واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


پاکستان کا مطلب کیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-04-09, 11:11 AM   #1
پاکستان کا مطلب کیا
ابن آدم ابن آدم آف لائن ہے 28-04-09, 11:11 AM

ہم کیسی بدنصیب قوم ہیں کہ ہمیں غیر بھی باور کروانے چلے آتے ہیں کہ ہمارا وجود خطرات سے دوچار ہے۔ کس دِل سے ہم یہ سن اور سہہ لیتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں خدانخواستہ ’’ہماری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں‘‘یہ اُس مملکتِ خداداد کے متعلق ہرزہ سرائی ہے، جس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کے لہو کی سرخی بھی ماند نہیں پڑی۔ ابھی تو وہ آنکھیں کھلی ہیں جو مسلمان بیٹیوں کو نوچنے والے درندوں کی شناخت رکھتی ہیں ابھی تو بڑی بوڑھیوں کے وہ بین بھی زندہ ہیں جو ہر شام کی منڈیر سے پھوٹتے ہیں۔

تین شینہہ جوان بھائی کرپانوں میں پروئے گئے۔ دو تلے کی تاریں بیٹیاں امرتسر کے بازاروں میں رُل گئیں۔ چلے تو دس ہزار کا قافلہ تھا، پہنچے تو ہم تین ہی بچے تھے۔ ابھی تو ہماری پہلی پہلی نسلیں غلامی کے ذائقے سے ناآشنا ہوئی ہیں۔ ابھی تو اذان اور نماز کے اوقات میں پٹتے ڈھول پتاشے اور گائے کے زبیحہ پر درجنوں قتال کے مناظر دیکھنے والے حیات ہیں، ابھی تو بنیئے کی غلامی اور سود کے چنگل سے جان چھڑا کر کاروبار کی شدھ بدھ ہی حاصل کی ہے ہم نے کہ ہمیں پھر غلامی کے حشر دے سنائے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی بساط پر اپنے اپنے مہرے کھیلے جا رہے ہیں۔ صوبائی خودمختاری کے بیٹے ملکی آزادی و حرمت کی قیمت پر لگا کر اپنی اپنی بازیاں ماری جا رہی ہیں۔ان قماربازوں کو ان زہر اُگلتی دیسی بدیسی زبانوں کو روکنے والا کوئی آئین کوئی قانون کوئی ہاتھ نہیں ہے کیا؟ جس کا جی چاہتا ہے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر ارضِ پاک کی سالمیت پر سوالیہ اُنگلیاں کھڑی کر دیتا ہے۔

ہمارا پڑوسی 25ریاستوں کا وفاق ہے، جہاں 360مذاہب ہیں اور 380زبانیں بولی جاتی ہیں وہاں علیحدگی کے نعرے لگانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی کسی کو۔۔۔ سپرپاور پچاس ریاستوں کا مجموعہ ہے جس میں کالی و پیلی گوری سب اقوام موجود ہیں۔ اُس کے ٹوٹنے کی صدائیں میڈیاپر کیوں نہیں سنائی دیتیں۔

ہم کل ملا کر چار ہیں جن کا مذہب سے ثقافت تاریخ سے تمدن تک ایک ہے، پھر بھی جس کا جی چاہتا ہے اس کی سالمیت پراستفہامیہ علامتیں لگانے لگتا ہے۔ ان ہرزہ سراؤں کو یہ جرات ہماری اپنی ہی غلطیوں اور کمزوریوں نے ردّی کہیں دنگافساد ہو جائے۔ مہنگائی ہو۔ پہاڑی نہ ملے۔ ناجائز کام نہ ہو سکے تو وہی زہرآلود جملہ اُگل دیا جاتا ہے، جیسے ادا کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی ہے وجود کانپ جاتا ہے۔
دُشمنوں سے تو گلہ ہی کیا کہ وہ تو روزِ اوّل سے انھی سازشوں اور کاوشوں پر برسرِعمل ہیں۔ صدحیف کہ ہم خود یہ جملہ دہرانے لگے ہیں۔ اُس وقت ہمارے وجود جو پرورش دینے والا اس دھرتی کا اناج ہمارے لیے زہر میں تبدیل کیوں نہیں ہو جاتا۔اس وطن کی مان مریادہ کو چھوڑیئے۔

اس سیم و زر کا تو خیال کیجیے جو آپ اسی وطن کے وجود سے کشید کی ہے کہ آج ایک ایک محل نما کے پارکنگ ایریا میں چار چار بی ایم ڈبلیو کھڑی ہیں۔ صنعت کاروں جاگیرداروں، افسروں، حکمرانوں کا یہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ جو عربی شہزادوں کو شرماتا ہے۔ اسی دھرتی کے طفیل ممکن ہوا ہے۔ وطن کی محبت، مٹی کی باس، دھرتی کی خرمت سب، رہنے دیجیے۔ اُس لوٹ کھسوٹ کی خاطر ہی رحم کیجیے، جو روئے زمین پر واقع اور کسی ریاست میں کبھی ممکن ہی نہیں ہے، جس نے جتنا چاہا لوٹا اور کنگال کیا کہ آج بچے بھی اس مٹی کو بے آبرو اور گلیوں میں گاتے پھرتے ہیں۔

پاکستان کا مطلب کیا۔ میں بھی کھاؤں تو بھی کھا۔

اس لیے کہ آج اُنھیں پاکستان کا مطلب سمجھانے والا کوئی نہیں رہا کہ ہماری پوری تاریخ ان تینوں لفظوں میں سمٹ گئی ہے۔ لوٹا، سمیٹا اور فرار کہتے ہیں جیسا راجاویسی پر جا، آج عوام بھی حصولِ زر کے چکر میں ربورٹ بن چکے ہیں۔ اب نئی نسلوں کو کون بتائے کہ یہ ملک کیوں اور کیسے بنا کہ بتانے والے تو حسرتِ تعمیر لیے رخصت ہوئے۔

تعمیر کا عہد دینے والے ان حسرتوں کا ماتم کرتے بتدریج خاموش ہوئے تاریخ کے اوراق سکولوں کالجوں میں دُھندلا دیئے گئے۔ بچے گیم بوائے، پلے اسٹیشن، انٹرنیٹ میں اپنے گمشدہ وجود ڈھونڈنے لگے نوجوان یورپی سفارت خانوں کے سامنے لگی۔ ویزہ کی لمبی لائنوں میں اپنی شناخت گم کرنے لگے۔ بے روزگاری کا اژدھا انسانی ضابطۂ اخلاق بھی نگل گیا۔ملک کی قیمتی املاک کوڑیوں کے مول نیلام ہونے لگیں۔ خود ہی فروخت کشدہ خود ہی خریدار اربوں کھربوں کے قرضے سیاسی رشوتوں کی صورت میں معاف ہوئے اور ملک کا زرہ زرہ بیرونی قرضوں کے جال میں جکڑ دیا گیا۔

برسوں ملک و قوم کی دولت لوٹنے والے منٹوں میں باہر اور اُن کے احتساب کا سوچنے والے محبس خانوں میں بند ہوئے، جس بے حسی، خودغرضی اور بے بسی کا ایندھن آج یہ ارضِ پاک بنی ہوئی ہے۔ زندہ قوموں میں اس کی مثال نہیں ملتی وطن کی مٹی ماں کی گود جیسی ہوتی ہے۔ ماں دھرتی کی محبت سینوں میں ایسے ہی بستی ہے جیسے ماں کی محبت سے پورا وجود مہکتا ہے اس کا رزق اس طرح جسم و جاں کی آبیاری کرتا ہے جیسے ماں کا دُودھ، جس کا قرض فرزندانِ زمین پر ایسے ہی رہتا ہے، جیسے بتیس دھاروں کا تقدس اسی لیے تو اس کی حفاظت اس کی حرمت اس کے وجود کی بقا کا احساس اس کے بیٹیوں کے رگ و پے میں خون کی گردش کی مانند جاری و ساری رہتا ہے، جہاں کہیں ماں دھرتی کے تقدس کو پامال کیا گیا غاصبوں نے استعمال حربے اختیار کیے تو وطن کی آزادی اور سالمیت کے لیے فون کے نذرانے پیش کیے گئے۔

ایسی ہی قربانیوں اور جذبوں کے ساتھ ہمارے بزرگوں نے دُنیا کی شاطر ترین طاقتوں سے لڑ کر پاکستان بنایا۔ آج اسی دھرتی کے بیٹے کس حوصلے سے اُس کے وجود پرتہمتیں اور تبرے برداشت کر رہے ہیں۔ شاید اس لیے کہ آج ہم میں یا خدا، پشاور ایکسپریس، کھول دو اور ہم وحشی ہیں جیسی تحریریں پڑھنے کا جذبہ ختم ہو چکا ۔

آج میڈیا تو آزاد ہے لیکن اپنی ثقافت و معاشرت پر یورپی و انڈین کلچر کا چہرہ تھوپ لیا ہے، کبھی شاہین اور آخری چٹان جیسے ڈراموں کے اوقات میں سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ آج انڈین چینلز اپنی تاریخ ثقافت و مذہب اور زبان، دلچسپی و تجسّس کے ..........میں لپیٹ کر ہمارے بچوں کے گلے سے اُتار رہے ہیں۔

خود ہم نے سکولوں کے نصاب سے تحریکِ پاکستان اور دفاعِ پاکستان سے متعلق مضامین تک حذف کر دیئے ہیں۔ تاریخی واقعات کی یاد محو کرنے کے لیے قومی دِنوں کی تعطیلات بھی ختم کر دی گئیں۔ آج تعلیمی اداروں میں یومِ دفاع، یومِ پاکستان، یومِ آزادی، یومِ اقبال، یومِ قائداعظم منانے کی رسم ترک ہو چکی ہے۔

آج ہم ادیبوں میں الفاروق المامون اور تلوار ٹوٹ گئی جیسی کتابیں لکھنے والا کوئی نہیں رہا۔ آج جیوے جیوے پاکستان جیسے ترانوں کا خالق کوئی نہیں ہے۔ اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں۔ گانے والا کوئی نہیں۔ حد یہ کہ دِل دِل پاکستان جان جان پاکستان گنگنانے والی نسل کا بچپنا گزرے بھی مُدّتیں ہوئیں لیکن پھر کسی نغمہ نگار کسی مفتی نے وطن کی محبت میں سرشار کر دینے والاکوئی نغمہ تخلیق نہ کیا۔

عوام نہ بے حس ہوتے ہیں اور نہ ہی وطن کی محبت سے عاری لیکن آنے والی نسلوں کو پرانی نسلیں اپنے آباؤاجداد کا ورنہ منتقل کرتی ہیں اُن کے کارناموں اور قربانیوں سے روشناس کرواتی ہیں۔ ملک و ملت کی اہمیت سے باخبر کرتی ہیں۔ آج والدین خود بے خبر ہیں تو بچے گلوبل ولیج اور نیوورلڈآڈر کی اصطلاحیں ہی ازبر کریں گے نا کچھ عرصہ بیشتر جناح فلم دِکھائی گئی تو لوگ دیوانہ وار دیکھنے کو لپکے لیکن ہم نے خود کبھی کوئی فلم یا ڈاکومنٹری بنا کر اپنے بزرگوں کے کارناموں سے قوم کو روشناس کروایا۔

لوٹو اور بھاگو کا ماٹو رکھنے والے کارپردازان کی اقتدار بچاؤ مہم سے کبھی کوئی پیسہ وقت یا قومی جذبہ بچا ہی نہیں کہ آنے والی نسلوں کو قیام پاکستان کی وجوہات، مقاصداور اہمیت بنا کر حبِ وطن کا جذبہ پیدا کیا جاتا، مجھے وہ پرانا لطیفہ یاد آتا ہے کہ کئی اقوام کے نمائندہ افراد کہیں اپنے اپنے ملک کی برتری ثابت کر رہے تھے کہ سب سے آخر میں ایک پاکستانی بولا کہ امریکی کا پوری دُنیا پرغلبے کا دعویٰ درست، جاپانی کی ٹیکنالوجی کی برتری بھی۔ تسلیم ہندوستانی کا جمہوریت کا تفاخر بھی قبول لیکن پاکستان کے پاس ایک ایسی برتری ہے جو کسی کو آج تک نہیں ملی سب نے حیران ہو کر پوچھا کہ بھئی وہ کیا؟ تو پاکستانی نے شرما کر جواب دیا اسے ساٹھ برس سے لوٹا جا رہا ہے لیکن ابھی بھی باقی ہے۔

ہاں یہ باقی رہے گا کیونکہ کہ اسے قائم رکھنے والی ہستی باقی رہنے والی ہے اور تمام تر خباثتوں اور سازشوں کے باوجود یہ انشاء اللہ زندہ رہے گا کیونکہ اس مملکتِ خداداد کا وجود اسلام کے نام پہ عمل میں آیا اور اس کے نام کا مطلب ہی اسے قائم و دائم رکھنے کا باعث ہے۔
پاکستان کا مطلب کیا’’لا الٰہ الا اللہ
عالمی اخبار - پاکستان کا مطلب کیا ؟ از۔ طاہرہ اقبال

Last edited by ابن آدم; 28-04-09 at 11:56 AM..

 
ابن آدم's Avatar
ابن آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 201
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (28-04-09), فیصل ناصر (29-04-09), منتظمین (28-04-09), yashaka (06-05-09), ایس اے نقوی (30-04-09), ام غزل (06-05-09), اسد لطیف (06-05-09), سام (07-05-09)
پرانا 28-04-09, 11:20 AM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستان کا مطلب کیا’’لا الٰہ الا اللہ
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
yashaka (06-05-09), ایس اے نقوی (30-04-09), ابن آدم (19-07-10)
پرانا 28-04-09, 11:34 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
yashaka (06-05-09), ایس اے نقوی (30-04-09), ابن آدم (28-04-09)
پرانا 06-05-09, 04:07 PM   #4
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی زبردست تحریر ہے اس کو ابھی صرف دیکھا ہے ، تبصرہ پڑھ کر کروں گی۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن آدم (06-05-09)
پرانا 07-05-09, 01:30 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
کمائي: 17,990
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زبردست تحریرہے ایک نشست میں پڑھنامشکل ہے کہ ضبطکی بھرپورکوشش کے باوجودآنسو رواں ہو گئے سمجھ میں نہیں آتاکہ کسکاگریبان پکڑکراپنی بربادی کاحساب مانگیں
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (07-05-09), ابن آدم (07-05-09)
پرانا 07-05-09, 03:04 AM   #6
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلیمان بھائی بہت ہی روح ٍ فنا تحریر ہے ، ہم وہ قوم ہیں جو اپنوں ہی کے دئے ہوئے زخموں کی ذد میں ہیں ، سمجھ نہیں آتا کہ اپنوں کی غداری پر آنسو بہائیں یا پھر اپنی غفلت بھری نیند پر ، تحریر پڑھ کر دل خون ہوگیا کہ آکر کب تک ہم اس روز روز کی موت مریں گے ، ہر صبح جب باپ ، بھائی اور شوہر گھر سے محنت کرنے نکلتے ہیں تو دل اس دھیان میں ہی رہتا ہے کہ اللہ خیر سے واپس گھروں کو پہنچائے ، وہ سکون ، وہ اپناہٹ تو دور کی بات ، مگر اب تو ہر آہٹ ایک خود کُش حملے کا ڈر لئے ہوئے ہوتی ہے ،
اللہ ہمیں اور ہماری مملکتٍ پاکستان کو اپنی امان میں رکھے اور ہمیں ان حالات سے لڑنے کی طاقت عطا فرمائے ۔
آمین ثم آمین۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
ابن آدم (07-05-09), سام (07-05-09)
جواب

Tags
php, فروخت, پاکستان, پاکستانی, واقعات, قائداعظم, لوگ, لطیفہ, نماز, مہنگائی, منتقل, ممکن, ماں, آج, اللہ, انٹرنیٹ, اسلام, بھائی, بچوں, ترک, جواب, خون, شام, عہد, علامتیں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 12-12-09 11:55 PM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger