| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1171
|
||||
| 12 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-11-09), یاسر عمران مرزا (06-11-09), مسافر (08-11-09), Wahid Mahmood (07-11-09), ام طلحہ (10-11-09), ابو عمار (07-11-09), حیدر Rehan (07-11-09), رانا امر (15-11-09), سیلانی (07-11-09), سحر (07-11-09), شاہ جی 90 (08-11-09), عامرشہزاد (08-11-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
عورتوں کے کپڑے راجوں ، مہا راجوں کی مرضی سے ڈیزائین ہونے چاہئے ورنہ ان کو شکایت ہوتی ہے
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی
اب میں کیا کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔؟ ذرا قرآن و سنت کی روشنی میں، پاکستان کے ’خالص اسلامی‘ نظام کی روشنی میں ایک فٹ کپڑے کے لباس پر روشنی ڈالیئے۔۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔ ٹھیک ہے آپ طالبان کے مخالف ہیں لیکن جس قرآن کے آپ علمبردار ہیں اس کا ہی خیال کر لیجئے۔۔ مجھے بھی رہنمائی کیجئے اس کے جواز کی ۔۔۔۔۔ چار دن جوانی کے ہی خوشی سے گزار لوں |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
اس میں تو کچھ ڈریسز کافی بولڈ ہیں۔ واہ کیا ساف امیج پیش کیا ہے۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدعمر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بس عمر بھائی
بالکل ہی صاف کر دیا ہے معاملہ۔۔۔۔۔ ’’نہ رہے گا کپڑا نہ رہے گا رولا‘‘ لگتا ہے کہ کفایت شعاری کمیشن نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیاہے۔۔ ۔۔۔۔’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا‘ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-11-09), عامرشہزاد (08-11-09) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (07-11-09), مسافر (08-11-09), ابو عمار (07-11-09), حیدر Rehan (07-11-09), راجہ اکرام (07-11-09), عامرشہزاد (08-11-09) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ بھائی
میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں کہ ایک اسلامی ملک میں ایسے فیشن شوز نہیں ہونے چاہیے ۔ لیکن ان فیشن شوز یا بےحیائی کو ختم کرنے کا یہ طریقہ نہیں کہ اس بےحیائی کا اور ذیادہ ذکر کیا جائے ۔ اور مزاق اڑایا جائے بلکہ بے حیائی ختم ہوتی ہے تربیت سے ۔ جو لوگ ان شوز میں کام کرتے ہیں کیا ہم نے ان کی تربیت کے بارے میں کبھی سوچا ۔ دوسرے کو برا کہنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن کسی کو سدھارنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اگر آپ گورنمنٹ کی ذمہ داری کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی قصور وار میں اپنے اپ کو ہی سمجھتی ہوں شکریہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 90
کمائي: 1,841
شکریہ: 336
55 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بھی اُسی روشن خیالی سلسلے کی کڑی ھے جب مشرف نے لاھور میں نیم برہنہ کُڑیوں کی دوڑ لگوائی تھی
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سیلانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
سحر بہنا میں آپ سے بھی اتفاق کرتا ہوں۔۔۔ یقینا ’’یہ طریقہ نہیں کہ اس بےحیائی کا اور ذیادہ ذکر کیا جائے ۔ اور مزاق اڑایا جائے‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب سارے کے سارے ذرائع ابلاغ اس کے فضائل بیان کررہے ہوں، اس کی اہمیت اور ضرورت پر دلائل کی بھرمار ہو، اس میں حصہ لینے والوں کی بہادری کی داستانیں سنائی جا رہی ہوں۔۔۔ جب برائی کو اچھائی سمجھنے کا چلن عام ہو جائے، بے حیائی کو روشن خیالی اور سافٹ امیج کے نام سے سر عام تشہیرکیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے خلاف بولنے والا ایک بھی نہ ہو۔۔ اس کی مذمت کرنا والا ایک بھی نہ ہوتو۔۔۔۔ کیا اس وقت بھی ہم یہی سوچ کر چپ ہو جائیں کہ ’’یہ طریقہ نہیں کہ اس بےحیائی کا اور ذیادہ ذکر کیا جائے ۔ اور مزاق اڑایا جائے‘‘ میری بہنا ۔۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کم از کم اسے برا تو کہیں۔۔۔ اس کی مذمت تو کریں۔۔ ورنہ ’’اصحاب سبت‘‘ کے واقعے میں خاموش رہنے والے اور نافرمانی کرنے والے دونوں ہی ’قردۃ خاسئین‘ بن گئے تھے۔۔۔۔۔یہ نہ ہو ہم بھی ان میں شمار ہو جائیں ذرا اس پہلو پر سوچ کر بتائیں کہ ان کے خلاف آواز اٹھانا کیسا ہے؟؟ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (07-11-09), مسافر (08-11-09), Wahid Mahmood (07-11-09), سحر (07-11-09), عامرشہزاد (08-11-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
سحر بہنا میں آپ سے بھی اتفاق کرتا ہوں۔۔۔ یقینا ’’یہ طریقہ نہیں کہ اس بےحیائی کا اور ذیادہ ذکر کیا جائے ۔ اور مزاق اڑایا جائے‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب سارے کے سارے ذرائع ابلاغ اس کے فضائل بیان کررہے ہوں، اس کی اہمیت اور ضرورت پر دلائل کی بھرمار ہو، اس میں حصہ لینے والوں کی بہادری کی داستانیں سنائی جا رہی ہوں۔۔۔ جب برائی کو اچھائی سمجھنے کا چلن عام ہو جائے، بے حیائی کو روشن خیالی اور سافٹ امیج کے نام سے سر عام تشہیرکیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے خلاف بولنے والا ایک بھی نہ ہو۔۔ اس کی مذمت کرنا والا ایک بھی نہ ہوتو۔۔۔۔ کیا اس وقت بھی ہم یہی سوچ کر چپ ہو جائیں کہ ’’یہ طریقہ نہیں کہ اس بےحیائی کا اور ذیادہ ذکر کیا جائے ۔ اور مزاق اڑایا جائے‘‘ میری بہنا ۔۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کم از کم اسے برا تو کہیں۔۔۔ اس کی مذمت تو کریں۔۔ ورنہ ’’اصحاب سبت‘‘ کے واقعے میں خاموش رہنے والے اور نافرمانی کرنے والے دونوں ہی ’قردۃ خاسئین‘ بن گئے تھے۔۔۔۔۔یہ نہ ہو ہم بھی ان میں شمار ہو جائیں ذرا اس پہلو پر سوچ کر بتائیں کہ ان کے خلاف آواز اٹھانا کیسا ہے؟؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | Wahid Mahmood (07-11-09), عامرشہزاد (08-11-09) |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سچی بات کہوں کہ اگر اسلام کو تھوڑی دیر کے لئے اگر ایک طرف رکھ دیں ۔۔۔۔ قرآن و حدیث سے تھوڑی دیر کے لئے بے نیاز ہو جائیں تو شاید میں آپ سے بھی بڑا روشن خیال ہوں، اعتدال پسند ہوں نہ صرف سافٹ امیج بلکہ بہت ساری چیزوں کے لئے میں سافٹ کارنر بھی رکھتا ہوں۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب مسلمان ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی راجہ نہیں ، کوئی مہاراجہ نہیں، کوئی گورا نہیں ، کوئی کالا نہیں۔۔۔۔ چلتی ہے اس رب کی جس نے جہاں بنایا، اس کملی والے کی جس نے ہم تک رب کا پیغام پہنچایا۔۔ کاش کہ یہ بات ہماری سمجھ میں آ جائے۔۔۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (07-11-09), منتظمین (07-11-09), مسافر (08-11-09), Wahid Mahmood (07-11-09), عامرشہزاد (08-11-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
راجہ اکرام صاحب۔
میں آپ سے دو الگ الگ باتیں کہتا ہوں۔ 1۔ میںنامناسب لباس خود اپنے لئے پسند نہیں کرتا۔ پردہ اور پردہ کی ھدود پر کئی دھاگہ اسی فورم پر موجود ہیں۔ 2۔ لباس کے بارے میں اس عمومی بیان ، جس سے آپ پبلک پالیسی بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اس ضمن میں ، آپ کے ہر بیان کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس لئے کہ آپ کو کسی بھی دوسرے کے بھی لباس کی تراش و خراش پر تنقید کا کوئی حق حاصل نہیںہے۔ بلکہ مجھ سمیت کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ لباس ایک ذاتی معاملہ ہے اور اس کا مناسب یا نامنساب ہونا بندے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اللہ تعالی نے مناسب لباس پہننے کی ہدایت تو عطا فرمائی ہے لیکن نامناسب لباس کی کوئی سزا نہیں تجویز کی۔ اور نہ ہی آپ کو یا مجھ کو یہ حق دیا کہ ہم اس معاملہ کی پبلک پالیسی بنائیں، نکتہ چینی کریں۔ ایسا ماحول پیدا کریں کہ جس سے بالآخر خواتین کا جینا ہی حرام ہوجائے ، جیسا کے بیشتر مسلم ممالک میںہے کہ نہ وہ کام کرسکتی ہیں ، نہ ہی تعلیم ھاصٌ کرسکتی ہیں اور نہ ہی اپنی پسند کا کوئی لباس زیب تن کرسکتی ہیں۔، چاہے وہ کتنا ہی بدن ڈھانپنے والا کیوں نہ ہو۔ بلکہ سوڈان میں خواتین کی برسرعام سزا ، پٹائی ، کوڑے اور ہزیمت و بے عزتی کے پیچھے ایسے ہی "خالصاسلامی جذبات" اور "خالص اسلامی پراپیگنڈہ " کی جڑیں ہیں۔ ایسے "خالصاسلامی جذبات و نظریات" جن کا تعقل کہیں بھی اللہ کی کتاب سے نہیں بلکہ ذاتی خواہش کی پیروی سے ہے۔ اب آپ اس کو تفصیل سے سمجھیں۔ لباس کا مناسب ہونا، مذہبی طریقہ سے کیا ہے وہ آپ میںسب جانتے ہیں۔ لہذا یہ مذہبی معاملہ نہیںہے۔ مناسب طور پر مرد و عورت اپنے آپ کو ڈھانپیں۔ میںنے صاف صاف آپ کو یہ لکھا کہ اب عورتوںکے کپڑے آپ کی مرضی سے سلیں گے۔ کچھ لوگوں کو مزید پسند نہیں آیا۔ آپ یہ کیسے سمجھتے ہیںکہ آپ کا ایسا بیان سب لوگوں کو پسند آئے گا؟۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ ملبوسات حیا اور بے حیائی کے آپ کے معیار پر پور ے نہ اترتے ہوں۔ آپ نہ پہنیں یا اپنی خواتین کو نہ پہننے دیں۔ لیکن نہ تو لباس حدود کا معاملہ ہے اور نہ ہی تعزیراتی معاملہ ہے اور نہ ہی اس پر کوئی پبلک پالیسی پائی جاتی ہے۔ ۔ یہ خالصتاً آپ کی پسند یا نا پسند کا معاملہ ہے جو آپ کے اپنے آپ تک محدود ہے۔۔ بہت سی خواتین ساڑھی پر چست بلاؤز پہنتی ہیں یہ ان کا اپنا فعل ہے۔ آپ کو نا پسند ہے نہ پہنئیے اور نہ ہی ان کو دیکھئے۔ بہت سی خواتین کا پیٹساڑھی سے نظر آرہا ہوتا ہے۔ آپ کو ناپسند ہے تو نہ پہنئیے اور نہ دیکھئے۔ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیجئے لیکن صرف اپنے لئے یا اپنی خواتیں کے لئے۔ عورتوں پر ہی کیوں جائیں ، مردوں کے شلوار قمیص کو دیکھئے ، ایک تو یہ نہایت بے ہنگم لباس ہے اور دوسرے بہت سے ملکوںمیں یہ صرف شب خوابی کا لباس ہے۔ بہت سے معاشروں میں، اس قسم کے شب خوابی کے لباس میں کسی سے ملنا اس کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے۔۔ اور پھر یہ سان فرانسسکو کے "گے" حضرات کو بہت ہی سیکسی لگتا ہے کہ اس میں سے مرد مردوں کو عورتی مردوں کے ہلتے ہوئے کولہے بہت زبردست نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے ایسا واہیات لباس کوئی کیسے پہن سکتا ہے؟۔ (اگر آپ کو یہ تبصرہ پسند نہیں آیا تو یقین کیجئے جن لوگوں پر آپ تبصرہ کررہے ہیں ان کو بھی اپنے لباس پر آپ کا تبصرہ پسند نہیں آتا) ہم میں سے کسی کو بھی لباس کی پبلک پالیسی بنانے کا عہدہ نہیں ملا ہوا ہے۔ چلتی ہے اس رب کی جس نے جہاں بنایا، اس کملی والے کی جس نے ہم تک رب کا پیغام پہنچایا۔۔ رب کے خیالات آپ کے اپنے معاشرتی معیار کے مطابق ہوتے تو پھر شاید سارا عرب آپ جیسا شلوار قمیص پہنا کرتا۔ دنیا میں سوٹ پتلون اور کوٹنہیں ہوتے۔ خواتیں کے انتہائی مہذب ، شریفانہ اور فاخرانہ لباس نہ ہوتے ۔ مردوں کے انتہائی فاخرانہ لباس نہ ہوتے۔ یہ درست ہے کہ کچھ لباس ضرورت سے زیادہ بے ہنگم ہوتے ہیں، لیکن پھر وہی بات ہے کہ آپ کو جو پسند ہے وہ پہنئیے جو دوسروںکو پسند ہے وہ ان کو پہننے دیجئے ۔ جو دوسرے پہنتے ہیں اس کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس میں جتنا آپ کو قابل مذمت لگتا ہے اتنا ہی دنیا کے دوسرے لوگوں کا آپ کا کہا قابل مذمت لگتا ہے۔ آپ کا تبصرہ ہی وہ وجہ تھی کہ ہلکے پلکے انداز میں کہا۔ ممکن ہے آپ کو اس فورم پر کچھ لوگ آپ کی حمایت میں مل جائیں لیکن صاحب دنیا کیا پہنتی ہے وہ آپ دنیا سے پوچھئیے۔ میرے کسی بھی جملہ کا مطلب یہ نہ لیجئے کہ میںکسی بھی طور پر کسی قسم کے باعث ننگ و شرم ملبوسات کی ترویج کرر ہا ہوں۔ میرے ہر جملہ کا مطلب یہ لیجئے کہ آپ ہوں یا میں ، ہم میںسے کسی کو بھی لباس سے متعلق پبلک پالیسی بنانے یا کسی عورت یا مرد کو اس کے لباس سے ناپنے کا حق کسی نے بھی عطا نہیں کیا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ اپنے حدود میں رہا جائے ، اپنے لئے اپنی پسند کے کپڑوں کا انتخاب کیا جائے اور دوسروں کو ان کی پسند کے کپڑوں کا انتخاب کرنے دیا جائے۔ ایسے تبصرہ کرنے سے گریز کیا جائے جن سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو جواب میں اپنی دل آزاری کے لئے تیار رہئیے۔ ملبوسات اگر مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے بھی ہوں تو بہت سے لوگوں کو ان کو مختلف تراش و خراش نامناسب نظر آتی ہے۔ یہی وہ "خالص اسلامی جذبات" ہیں جو طرح طرح کے بہانوں سے خواتین کے "اسلامی ملبوسات" کی پبلک پالیسی بناتے ہیں اور جب سوڈان میں خواتیں کو مکمل طور پر ڈھانپے جانے والے ملبوسات کی تراش و خراش مختلف ہونے پر "نا محرم پولیس والوں" کی لاٹھیا اور چابک سہنے پڑتے ہیں تو "خالص اسلامی جذبات " رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسلام میں تھوڑا ہی ہے۔۔ یہ تو ان لوگوں کو اپنا قانون ہے۔ صاحب ایسے کالے قوانیں کی جڑیں کہاں ہیںوہ اسی قسم کے کمنٹس میں ملتی ہیں جیسے یہاں درج کئے ہیں۔ آپ جب کسی پر ایک انگلی اٹھاتے ہیں تو آپ کی اپنی باقی انگلیاں آپ پر اٹھ رہی ہوتی ہیں۔ ایک بار پھر اس بات پر زور دوں گا کہ کوئی لباس کتنا نامناسب ہے یہ پہننے والے کا اپنا فعل ہے جس کے لئے وہ خود اپنے اللہ کو جواب دہ ہے۔۔ لیکن کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے لباس پر کہ اس کی تراش خراش اس کو پسند نہیں ہونے کی وجہ سے دوسروں پر انگلیاںاٹھاتا ہے تو وہ اپنی حد سے باہر قدم رکھ رہا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
راجہ اکرام صاحب۔
میں آپ سے دو الگ الگ باتیں کہتا ہوں۔ 1۔ میںنامناسب لباس خود اپنے لئے پسند نہیں کرتا۔ پردہ اور پردہ کی حدود پر کئی دھاگہ اسی فورم پر موجود ہیں۔ 2۔ لباس کے بارے میں اس عمومی بیان ، جس سے آپ پبلک پالیسی بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اس ضمن میں ، آپ کے ہر بیان کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس لئے کہ آپ کو کسی بھی دوسرے کے بھی لباس کی تراش و خراش پر تنقید کا کوئی حق حاصل نہیںہے۔ بلکہ مجھ سمیت کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ لباس ایک ذاتی معاملہ ہے اور اس کا مناسب یا نامنساب ہونا بندے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اللہ تعالی نے مناسب لباس پہننے کی ہدایت تو عطا فرمائی ہے لیکن نامناسب لباس کی کوئی سزا نہیں تجویز کی۔ اور نہ ہی آپ کو یا مجھ کو یہ حق دیا کہ ہم اس معاملہ کی پبلک پالیسی بنائیں، نکتہ چینی کریں۔ ایسا ماحول پیدا کریں کہ جس سے بالآخر خواتین کا جینا ہی حرام ہوجائے ، جیسا کے بیشتر مسلم ممالک میںہے کہ نہ وہ کام کرسکتی ہیں ، نہ ہی تعلیم ھاصٌ کرسکتی ہیں اور نہ ہی اپنی پسند کا کوئی لباس زیب تن کرسکتی ہیں۔، چاہے وہ کتنا ہی بدن ڈھانپنے والا کیوں نہ ہو۔ بلکہ سوڈان میں خواتین کی برسرعام سزا ، پٹائی ، کوڑے اور ہزیمت و بے عزتی کے پیچھے ایسے ہی "خالصاسلامی جذبات" اور "خالص اسلامی پراپیگنڈہ " کی جڑیں ہیں۔ ایسے "خالصاسلامی جذبات و نظریات" جن کا تعقل کہیں بھی اللہ کی کتاب سے نہیں بلکہ ذاتی خواہش کی پیروی سے ہے۔ اب آپ اس کو تفصیل سے سمجھیں۔ لباس کا مناسب ہونا، مذہبی طریقہ سے کیا ہے وہ آپ میںسب جانتے ہیں۔ لہذا یہ مذہبی معاملہ نہیںہے۔ مناسب طور پر مرد و عورت اپنے آپ کو ڈھانپیں۔ میںنے صاف صاف آپ کو یہ لکھا کہ اب عورتوںکے کپڑے آپ کی مرضی سے سلیں گے۔ کچھ لوگوں کو مزید پسند نہیں آیا۔ آپ یہ کیسے سمجھتے ہیںکہ آپ کا ایسا بیان سب لوگوں کو پسند آئے گا؟۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ ملبوسات حیا اور بے حیائی کے آپ کے معیار پر پور ے نہ اترتے ہوں۔ آپ نہ پہنیں یا اپنی خواتین کو نہ پہننے دیں۔ لیکن نہ تو لباس حدود کا معاملہ ہے اور نہ ہی تعزیراتی معاملہ ہے اور نہ ہی اس پر کوئی پبلک پالیسی پائی جاتی ہے۔ ۔ یہ خالصتاً آپ کی پسند یا نا پسند کا معاملہ ہے جو آپ کے اپنے آپ تک محدود ہے۔۔ بہت سی خواتین ساڑھی پر چست بلاؤز پہنتی ہیں یہ ان کا اپنا فعل ہے۔ آپ کو نا پسند ہے نہ پہنئیے اور نہ ہی ان کو دیکھئے۔ بہت سی خواتین کا پیٹساڑھی سے نظر آرہا ہوتا ہے۔ آپ کو ناپسند ہے تو نہ پہنئیے اور نہ دیکھئے۔ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیجئے لیکن صرف اپنے لئے یا اپنی خواتیں کے لئے۔ عورتوں پر ہی کیوں جائیں ، مردوں کے شلوار قمیص کو دیکھئے ، ایک تو یہ نہایت بے ہنگم لباس ہے اور دوسرے بہت سے ملکوںمیں یہ صرف شب خوابی کا لباس ہے۔ بہت سے معاشروں میں، اس قسم کے شب خوابی کے لباس میں کسی سے ملنا اس کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے۔۔ اور پھر یہ سان فرانسسکو کے "گے" حضرات کو بہت ہی سیکسی لگتا ہے کہ اس میں سے مرد مردوں کو عورتی مردوں کے ہلتے ہوئے کولہے بہت زبردست نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے ایسا واہیات لباس کوئی کیسے پہن سکتا ہے؟۔ (اگر آپ کو یہ تبصرہ پسند نہیں آیا تو یقین کیجئے جن لوگوں پر آپ تبصرہ کررہے ہیں ان کو بھی اپنے لباس پر آپ کا تبصرہ پسند نہیں آتا) ہم میں سے کسی کو بھی لباس کی پبلک پالیسی بنانے کا عہدہ نہیں ملا ہوا ہے۔ چلتی ہے اس رب کی جس نے جہاں بنایا، اس کملی والے کی جس نے ہم تک رب کا پیغام پہنچایا۔۔ رب کے خیالات آپ کے اپنے معاشرتی معیار کے مطابق ہوتے تو پھر شاید سارا عرب آپ جیسا شلوار قمیص پہنا کرتا۔ دنیا میں سوٹ پتلون اور کوٹنہیں ہوتے۔ خواتیں کے انتہائی مہذب ، شریفانہ اور فاخرانہ لباس نہ ہوتے ۔ مردوں کے انتہائی فاخرانہ لباس نہ ہوتے۔ یہ درست ہے کہ کچھ لباس ضرورت سے زیادہ بے ہنگم ہوتے ہیں، لیکن پھر وہی بات ہے کہ آپ کو جو پسند ہے وہ پہنئیے جو دوسروںکو پسند ہے وہ ان کو پہننے دیجئے ۔ جو دوسرے پہنتے ہیں اس کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس میں جتنا آپ کو قابل مذمت لگتا ہے اتنا ہی دنیا کے دوسرے لوگوں کا آپ کا کہا قابل مذمت لگتا ہے۔ آپ کا تبصرہ ہی وہ وجہ تھی کہ ہلکے پلکے انداز میں کہا۔ ممکن ہے آپ کو اس فورم پر کچھ لوگ آپ کی حمایت میں مل جائیں لیکن صاحب دنیا کیا پہنتی ہے وہ آپ دنیا سے پوچھئیے۔ میرے کسی بھی جملہ کا مطلب یہ نہ لیجئے کہ میںکسی بھی طور پر کسی قسم کے باعث ننگ و شرم ملبوسات کی ترویج کرر ہا ہوں۔ میرے ہر جملہ کا مطلب یہ لیجئے کہ آپ ہوں یا میں ، ہم میںسے کسی کو بھی لباس سے متعلق پبلک پالیسی بنانے یا کسی عورت یا مرد کو اس کے لباس سے ناپنے کا حق کسی نے بھی عطا نہیں کیا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ اپنے حدود میں رہا جائے ، اپنے لئے اپنی پسند کے کپڑوں کا انتخاب کیا جائے اور دوسروں کو ان کی پسند کے کپڑوں کا انتخاب کرنے دیا جائے۔ ایسے تبصرہ کرنے سے گریز کیا جائے جن سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو جواب میں اپنی دل آزاری کے لئے تیار رہئیے۔ ملبوسات اگر مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے بھی ہوں تو بہت سے لوگوں کو ان کو مختلف تراش و خراش نامناسب نظر آتی ہے۔ یہی وہ "خالص اسلامی جذبات" ہیں جو طرح طرح کے بہانوں سے خواتین کے "اسلامی ملبوسات" کی پبلک پالیسی بناتے ہیں اور جب سوڈان میں خواتیں کو مکمل طور پر ڈھانپے جانے والے ملبوسات کی تراش و خراش مختلف ہونے پر "نا محرم پولیس والوں" کی لاٹھیا اور چابک سہنے پڑتے ہیں تو "خالص اسلامی جذبات " رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسلام میں تھوڑا ہی ہے۔۔ یہ تو ان لوگوں کو اپنا قانون ہے۔ صاحب ایسے کالے قوانیں کی جڑیں کہاں ہیںوہ اسی قسم کے کمنٹس میں ملتی ہیں جیسے یہاں درج کئے ہیں۔ آپ جب کسی پر ایک انگلی اٹھاتے ہیں تو آپ کی اپنی باقی انگلیاں آپ پر اٹھ رہی ہوتی ہیں۔ ایک بار پھر اس بات پر زور دوں گا کہ کوئی لباس کتنا نامناسب ہے یہ پہننے والے کا اپنا فعل ہے جس کے لئے وہ خود اپنے اللہ کو جواب دہ ہے۔۔ لیکن کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے لباس پر کہ اس کی تراش خراش اس کو پسند نہیں ہونے کی وجہ سے دوسروں پر انگلیاںاٹھاتا ہے تو وہ اپنی حد سے باہر قدم رکھ رہا ہے۔ Last edited by فاروق سرورخان; 07-11-09 at 09:35 AM. |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فى الذین آمنوا لھم عذاب الیم
فاروق بھائی۔۔ بات کو مخصر کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے لئے قابل تقلید اگرکوئی چیزہے تو وہ ہے قرآن کریم اورسنت نبویہ علی صاحبھا افضل التسلیمات۔۔ مندرجہ بالا آیت کریمہ اور سنت نبوی کی روشنی میں اگر ایک مسلم معاشرے میں جس کا نظام آپ کے بقول قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اس طرح کے فیشن شوز کی اجازت کس حد تک ہے۔۔ تھوڑی دیر کے لئے بھول جائیے کہ یہ رائے کسی راجے یا مہاراجے کی ہے۔۔۔ مسلمان ہو کر، اپنے آپ کو رب کا بندہ اور عاشق رسول سمجھ کر مجھے اس بات کا جواب دے دیجئے۔۔۔ آپ کے جواب کا انتظار ہے۔۔ و السلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باقی آپ کے تفصیلی مراسلے میں جو کچھ ہے اس پر میں عمدا چپ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن متفق نہیں
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قرآن, لوگ, نظر, آزادی, انسان, اردو, اسلامی, تصویر, حال, خواتین, خودکش, خلاف, رات, طالبان, عورتوں, عقل, علمبردار, عرض, غیرت, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| قیمتی ذخائر غیر ملکی کمپنی کو نہ دئیے جائے؛ڈاکٹر ثمر مبارک | ALI-OAD | خبریں | 0 | 18-01-11 08:04 AM |
| ہماری بے غیر تی دیکھ لو | جاویداسد | خبریں | 18 | 08-12-10 09:44 AM |
| پاکستان سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی نشست پر امیدوار | جاویداسد | خبریں | 0 | 16-10-10 10:46 PM |
| پاکستانی مردوں کی غیرت گوارہ نہیں کرتی | Haya 786 | اپکے کالم | 31 | 30-09-09 11:37 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 08:45 PM |