| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 867
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-10-10), فیصل ناصر (10-10-10), فرحان دانش (10-10-10), کنعان (12-10-10), پاکستانی (11-10-10), ھارون اعظم (12-10-10), منتظمین (12-10-10), محمدمبشرعلی (11-10-10), محمدخلیل (10-10-10), مرزا عامر (10-10-10), ابرارحسین (10-10-10), احمد بلال (12-10-10), حیدر (11-10-10), شمشاد احمد (12-10-10), شریف (12-10-10), عبدالقدوس (10-10-10), عروج (12-10-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب میں جوان ہوا کرتا تھا اُن وقتوں کی بات ہے کہ جب میں بلوچستان میں ہوا کرتا تھا۔ مجھے ایک نے آفر کی کہ تم کو لیپ تاپ لے دیتے ہیں، بہترین گاری اور ڈریسنگ ہماری ذمہ داری۔ بس تم نے ہمارے ساتھ چلنا ہے اور لیپ ٹاپ کھول کر دو چار بٹن مارنے ہیں۔ پھر کہنا ہے کہ اس جگہ سگنل ٹھیک آ رہے ہیں۔ آگے ہمارا کام۔
تمہارا مہینے کا ایک لاکھ کھرا مجھے دلچسپی پیدا ہوئی کہ یہ کیا ڈرامہ ہے۔ میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کو چھوڑو اور یہ بتاو کہ کرنا ہے کام کہ نہیں۔ میں نے معاملہ اگلوانے کے لیے حامی بھری تو انہوں نے طریقہ واردات سمجھایا "جب تم سگنل کی جگہ کنفرم کر دو گے۔ ۔ ۔ ۔تب تک چند لوگ ادھر اُدھر ضرور اکھٹے ہوں گے(چھوٹے علاقوں کی رِیت)۔ وہ ہم سے پوچھیں گے کہ بابو کیا کر رہا ہے؟ ہم بتائیں گے کہ ٹاور کے لیے جگہ ڈھونڈ رہے ہیں ، پچاس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ہوگا۔ " میں حیران ہوا کہ یار یہ تو اُلٹا انکو دینا پڑیں گے "نہیں یار۔ لوگ بہت لالچی ہیں ۔ انکو جب پچاس ہزار کا پتا چلے گا تو سب کی رال ٹپک پڑے گی۔ ہم باتوں باتوں میں ان سے دوستی گانٹھ کر کہیں گے کہ اگر جیب گرم کر دے ہماری تو ہم یہی ایگریمنٹ کسی اور کے نام کروا سکتے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم کس طرح اُس سے پچاس ہزار تک نکلواتے ہیں۔ وہیں پر سٹام پیپر پر انکے اور تمہارے دستخط ہوں گے،۔ ادھر وہ خوش اُدھر ہم خوش۔ وہ خوش ہوگا کہ چلو صرف پہلے مہنیے کا کرایہ گیا پھر گھر بیٹھ کر عیش کریں گے جبکہ ہمارا پچاس ہزار کا جیک پاٹ نکل آئے گا۔ اسی طرح ہم ایک دن میں کم از کم 5، 6 علاقے وزٹ کریں گے، ۔تمہارا ایک لاکھ کھرا"اُس نے مخصؤص انداز میں کہا۔ وہ ڈیل تو میں نے ایک دلچسپ انداز میں ختم کر دی۔ لیکن میں سوچتا رہا کہ دھوکے باز کس طرح عوام کی لالچی فطرت سے کھیلتے ہیں۔ اور عوام اپنی غلطیاں نہیں دیکھتی محض رونا روتی ہے دھوکے بازوں کا۔ |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-10-10), فیصل ناصر (11-10-10), فاروق سرورخان (12-10-10), کنعان (12-10-10), ھارون اعظم (12-10-10), منتظمین (12-10-10), محمدمبشرعلی (12-10-10), احمد بلال (12-10-10), شمشاد احمد (12-10-10), عبدالقدوس (11-10-10), عروج (12-10-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سرورق کے لئے اپلائی کریں
نیز ایس ایم ایس کے زریعے پھیلائیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-10-10), ھارون اعظم (12-10-10), احمد بلال (12-10-10), حیدر (12-10-10), شمشاد احمد (12-10-10), عروج (12-10-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,963
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام و علیکم
میں نے اس دھاگے کا لنک پی ٹی اے کو سینڈ کیا ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
یہ ٹاور کے حوالہ سے سے میں بھی ایک سٹوری پیش کروں گا واقع ہی ٹاور کے بزنس میں کچھ لوگ مافیا والے بھی کام کر رہے ہیں۔ میرا ایک کاروباری چیٹ فرینڈ تھا ابھی بھی میرے رابطے میں ھے مگر اب نٹ پر کبھی نہیں آ سکا مگر فون پر رابطہ کر لیتا ہوں۔ 4 سال پہلے کی بات ھے اسی طرح اخبار میں ٹاور کمپنی کی جاب سے ایک اشتہار آیا میرے دوست کا ایک دوست جن کے ذاتی پراپرٹی تھی دونوں دوستوں کے والدوں میں آپس میں بیٹھ کر ان کی ذمین پر ٹاور لگانے کے حوالہ سے بات ہوئی کہ جو منافع ہو گا اس میں ان کو بھی کچھ پرسنٹیج منافع ملا ملے گا۔ اس بات پر دونوں دوست اور ان کے والد راضی ہوئے۔ ٹاور کمپنی کو فون کیا تو انہوں نے ان سے تفصیل لے لی اور یہ کہا کہ ہم کاغذات تیار کروا لیں گے آپ فلاں تاریخ کو گوجرانوالہ فلاں پتہ پر آ جانا اور زمین کے کاغذات بھی ساتھ لے آنا۔ کہی ہوئی تاریخ کے مطابق دونوں دوست اپنے والدوں کے ساتھ تمام کاغذات لے کر گوجرانولہ بتائی ہوئی جگہ پر چلے گئے، تو ٹاور ایجنٹ مافیا والے نکلے وہاں بہت سے بدماش لوگ جو کہ اسلحہ سے لیس تھے انہیں دیکھ کر وہ ڈر گئے، کاغذات پر دستخط نہ کرنے پر انہوں نے ان سب کو بہت مارا پیٹا کاغذات پر دوست کے دوست کے والد سے بندوق کی نوق پر مار پیٹ کر دستخط جن کے نام زمین تھی اور ان کی زمین کے کاغذات بھی چھین لئے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دے کر ریلیز کر دیا کہ اس پر کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیں گے۔ دوست کے دوست کے والد نے ان کو دھمکی دی کہ میری زمین کی ویلیو اتنی تھی آپ مجھے وہ رقم کسی بھی طرح ادا کر دیں ورنہ میں تمہارے خلاف پولیس میں کیس کر دوں گا کہ تم لوگوں نے مافیا کے ساتھ مل کر میری زمین ہتھا لی ھے وہ تمہارے ہی آدمی تھے۔ دوست کی اپنی ایک دکان تھی جس سے وہ روزی روٹی کماتا تھا وہ بیچ کر انہوں نے اپنے دوست کے والد کو کچھ رقم ادا کی اور اب وہ دوست مصری شاہ لاہور میں لوہا مارکیٹ میں ٹرکوں سے سکریپ لوڈ اور آف لوڈ کرواتا ھے جو کہ بہت سخت کام ھے اس سے اس کو 300 روپے دہاڑی ملتی ھے جس سے وہ زمین کے باقی ماندہ پیسے اتار رہا ھے۔ پتہ نہیں پاکستان میں ایسا کام کرنے والے لوگوں کو کیا ہو گیا ھے کسی کی مجبوریوں کے بارے میں سوچتے ہی نہیں، ان کی عقلوں پر پردے پرے ہوئے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تینوں کہانیوں کو سرورق کے لیے پیش کریں۔ اگر کچھ مزید تدوین کر لیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کنان بھائی والا فراڈ تو بہت زیادہ ہوتا
زمین پلاٹ گھر کسی بھی چیز کو بنیاد بنا کر کسی بھی شخص کو بلالیا جاتا ہے اور پھر بے چارے کے ساتھ بہت برے سلوک ہوتے ہیں کراچی کے کئی اسٹیٹ ایجنٹ اس کاروائی میں پھنس چکے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لو جي ہماري دكھ بھري داستان بھي سن ليں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ميرے ايك كزن احمد علي (فرضي نام لكھ رہا ہوں ان كا (كےگھڑ دو لڑكياں آئيں اور كہاكہ وہ رفحان فوڈ كمپني كي طرف سے ہيں۔۔۔ اور كمپني نے مختلف سكيميں ركھي ہيں۔۔۔ چھوٹي بڑي۔۔۔ان كے بچے نے جو ان سے چند چيزيں خريديں تو ان ميں سےايك گھڑي نكل آئي۔۔۔۔اور مزيد كچھ كوپن وغيرہ بھي لئے ليكن ان سے كچھنہيں نكلا۔۔۔۔۔ بات آئي گئي ہو گي۔۔ كوئي ايك سال بعد ان كے گھر ايك لڑكي كا فون آيا۔۔۔ ہيلو۔۔ ميں رفحان فوڈ كمپني سے بات كر رہي ہوں۔۔ مسٹر احمد علي صاحب ہيں۔ جي بول رہا ہوں۔۔احمد علي نےجواب ديا۔ جي ميں فحان فوڈ كمپني سے بات كر رہي ہوں اور يہ كنفرم كرنا چاہتي ہوں كہ آپ ہي مسٹر احمد علي ہيں۔۔ احمد علي۔۔۔۔۔۔ آپ كو كنفرميشن كي كيا ضرورت پيش آ گئي۔ لڑكي۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل ميں ہماري كمپني نے سكيم كا اجراء كيا تھا اور اس كےمطابق قرانداز ميں مسٹر احمد علي كي كلٹس كار انعام ميں نكلي ہے۔ احمد علي۔۔۔۔۔۔ جي جي ميں ہي احمد علي ہوں لڑكي۔۔۔۔۔۔۔ آپ كےگھر كے ايڈريس كيا ہے۔ احمد علي۔۔۔۔۔۔۔ نے سارا ايڈريس بتا ديا۔ لڑكي۔۔۔۔۔۔۔ آپ كا شناختي كارڈ نمبر۔ احمد علي۔۔۔۔۔نمبر بھي بتا ديا۔ لڑكي۔۔۔۔۔ يہ نمبر نوٹ كر ليں۔ہماري كمپني كےمنيجر كا ہے۔ وہ آپ كوانعام كي مزيد تفصيل سے آگاہ كرديںگے۔۔ اور اسك ساتھ ہي اس نے ايك پي ٹي سي ايل كا نمبر نوٹ كروا ديا۔ احمد علي نے فورا وہ نمبر ڈائل كيا۔۔۔ آگے سے ايك شخص نے فون اٹھايا اس سےمنيجر كا نام لے كر بات ان سے بات كرنے كا كہا۔۔ اس شخص نے كہا ايك منٹ سر ميں بات كرواتاہوں۔۔۔ منيجر۔۔۔۔ جي ہيلو۔ احمد علي۔۔۔۔ جي سر ميںاحمد علي بات كر رہا ہوں۔۔ ابھي مجھے اطلاع دي گئي ہے كہ ميري انعام ميں كلٹس كار نكلي ہے۔ منيجر۔۔۔۔۔جي آپ كا نام۔۔۔۔شناختي كارڈ نمبر اور ايڈريس كيا ہے۔ احمد علي۔۔۔۔احمد علي نے تمام تفصيلات دوبارہ دے ديں۔ منيجر۔۔۔۔ ٹھيك ہے۔۔ آپ كي كار نكلي ہے۔۔اصل ميں ہماري كمپني نے قراندازي كي ہے جس ميں تين لوگوں كا بمپر پرائز نكلا ہے۔۔۔ ايك احمد علي آپ ہے۔۔ ايك سيالكوت۔ اور دوسرا ملتان كا انعام ہے۔۔ آپ كي كار كا رنگ براؤں ہے۔ اور ايجن نمبر يہ ہے۔۔۔اور چيسسز نمبر يہ ہے۔۔۔۔ آپ نوٹ كر ليں۔مسٹر احمدعلي صاحب ميري طرف سےاور كمپني كي طرف سے آپ كو بہت بہت مبارك ہو۔ احمد علي۔۔۔۔ شكريہ سر بہت بہت شكريہ۔ منيجر۔۔۔۔۔ ميں آپ كي بات اپنے پي اے سےكرواتا ہوں۔۔۔ مزيد كاروائي كي تفصيلات وہ آپ كو بتائےگا۔ پي اے۔۔۔ جي مسٹر احمد علي صاحب۔ آپ ديہان سے سنيں۔۔۔ يہ كار آپ كو انعام ميںملي ہے اور كمپني سے ايگريمنٹ كے مطابق۔۔اس پر لگے ہوئے سٹگرز آپ ايك سال تك نہيں اتاريں گے۔۔ اور اس انعام كے عوض كمپني يا اس كا كوئي نمائندہ آپسے كسي قسم كي كوئي رقم وصول نہيں كرےگا۔۔ ۔۔ چونكہ ہم تمام انعام پانے والے لوگوں كو ليٹر لكھ كر اطلاع دے چكے تھے ليكن بعض حضرات كا جواب موصول نہيں ہوا۔ جن ميں آپ بھي ہيں اس سے فون كر كے آپ كو اطلاع دي گئي ہے۔۔۔ آپ ايك ہفتہ كے اندر اندر كمپني كے ہيڈ آفس كوٹري سندھ سے اپني گاڑي لے ليں۔ احمد علي۔۔۔ ليكن آپ كي كمپني كي طرف سے تو مجھےكوئي ليٹر موصول نہيں ہوا۔۔ پي اے۔۔۔ ہو سكتا ہے كہيں ڈاك نے مس پليس كر ديا ہو۔ احمد علي۔۔۔جي ممكن ہے۔۔۔بہر حال آپ نے جواطلاع دي اس كا شكريہ۔ پي اے۔۔۔ كار وصول كرنےكاطريقہ يہ ہےكہ آپ اپنے اصلي شناختي كارڈ كے ہمراہ آئيںگے۔۔ اور اپنے ساتھ دو ايسے افراد بھي لائيںگے جو آپكے خوني رشتہ دار نہيں ہوں گے جو كہ گواہي ديں گے كہ واقعي آپ ہي مسٹر احمد علي ہيں۔۔اور وہ دونوں حضرات بھي اپنے اصل شناختي كارڈ كے ساتھ لائيں۔۔۔اور اگر آپ مصروفيات كي وجہ سے نہيں آ سكتے تو كمپني آپ كو كار گو كے ذريعہ كار بھجوا دےگي اور ہمارا نمائندہ آپ كے پاس آكر تمام تفصيلات وصول كر لےگا۔۔۔ليكن موقع پر آپ نے اپنے دو غير خوني احباب كو حاضر ركھنا ہے جو حلف نامہ ديںگے۔نيز اگر ايك ہفتہ تك آپ نے كار وصول نہ كي تو اس كے بعد آپ كو كليم كرنے كا حق نہيں ہو گا۔۔۔ احمدعلي۔۔ ديكھيں جي ميں يہاں كام وغيرہ ميںكافي مصروف ہوتا ہوں۔۔۔ اور آفس سے چھٹي ملنا بھي مشكل ہے۔۔اور پھر دو غير خوني احباب كو ساتھ لانا اور ان كو دفتروں سے فارغ كرنا ايك مشكل كام ہے۔۔۔ آپ مہر باني فرما كر اگر كار كو كارگو كے ذريعے ہي بھيج ديں تو بہت مہرباني ہو گي۔۔۔۔ پي اے۔۔نہيںجي مہرباني كي اس ميں كيا بات ہے۔۔ آپ كي امانت ہے۔۔ جتنے جلد آپ تك پہنچ جائے ہميں خوشي ہو گي۔۔ ايسا ہے اگر آپ واقعي ہي كار گو كے ذريعے ہي منگوانا چاہتے ہيں تو آپ منيجر صاحب سے بات كر ليں پھر ان كي ہدايات كے مطابق كار كو بھيجوا ديا جائےگا۔۔۔۔پي نے منيجر كي طرف فون ٹرانسفر كر ديا۔ احمد علي۔۔۔ تمام مدعا منيجر كو سنا ديا۔ منيجر۔۔۔۔۔ جي بہتر ہے۔۔ميں آپ كي گاڑي كار گو كروا ديتا ہوں۔۔ رات 8 بجے تك كار كار گو آفس پہنچ جائے گي۔۔۔ان كا نمبر ميرے پي اے سے ليں ليں اور ان سے كنفرم كر ليجئے گا۔۔ احمد علي۔۔۔ تھينك يو سر تھيك يو وير مچ۔۔۔ اس كے بعد پي اے صاحب نے كار گو كمپني كا فون نمبر لكھوا ديا۔۔۔اور فون بند كركے گھر ميں خوشياں منائي جانے لگي۔۔۔ مگر اس احساس كے ساتھ كہ يار كہيں كوئي فراڈ نہ ہو۔۔۔ اس طرح ايك دم انعام نكلنا۔۔۔ ہم نے تو قرعہ اندازي ميںحصہ ہي نہيں ليا تھا۔۔۔۔ بس يہ خيال آتے ہي دوبارہ اس نمبر پر رابطہ كر كے اپنے شك كا اظہار احمد علي نے اس طرح كيا۔ احمد علي۔۔۔۔ ايك بات پوچھني تھي كہ ميرا نام قرعہ انداز ميں كيسے شامل ہوا۔۔۔ مجھے تو ياد نہيں حصہ لينے كا۔ پي اے۔۔۔۔ ہماري كمپني كي اشتہاري مہيم ميں لڑكے اور لڑكياں ملك بھر ميں گھر گھر جا كر كمپني كي پراڈكٹ فروخت كرتے رہے ہيں اور ان ميں بھي چھوٹے چھوٹےانعامات ہوتے تھے۔۔۔ ليك بمپر پرائز ميں۔۔ 12 مرلے كا ايك پلاٹ۔ بحريہ ٹاؤں ميں۔ 5 مرلے كا ايك مكان۔۔اور كلٹس كار تھي۔۔ اور كچھ كيش انعامت تھے۔۔۔ گذشتہ ماہ كمپني كے سالانہ پرموشن ڈے پر يہ قراندازي ہوئي جس كي اطلاع آپ كو ايك ليٹر كے ذريعہ بھي دي گئي تھي۔۔ احمد علي۔۔۔ اچھا۔۔ بہت شكريہ۔۔۔۔اللہ حافظ اس كے بعد سب آپ ميں باتيں كرنے لگے كہ جي وہ جو لڑكياں كچھ عرصہ قبل آئي تھيں ان كو ہم نے تمام تفصيلات لكھ كر كارڈ ميں دے دي تھيں۔۔۔ سارا دن سب گھر والے رات 8 بجنے كا انظار كرتے رہے۔۔۔ اللہ اللہ كر كے 8 بج ہي گئے۔۔۔ فيصلہ يہ ہوا كہ ساڑے آٹھ تك فون كيا جائے تاخير بھي ہو سكتي ہے كار پہنچنے ميں۔آخر كار گو آفس كےپي ٹي سي ايل نمبر پر كال كي تو آگے سے۔۔ مشتاق صاحب نے خوش آمديد كہا۔ مشتاق صاحب۔۔۔ جي فرمائيں۔ احمدعلي۔۔۔ جي ميںاحمد علي بول رہا ہوں۔ رفحان فوڈ كمپني كي طر ف سے ميري كار انعام ميںنكلي ہے۔ مشتاق صاحب۔۔۔ جي ہاں۔ ان كي طرف سےكوئي گھنٹہ پہلے ہي يہ گاڑي آئي ہے۔۔ احمد علي۔۔ اس كا رنگ اور انجن نمبر وغيرہ ميںكنفرم كرنا چاہوں گا۔۔۔ مشتاق صاحب۔۔۔ جي ايك منٹ۔۔ پھر كچھ دير بعد مشتاق صاحب نے وہي رنگ۔ انجن نمبر اورچيسز نمبر بتائے جو كمپني كے منيجر نے بتائے تھے۔اور اس كے ساتھ ہي احمد علي سے كہا كہ سر ابھي تو دير ہو چكي ہے۔۔ اب كل صبح 9 بجے ہي آپ كي گاڑي كو لوڈ كيا جا ئےگا اور 72 گھنٹوں ميں يہ ترنول پہنچے گي۔ آپ كو وہاں سے وصول كرني ہو گي۔ احمد علي۔۔۔ جي بہت بہتر۔۔ رات بھر خوشياں منائي گئي۔۔۔ تبصرے ہوئے كار پر گھومنے پھرنے كے پروگرام بنتے رہے۔۔۔ اللہ اللہ كر كے صبح كے 9 بجے فون كار لو كمپني كو فون كيا تو آگے سے سرور صاحب نے ہيلو كيا۔ احمد علي۔۔جي وہ رات كو رفحان فوڈ كمپني كي كار آئي تھي ميرے نام پر كار گو ہونے كو۔۔كيا وہ لوڈ ہو گئي۔ سرور صاحب۔۔۔ نہيں سر اس كي كليرنس نہيں تھي اس لئے لوڈ نہيں ہو سكي۔ احمد علي۔۔ كليرنس كا كيا مطلب۔۔۔ جي۔ سرور صاحب۔۔۔ اس كي نہ تو انشورنس ہوئي تھي اور نہ ہي اس كا كرايہ ديا گياہے۔ احمد علي۔۔۔ليكن كمپني نے تو كہا تھا كہ اس كي كوئي رقم ادا نہيںكرنا ہو گي۔۔۔ سرور صاحب۔۔۔معلوم نہيں جي يہ تو آپ كمپني سےپوچھيں۔۔۔ احمد علي۔۔۔كتني رقم بنتي ہے اس كي۔۔۔۔ سرور صاحب۔۔۔ جي ٹوٹل 22350 روپے۔۔۔ احمد علي۔۔۔۔اتنا زيادہ۔۔۔ سرور صاحب۔۔۔ زيادہ كہاں ہے جي اس ميں صرف 5350 روپے كرايہ ہے اور بقيہ انشورنس كي رقم ہے۔۔ احمد علي۔۔۔ انشونس كي كيا ضرورت ہے۔۔ ہميں نہيں كراني انشورنس آپ مت كريں۔ سرور صاحب۔۔۔ كيسي باتيں كر رہے ہيں جي انشونس كے بغير آپ تو ہم گاڑي لوڈ ہي نہيں كر سكتے۔۔۔ كچھ بھي ہو سكتا ہے۔۔۔ راستے ميں دس مسائل پيدا ہو سكتے ہيں۔۔ چوري ہو سكتي ہے۔۔ايكسڈنٹ ہو سكتا ہے۔۔۔ اگر كچھ ہو گيا تو آپ تو ہم پر كليم كر ديںگے ہم كہاں سے اس كو پورا كريںگے۔۔ بات احمد علي كي سمجھ ميں آ گئي۔۔۔ اور كمپني سے رابطہ كرنے كا فيصلہ كيا۔۔منيجر كے پي اے صاحب سے رابطہ ہوا اس كو مدعا بيان كيا تو اس نےكہا كہ جي كمپني نےكار كي رقم وصول نہ كرنے كا كہا تھا۔ كار گو كا فيصلہ تو آپ ہے ہے اور كار گو كمپني ہماري تو نہيں ہے۔۔۔ آپ كے فيصلہ كے مطابق ہم نے گاڑي كار گو آفس ميں بھيجي تھي۔۔۔ اب في الحال تو يہ آپ كو ہي پے كرنا ہوںگے بعد ميں ہم كوشش كريںگے كہ كمپني نےجہاں كار دي ہے تو يہ خرچہ بھي اپنے ذمہ لے لے۔۔ احمد علي۔۔نے شكريہ ادا كر كے فون بند كر ديا۔۔۔ مشورہ ہوا۔۔۔كيا كيا جائے۔۔۔ آخر فيصلہ يہ ہوا كہ كوٹري يا كراچي ميں كسي جاننے والے كو تلاش كيا جائے جو كار گو آفس جا كر خود تحقيق كرے اس كے بعد رقم ادا كر دے۔۔چنانچہ ايك دوست كے كزن كي خدمات حاصل كي گئي۔۔۔ وہ اللہ كا نيك بندہ گيا اور واقعي كار گو آفس كے باہر رفحان فوڈ كے سٹگر لگے كلٹس كار كھڑي تھي جس كا رنگ انجن نمبر اور چيسر نمبر بھي وہي تھي جو احمد علي نے اس كو بتائے تھے۔۔ تصديق كے بعد اس نے رقم جمع كرانےكے ليے كار گو والے كو پيسےنكال كر ديے تو اس نے لينے سے صاف انكار كر ديا كہ جي ہم رقم نہيں لے سكتے۔۔۔ يہ رقم كمپني كے اكاؤنٹ ميںجمع ہو گي آپ ہميں صرف بنك رسيد لاكر ديںگے اس پر گاڑي لوڈ ہو جائےگي۔۔۔ وہ بے چارہ كوئي گھنٹہ بھر كي ڈرائيو كر كے گيا اور متعلقہ بنك ميں رقم جمع كروا كر رسيد لا كر ان كو دي۔۔۔احمد علي كو اطلاع دے دي كہ سب او كے ہے۔۔۔ واقعي گاڑي ہے اور آپ كے نام پر بك كروا كر ميں اب واپس جا رہا ہوں۔۔ اور 72 گھنٹے ميں يہ آپ نے ترنول سے وصول كرني ہہے۔۔احمد علي نے اس كا شكريہ ادا كيا اور اس كو آن لائن رقم بھجوا دي جو اس نے اپني طرف سےجمع كروائي تھي۔ جس دن گاڑي كو لوڈ كيا گيا وہ بدھ كا روز تھا۔۔اس حساب سے 72 گھنٹے بعد جمعہ كےدن گاڑي نے ہميں ملنا تھا۔۔۔۔ تين دن كيسے گزارے يہ كوئي احمد علي اور ان كي فيملي سےپوچھے۔۔۔ جس كا ميں چشم ديد گواہ ہوں۔۔۔ آخر 72 گھنٹے گزر گئے كوئي اطلاع نہ آئي۔۔۔۔ تو كمپني ميں فون كيا تو معلوم ہوا۔۔۔ رحيم يار خان كے قريب ٹرالر كي كمانياں ٹوٹ گئي ہيں۔۔۔ وہ ٹھيك ہوتے ہي روانہ ہو جائےگا۔۔وقت پوچھنے پر بتايا گيا كہ۔۔۔۔ يہي كوئي دس سے بارہ كھنٹے ليٹ ہو گا۔۔ احمد علي نے كہا كہ ہميں ڈرائيو كا كوئي فون نمبر وغيرہ دے دوں تا كہ ہم اس سے رابطہ كر ليں۔ ليكن انھوں نے جواب ديا كہ يہ سيكيورٹي اصول كے خلاف ہے۔۔۔ آپ كي تمام تفصيلات ڈرائيو كےپاس ہيں وہ كمپني كے نمائندے سے رابطہ كر كے آپ كو ترنول بلا لے گے۔۔۔۔ سلام دعا كے بعد فون ركھ ديا گيا۔ ۔ آگے ہفتے كا دن آگيا۔۔۔ شام كو ٹرالر نے پہنچنا تھا ليكن نہ پہنچا۔۔۔۔ كمپني كے نمبر پر فون كيا۔۔۔۔ ليكن كوئي جواب موصول نہيں ہو رہا تھا۔۔۔۔ سب كو يہي خيال آيا كہ ہفتہ ہے ممكن ہے چھٹي ہو۔۔۔۔ اتوار كو بھي كوئي جواب موصول نہ ہوا۔ بس فون كي بل جا رہي ہے ليكن اٹھاتا كوئي نہيں ہے۔۔۔ نہ كمپني كا نمبر نہ اس لڑكي كا نمبر جس سے اس نے بات كي تھي نہ منيجر كا نمبر اور نہ ہي كار گو والوں كا نمبر۔۔۔۔۔اللہ اللہ كر كے اتوار كا دن گزارہ۔۔۔پير كا دن شروع ہوا۔۔۔۔تو 9 بجتے ہي كمپني ميں فون كيا۔۔۔تو كمپني كا نمبر ہي بند لڑكي كا نمبر پر كيا تو وہ بھي بند منيجر كے نمبر پر فون كيا تو وہ بھي بند كار گو كے آفس كيا تو وہ بھي بند۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس پھر كيا تھا۔۔۔۔۔ كسي سےكوئي رابطہ نہيں ہوا۔۔۔۔۔ اور نہ كئي سال گزر گئے ليكن ٹرالے نے آنا نہيں تھا تو وہ آيا بھي نہيں۔۔۔۔ ہے نا كمال۔۔۔۔۔ يہ سلسلہ اب بھي جاري ہے۔۔۔۔ احمد علي كي گاڑي كے واقعہ كے دوسرے ہي ہفتے ہمارے محلہ كے ايك دوست كو يہ فون آيا۔۔۔۔۔۔۔ ہميں خود فون آ چكا ہے۔۔۔اور۔۔۔اخبارات ميں اس پر كالم بھي چھپ چكے ہيں۔۔۔۔۔۔ بات اصل ميں يہ ہے كہ ہم لالچي لوگ ہيں۔۔۔۔ اور لوگ ہماري اس لالچ كو كيش كرواتے ہيں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يقينا اس حوالے سے آپ كے ذہنوں ميں كچھ سوالات ہوں گے۔۔۔ جواب كے بندہ حاضر ہے۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ Last edited by شمشاد احمد; 12-10-10 at 07:28 PM. |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
ویسے مجھے بھی ابھی ابھی ایک فون آیا تھا کہ سر اپکا ایک لاکھ کا انعام نکلا ہے۔ ایک بڑی سے گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ میں نے اگلی بات سنے بغیر کال ڈراپ کر دی۔ ![]() ان فراڈیوںکا فون نمبر یہ تھا۔ 03424428024 کوئی مزا لینا چاہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھم مسلمان ھونے کے باوجود اللّٰہ پر توکل چھوڑ بیٹھے ھیں اسی لیے ملکی اور غیر ملکی سبھی لوگوں میں رسواء ھو رھے ھیں۔
|
|
|
|
| عروج کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (13-10-10) |
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ فراڈ کرنے والوں میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کارڈ لونڈنگ والا فراڈ تو پاکستان میں بھی بہت ہوا ہے۔۔۔ اب تو پرانا ہو گیا ہے۔۔۔۔ کافی عرصہ ہوا اس کی باز گشت نہیں سنی۔۔۔۔
چلیں مناسبت سے اپنے ایک دوست کا بیان کردہ واقعہ سناتا ہوں۔۔۔ عمران کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں کا واقعہ ہے۔۔۔ ہوا یہ کہ۔۔۔ ایک باریش بزرگ صفت شخصیت کا وہاں اکثر آنا جانا شروع ہو گیا۔۔۔ اور مسجد میں عموما ان کا وقت زیادہ گزرتا تھا اور گذشتہ ڈیڈھ دو ماہ سے ان کی جمعہ کی نماز بھی اسی گاؤں میں ہو رہی تھی۔۔۔ اور مسجد میں چند دیتے وقت وہ اکثر ہزار دو ہزار روپے مسجد دیے دیا کرتے تھے۔۔۔ لوگوں سے میل میلاپ سوال دعا ہوئی تو تعلقات بھی قائم ہوئے۔۔۔ گاؤں کے ایک صاحب وجاہت شخص سے ان کا یارانہ کافی گہرا ہو گیا۔۔۔۔ پھر ان صاحب کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ نیک دل انسان مجبوروں کی خدمت کرتا ہے اور بہت کم معاوضہ میں انہیں دبئی۔ وغیرہ سیٹ کروا دیتا ہے۔۔۔ ان صاحب نے رکھ رکھاؤ کے بعد اپنے بیٹے کو دبیی سیٹ کرانے کا تذکرہ کر ہی دیا۔۔۔۔ ان بزرگوں نے خوش دلی سے اسے قبول کیا اور کاغذات تیار کرنے کا کہہ دیا۔۔۔ کاغذات تیار ہوئے تو بزرگوں نے اتنے میں کام اور ہائش کی تفصیلات کا انتظام بھی کر لیا۔۔۔ اور بتایا کہ 6 سے 8 گھنٹے کام ہے۔۔۔ اور تنخواہ 60 ہزار روپے ہے۔۔۔ ( اس زمانے میں یہ بڑی رقم تھی)۔۔۔۔ لڑکے کے دبئی جانے میں تقریبا کوئی ڈیڈھ ایک لاکھ کا خرچہ آ گیا۔۔۔ جس میں سے بیشر اخراجات ان بزرگوں نے خود ہی کر دیے۔۔۔ ساری گاؤں میں خبر مشہور ہو گئ کہ فلاں تو دبئی جا رہا ہے اور اتنے کم خر چ میں۔۔۔۔ لوگ مبارکیں دینے آنے لگے اور بیشتر نے دبے لفظوں میں اپنا مدعا بھی بیان کر دیا۔۔۔ اللہ اللہ کر کے وہ دن بھی آ گیا جب وہ دبئی چلا گیا۔۔۔۔۔ ایک ماہ بعد دبئی سے اس کا خط آیا جس میں خیر خیریت اور آرام دہ نوکری کی تفصیل کے ساتھ 30 ہزار روپے بھی بھجوائے اور بقیہ تنخواہ کا بتایا کہ یہاں رہائش کی بعض ضروری اشیاء میں صرف ہوئے ہیں اگلے مہینے زیادہ رقم ارسال کروں گا۔۔۔۔۔ اگلا مہینہ آ یا تو بیٹے کا ایک خط اور دبئی سے آیا۔۔۔ خیر خیریت کے ساتھ کوئی 70 ہزار روپے بھی تھے۔۔۔ اور یہ بھی بتایا کہ 60 ہزار تنخواہ ہے اور 20 ہزار اور ٹائم کا ملا ہے جس میں سے 10 ہزار اس نے خرچہ کے لئے رکھ لیے ہیں۔۔ سب گھر والے خوش۔۔۔۔ گاؤں بھر میں خبر پھیل گئی۔۔۔۔ اب تو ہر دوسرا شخص۔۔۔۔ پر لگا کر دبئی جانے کے چکر میں لگ گیا۔۔۔۔۔ اور اس شخص سے جس کا بیٹا دبئی گیا تھا سے اپنے بیٹوں بھانجوں اور خود اپنے لئے سفارشیں کرانے لگے۔۔۔۔ اس نے بابا جی سے تذکرہ کیا۔۔۔ بابا جی نے کہا بھائی میرا کام ہی ا ور کیا ہے۔۔۔۔ میری زندگی میں اپنی زندگی میں جتنے لوگوں سے دعاؤں لے سکوں یہی میری نجات کا ذریعہ ہیں۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔۔ لوگوں نے رقمیں جمع کرنے کا انظام کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔ کسی نے اپنی چلتی دکان فروخت کی۔ کسی نے ماں کا زیور تو کسی نے بہن کا فروخت کیا کسی نے بوڑھے باپ کی پینش لا کر پیش کر دی۔۔۔۔ با با جی نے سب سے ان کے کاغذات اور ان کی رقمیں وصول کیں اور ان کو بتایا کہ وہ دبئی جا کر وہاں سے کام اور رہائش وغیرہ کا انتظام کر کے ایک ماہ تک واپس آ جائیں گے۔۔۔۔۔ ایک ماہ گزر گیا مگر بابا جی واپس نہیں آئے۔۔۔۔ دوسرا ماہ بھی آدھا گزر گیا مگر بابا جی نہیں آئے۔۔۔۔۔ تیسرا ماہ بھی گزر گیا مگر بابا جی کی کوئی خیر خبر نہیں۔۔۔۔ اب لوگوں کے کان کھڑے ہوئے اور اس شخص کے پیچھے پڑے جس کا بیٹا دبئی گیا تھا۔۔۔ وہ خو د پریشان تھا کہ تین ماہ ہونے کو آئے ہیں بیٹے کا نہ تو کوئی خط آیا ہے اور نہ ہی اس نے کوئی پیسے بھیجے ہیں۔۔۔ گاؤں والے اسی شش و پنج میں تھے کہ ایک دن وہ دبئی والا لڑکا ہاہپتا کانپتا گاؤں پہنچا کمزور ہو کر اس کا برا حال ہوا تھا۔۔۔۔ اور لگتا تھا کہ کافی عرصہ بھوکا پیاسا رہا ہے۔۔۔۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ بابا جی اس کو یہاں سے لے کر گئے اور آگے چند لوگوں کے حوالے کر دیا وہ مجھے کسی علاقہ غیر میں لے گئے اور باندھ دیا۔۔۔ اور رہائی کا بولنے پر یا شور کرنے پر خوب تشدد کرتے بھوکا رکھتے تھے۔۔۔ ان چار مہینوں میں آسمان تک نہیں دیکھا۔۔۔ چند دن قبل بڑی مشکل سے موقع ملا تو بھاگ کر جان بچائی ہے۔۔۔ وہ لوگ میرے پیچھے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔ باپ نے پوچھا بیٹا وہ جو تیرے خط آتے تھے تیرے پیسے آتے تھے۔۔۔۔ اس نے کہا مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔ بس وہ مجھے سن زبر دستی وہ خط لکھواتے تھے۔۔۔۔ پھر ان کو دبئی بھیجواتے تھے اور وہاں سے ان کے بندے اس خط کو واپس پاکستان پوسٹ کر دیتے تھے تا کہ ان پر دبئی کی سٹمپ لگ جائے۔۔۔ اور لوگ یقین کر لیں۔۔۔۔ اور وہ رقم بھی وہ لوگ خود ہی اپنی طرف سے بھیجواتے تھے۔۔۔۔ اب جب لوگوں کی آنکھیں کھلی تو پتہ چلا کہ وہ بابا جی۔۔۔۔ کوئی ڈیڈھ پونے دو لاکھ کر سرمایہ کاری کر کے گاؤں والوں سے۔۔۔ کوئی 33 لاکھ روپے کما کر جا چکے تھے۔۔۔۔ ہیں کواکب کچھ اور نظر آتے ہیں کچھ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ہاں یاد آیا۔۔۔ ہمارے ایک اور جاننے والے نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے لئے ایک خاتون کو ساڑے چھ لاکھ روپے دیے کہ وہ ان کو انگلیڈ کا ویزا لگوا کر دے گی۔۔۔۔ اور وہ خاتون قرآن پر ہاتھ رکھ کر سورہ یاسین ہر وقت پرس میں رکھی ہوتی تھی ان کو اپنا بیٹا کہتی تھی۔۔۔ اور یقین دلاتی تھی کہ وہ ضرور ان کا کام کرے گی۔۔۔۔ میں یہاں یہ بتا دوں کہ یہ واقعہ زلزلے کے بعد کا ہے۔۔۔ جب کہ لوگ کشمیر ، ہزارہ بالاکوٹ وغیرہ سے لٹ پٹ کر آئے تھے اور بقیہ جمع پونجی سے ایک نئی زندگی شروع کرنے کی آس پر تھے۔۔۔۔ وہ بے چارے بھی جہلم اسی امید پر گئے۔۔۔۔ وہاں سے ان کو انگلیڈ کے خواب دکھائے گے۔۔۔۔ اور وہ چھ لاکھ سے محروم ہو گے۔۔۔۔۔۔ بعد میں معلوم ہوا۔۔۔۔۔ ،وہ خاتون تو عیسائی تھی۔۔۔۔۔۔ ا نھیں بیوقوف بنانے اور یقین دلانے کے لئے ہر وقت سورہ یسین پرس میں رکھتی تھی۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (13-10-10) |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں تو ایسے نمبرز کی فوراً پی ٹی اے کو کمپلین بھیج دیا کرتا ہوں۔
کم از کم 50 روپے کا خرچہ تو ہو انکا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (13-10-10), شمشاد احمد (13-10-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,136
کمائي: 193,108
شکریہ: 9,966
7,889 مراسلہ میں 16,033 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب سے بڑی فنکاری کا کام ہے کسی کی جیب سے پیسہ نکلوانا
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا بس یہ ہی کام مجھے نہیں آتا ![]() کسی اور کی تو کیا میں تو اپنے ابا اور دادا کی جیب سے بھی پیسے نکلوانے میں نا کام ہو گیا ![]() اور لوگ توبہ ہے دنیا میں کتنی بے ایمانی ہو گئی ہے اور اوپر سے مجھے کوئی چھوٹی سی نوکری بھی نہیں مل رہی ایک چھوٹی نوکری ملی بھی رمضان سے پہلے وہ ہماری بیوقوفی اور ایمانداری کی وجہ سے ایک ماہ میں ہی دم توڑ گئی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوسکتا, ہے۔, کوئی, کرتے, گھر, پاکستان, نام, میل, موبائل, مقصد, ملک, آج, اللہ, احمد, اشتہار, بے, بازی, تقاضا, جائے, خود, درکار, شخص, شروع, عرصہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستان میں ریمنڈ جیسے کتنے ایجنٹ ہیں؟ حکام نے معلومات جمع کرنا شروع کردیں | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-03-11 11:29 AM |
| پاکستان میں موجود امریکی ایجنٹوں کے خلاف آپریشن شروع | ALI-OAD | خبریں | 0 | 26-02-11 08:07 AM |
| پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی سازشیں شروع | کنعان | تاریخ پاکستان | 10 | 27-11-09 09:35 PM |
| کیری لوگر بل پہ پاک فوج کے تحفظات، اوبامہ نے بل پر دستخط موخر کر دئیے ، قومی اسمبلی میں بحث شروع | کنعان | سیاست | 4 | 08-10-09 11:36 PM |
| افغانستان میں گندم کابحران مہاجرین کی پاکستان آمد شروع | وجدان | خبریں | 0 | 26-01-08 06:29 AM |