امریکہ نے9/11 کے بعد وسیع تر مفادات کی خاطر افغانستان پر یلغار کر دی اور اس یلغار میں دنیا بھر کی اقوام کو ساتھی ملانے کےلئے اس نے لالچ اور دھمکی سمیت ہر حربہ استعمال کر کے دنیا کو اپنے پاؤں میں باندھ ہی لیا۔ اور واضح اعلان کر دیا تھا کہ اب دنیا کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے یا دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔۔
اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کو پاکستانی ہونی کی وجہ سے لالچ سے زیادہ دھمکی دی کہ اگر ہمارا ساتھ نہیں دیا تو ہم تمہیں پتھر کےدور میں پہنچا دیں گے۔ صدر محترم اس دھمکی سے اتنا مرعوب ہوئے کہ قوم، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر فیصلہ کر بیٹھے اور دن رات قوم کو پتھر کے دور میں جانے سے ڈراتے رہے۔ کہ وہ دور تھا کیا اور اس دور میں ہوتا کیا تھا۔ چنانچہ ساری قوم آنکھیں بند کر کے پتھر کے دور میں جانے سے ڈرتی رہی۔ اور ایک امریکی دھمکی پر ہم نے برسوں سے قائم اپنی افغان اور کشمیر پالیسی پر یو ٹرن لے لیا۔
آخر پتھر کا دور تھا کیا
پتھر کا دور ایک لمبا قبل از تاریخ زمانہ ہے جب انسان اوزار بنانے کے لیے بنیادی طور پر پتھر استعمال کرتا تھا۔ یہ دھاتوں کی دریافت سے قبل کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں پتھروں کے ساتھ ساتھ لکڑی، ہڈیاں، جانوروں کے خول، سینگاور کچھ دوسری چیزیں بھی اوزار اور برتن بنانے کے لیے استعمال عمومی طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ پتھر کے دور کے آخر میں انسان نے چکنی مٹی سے برتن بنانے اور انھیں آگ میں پکانے کا ہنر بھی سیکھ لیا تھا۔ اس دور کے بعد مختلف ایجادات کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان بالترتیب تانبے ، پیتل اور لوہے کے دور میں داخل ہوئی۔
تقریباً 25 سے 27 لاکھ سال [1] قبل پتھر کے اوزاروں کا پہلا استعمال ایتھوپیا میں ہوا اور اس کے بعد یہ تکنیک دنیا کے باقی حصوں میں آہستہ آہستہ پھیل گئی[1]۔ پتھر کے دور کا اختتام زراعت اور تانبے کا استعمال سیکھنے کے ساتھ ہوا۔ اس زمانے کو قبل از تاریخ اس لیے کہتے ہیں کہ انسان نے اب تک لکھنا نہیں سیکھا تھا۔ ابجد اور تحریر کی ایجاد کو مروجہ تاریخ کا آغاز مانا جاتا ہے۔
ویکیپیڈیا
پتھر کے دور میں کیا نہیں تھا
جناب آج ہم آپ کو پتھر کے دور کی سیر پر لے چلے گئے یہ دور بھی عجیب دور تھا جب حضرت انسان سُک و چِین کی بانسریاں بجاتا تھا اُس دور کے حالات کچھ یوں تھے۔
کوئی غم روزگار نہیں تھا ۔
کوئی غم یار نہیں تھا۔
کسی بھید میں کچھ بھید نہیں تھا۔
کسی پَرت پر پَرت نہیں چڑھائی گئی تھی۔
کوئی غم بیگم نہیں تھا۔
کوئی غم پیاز نہیں تھا
کوئی غم ٹماٹر نہیں تھا
کوئی غم گوشت نہیں تھا
کوئی غم سبزی نہیں تھا
کوئی غم حلوا نہیں تھا
کوئی غم مُلا نہیں تھا
کوئی غم عید وعید نہیں تھا
کوئی غم نواز شریف و شہباز شریف اور آصف زرداری نہیں تھا۔
کوئی غم پرویز مشرف و پرویز الہی و شُجاعت و بردران چودری نہیں تھا۔
کوئی غم فضل الرحمن و قاضی و عمران و شیخ رشید(تگڑا سنگ) و فلاح فلاح نہیں تھا
کوئی غم الطاف حسین(گھوگا) نہیں تھا
کوئی غم زاد سفر نہیں تھا۔
کوئی بیس نہیں تھا کوئی دیش نہیں تھا۔
کوئی ٹرین و ہوائی جہاز و شپ یارڈ نہیں تھا۔
کوئی امریکا و برطانیہ و فرانس و کوئی آڈر نہیں تھا۔
کوئی بے غیرتی اور بے شرمی کا نام و نشان نہ تھا۔
کوئی ریمنڈڈیوس نہیں تھا نہ فہیم کی بیوہ تھی۔
کوئی چور نہیں تھا کوئی پولیس نہیں تھی۔
کوئی سرحدی بندش نہ تھی
کوئی جمہویت نہ تھی۔
تو جناب آپ لوگ تیار ھو گئے جانے کیلئے اگر ھاں تو ایک پتھر لیں جس کی چوڑائی و لمبائی و موٹائی دو انچ ھو دو انچ سے زیادہ ھر گز نہ ھو ورنہ میری زمیداری نہیں کہ وہ آپ کو کہا سے کہا پُہچا دے اور آپ کے گھر والے ڈھوڈتے رہ جائے اور آخر میں اُن کو آپ پر قل پڑھنے پڑ جائے۔ھاں تو دو انچ پتھر جس کے اُوپر آپ نے تشریف فرما ھونا ھے اور اُوپر دیا گیا سبق بھی دُھرانا ھے ۔سبق دھراتے جائے اور غم کھاتے جائے تھوڑی دیر بعد آپ اپنے آپ کو پھتر کے دور میں پائیں گئے۔جہاں سکون ھے آرام ھے۔چِین ھے۔
جہاں ﷲ کی ذات اوراس کے دین اور انبیاء سے محبت کے سوا کچھ نہیں تھا۔
بحوالہ قدرے تغیر کے ساتھ
پتھر کے دور کی دھمکی کی اصلیت
پتھر کے دور میں بھیج دینے کی امریکی دھمکی قوم نے صدر پرویز مشرف کی زبانی اس طرح سنی تھی جیسا کہ واقعی امریکہ نے سنجیدگی سے یوں کہا ہے۔۔ اور ہمارے پاس دوسرا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔۔
کافی عرصہ اس دھمکی پر بحث مباحثے چلتے رہے۔۔ لیکن کسی نے امریکہ سے نہیں پوچھا کہ حضور مائی باپ آپ نے ایسا کیوں کہا ہے۔
آخر بی بی سی نے مشرف کے ایک انٹرویو میں یہ سوال پوچھا کہ آپ کو کس نے کہا تھا کہ آپ کو پتھر کے دور میں پنچا دیا جائے گا۔۔ تو فرمایا کہ جنرل محمود نے مجھے امریکی کولن پاول کے حوالے سے یہ کہا تھا۔۔۔۔ جب کولن پاول سے بی بی سی نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کہا تھا تو اس نے کہا کہ ہمارے ملک پر حملے ہوئے تھے ہمیں اس کا دکھ اور غم بھی تھا لیکن ہم کسی آزاد اور خود مختارجمہوری ملک کو یوں دھمکی نہیں دے سکتے۔ ہاں ہمارے اس دکھ اور غم کی وجہ سے ہمارے لہجہ میں سختی ضروری ہوئی ہو گی۔۔ اس سختی کو اگر جنرل محمود نے اپنے ا لفا ظ میں صدر مشرف سے یوں بیان کیا ہے کہ امریکہ ہمیں پتھر کےدور میں پہنچا دے گا تو میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔ اس کا جواب تو جنرل محمود ہی دیں گے۔۔۔۔ ہم سات مطالبات لے کر گئےتھے جن کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ اگر پاکستان سے دو تین بھی منظور ہو گئے تو ہماری بڑیکامیابی ہے۔لیکن ہمیں تعجب ہوا کہ پاکستان نے ہمارے ساتوں کے ساتوں مطالبات تسلیم کر لئے۔۔
گویا کہ مشرف صاحب یہ بول کر دودھ کے دھلے بن گئے کہ مجھے جنرل محمود نے کہا تھا۔۔۔۔کہ کولن پاول نے ان کو یہ دھمکی دی ہے۔۔۔ اور کولن پاول نے کہا کہ امریکہ ایسی دھمکی نہیں دے سکتا۔۔ یہ جنرل محمود کے الفاظ ہوں گے۔۔۔۔۔ اور سارا میڈیا جنرل صاحب سے رابطہ کر کے ان کا موقف جاننے کی کوشش میں لگا رہا لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔۔۔۔۔ اور آج تک میرے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ ۔۔۔ پتھر کے دور میں جانے کا ڈر ہماری قوم ملا کہاں سے۔۔۔۔۔۔
صدر مشرف نے دیا
جنرل محمود نے
جنرل کولن پاول نے
قوم سے اتنا بڑا مذاق کیا گیا تو قوم نے کچھ نہ کیا۔۔حتی کہ سوال تک نہیں پوچھا۔۔۔۔۔ اور آج جب امریکی قاتل کے امریکہ حوالگی کے معاملے کو دیکھتا ہوں تو ان لوگوں پر ہنسی آتی ہے جو پتھر کےدور میں جانے سے بھی ڈرتے ہیں ا ور امریکی قاتل کو سزا بھی دینا چاہتے ہیں۔۔۔۔
کیا یہ ممکن ہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟