| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
جرم سے پہلے کبھی قانون نہیں ببن سکتا جب جرم ہوتا ہے تب اس ملک کےحکمران اس کی روک تھام کےلئے قانون بناتے ہیں پاکستانمیں جرم ہونے کے بعد جب وہ یا تو کئی انسانوں کی جانیں لے چکا ہوات ہے یا معاشرے کو تباہی کی طرف جا چکا ہوات ہے تو قانون بنتا ہے بیرون ملک رہنے والوں سے جب ہماری بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جب بھی کوئی دشواری پیش آتی ہے تو وہ فوری پولیس سے رابطہ کرتے ہیں جو نہ صرف ہمیں مدد فراہم کرتی ہے بلکہ تسلی کے ساتھ ساتھ قانونی طور پر بھی آخری وقت تک ساتھ دیتی ہے
پاکستان میں شریف شہری کو اگر پولیس سے صرف ایک گھنٹہ کا واسطہ پڑجائے تو وہ اپنی نسلوں کو بھی ان سے دور رہنے کی ہدایت کرتا ہے یہاں پولیس والے کو دیکھ کر شہری مزید خوفزدہ اور خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتے ہیں اگر کسی کے ہاں چھوٹی موٹی چوری ہوجائے یا کوئی حادثہ ہو جائے تو کہا جات ہے کہ تھانے جانے سے مزید مال جائے گا بار بار تفتیشی آئے گا یا پھر فون پر بلا کر گھنٹوں تھانے بیٹھا دے گا جو کسی اذیت سے کم نہین اگر حادثاتی طور پر کوئی مجرم پکڑا جائے تو پولیس والے اسے شرفا کے گھروں میں لے جا کر نشاندہی کرانے کے ساتھ ساتھ پورے اہل خانہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہیں ہمارے ہاں ایک مزاحیہ مثال دی جاتی ہے کہ اگر کسی ”ہاتھی“کو تھانے لے جا کر اس پر بغیر سوچے سمجھے لاتوں مکوب اور فحش گالیوں کی بارش کی جائے تو وہ بھی کہے گا کہ میں ہاتھی نہیں بکرا ہوں اگر کوئی شریف شہری پکڑا جائے تو اسے تھانیدار کے خفیہ سیل میں رکھا جاتا ہے پولیس کے مخبر کی اطلاع پر کہ اس شہری کے ورثاء عدالت سے رجوع کر رہے ہیں تو اس شہری کو دوسرے تھانے میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ عدالتی بیلف کی آمد پر تھانے سے برآمدگی نہن ہوسکے بات یہی ختم نہں ہوتی شریف شہری کے پکڑے جانے پر ورثاء یا چھوٹی موٹی سیاسی شخصیت کسی اعلی افسر سے رابطی کرتی ہے تو ٹیلی فون سننے والا پوری بات سن کر کہتا ہے کہ ”صاحب“ میٹنگ میں ہیں نہ جانے کب فارغ ہوں گے اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں بلکہ بعض اوقات تو کئی دن چلتا رہتا ہے آخر شریف شہری کے ورثاء جو اذیت کاٹ رہے ہوتے ہیں مک مکا پر مجبور ہوجاتے ہیں اس طرح پولیس کی تنخواہ کے علاوہ ان کی اوپر کی کمائی ہزار گناہ زیادہ ہوجاتی ہے مراعات کی بات پر یاد آیا کہ کبھی کسی حکمران ،سیاستدان،وڈیرے نے توجہ دی ہے کہ انسپکٹر،سب انسپکٹر اے ایس آئی حوالدار یا سپاہی کی تنخواہن سے زیادہ اس کا رہن سہن ہے تنخواہ تو الگ ایک معمولی سپاہی کے پاس بھی گاڑی ہے گھر اگر اپنا نہیں تو اسکی تنخواہ کے برابر کرایہ پر ضرور ہے یہاں یہ بات بھی مانی جاتی ہے کہ پولیس کے محکمہ میں خاندانی افراد بھی موجود ہیں جنکی زمین جائیداد بہت ہے تو وہ آٹےمیں نمک کے برابر ہیں ہمارے ملک میں بہت سے ایماندار ،ذہین اور اعلی کردار کے مالک پولیس افسران اب بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے محکمہ پولیس کا نام روشن ہے ایسے ہی ایک اعلی کردار کے مالک ایک SP صاحب ہیں جن کے نام کے ساتھ ”امام“ آتا ہے نے ایک روایت قائم کی تمام تھانیداروں کے ساتھ کام کرنے والے کارخاص ختم کر دیئے ان کا موقف تھا کہ یہ کارخاص اصٌ خرابی کی جڑ ہیں ان کےذریعے معاملات طے ہوتے ہییہ سلسلہ کچھ عرصہ تک چلا ایس پی کی ٹرانسفر ہوئی سلسلہ پھر شروع ہو گیا اسی طرح ایک ایس پی الحاج عمر فاروق بھٹی تھے جن کی پوسٹنگ لاہور میں تھی اور ہارٹ اٹیک ہونے وہ وفات پاگئے مرحوم سے میرا بہت اچھی دوستی تھی اور یہ میرٹ پر فیصلہ کرتے تھے ان کا قول تھا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے عمر فاروق بھٹی کام کام بس کام کا مشن لئے ہوئے تھے بات ہو رہی تھی کارخاص کی تو یہ علاقے کئ سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اکثر ایماندار پولیس افسر یا اہلکار نےآج تک وردی نہیں پہنی پھر ہمارے حکمران اور پولیس والے کہتے ہیں کہ ”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی“ دوستون آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک ڈرامہ ””اندھیرا اجالا““ کے نام سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا جس میں جمیل فخری ہوشیارترین ایس ایچ او اور حوالدار عرفان کھوسٹ جو تھانہ کا محرر تھا انتہای سادہ شخصیت کا مالک ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں بھی ایسے کردار موجود ہیں بہت سے پولیس کے ایماندار افسران اور اہلکار اس معاشرے کو سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں صرف چند کالی بھیڑوں اور گندی مچھلیوں نے معاملی خراب کر رکھا ہے اگر ہمارے سیاستدان پولیس کو اپنے مخصوص مقاصد کےلئے استعمال نہ کریں اور قانون کی وردی میں چھپا بھیڑیا پکڑا جائے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جائے تا کہ معاشرہ درست سمت کی طرف بڑھ سکے اس کےلئےحکومت کو بھی پولیس ملازمین کی ضروریات اور ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیئے وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی حکومت آنے کی گفتگو ہوری تھی اور میں نے بہت سے پولیس افسران کو دیکھا اور کہتے سنا کہ بندے دے پتر بن جائو وزیر اعلی معاف نئی کرنا کسے نوں وی اور وزیر اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد موجودو وقت میں انہوں نے پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ ضرور کیا ہے تا کہ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات کےلئے رشوت نہ لیں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ایک شکایت سیل قائم کیا گیا مگر محترم وزیر اعلی صاحب پنجاب کی عوام آپ سے اپیل کرتی ہے کہ تھانوں میں چھاپے مارنے کا سلسہ جاری رکھیں اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
__________________
دستخط: کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی.....! |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 12 صارفین نے ایس اے نقوی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | arshad khan (09-05-09), hasnan_1983 (03-09-09), فیصل ناصر (09-05-09), منتظمین (09-05-09), ماہی (18-06-09), yashaka (10-05-09), ام غزل (09-05-09), تانیہ رحمان ستارہ (09-05-09), خلیل (09-05-09), راشد احمد (10-05-09), رضی (11-05-09), طارق راحیل (19-05-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 955
کمائي: 21,625
ميرا موڈ:
شکریہ: 619
746 مراسلہ میں 2,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باقی تحریر پر پھر تبصرہ ہو گا مجھے ایک سوال کا جواب چاہے اگر کالی بھیڑیں چند ہیں تو پھر رونا کس بات کا ہے
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
رونا ہی تو یہ ہے کہ محکمہ میں چند یک ہی کالی بھیڑیں ہیں آپ پولیس کانسٹیبل سے دیکھنا شروع کرو تو جیسے جیسے اعلی عہدہ تک جائو گے دیکھو گے کہ وہ کانسٹیبل سے کہیں گنا زیادہ احترام کے ساتھ پیش آئیں گے اور حق رسی کریں گے ان مین بنیادی فرق ہے تعلیم کا عہدہ کا ایک سپاہی میٹرک پاس ہے اس کا کام ہے سارا دن سٹرکوں پر مارے مارے پھرنا وہ چڑچڑا ہوجاتا ہے اور شہریوں سے شکایت کا تناسب بھی پولیس کانسٹیبل سے ہی شروع ہوتا ہے اعلی افسر کام کرے نہ کرے مگر شہریوں کے ساتھ پیش عزت سے آتے ہیں اور محکمہ میں موجود چند کالی بھیڑیں ایسی ہیں جو نطام کو خراب کرنے والی ہیں اور یہ وہ ہیں جو اعلی افسران کو غلط گائیڈ کرتے ہیں ہر بات پر سب اچھا کی رپورٹ کرنے والے |
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے ایس اے نقوی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | hasnan_1983 (03-09-09), ماہی (18-06-09), ام غزل (09-05-09), تانیہ رحمان ستارہ (09-05-09), رضی (11-05-09) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,731
کمائي: 22,343
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,859
1,839 مراسلہ میں 4,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے بالکل درست فرمایا نجم بھائی کہ چند کالی بھیڑوں نے پورے ریوڑ کو بدنام کردیا ہے ، آج سے سات سال پہلے کی بات ہے چاند ارت تھی اور میں اعتکاف سے اُٹھی تھی ، رات گئے تک سب رشتے دار مبارکبادی کیلئے آتے رہے ، دوبجے کے قریب سب چلے گئے تو ہم آرام کیلئے لیٹ گئے ، اب مجھے رات جاگ کر عبادت کی عادت ہوگئی تھی سو نیند نہ آئی تو اُٹھ کر لاؤنج میں آگئی اور کوئی کتاب پڑھنے لگی ، تھعڑی دیر گزری ہوگی کہ باہر گیٹ پر کسی کے گیٹ پر چڑھنے جیسی آواز آئی ، میں تو پوری طرح گھبرا گئی ابھی میں ابو کو بتانے جا ہی رہی تھی کہ ایک اور آواز گیٹ پر محسوس ہوئی ، پھر تو میں بھگی اور ابو کو جگایا ، اور ساری بات بتائی ، ابو نے اسی وقت 15 کو فون کیا ، اور اپنے گھر کا ایڈرس دیا ، دس منٹ میں ایک پولیس موبائل ہمارے گھر کے سامنے تھی انہوں نے ابو کو موبائل پر کال کی اور ان کو باہر آنے کو کہا ،خیر دو گھنٹے کی چھان بین میں یہ نتیجہ اخز کیا گیا کہ اخبار والا آیا تھا اور اس کی سائیکل کا پہیہ لگا ہوگا ایک دفع آتے ہوئے اور دوسری دفع جاتے ہوئے ! اور اخبار جب اندر گرا تو ایسا لگا ہوگا کہ کوئی اندر پھلانگا ہے ۔
ابو نے ان سے معذرت کی کہ عید کے دن ان کو اتنی خفت اُٹھانا پڑی جس پر انہوں نے ابو کو کہا کہ یہ تو ان کا فرض ہے اور ابو کے چائے اور ناشتہ کے اصرار پر بھی وہ لاگ چلے گئے ۔ خیر واقعہ کافی لمبا ہوگیا مگر بتانے کا مقصد یہی تھا کہ ہماری پولیس اتنیبھی بُری نہیں ہے جتنا کہا جاتا ہے ۔ بہت بہت شکریہ۔ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے ام غزل کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فیصل ناصر (09-05-09), ماہی (18-06-09), ایس اے نقوی (09-05-09), تانیہ رحمان ستارہ (10-05-09), رضی (11-05-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
ہر محکمے میں اچھے برے ہوتے ہی ہیں
لیکن پاکستان کے اداروں میں کالی بھیڑوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہورہی ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کے اختیار والی پوسٹوں پر کالی بھیڑوں کا قبضہ ہوگیا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے فیصل ناصر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 349
کمائي: 5,603
ميرا موڈ:
شکریہ: 287
256 مراسلہ میں 659 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پولیس کے نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کو امراء، وزراء کے اثرورسوخ سے آزاد کرنا ضروری ہے یہ خود ان سے غلط کام کرواتے ہیں پھر انہی کو الزام دھرتے ہیں۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے راشد احمد کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
محترم موٹا بھائی اور محترم راشد صاحب
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب خواجہ محمد شریف نے چوری کے ایک مقدمہ میں ملوث معمر شخص پر پولیس تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے سخت حیرت کی بات کی ہے کہصوبے کا وزیر اعلی(میاں محمد شہباز شریف) جیسا سخت گیر شخص ہو لیکن پولیس تشدد سے باز نہ آئے اور بے گناہ شہریوں کی ہڈیاں توڑتی رہے انہوں نے کہا کہ واقعی پولیس اس ملک میں بہت طاقتور ہے اور اسکی ھکومت چلتی ہے جسٹس خواجہ محمد شریف نے یہ بات بھائی پھیرو پولیس کی طرف سے چوری کے ایک مقدمہ میں ملوث ایک بے گناہ معمر شخص کی گرفتاری اور تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ اخباری اطلاعات کے مطابق جب ایک معمر شخص ’’کالی‘‘ کو کندھوں پر اٹھا کر عدالت میں پیش کیا گیا تو اسکے پائوں اور تانگ پر پلستر چڑھا ہوا تھا اس موقع پر عدالت نے کہا:” پولیس کو خدا کا خوف نہیں اگر میڈیا میں خبر نہ آتی تو عدالت کو بھی پتہ نہ چلتا جس پر ڈی پی او قصور نے پولیس کی طرف سے اعتراف کرتے ہوئے عدالت کو کہا کہ متعقلہ اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے دوستوں یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہر روز تھانوں میں لوگوں سے انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے پولیس اور تشدد کا چولی دامن کا ساتھ ہےتحکمانہ اور تحقیر آمیز طرز گفتگو پولیس کا امتیازی نشان بن چکا ہے پولیس اہل کاروں کو مسلس ورثے میں ملنے والی رعونت نے احترام آدمیت سے محروم کر دیا ہے یہ خیال ان کے رگ و پے میں سما چکا ہے کہ شہریوں کو دبا کر رکھے بغیر پولیس کا دبدبا قائم نہیں رہ سکتا بدقسمتی سے بدیسی راج کے خاتمہ کے باوجود پولیس کے طرز فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ آج بھی عام لوگوں کو حکمرانوں کا غلام تصور کرتی ہے رشوت خوری اور ناجائز مراعات کے حصول کےلئے غریب شہریوں کے ساتھ ناانصافی اس کا وتیرہی بن چکی ہے انتظامیہ اور پولیس کے بعض افسران کا خیال تو یہ ہے کہ یہ پولیس ناقابل اصلاح ہو چکی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ قانون شکنی ،تشدد اور بددیانتی میں ملوث اہلکاروں کےخلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور پولیس کے اہلکار ہی اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے میں سرگرداں ہو جاتے ہیں اس کا ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ کمیٹیاں بنائی جائیں جن میں عام مگر باشعور شہری انتظامیہ وکلاء کی نمائندگی ہو اور وہ کمیٹیاں مشاورت کر کے ان کے خلاف درج کیسیز کی پیروی کریں جن تک قانون شکن اہل کاروں کے مھاسبے کا مربوط انتظام نہین کیا جاتا پولیس سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی بشکریہ روزنامہ پاکستان ایڈیٹوریل صفحہ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے ایس اے نقوی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 955
کمائي: 21,625
ميرا موڈ:
شکریہ: 619
746 مراسلہ میں 2,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہاں میں چند بھیڑیں کی بجائے یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ چند نہیں ہیں ۔ پورا معاشرہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں ہے پہلے لوگ رشوت لیتے ہوئے سوچتے تھے کہ یہ ایک بری چیز ہے لیکن اب اپنا حق سمجھ کر لیا جا رہا ھے کھلے عام رشوت مانگی جا رہی ہے چھوٹے طبقے سے لے کر بڑے آفسر تک ۔ بلکہ سب سے اہم کردار تو چھوٹے عہدے سے شروع ہوتا ہے ۔ یہاں ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گی ۔ محکمہ تعلیم میں ایک بھائی 17 گڑیڈ میں تھا جبکہ دوسرا بھائی ایک اسکول میں چوکیدار ۔ اب جو چوکیدار تھا وہ اپنے بھائی کو نا صرف اپنے اسکول کی رپورٹ دیتا ۔ بلکہ دوسرے اسکولوں کی بھی ۔ وہ چوکیدار ہو کر آفسر بنا ہوا تھا ہر استانی کو تبدیل کرنے کی دھکمی دیتا ۔ اور وہی ہوتا ۔ پھر جو مجبور اور لاچار استانیاں اپنی مجبوری کے تحت رشوت دے کر اپنے آڈر کنسل کرواتیں ۔ دونوں بھائی اب بھی یہ کام کر رہے ہیں ۔ وہ چوکیدار ہو کر خوش ہے اس لیے کہ وہ اسکول میں کم اور محکمہ تعلیم کے دفتروں مین زیادہ پایا جاتا ہے ۔اسی طرح ہماری پولیس اور باقی عملہ ہے ۔ ایرپورٹ پر چلے جاو ۔ جہاں سب سے نیچلے درجے کا بندہ آپ سے پاسپورٹ مانگے گا کہ آو آپ کو جلدی باہر نکال دوں ۔ بس آپ نے اس کی جیب گرم کرنی ہے ۔ اور یہی حال پولیس کا ھے اس نے ہماری نہیں ہم نے اس کی مدد کرنی ہے ورنہ امیر توپہلے ان چکروں میں پکڑنے سے پہلے ہی آزاد ہوتے ہیں اور جو غریب ہے ۔ساری مصبیت اس کے حصے میں آئے گی ۔ سارا قصور ہمارے ملکی نظام کا ہے ۔ اور عوام کا ہے یہاں عوام کو کالی بھیڑ کہنا ذیادہ مناسب ہو گا ۔ اس لیے کہ کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؟
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے تانیہ رحمان ستارہ کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | hasnan_1983 (03-09-09), فیصل ناصر (10-05-09), ماہی (18-06-09), ایس اے نقوی (10-05-09), ام غزل (11-05-09) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور دوسری بات کہ آپ نے جو لکھا وہ بالکل درست ہے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں چلے جائیں آپ کا کام ناجائز کام بھی آسانی سے ہو سکتا ہے مگر اس کےلئے آپ کو خرچہ کرنا پڑتا ہے اور ستارہ صاحبہ ہمارے ملک میں کوئی بھی ادارہ اپنے فرائض منصبی پوری طرح ادا نہیں کرتا آپ کسی بھی محمکہ میں چلی جائیں آپ کو کرپشن کی گنگا میں نہانے والے افراد زیادہ ملے گے اس حوالے سی میں ایک تھریر لکھ چکا ہوں جس کا لنک یہ ہے قاعد اعظم اور انکی تصویر اور ستارہ جی میں بطور رپورٹر یہ کہتا ہوں کہ ہم میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہین جو خبروں کے پیسے لیتے ہیں اگر کسی کے خلاف خبر آئی ہے تو لے دے کر خبر روک دو ورنہ خبر میں مصالحے زیادہ ڈال کر شائع کر دو ایک وقت تھا جب میں کسی محکمہ میں جاتا تھا تو محکمہ کے لوگوں کی کوشش ہوتی تھی کہ یہ اخبار والا جلدی نکلے یہاں سے وہ نہ ہو کہ خبر لگ جائے مگر موجودہ صوتحال یہ ہے کہ کسی محکمہ کے خلاف ایک خبر لگائو تو اپنے ہی ساتھی مزید خبروں کی اشاعت سے روک دیتے ہیں کہ تعلق ہے اور خبروں پر انکوائری ہوتی ہے جو بعد ازاں کھڈے لائن لگ جاتی ہے اور کامیابیاں بھی ملتی ہیں ستارہ جی یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اللہ خیر کرے بس |
|
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | ماہی (18-06-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 955
کمائي: 21,625
ميرا موڈ:
شکریہ: 619
746 مراسلہ میں 2,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابھی ام غزل کا تبصرہ پڑھا تو مجھے بھیا پنی بات یاد آگئی ۔ ہاں اچھے لوگ کم ہیں اور آٹے میں نمک برابر ۔ میری گاڑی کا اکسڈینڈ ہوا ۔۔صبح 9 بجے میں بھی کسی کام سے نکلی۔ گلی کے موڑ پر روکی کے دونوں جانب دیکھ کر روڈ کراس کروں میرے باہیں طرف سےایک وین تیزی سے آئی اور میری گاڑی کا فرنٹ مار کر تھؤری دور جا کر روکی ۔ مجھے اس وقت بلکل پتہ نہیں چلا اچانک گاڑی بند ہو گئی ۔ اتنے میں لوگوں نے اس وین والے کو پکڑنا چاہا تو وہ بھاگ نکلا لیکن کسی نے اس کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔ اتنے میں لوگ میرے اردگرد جمح ہوگئے پہلے تو مجھے تسلی دی کہ آپ فکر نا کریں ہم نے نمبر نوٹ کر لیا ہے ۔ اور پولیس کو بھی کال کر دی ہے کوئی 10 منٹ میں موبائل پولیس آئی ، میرٰ گاڑی کا نمبر دیکھا اور مجھے کہا کہ آپ گھر جاوں کسی آدمی کو اسٹیشن بھج دیں ۔ میں نے گھر آکر اپنے بھائی کو بیجھا ۔ تو اس وقت تک انھوں نے اس وین والے کا پتا بھی لگا لیا تھا ۔ کہ وہ وین ڈاکڑز حضرات کو لاتی لے جاتی ہے ۔ اور میری گاڑی کا نقصان بھی ان پورا کرنے کو کہا ۔ جس کا مجھے بالکل یقین نہیں تھا۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے تانیہ رحمان ستارہ کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
بے شک ستارہ صاحبہ اگر یہ معاشرہ ابھی تک قائم ہیں تو چند اچھے افراد کی وجہ سے
جب تک میں فیلڈ میں رہا ہوں میں نے بہت کچھ دیکھا ہے مجھے ہر محکمے میں اچھے لوگ بھی ملے ہیں اور ایسے بھی جنکو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اگر عوام ان کے بس میں ہو تو ی لوگ انہیں ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کر دیں اچھائی کے ساتھ برائی بھی لازم و ملزوم ہے جہاں برے ہوں گے وہاں اچھے بھی ضرور دیکھے جائیں گے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 3 صارفین نے ایس اے نقوی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 955
کمائي: 21,625
ميرا موڈ:
شکریہ: 619
746 مراسلہ میں 2,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارا معاشرہ ابھی بھی اچھے لوگوں کی سچی دعاوں کی وجہ سے قائم ہے اللہ پاک اسے یوں ہی تاقیامت قائم و دائم رکھے ، اور جو اسکے ختم ہونے کی امید رکھے ہوئے ہیں ان کو اپنے مقصد میں کبھی کامیابی نصیب نا ہو
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے تانیہ رحمان ستارہ کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم
بے شک ستارہ جی درست فرمایا ہے یہ معاشرہ انہیں چند اچھے لوگوں کی وجہ سے قائم ہے مزید بعد میں کیونکہ ابھی آئن لائن ہوا ہوں دوسرے جوابات بھی دینے ہیں |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے ایس اے نقوی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | hasnan_1983 (03-09-09), ماہی (18-06-09) |
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, فرض, پولیس, پاک, پاکستان, لوگ, موبائل, معاشرہ, آدمی, اللہ, الزام, امیر, بہترین, بھائی, تحریر, تعلیم, جواب, حال, حضرات, خوش, خلاف, سال, غزل, صحافت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| Jihad Farz Hay جہاد فرض ہے | میاں شاہد | جہاد | 29 | 04-12-09 10:21 AM |
| کیامیں آپ کی مدد کر سکتا ہوں | محمدمبشرعلی | MCSE and MCSA | 20 | 29-03-09 12:06 PM |
| آپ كى مدد چاہئے | Atia jamali | بچوں کے لیے کہانیاں | 28 | 01-12-08 10:55 PM |
| جہاد فرض کب ہوتا ہے | پیاسا | جہاد | 1 | 29-07-08 10:48 AM |
| فرض شناسی فوجی کی زندگی کا طرہٴ امتیاز ہونا چاہئے،جنرل اشفاق کیانی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-02-08 03:39 AM |