| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 341
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | champion_pakistani (02-09-09), muhammad asif virani (26-08-09), فیصل ناصر (26-08-09), منتظمین (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09), شاہ جی 90 (26-08-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,041
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انجم بھائی ، وہ حکمران تو گئے جو کہتے تھے کہ ہماری حکومت میں ایک کتا بھی اگر بھوکا مر گیا تو اس کا حساب بھی ہم سے ہو گا ، یہاں تو انسان کی قدر و قیمت کتے سے بھی کم ہو گئی ہے ، ویسے خود کشی کوئی بھی شخص اسی وقت کرتا ہے جب اسے امید کی کوئیبھی کرن نظر نہیں آ رہی ہوتی ، کاش کہ کوئی تو ہو جو عوام کو یاسیت سے نکال کر روشنی کی جانب لے جائے ، کاش
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (26-08-09), فیصل ناصر (26-08-09), ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انجم شاہ جی۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کس دکھ کو روئیں۔۔۔۔۔۔ صبح جب گھر سے نکلتے تو شام تک ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ہر منظر پر آنکھیں بھیگ جائیں ۔۔۔مگر ہم روزانہ ایسے منظر دیکھ دیکھ کر بے حس ہو چکے ہیں۔۔۔ اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زند گی مجھے یہ روز بہ روز بڑھتی ہوئی خود کشیاں حکمرانوں کو کیوں نظر نہیں آتیں ۔۔۔ شائد وہ اپنی "رٹ" قائم کرنے سے فارغ ہوں تو۔۔۔ان مسائل کی طرف دیکھیں۔۔۔ لیکن ۔۔۔ دوسری طرف دیکھیں تو معاشرہ تو بھی بے حس ہو چکا ہے۔۔ ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا ۔۔ ہمارے پڑوس میں کون بھوکا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر کوئی اپنے بیٹ پر ہا تھ پھیر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے بہت اچھی تحریر لکھی ہے۔۔۔ میر ی طرف سے اتنی خوبصورت انداز تحریر پر مبارک باد۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (26-08-09), فیصل ناصر (26-08-09), ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر ورق کے لیے پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (26-08-09), رضی (26-08-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی واقعی خود کشیوں میں اضافہ ایک خوفناک صورتحال ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے
اس کی کچھ وجوہات اگر معاشی اور سماجی ہیں تو ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ نفسیاتی بھی ہے بیشتر خودکشی کا رجحان رکھنے والے لوگوں کو اگر ایک سامع میسر آجائے جس کو وہ اپنا حال دل سنا پائیں تو شاید وہ کبھی خودکشی کی طرف مائل نا ہوں ہماری حکومت تو ویسے ہی "غربت" ختم کرنے کے در پے ہے اس لئے بے چاری حکومت کو اس سلسلے میں کیا کہنا ہمارے یہاں کراچی میں ایک فلاحی ادارے نے کچھ عرصہ پہلے پورے شہر میں چاکنگ کرائی تھی "اگر آپ خودکشی چاہتے ہیں تو پہلے ہم سے رابطہ کریں" اس کا مقصد یہی تھا کے مایوسی کی سوچ میں گرفتار شخص کی بات کو سن کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اسکے مسائل ( جو عموما ً بہت بڑے نہیں ہوتے ) کی اصل تصویر اس کو دکھائی جائے بہر حال یہ تجربہ کافی کامیاب ہوا تھا اور خودکشیوں کے اعداد وشمار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی ہم کسی شخص کے مسائل حل تو نہیں کرسکتے لیکن ہم کسی کے مسائل سن کر اس کو تسلی کے دو بول ضرور بول سکتے ہیں اس پر مجھے ایک ذاتی واقعہ بھی یاد آگیا لیکن پھر سہی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
موٹا بھائی آپ کی بات بہت اہمیت رکھتی ہے مگر معذرت کے ساتھ کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہین کہ ہم کسی کا رونا سن سکیں
اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو لگ پتہ جائے گا جب کوئی سریس مسئلہ میں ہمارے پاس آتا ہے تو ہم کہتے کہ جا یار ہمیں پہلے کیا کم پریشانیاں ہین جو تیری بھی سننے لگ جائیں موٹا بھائی ہم کو یہ لگتا کہ ساری دنیا سے زیادہ غم اور تکلیف ہم کو ہی ہے اور کسی کو نہین شکریہ اللہ نگہبان |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() |
حالات نے انسان کو اتنا مجبور کر دیا ہے کہ اس کے پاس مایوس ہو کر خودکشی کرنے کے علاوہ اور کچھ بچا ہی نہیں
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زبیر کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
زبیر بھائی آپ کی آمد پر اچھا لگا
شریہ تھریڈ پر آنے کا اور اپنے خیالات بتانے کا |
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (26-08-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا کہوں میں اب۔
پڑھ کر مجھے انکل سرگم کی نظم یاد آگئی ۔ میرے پیارے اللہ میاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
برادرم انجم شاہ صاحب اچھی تحریر ہے خودکشی مایوسی کا آخری درجہ ہے جس کے بعد انسان کے پاس امید نام کی کوئی چیز نہیں رہتی، بلکہ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خود کشی انتہائی مایوسی کی مجسم شکل ہے۔ اور کچھ غیروں کی سازشوں اور کچھ اپنوں کے رویے نے حالات ایسے بنا دیئے ہیںکہ وطن عزیز میں مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں اور مایوسی کی ان گھڑیوں میں اپنے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھ کر انسان مزید مایوس ہو جاتاہے جس کے لازمی نتیجہ وہ ہے جس کا آپ نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے فیصل بھائی نے بھی درست کہا کہ اس موقع پر اگرانہیں کوئی دکھ بانٹنے والا مل جائے تو شاید ان کا ارادہ بدل جائے اور یقینا بدل جاتا ہے اللہ ہمارے ملک پر رحم فرمائے۔آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیوں بھائی کہیں اس ادارے کا مقصد خؤدکشی کو "فلاحی مقصد" یعنی مملکت پاکستان میں دشمنان دین کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا تو نہیں ؟ میرا مطلب سمجھ رہے ہیں نا۔ پہلے بھی ایدھی بیچارے پر یہی مسئلہ بنا تھا سنا ہے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (28-08-09), شاہ جی 90 (01-09-09) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب انسان کو ہر جگہ سے نفرت ملے، دھکے ملیں، وہ کھانے پینے، پہننے کے لیے دوسروں کا محتاج ہو جائے، اسکو ایک ایک پائی کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑ جائے، گھر میں فاقے ہو رہے ہوں، بچے بھوک سے بلک رہے ہوں، کل تو دور کی بات ہے آج کا پتا نہ ہو کہ رات کو پکانے کے لیے دال روٹی کا بندوبست ہو سکے گا یا نہیں ، تب انسان ہر طرف سے مایوس ہو کریا تو معاشرے کا دشمن بن جاتا ہے یا پھر اپنی جان داؤ پر لگا دیتا ہے۔
یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے لیے کوئی امید کی کرن باقی نہیں رہتی۔ اور وہ بازی ہار جاتا ہے۔ ایک عام انسان کے لیے تو مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ شاید سو فیصد درست ہو ۔ ۔ ۔ لیکن جب وہ انسان ۔۔۔۔مسلمان بھی ہو تو مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ مختلف ہو جاتی ہے۔ بلکہ بالکل الٹ جاتی ہے۔ جب ایک مسلمان کو ہر طرف سے دھتکار دیا جاتا ہے ، اس سے نفرت کی جاتی ہے، وہ پائی پائی کا محتاج ہو جاتا ہے، اس کے گھر میں فاقے ہو رہے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر اپنی ساری امیدیں ۔ ۔۔ ۔ "امید کے واحد مرکز" اللہ سے لگا لیتا ہے۔ اور چونکہ اللہ کے خزانے لا محدود ہیں تو اسکو پھر سے جینے کی امنگ مل جاتی ہے۔ ہمارا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم آج اللہ سے دور ہو چکے ہیں/۔ہم کو اللہ یاد ہی نہیں ۔ جب ہم ہر طرف سے مایوس ہو کر خود کشی کر رہے ہوتے ہیں تو در حقیقت اللہ کا انکار کر رہے ہوتے ہیں/ ہم یہ بات کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ بھی ان حالات کو تبدیل نہیں کر سکتا/ ہم اس وقت در حقیقت اللہ سے بھی مایوس ہو چکے ہوتے ہیں/ ہم یہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ ہمارے نبی پر تو اس سے بھی کڑا وقت آیا تھا۔ہم کس کھیت کی مولی ہیں/ہم بھول چکے ہوتے ہیں کہ ہمارا نبی تین تین دن تک پیٹ پر پتھر باندھ کر محنت مزدوری کرتا رہا لیکن ہم کوایک دن کی بھوک برداشت نہیں ہوتی/ یہ معاشی مسئلہ نہیں بلکہ دینی مسئلہ ہے۔ تمام دینی جماعتوں کے لیے تازیانہ ہے کہ وہ مسلمانوں میں اتنا دینی شعور بھی بیدار نہیں کر پا رہے کہ وہ تھوڑی سی تکلیف برداشت کر سکیں۔ یہ ہم سب کے لئے سوچنے کا مقام ہے ۔۔۔ایک اشارہ ہے کہ قومی حیثیت سے ہم دین میں پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اللہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ورنہ جن کا اللہ پر یقین کو وہ کس طرح خود کشی کر سکتا ہے۔ اگر آج بھی اس ملک کے عوام میں اسلامی شعور پیدا کر دیا جائے تو خودکشیوں کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ اسی لیے تو اللہ نے کہا ہے کہ "ولا تقنطو من رحمۃ اللہ" اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جانا۔اگر اللہ دے کر آزماتا ہے تو لے کر بھی آزماتا ہے اور آزمایش تو یہی ہے کہ جب سبھی دروازے بند ہو جائیں تب انسان کیا کرتا ہے۔ اور "واستیعنو بالصبر والصلاۃ" اور مدد مانگو ساتھ صبر اور نماز کے۔ یہ اس آزمائش کا حل ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (28-08-09), شاہ جی 90 (01-09-09) |
![]() |
| Tags |
| color, کرن, کراچی, پیارے, پاکستان, پسند, لوگ, نظر, موت, مسائل, معاشرہ, معذرت, انسان, بھائی, تاج, تحریر, تصویر, حل, خودکشی, دل, زندگی, شام, شخص, عزیز, غم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسپر یقین کرتے ہیں یا پھر جو یقین رکھتے ہیں اسی کی طرح دیکھتے ہیں؟ | ناصحی | عمومی سائنس | 112 | 13-05-12 06:57 PM |
| سعودی شاہ عبداللہ، صدر آصف زرداری کو پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، وکی لیکس | گلاب خان | خبریں | 14 | 03-12-10 10:16 AM |
| کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج پاکستان آزاد ہے؟ | مھمد امین | عمومی بحث | 13 | 29-05-09 07:48 PM |
| دل دل پاکستان ,,,,پتلی تماشہ…فاروق قیصر | خرم شہزاد خرم | سیاست | 0 | 29-10-07 10:14 AM |