ماضی بعید کی باتیں ہیں۔ آﺅ تجھے تیرے ماضی قریب کی تاریخ کا شیشہ بھی دکھائیں۔
بتا! تیرے بڑے( امریکی صدر بش) نے چنگیز خان کوانسانیت کا عظیم راہنما قرار دیا اور کہا کہ
چنگیز خا ں اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس کا مجسمہ واشنگٹن میں نصب کیا جائے، کیا تو چنگیز خاں کی تاریخ سے نا بلد ہے، اگر علم نہیں تو آﺅ ہم بتلاتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جس نے صرف سات دنوں میں ہاں،ہاں سات دنوں میں 16لاکھ انسانوں کو ہرات میں قتل کیا تھا، تیرا تو آئیڈیل ہی وہ ہے جس نے عراق کے دریاﺅں کا پانی مسلمانوں کے خون سے سرخ کر دیا تھا، جس نے کروڑوں کتابیں جلا کر علم دشمنی کا عملی مظاہرہ کیا جس طرح تمہارے آج کے ایجنٹ پاکستان کی پاک دھرتی میں ”طالبان“کے نام پر سکولوں کو بم دھماکوں سے اڑاتے ہیں، طلباءکو مارتے ہیں،مساجد کے بے گناہ نمازیوں کا خون بہاتے ہیں، یہ تیری تاریخ ہے اس طرح وحشیانہ اقدامات کا اسلامی تاریخ میں کوئی وجود نہیں۔
ٹیری جونز!اپنے گریبان میں جھانکو اور بتاﺅ کہ جنگ عظیم اول میں ایک کروڑ 76لاکھ 56ہزار انسانوں کو کس نے مارا، کیا یہ مارنے والے مسلمان تھے۔ کیا جنگ عظیم دوئم (جس میں مجموعی طور پر ساڑھے سات کروڑ انسان قتل ہوئے) مسلمانوں نے لڑی تھی؟ جس میں دنیا کے 61ممالک کے ایک ارب سے زائد فوجیوں نے دو کروڑ روسیوں کو مارا، پولینڈ کے چھ لاکھ، یوگو سلاویہ کے17لاکھ، فرانس کے 6لاکھ برطانیہ کے3لاکھ 75ہزار اور امریکا کے 4لاکھ پچاس ہزار، جرمن کے65لاکھ، اٹلی کے16لاکھ اور جاپان کے19لاکھ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹابا۔ ذرا بتاﺅ کہ دوسری جنگ عظیم میں ہی جاپان کے دو شہروںہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایٹم برسانے والوں کے پاس کیا قرآن پکڑا ہوا تھایا وہ بائیبل کی تلاوت کر کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔پادری ٹیری جونز ! یہ تیرے ہی بڑے ہیں جنہوں نے دو لاکھ سرب مسلمانوں کو قتل کیا۔سات سات ہزار مسلمانوں کو زندہ اجتماعی قبروں میں دفن کیا۔عراق میں تیرے ملک کے سربراہوں کی درندگی کا شکار ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 20لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہے،افغانستان میں مسلمانوں سے جینے کا حق چھیننے والے بھی تیری ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کی قبروں تک کی بے حرمتی کرنے والے بھی بائبل اور تورات کو ماننے کا دعوےٰ کرتے ہیں۔ٹیری جونز یہ تیری تاریخ کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہے۔ ابھی تو تیرے نامہ سیاہ میں اور بھی بڑی سیاہیاںہیں، میری بد قسمتی یہ ہے کہ میری موجود ہ قیادت تیرے ہاتھوں دنیا کے چند ڈالروں، چند کرسیوں اور چند منصبوں کے عوض بکی ہوئی ہے ورنہ آج اگر امیر معاویہ ؓ زندہ ہوتے تو میں دیکھتا کہ تو کس طرح قرآن کو جلانا تو کجا اسے ہاتھ لگانے کی بھی جرات کرتا، اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تو نام سن کر یقینا تیر اآج بھی پیشاب خطا ہوتا ہوگا۔ہاں میں سمجھتا ہوں کہ تجھے ڈر بھی تو اسی بات ہے کہ کہیں کوئی عمر رضی اللہ عنہ یا معاویہ رضی اللہ عنہ پیدا نہ ہو جائے۔ جو تجھے جزیرہ عرب سے ہی نہیں زمین کے کونوں سے نکالے اور اللہ کی مخلوق کتوں،چمگادڑوں اور خنزیروں کا لقمہ بنا دے، یا پھر تجھے سمندروں میں موجود اللہ کی مخلوق کے سامنے پھینک دے۔
پادری تم کہتے ہو کہ یہ
”قرآن دنیا میں دہشت گردی پھیلاتا ہے“
بھلا بتاﺅ!جو قرآن ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف جانتا ہے وہ دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے،جس قرآن کی تعلیم یہ ہو کہ”ولایجرمنکم شناٰن قوم علی ان لا تعدلو“کہ تمہیں کسی قوم کی دشمنی بھی بے انصافی پر آمادہ نہ کرے“ بلکہ ہر حال میں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو،کیا یہ تعلیم دہشت گردی ہے۔جس قرآن کا سبق یہ ہو کہ”ولا تاکلو اموالکم بینکم بالباطل“( ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاﺅ) کیا وہ قرآن دہشت گردی کا سبق پڑھائے گا۔ پادری صاحب آپ کو قرآن کی تعلیمات کا علم ہی نہیں ، کا ش کہ آپ ایک بار قرآن پڑھ لیتے، تو شائد یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پیش آتی۔ٹیری جونز تم نے یہ بھی الزام لگایا کہ”
کہ قرآن انسانی حقوق کو پامال کرتا ہے“کیا جس پر قرآن نازل ہوا اس نے خود کو بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں احتساب کے لئے نہ پیش کر دیا کہ اگر مجھ سے کسی پر کوئی زیادتی ہو گئی ہو تو آج اس دنیا میں بدلہ لے لے، آخرت میں سوال نہ کرے، جس نبی نے کسی کا مال لوٹنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر کی ہو اور پھر وہ واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کرے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کر(کے کسی کے مالی حقوق کو سلب کرے گی تو)میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔کیا وہ جو اپنی بیٹی کو بھی کسی کا حق پامال کرنے کی اجازت نہ دے اس پر یہ الزام کہ وہ انسانی حقوق پامال کرتا ہے قرین انصاف ہے ۔
پادر ی !تو نے کہا کہ
” قرآن اور اسلام خواتین کے حقوق کو پامال کرتا ہے“ ذرا سن جو قرآن اور اسلام عورت کی حیثیت سے جنت ماں کے قدموں ڈال دے، جو اسلام بہن کو بھائی کی غیرت کا استعارہ بنا دے، بیوی کی حیثیت میں خاوند کواس کی عزت و آبروکا محافظ بنا دے وہ اسلام عورت کے حقوق کا پامال کرنے والا ہے یہ وہ عیسائیت جو عورت کو گھر سے نکالے اور جنس بازار بنا دے، کیا عورت کی عزت اس میں ہے کہ وہ گھر کی ملکہ بن کے رہے یا اس میں ہے اشتہار شیونگ کریم کا ہو اور مشہوری ایک عورت کے ذریعے کروائی جائے۔کیا عورت کی عزت میں اس میں ہے کہ وہ گھر میں بیٹھ کر معاشی فکروں سے آزاد رہ کر ایک نئی نسل کی تربیت کرے یا اس میں ہے کہ وہ کبھی باس کی نگاہ ہوس کا نشانہ بنے اور کبھی کسٹمر کے سامنے خوبصورت بن کے بیٹھے۔پادری صاحب!یہ تمہارے ہی بڑے ہیں جنہوں نے اپنی جنسی ہوس کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کے حقوق کے نام پر عورت کو رسوا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اسلام تو عورت کو تمہارے چھینے ہوئے وہ عزت اور وہ حقوق دیتا ہے کہ جس پر ساری انسانیت فخر کرتی ہے۔
پادری ٹیری جونز !تو نے اس قوم کو للکارا ہے جس کی چٹان سے بارہ سو سال تک تیرے آباءو اجداد ٹکراتے رہے اور اپنا سر پھوڑتے رہے مگر اس چٹان میں سوراخ تو دور کی بات ہے دراڑ بھی نہ پیدا کر سکے، تیرے بڑوں نے ہم سے ہمارا ایمان چھیننے کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے مگر نہ ان کے پلے کچھ پڑا نہ تیرے نصیب میں سوائے ذلت اور لعنتوں کے طوق کے کچھ آئے گا۔تو جتنا جی چاہتا ہے زور لگا لے قرآن کی حفاظت کا ذمہ تو اس کے اتارنے والے نے لیا ہوا تو اس کا تو کیا کچھ بگاڑ پائے گا تو تو امت مسلمہ کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، ہم جتنے بھی بد عمل ہیں مگر ایمان کی چنگاری ہمارے دلوںمیں سلگتی رہے گی اور انشاءاللہ یہ چنگاری ایک دن تیرے خرمن کو جلا کر خاستر کر دے گی۔
محمد ابرار ظہیر