| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 151
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (20-01-11), محمدخلیل (20-01-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,963
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوسرا خط
آپ نے میرے خط کا جواب دیا میں اس کے لئے جناب کا شکر گزار ہوں.... میں نے اپنے خط میں جناب کی خدمت میں عرض کی تھی کہ آپ کیتھولک کی مسیحی دنیا کے روحانی باپ ہیں، آپ کی قوم کے لوگ پوری انسانیت کے آخری پیغمبر حضرت محمد کریمﷺ کے خاکے بنا کر توہین کر رہے ہیں لہٰذا آپ اس مذموم حرکت کو رکوائیں.... آپ نے مجھے 13 مارچ 2010ءکو خط لکھا جس میں جناب کے سیکرٹری مسٹر پیٹر (PETER B WELLS) نے جناب کی طرف سے مجھے بتلایا کہ مقدس باپ (HOLY FATHER) پوپ بینیڈکٹ نے نوٹس لے لیا ہے اور وہ آپ کی صحت و عافیت کے لئے دعاگو ہیں۔ جناب پوپ! آپ کی دعاﺅں کا بھی شکریہ.... مگر شکوہ یہ ہے کہ جناب نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا بلکہ پاکستان میں جس مسیحی خاتون نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ آپ نے اس کو رہا کرنے پر زور دیا اور مزید یہ کیا کہ توہین رسالت کے قانون کو ہی ختم کرنے پر اصرار کیا.... مزید برآں! ویٹی کن سٹی کی جانب سے کوشش کر کے ایک کمیٹی بنوائی گئی جو اس قانون کو ختم یا غیر موثر کرنے کی جدوجہدکرے گی۔ اس کمیٹی کا سربراہ پاکستان کے ایک اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی مسیحی کو بنایا گیا.... ہم جناب سے پوچھتے ہیں کہ یہ آپ نے کیسا نوٹس لیا ہے کہ توہین رسالت کو بند کرنے کی بجائے اسے پھیلانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ جناب پوپ! آپ نے کیسا نوٹس لیا کہ امریکہ کا ایک پادری مسٹر ٹیری جونز قرآن پر مقدمہ چلانے کی بات کرتا ہے یہ کہہ کر کہ دنیا میں دہشت گردی اس کتاب کی وجہ سے ہو رہی ہے لہٰذا اس کتاب کو پانی میں بہانا، جلانا، ٹھڈے مارنا اور فائرنگ سکواڈ کے سپرد کرنے کا اعلان ہو گا وغیرہ وغیرہ(نعوذ باللہ من ذالک) جناب پوپ! میں نے اپنے پہلے خط میں قرآن کی آیات کے حوالے دے کر کہا تھا کہ اگر تمہارے لوگ قرآن کی توہین کرتے ہیں تو وہ حضرت مریم علیھا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں اس لئے کہ جس قدر مقدس ماں بیٹا کی شان در قرآن بزبان سردار دوجہان حضرت محمد خیرالانامﷺ بیان ہوئی ہے اس کے معمولی حصے کا بھی تمہاری بائیل میں فقدان ہے.... تاہم اس کے باوجود آپ کے لوگ باز نہیں آ رہے تو آج میں بائبل کے حوالے دے کر جناب سے اور جناب کے پادریوں سے پوچھتا ہوں کہ دہشت گرد کون ہے؟ جناب والا! اپنی بائیل کھولئے، عہدنامہ قدیم کے باب ”استثنائ“ کے اوراق پلٹیئے، آپ کی مقدس کتاب بتلائی ہے کہ صحرائے سینا میں جب بنو اسرایل کو 38 سال گزر گئے۔ پرانی نسل کے سارے لوگ مر گئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آخری دور میں جہاد کا آغاز کیا۔ ”حسبون“ کے علاقے کا بادشاہ جس کا نام ”سیحون“ تھا۔ اپنی فوج کو لے کر مقابلے پر نکلا۔ آخرکار شکست کھا کر قیدی بنا۔ اس کے قیدی بننے پر اسرائیلیوں نے کیا کیا۔ ملاحظہ ہو! ”ہم نے اسے اور اس کے بیٹوں کو اور اس کے سب آدمیوں کو مار لیا.... اور ہم نے اسی وقت اس کے سب شہروں کو لے لیا اور ہر آباد شہر کو عورتوں اور بچوں سمیت نابود کر دیا اور کسی کو باقی نہ چھوڑا، لیکن چوپایوںکو اور شہروں کے مال کو جو ہمارے ہاتھ لگا، ہم نے اپنے لئے رکھ لیا“(استثنائ) قارئین کرام! ہم نے بائیبل کے اصل الفاظ آپ کے سامنے رکھے ہیں.... آگے لکھا ہے کہ ایک اور ملک ”یسن“ ہم نے فتح کیا۔ اس کے بادشاہ کا نام ”عوج“ تھا۔ اس کے ساتھ بھی ہم نے ایسا ہی کیا اور عورتوں بچوں سمیت سب شہروں کو بالکل نابود کر دیا۔ جناب پوپ! یہ ہے تمہاری بائبل کے آخری باب کا آغاز.... تمہارے لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ظالم ثابت کر دیا کہ وہ عورتوں اور بچوں تک کو قتل کرتے تھے.... میں قربان جاﺅں قرآن پر کہ قرآن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس الزام سے بری کیا.... حضرت محمد کریمﷺ پر جو قرآن نازل ہوا اس قرآن میں حضرت محمد کریمﷺ نے اپنے رب کریم کی طرف سے اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دامن کو صاف کیا۔ ظلم کے بجائے ان کے طرزعمل کو رحمت سے معمور قرار دیا.... قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نام کا 136 مرتبہ تذکرہ ہوا۔ آیئے! 136 میں سے صرف دو مقامات کا تذکرہ کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے! ترجمہ: موسیٰ علیہ السلام کی کتاب (تورات) راہنما بھی تھی اور رحمت بھی۔ (احقاف 12) جناب پوپ! اب دوسرا مقام ملاحظہ ہو! ترجمہ: ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے مابین فرق کر دینے والی کتاب دی وہ روشنی والی اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت کا باعث تھی۔ (الانبیاء4 ![]() اللہ اللہ! جو کتاب، راہنما ہو، رحمت ہو، نور اور ضیاءہو، خیر خواہی کا باعث ہو.... اس کتاب کو لے کر آنے والا رسول عورتوں اور بچوں کو کیسے قتل کرے گا....؟ قرآن نے دفاع کیا اور واضح کر دیا.... جناب پوپ! بائبل کے مطابق تم ظالم ہو.... عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والے ہو۔ تمہارے لوگوں نے اپنے ظلم اور اپنی درندگی پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ظالم قرار دینے کی کوشش کی اب بتلاﺅ! میں پوچھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پر نازل ہونے والی تورات کا تحفظ کرنے والا قرآن جلنا چاہئے یا تمہارے عہد نامہ قدیم کے (تحریف شدہ اور انسانی اضافوں پر مشتمل) ان انسانیت کش ریمارکس کو جلنا چاہئے جو کہتے ہیں کہ عورتوں اور بچوںکو مکمل طور پر نابود.... تباہ و برباد کر دیا گیا.... ظالمو! اس اعتراف کے بعد بھی تم امن کے ٹھیکیدار ہو.... اور قرآن کو ماننے والے دہشت گرد ہیں....؟ ذرا انصاف تو کرو.... کہ ہماری درخواست تم سے انصاف کی ہے؟ حضرت یوشع یا حضرت یشوع حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تربیت یافتہ تھے۔ خادم بھی تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اب وہ بنو اسرائیل کے حکمران بھی تھے، نبی بھی تھے اور سپریم کمانڈر بھی۔ عہد نامہ قدیم میں تورات کے پانچ ابواب کے بعد عہد نامہ قدیم کا پہلا صیحفہ انہی کا ہے اور انہی کے نام سے ہے۔ ان کے دور میں یروشلم بھی فتح ہوا اور دیگر علاقے بھی فتح ہوئے۔ علاقوں کے بادشاہ بھی ان کے ہاتھوں قیدی بنے.... مگر بادشاہوں اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا.... عہد نامہ قدیم کے صحیفہ ”یشوع“ کو ملاحظہ کیجئے، لکھا ہے کہ بنو اسرائیل کی فوجیں جب یریحو پہ حملہ آور ہوئیں تو! ”انہوں نے ان سب کو جو شہر میں تھے کیا مرد کیا عورت.... کیا جون کیا بڈھے.... کیا بیل کیا بھیڑ اور کیا گدھے.... سب کو تلوار کی دھار سے بالکل نیست کر دیا“۔ قارئین کرام! ایک اور شہر جس کا نام ”عی“ ہے اس کی بربادی کا منظر ملاحظہ ہو! ”سب اسرائیلی ”عی“ کو پھرے (یعنی لوٹے) اور اسے تہہ تیغ کر دیا۔ چنانچہ وہ جو اس دن مارے گئے مرد اور عورت ملا کر بارہ ہزار یعنی ”عی“ کے سب لوگ تھے“۔ ”پس یشوع نے ”عی“ کو جلا کر ہمیشہ کے لئے اسے ایک ڈھیر اور ویرانہ بنا دیا جو آج کے دن تک ہے اور اس نے ”عی“ کے بادشاہ کو شام تک درخت پرٹانگ (لٹکا) کر رکھا اور جونہی سورج ڈوبنے لگا انہوں نے یشوع کے حکم سے اس کی لاش کو درخت سے اتار کر شہر کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور اس پر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دیا جو آج کے دن تک ہے“ ”باب یشوع“ قارئین کرام! مزید برآں! اس کے بعد یروشلم کا شہر بھی فتح ہوا پانچ علاقے بھی فتح ہوئے اور ان علاقوں کے بادشاہ بھی قیدی بنے.... ان میں! 1۔ یروشلم کا بادشاہ.... ادونی صدق 2۔ حبرون کا بادشاہ .... ہوہام 3۔ یرموت کا بادشاہ .... پیرام 4۔ لکیس کا بادشاہ.... یافیع 5۔ عجلون کا بادشاہ .... دبیر ان پانچوں بادشاہوں نے مل کر یشوع کا مقابلہ کیا اور شکست کھا کر پانچوں بادشاہ ایک غار میں جا چھپے۔ اب یشوع نے ان بادشاہوں اور ان کے علاقوں کے ساتھ کیا کیا ذرا ملاحظہ ہو قتل عام کا منظر! ”یشوع کے حکم سے بنو اسرائیل ان پانچوں بادشاہوں کو غار سے نکال کر یشوع کے سامنے لائے۔ جناب یشوع نے اپنے سرداروں کو حکم دیا کہ ان پانچوں بادشاہوں کی گردنوں پر اپنے پاﺅں رکھو (یوں ذلیل کرنے کے بعد) یشوع نے ان کو مارا اور قتل کیا اور پانچ درختوں پر ان کو ٹانگ دیا“۔ ان پانچ بادشاہوں اور ان کی رعایا کے قتل عام کے بعد مزید چھوٹے چھوٹے علاقے فتح ہوئے۔ ان علاقوں کے حکمرانوں اور رعایا کے ساتھ کیا سلوک ہوا اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو! ”اسی دن یشوع نے ”مقیدہ“ کو سر (فتح) کر کے اسے تہہ تیغ کیا اور اس کے بادشاہ اور اس کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا۔ یشوع نے ”لبنا“ کے بادشاہ اور اس کے سب لوگوں کو تہہ تیغ کیا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ یشوع نے ”جزر“ کے بادشاہ ہورام اور اس کے آدمیوں کو مارا یہاں تک کہ اس کا ایک بھی (فرد) جیتا (زندہ) نہ چھوڑا۔ یشوع نے وہاں کے سب بادشاہوں کو مارا۔ اس نے ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑ بلکہ وہاں کے ہر متنفس (سانس لینے والے) کو .... جیسا کہ اسرائیل کے خدا نے حکم دیا تھا .... بالکل ہلاک کر ڈالا۔ یشوع نے ”حصور“ کو فتح کرنے کے بعد اس کے بادشاہ کو تلوار سے مارا.... سب لوگوں کو تہہ تیغ کر کے بالکل ہلاک کر دیا۔ وہاں کوئی متنفس باقی نہ رہا۔ پھر اس نے حصور (شہر) کو آگ سے جلا دیا۔ جناب پوپ! دیکھ لو تمہارا عہد نامہ قدیم بتلاتا ہے کہ تم لوگوں کے بڑوں نے اپنے دشمنوں کے 1۔ مردوں کو ہی قتل نہیں کیا۔ 2۔ عورتوں کو بھی قتل کیا۔ 3۔ بچوں کو بھی قتل کیا۔ 4۔ کمزور بوڑھوں کو بھی قتل کیا۔ 5۔ قیدیوں کو بھی قتل کیا۔ 6۔ چھپے ہوئے بادشاہوں کو قتل کیا۔ 7۔ ان کی گردنوں پر پاﺅں رکھ کر ذلیل کیا۔ 8۔ ان کو مارا اور ٹارچر کیا۔ 9۔ پھر قتل کیا۔ 10۔ قتل کے بعد لاشوں کو لٹکایا۔ 11۔ جب اتارا تو اتنے پتھر مارے کہ لاشوں کو پتھروں نے ڈھانپ لیا۔ 12۔ جانوروں، بیل، گائے، گدھے وغیرہ کو بھی ہلاک کر دیا۔ 13۔ ہر ذی روح کو مار دیا۔ 14۔ شہروں کو آگ لگا کر جلا ڈالا ۔ 15۔ وہاں کی ہر چیز یعنی باغات اور فصلوں تک کو آگ میں بھسم کر ڈالا۔ جناب پوپ! ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سارے الزامات ہیں جو حضرت یشوع پر لگائے گئے ہیں مگر تم تو ان کو سچ جانتے ہو۔ ہاں! تو پھریہ ہے تمہاری مقدس کتاب میں تمہارا مقدس کردار.... تمہاری بائیبل میں تمہارا پاکیزہ کردار.... ہاں ہاں! وہ کردار جس کو تم پاکیزہ کہتے ہو.... مقدس کہتے ہو، امن والا کہتے ہو.... انسانیت کی بھلائی والا کہتے ہو.... وہ کردار آج بھی جاری ہے عراق، افغانستان اور فلسطین میں جاری ہے.... ہم پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ کردار دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر یہ کردار انسانیت کی ہمدردی کا ہے تو انسانیت کے ساتھ دشمنی کس کا نام ہے؟ جناب پوپ! مجھے جناب کی طرف سے اور جناب کے پادریوں کی جانب سے خصوصاً ٹیری جونز کی طرف سے جواب کا انتظار رہے گا۔ انتظار.... انتظار.... انتظار امیر حمزہ....کنوینئر تحریک حرمت رسولﷺ۔ پاکستان |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,963
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
B’ismAllaah’ir’Rahmaan’ir’Raheem
With the Name of Allaah, The Most Compassionate, The Repeatedly Merciful February 10, 2010 Joseph Ratzinger Pope Benedict XVI Apostolic Palace Vatican City State, 00120 Italy Email: benedictxvi@vatican.va Fax: +39 06 6988 5863 Peace be upon those who follow Guidance. Sir, Pakistan’s religious and political parties and organizations established a united platform ‘Hurmat-e-Rasool, sallAllaah hu alaihi wasallam’ (Sanctity of the Prophet, peace be upon him) when your followers had sketched offensive caricatures of our beloved Prophet, peace be upon him. We had vociferously protested that transgression, and you had taken notice too, yet a Norwegian newspaper, Aften-Posten, has now repeated that insolent misdeed once again. Member Pakistani parties and organizations of Hurmat-e-Rasool, sallAllaah hu alaihi wasallam, have been protesting their re-publication ever since. We believe it is your religious duty under these circumstances to move beyond mere condemnation and take concrete measures in order to head off a clash between religions. Unfortunately, such a clash seems imminent because of the persistent insolence of some of your followers whose actions are completely contrary to the requirements of tolerance and dialogue between faiths. Sir, those in Norway and Denmark who sketch caricatures of our beloved Prophet, peace be upon him, should know that the name of our beloved Prophet, peace be upon him, has been mentioned four times in the Quraan which was revealed to Prophet Muhammad, peace be upon him. In fact, one of these references mentions the name ‘Ahmad’ of a prophet, the glad tidings of whose arrival Eessa (Jesus), peace be upon him, had given. On the other hand Eessa’s, peace be upon him, name has been mentioned thirty-five times in the Quraan, while his, peace be upon him, mother, Meryam’s, peace be upon her, name has been mentioned thirty-four times, while the title ‘Maseeh’ (Messiah) has been mentioned eleven times in the Quraan in reference to Eessa, peace be upon him. All these references of the mother and son, peace be upon them, add up to a total of seventy times. Moreover, each of these references is mentioned in the most courteous and loving manner, and are based on a backdrop of verity. Sir, the most revered books for us Muslims after the Quraan are the compilations of Ahadeeth (mannerisms and traditions of Prophet Muhammad, peace be upon him) by Imams Bukhari and Muslim. Imam Muslim’s book, Saheeh Muslim, relates the following saying of the Prophet, peace be upon him: Abu Hurairah, may Allaah be pleased with him, reported Allaah's Messenger (peace be upon him) as having said: “No infant is born but it is jabbed by Satan, and the infant begins to wail because of the jab of the Satan. Satan touches every son of Adam on the day when his mother gives birth to him with the exception of Mary and her son. (Muslim; Kitaab al-Fadhaail) Consider, sir, how our last messenger of Allaah has emphasized the esteem of the mother and the son, peace be upon them. Human nature would have expected that your people should have thanked Prophet Muhammad, peace be upon him, for these fond references, yet, regrettably, some of your people are determined in insulting the Prophet, peace be upon him, which is inexplicable and entirely contrary to human nature. In comparison, people of your faith who claim to believe in Eessa and his mother, peace be upon them, persist on insulting the Prophet Muhammad, peace be upon him. This attitude is completely uncivilized, unacceptable for the civilized world, and extremely abhorrent. Being the spiritual leader of the Christian world, we urge you to play a constructive role in these circumstances and send a strong message to your nation by censuring all those who have been responsible for insulting the Prophet, peace be upon him. We urge you to issue special instructions regarding these people, as well as by pressing the European Union to enact relevant legislation in this regard, so that those responsible for such acts can be given the maximum punishment possible. Furthermore, the publication license of Aften-Posten should be revoked; the government of Norway should apologize to Muslims for this insolent act, and it must assure Muslims that such a coarse and offensive act will not be repeated in the future. The United Nations too, must enact legislation whereby an act of disrespect against any religious personality or entity must be deemed a punishable crime, and for anyone who commits such a crime to be arrested and presented before the International Court of Justice for due process. Since the United States, Britain, and the European Union have more influence in these international bodies, we request you, therefore, to play a vital role in this matter. We shall await a positive response from your side in this regard. Sincerely, Ameer Hamza Convener Tehreek-e-Hurmat-e-Rasool, sallAllaahhu alaihi wasallam, Pakistan Cc: Rowan Williams Archbishop of Canterbury Lambeth Palace London, SE1 7JU Tel: +44 020 7898 1200 Fax: + 44 020 7401 9886 Email: contact@lambethpalace.org.uk |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم میں نے ہندوں اورعیسائیوں کی مذہبی کُتب پڑھیں تھیں کافی عرصہ پہلے۔ اورجو احکام قرآنِ مجید میں ہیں ہندووں کی کتاب گیتا میں لگ بھگ حقوق العبادوہی ہیں جوہمارے قرآن پاک میں، ذراسی باتوں کی ترمیم کرکے۔ لیکن پھربھی یہ لوگ سمجھ کر نہیں سمجھتے۔ ہدایت تو بس اللہ سوہنے کی ذات دے سکتی ہے، شیئرنگ کابہت بہت شکریہ
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن آدم (20-01-11) |
![]() |
| Tags |
| فارم, پیارے, وقت, ڈنمارک, قدم, قرآن, لوگ, نفرت, ناروے, ماں, محبت, اللہ, انداز, امریکہ, احتجاج, تقاضا, جرم, خلاف, خصوصی, دنیا, عیسیٰ, عیسائیوں, عالمی, عدالت, غور |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دھوپ کنارے | حیدر | ڈرامہ | 31 | 31-10-11 03:29 AM |
| دھوپ کا چاند | زارا | شعر و شاعری | 1 | 10-02-11 12:38 PM |
| جناب پوپ و پادری کے نام کھلا خط۔۔1 | ALI-OAD | اسلام اور مغربی دنیا | 1 | 26-01-11 08:34 PM |
| دھوپ دل میں اُتر گئی ہے بہت | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 05-01-08 12:32 PM |
| دھوپ کو اوڑھ کے سائے سے نکل کر آتے | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 05-01-08 12:09 PM |