واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


پاکستان میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-09, 10:15 AM   #1
پاکستان میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات
ایس اے نقوی ایس اے نقوی آف لائن ہے 26-08-09, 10:15 AM

ہمارا ملک پاکستان جہاں بہت سے مسائل کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مسلئہ خودکشی بھی ہے دن بدن ہمارے معاشرے میں خودکشی کے رجحانات بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اس دنیا میں کسی بھی جاندار کےلئے سب سی قیمتی متاع اسکی زندگی ہوتی ہے انسان اپنی جان کے تحفظ کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے اپنی جائیداد گھر یا دولت سب کچھ لٹا کر اپنی جان بچتی ہو تو بچا لیتا ہے
بادشاہ اپنی زندگی کی خاطر تاج و تخت چھوڑ دیتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے
زندگی بچ گئی تو دنیاوی نعمتیں کل واپس بھی مل سکتی ہیں لیکن اگر جان چلی گئی تو کسی قیمت پر واپس نہیں مل سکتی
اب خیال کیجئے ان حالات کا
اور اندازہ کیجئے
اس ذہنی کرب اور دکھ کی سطح کا جب ایک انسان فیصلہ کرتا ہے کہ اس کی زندگی سے تو موت بہتر ہے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا
ایسی موت کا ذمہ دار وہ ماحول ،وہ لوگ اور وہ معاشرہ ہے جس کے ہاتھوں تنگ ہو کر اس نے موت کو گلے لگایا ہے
ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے اسباب ہیں جن کی بناء پر ایک شخص اپنی عزیز ترین متاع کو خود اپنے ہاتھوں ضائع کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے
ان اسباب میں بے روزگاری،غربت،شدید بےعزتی،ندامت،نوجوانوں میں پسند کا رشتہ نہ ہونا،مسلسل بیماری ،گھریلو جھگڑے اور لڑکیوں کےلئے عرصہ دراز تک مناسب رشتہ نہ آنا وغیرہ شامل ہیں
جہاں تک بےروزگاری کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ انسان کی سب سے پہلی ضرورت خوراک ہے اگر کسی کو روٹی ہی نصیب نہ ہوسکے گی تو وہ زندہ کیسے رہے گا
ہمارے ہاں ملازمت ملنا آسان کام نہیں جب نوجوانوں کو ملازمت نہیں ملتی تو بہت سے نوجوان خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
اسی طرح غربت بھی خود کشی کا ایک برا سبب ہے آج کل کے مہنگائی کے اس دور میں جب ایک غریب آدمی اپنے گھریلو اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ بھی خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ہمارے معاشرے مین غربت کے ہاتھوں مجبور لوگ زیادہ خودکشی کرتے ہیں
اسی طرح زندگی کے کسی مقام پر شدید بے عزتہ اور ندامت سے پالا پڑ جائے تو یہ‌صورت ھال بھی خودکشی پر مائل کر سکتی ہے کیونکہ بنیادی طور پر کسی شریف آدمی کا بری صبحت کے باعث یا کسی مالی مجبوری کے باعث چوری،کرپشن یا کسی غیر سماجی کام میں ملوث ہو جانا اور بعد ازاں پکڑے جانا ایسی صورت‌حال میں دوچار ہو سکتا ہے
اسکے علاوہ گھر کی بہو بیٹی کا کسی کے ساتھ چلے جانا
امتحان میں مسلسل ناکامی وغیرہ ایسے واقعات ہیں جن سے انسان منفی اثر قبول کر کے انتہائی پریشانی میں کود کشی کی جانب مائل ہو سکتا ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہہے کہ نوجوان لرکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور‌آپس میں شادی کا فیصلہ کر لیتے ہیں مگر انکا یہ فیصلہ انکے والدین کو پسند نہیں ہوتا
جب والدین زبردستی کوئی فیصلہ ٹھونستے ہیں تو پھر کوئی ایک یا دونوں اپنے آپ کو موت کے سپرد کر دیتے ہیں
اس طرح گھریلو جھگڑے بعض اوقات زندگی کت خاتمہ کا سبب بنتے ہیں خصوصا ساس اور بہو کے جھگڑے ،بہو کو کم جہیز کے طعنے اسے زندگی سے بے زاری کا راستہ دکھاتے ہیں اور اس طرح جہیز کم لانے کی وجہ خودکشی کا سبب بنتی ہے
اسی طرح لمبے عرصے تک لڑکیوں کا مناسب رشتہ نہ ملنا یا بار بار منگنی کا ٹوٹ جانا ،شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق بھی‌خود کشی کا سبب بنتا ہے
ہمارے ملک پاکستان میں دن بدن خودکشی کے رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں اور‌ خودکشی کے رجحانات کا سبب صرف اور صرف ہمارا معاشرہ ہے جس کو بدل کر اس پر قابو پایا جا سکتا ہے خودکشی کے رجحانات پر قابو پانا مشکل تو ہے مگر ناممکن نہیں
.................................................. .....
دوستون آج میں نے روٹین سے ہٹ کر تحریر لکھی ہے جس کا سبب کچھ عرصہ قبل ایک 55 سالہ شخص کی ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرنا تھا وقوعہ کی اطلاع پا کر جب دوسرے ساتھیوں کے ساتھ میں بھی موقع پر پہنچا تو اسکا جسم دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا جامعہ تلاشی سے اسکی جیب سے صرف 20 روپے ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی سوکھی روٹی اور ساتھ میں اچار تھا
آج مذکورہ‌ خبر کے ساتھ جاری کی گئی تصویر مجھے نظر‌آئی تو میں لکھنے پر مجبور ہو گیا
کہ ہم لوگ کس حد تک بے حس ہو چکے ہیں ایک طرف ہمارا ہمسایہ بھوکا سو رہا ہے اور ایک ہم ہیں جو کھانا اتنا کو پکا لیتے ہیں کہ گھر میں کام کرنے والے نوکر گھر لے جاتے ہیں یا اس کھانے کو ضائع کر دیتے ہیں
وہ شخص جو ٹرین کے نیچے آیا اسکی عمر 55 کے قریب ہو گی کیا حالات ہوں گے اسکے گھر کے کہ وہ اس عمر میں دور دراز سے محنت مزدوری کرنے شہر آیا جیب میں واپسی کا کرایہ رکھا اور سوکھی روٹی کہ اگر مزدوری نہ ملی تو روٹی تو بچ جائے دوسرے دن کھانے کےلئے
اور ایک ہم ہیں کہ....................؟؟؟؟؟؟

اللہ نگہبان

Last edited by ایس اے نقوی; 26-08-09 at 10:39 AM..

 
ایس اے نقوی's Avatar
ایس اے نقوی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 341
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
champion_pakistani (02-09-09), muhammad asif virani (26-08-09), فیصل ناصر (26-08-09), منتظمین (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09), شاہ جی 90 (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 11:02 AM   #2
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,041
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم بھائی ، وہ حکمران تو گئے جو کہتے تھے کہ ہماری حکومت میں ایک کتا بھی اگر بھوکا مر گیا تو اس کا حساب بھی ہم سے ہو گا ، یہاں تو انسان کی قدر و قیمت کتے سے بھی کم ہو گئی ہے ، ویسے خود کشی کوئی بھی شخص اسی وقت کرتا ہے جب اسے امید کی کوئیبھی کرن نظر نہیں آ رہی ہوتی ، کاش کہ کوئی تو ہو جو عوام کو یاسیت سے نکال کر روشنی کی جانب لے جائے ، کاش
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (26-08-09), فیصل ناصر (26-08-09), ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 11:09 AM   #3
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم شاہ جی۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کس دکھ کو روئیں۔۔۔۔۔۔
صبح جب گھر سے نکلتے تو شام تک ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ہر منظر پر آنکھیں بھیگ جائیں ۔۔۔مگر ہم روزانہ ایسے منظر دیکھ دیکھ کر بے حس ہو چکے ہیں۔۔۔
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زند گی مجھے

یہ روز بہ روز بڑھتی ہوئی خود کشیاں حکمرانوں کو کیوں نظر نہیں آتیں ۔۔۔ شائد وہ اپنی "رٹ" قائم کرنے سے فارغ ہوں تو۔۔۔ان مسائل کی طرف دیکھیں۔۔۔
لیکن ۔۔۔ دوسری طرف دیکھیں تو معاشرہ تو بھی بے حس ہو چکا ہے۔۔ ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا ۔۔ ہمارے پڑوس میں کون بھوکا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر کوئی اپنے بیٹ پر ہا تھ پھیر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے بہت اچھی تحریر لکھی ہے۔۔۔ میر ی طرف سے اتنی خوبصورت انداز تحریر پر مبارک باد۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (26-08-09), فیصل ناصر (26-08-09), ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 02:56 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-08-09), رضی (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 03:04 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی واقعی خود کشیوں میں اضافہ ایک خوفناک صورتحال ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے
اس کی کچھ وجوہات اگر معاشی اور سماجی ہیں تو ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ نفسیاتی بھی ہے

بیشتر خودکشی کا رجحان رکھنے والے لوگوں کو اگر ایک سامع میسر آجائے جس کو وہ اپنا حال دل سنا پائیں تو شاید وہ کبھی خودکشی کی طرف مائل نا ہوں

ہماری حکومت تو ویسے ہی "غربت" ختم کرنے کے در پے ہے اس لئے بے چاری حکومت کو اس سلسلے میں کیا کہنا

ہمارے یہاں کراچی میں ایک فلاحی ادارے نے کچھ عرصہ پہلے پورے شہر میں چاکنگ کرائی تھی
"اگر آپ خودکشی چاہتے ہیں تو پہلے ہم سے رابطہ کریں"
اس کا مقصد یہی تھا کے مایوسی کی سوچ میں گرفتار شخص کی بات کو سن کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے
اور اسکے مسائل ( جو عموما ً بہت بڑے نہیں ہوتے ) کی اصل تصویر اس کو دکھائی جائے
بہر حال یہ تجربہ کافی کامیاب ہوا تھا اور خودکشیوں کے اعداد وشمار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی

ہم کسی شخص کے مسائل حل تو نہیں کرسکتے
لیکن ہم کسی کے مسائل سن کر اس کو تسلی کے دو بول ضرور بول سکتے ہیں

اس پر مجھے ایک ذاتی واقعہ بھی یاد آگیا لیکن پھر سہی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (26-08-09), ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09), رضی (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 05:39 PM   #6
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

موٹا بھائی آپ کی بات بہت اہمیت رکھتی ہے مگر معذرت کے ساتھ کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہین کہ ہم کسی کا رونا سن سکیں
اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو لگ پتہ جائے گا
جب کوئی سریس مسئلہ میں ہمارے پاس آتا ہے تو ہم کہتے کہ جا یار ہمیں پہلے کیا کم پریشانیاں ہین جو تیری بھی سننے لگ جائیں
موٹا بھائی ہم کو یہ لگتا کہ ساری دنیا سے زیادہ غم اور تکلیف ہم کو ہی ہے اور کسی کو نہین
شکریہ
اللہ نگہبان
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-08-09, 06:02 PM   #7
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حالات نے انسان کو اتنا مجبور کر دیا ہے کہ اس کے پاس مایوس ہو کر خودکشی کرنے کے علاوہ اور کچھ بچا ہی نہیں
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زبیر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 06:29 PM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زبیر بھائی‌ آپ کی آمد پر اچھا لگا
شریہ تھریڈ پر آنے کا اور اپنے خیالات بتانے کا
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 07:26 PM   #9
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا کہوں میں اب۔

پڑھ کر مجھے انکل سرگم کی نظم یاد آگئی ۔

میرے پیارے اللہ میاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-08-09), راجہ اکرام (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 10:08 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
برادرم انجم شاہ صاحب
اچھی تحریر ہے
خودکشی مایوسی کا آخری درجہ ہے جس کے بعد انسان کے پاس امید نام کی کوئی چیز نہیں رہتی، بلکہ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خود کشی انتہائی مایوسی کی مجسم شکل ہے۔
اور کچھ غیروں کی سازشوں اور کچھ اپنوں کے رویے نے حالات ایسے بنا دیئے ہیں‌کہ وطن عزیز میں مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں
اور مایوسی کی ان گھڑیوں میں اپنے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھ کر انسان مزید مایوس ہو جاتاہے جس کے لازمی نتیجہ وہ ہے جس کا آپ نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے

فیصل بھائی نے بھی درست کہا کہ اس موقع پر اگرانہیں کوئی دکھ بانٹنے والا مل جائے تو شاید ان کا ارادہ بدل جائے اور یقینا بدل جاتا ہے

اللہ ہمارے ملک پر رحم فرمائے۔آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-08-09), ایس اے نقوی (26-08-09), شاہ جی 90 (27-08-09)
پرانا 28-08-09, 09:00 AM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں

ہمارے یہاں کراچی میں ایک فلاحی ادارے نے کچھ عرصہ پہلے پورے شہر میں چاکنگ کرائی تھی
"اگر آپ خودکشی چاہتے ہیں تو پہلے ہم سے رابطہ کریں"
کیوں بھائی کہیں اس ادارے کا مقصد خؤدکشی کو "فلاحی مقصد" یعنی مملکت پاکستان میں دشمنان دین کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا تو نہیں ؟ میرا مطلب سمجھ رہے ہیں نا۔ پہلے بھی ایدھی بیچارے پر یہی مسئلہ بنا تھا سنا ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (28-08-09), شاہ جی 90 (01-09-09)
پرانا 28-08-09, 09:18 AM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب انسان کو ہر جگہ سے نفرت ملے، دھکے ملیں، وہ کھانے پینے، پہننے کے لیے دوسروں کا محتاج ہو جائے، اسکو ایک ایک پائی کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑ جائے، گھر میں فاقے ہو رہے ہوں، بچے بھوک سے بلک رہے ہوں، کل تو دور کی بات ہے آج کا پتا نہ ہو کہ رات کو پکانے کے لیے دال روٹی کا بندوبست ہو سکے گا یا نہیں ، تب انسان ہر طرف سے مایوس ہو کریا تو معاشرے کا دشمن بن جاتا ہے یا پھر اپنی جان داؤ پر لگا دیتا ہے۔
یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے لیے کوئی امید کی کرن باقی نہیں رہتی۔ اور وہ بازی ہار جاتا ہے۔

ایک عام انسان کے لیے تو مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ شاید سو فیصد درست ہو ۔ ۔ ۔ لیکن جب وہ انسان ۔۔۔۔مسلمان بھی ہو تو مندرجہ بالا سٹیٹمنٹ مختلف ہو جاتی ہے۔ بلکہ بالکل الٹ جاتی ہے۔ جب ایک مسلمان کو ہر طرف سے دھتکار دیا جاتا ہے ، اس سے نفرت کی جاتی ہے، وہ پائی پائی کا محتاج ہو جاتا ہے، اس کے گھر میں فاقے ہو رہے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر اپنی ساری امیدیں ۔ ۔۔ ۔ "امید کے واحد مرکز" اللہ سے لگا لیتا ہے۔ اور چونکہ اللہ کے خزانے لا محدود ہیں تو اسکو پھر سے جینے کی امنگ مل جاتی ہے۔

ہمارا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم آج اللہ سے دور ہو چکے ہیں/۔ہم کو اللہ یاد ہی نہیں ۔ جب ہم ہر طرف سے مایوس ہو کر خود کشی کر رہے ہوتے ہیں تو در حقیقت اللہ کا انکار کر رہے ہوتے ہیں/ ہم یہ بات کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ بھی ان حالات کو تبدیل نہیں کر سکتا/ ہم اس وقت در حقیقت اللہ سے بھی مایوس ہو چکے ہوتے ہیں/ ہم یہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ ہمارے نبی پر تو اس سے بھی کڑا وقت آیا تھا۔ہم کس کھیت کی مولی ہیں/ہم بھول چکے ہوتے ہیں کہ ہمارا نبی تین تین دن تک پیٹ پر پتھر باندھ کر محنت مزدوری کرتا رہا لیکن ہم کوایک دن کی بھوک برداشت نہیں ہوتی/

یہ معاشی مسئلہ نہیں بلکہ دینی مسئلہ ہے۔ تمام دینی جماعتوں کے لیے تازیانہ ہے کہ وہ مسلمانوں میں اتنا دینی شعور بھی بیدار نہیں کر پا رہے کہ وہ تھوڑی سی تکلیف برداشت کر سکیں۔ یہ ہم سب کے لئے سوچنے کا مقام ہے ۔۔۔ایک اشارہ ہے کہ قومی حیثیت سے ہم دین میں پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اللہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ورنہ جن کا اللہ پر یقین کو وہ کس طرح خود کشی کر سکتا ہے۔ اگر آج بھی اس ملک کے عوام میں اسلامی شعور پیدا کر دیا جائے تو خودکشیوں کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
اسی لیے تو اللہ نے کہا ہے کہ
"ولا تقنطو من رحمۃ اللہ" اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جانا۔اگر اللہ دے کر آزماتا ہے تو لے کر بھی آزماتا ہے اور آزمایش تو یہی ہے کہ جب سبھی دروازے بند ہو جائیں تب انسان کیا کرتا ہے۔
اور "واستیعنو بالصبر والصلاۃ" اور مدد مانگو ساتھ صبر اور نماز کے۔ یہ اس آزمائش کا حل ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (28-08-09), شاہ جی 90 (01-09-09)
جواب

Tags
color, کرن, کراچی, پیارے, پاکستان, پسند, لوگ, نظر, موت, مسائل, معاشرہ, معذرت, انسان, بھائی, تاج, تحریر, تصویر, حل, خودکشی, دل, زندگی, شام, شخص, عزیز, غم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسپر یقین کرتے ہیں یا پھر جو یقین رکھتے ہیں اسی کی طرح دیکھتے ہیں؟ ناصحی عمومی سائنس 112 13-05-12 06:57 PM
سعودی شاہ عبداللہ، صدر آصف زرداری کو پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، وکی لیکس گلاب خان خبریں 14 03-12-10 10:16 AM
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج پاکستان آزاد ہے؟ مھمد امین عمومی بحث 13 29-05-09 07:48 PM
دل دل پاکستان ,,,,پتلی تماشہ…فاروق قیصر خرم شہزاد خرم سیاست 0 29-10-07 10:14 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger