واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


چوری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-11, 11:29 AM   #1
چوری
حسن قادری حسن قادری آف لائن ہے 06-11-11, 11:29 AM

پنجابی میں کہتے ہیں چوری لکھ دی تے ککھ دی برابر ہے چوری لاکھ روپے کی کوئی کرے یا ایک تنکے کی برابر ہے ایک صاحب کہنے لگے میں جب آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا میں ماسی شیخن کے گھر چوری کی نیت سے داخل ہوا نام تو ماسی کا شہناز تھا مگر پورا گاوں ماسی شیخن ہی کہتااسکی ایک لڑکی جو میری ہم کلاس تھی وہ گھر پر موجود تھی میں دیوار پھلانگ کے اندر داخل ہوا اور مرغیوں کے ڈربے کے پاس پہنچا کیو نکہ میری نیت انڈے چوری کرنے کی تھی میں نے آہستہ ڈربے کا دروازہ کھولا اندر مرغی موجود تھی میں نے جیسے ہی اندر ہاتھ داخل کیا مرغی نے شور مچادیا جلدی سے دو انڈے ہاتھ لگے اور میں لے کر بھاگ اٹھا مگر صاحبزادی نے مجھے چوری کرتے دیکھ لیا اور ماسی کو شکایت لگادی ماسی شام کو ہمارے گھر آدہمکی غصے میری ماں سے کہنے لگی ارے بہن دیکھی ہے اپنے لاڈلے کی کرتوت سمجھا لے اسے آج اسنے انڈے چراے ہیں کل مرغی چراے گا پھر بکری گاے بھینس اورپھر ڈکیٹ بنے گا ماں نے مجھے بلا کر ڈانٹا اور کہا چل کانوں کو ہاتھ لگا ماسی سے معافی مانگ میں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا ماسی مجھے معاف کردے ماسی میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور کہنے لگی میں تے تینوں معاف نہیں کرنا ،،،،، میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد چور پکڑنے کے محکمے ( پولیس( میں
انسپکٹر بھرتی ہو گیا ماسی کی لڑکی نے ایم اے کرلیااسطرح میرا رشتہ ماسی کے گھر طے ہو گیا دولہا بن کے ماسی کے گھر پہنچا ماسی نے میرے سر پر پیار دے کے کہا او انڈے چور دیکھ پھر کیسی سزا دی ہے تجھے بہر حال یہ سزا میرے لے رحمت بن گئی چوری ایک جرم ہے جسکی اجازت کوئی مذھب بھی نہیں دیتا یہود کو دیکھ لیں آج بھی تورات میں درج ہے
تو خون نہ کرنا
تو زنا نہ کرنا
تو چوری نہ کرنا
تورات کی کتاب خروج باب نمبر 20 فقرہ 13،،14،،15
ایک آدمی نےپادری کے سامنے گناہوں کا اعتراف
کرتے ہوے کہا میرے روحانی باپ میں نے ہمسائے کے باغ سے40مرغ چراے
پادری نے حیرت سے کہا اتنا مشکل کام تم نے ایک ہی مرتبہ کسطرح کرلیا
آدمی بولا،،،، فادر یہ کام ایک مرتبہ نہیں کیا بلکہ پرسوں 10 مرغ کل 10 مرغ اورآج10 مرغ چراے پادری نے کہایہ تو کل 30 بنے پھر تم کیوں 40 کہ رہے ہوآدمی نے عقیدت سے سر جھکا کے کہافادر آپنے سچ کہایہ تو تیس ہوےلیکن 10 مرغ میں نے کل چرانے ہیں اسکی ایڈوانس معافی مانگ رہا رہوں یہ تو اس چور کا اپنا فلسفہ ہے مگر کسی بھی معاشرے میں چور کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا کسی کی رکھی ہوئی چیز اس کی اجازت کے بغیرچھپا کر لینے کی سب سے کمینہ حرکت کانام چوری ہے اسیلے اسکی سزا بھی بڑی رکھی گئی ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دئے جایں سورۃ مائدہ آیت 38
چوری کی برائی کی وجہ یہ ہی نہیں ہے کہ دوسرے کے مال کواس کی اجازت کے بغیر چپکے سے اپنے تصرف میں لے آتا ہےبلکہ یہ بھی ہےکہ ایک شخص اپنی جائز محنت سے کماکر جو حاصل کرتا ہےدوسرا بغیرکسی جائز محنت کے بے وجہ اس پر قبضہ کرلیتا ہےپہلے کی محنت کو اکارت کردیتا ہے پھر بلا اذن دوسرے کے گھر میں داخل ہونا یہ علیحدہ جرم ہےپھر چوری کےلے قتل بھی کردیا جاتا ہے اہل عرب میں شاید افلاس کی وجہ سے یہ بیماری عام تھی اسلام نے اسکے انسداد کے لے ،،،مسلمان ہونے والوں سے اسکی بیعت ضروری سمھجی جیسے سورۃ ممتحنہ میں عورتوں کی بیعت کا ذکر ہےشرک نہ کرنا ،،چوری نہ کرنا پارہ 28 ممتحنہ آیت 12
اسی بیعت کی وجہ سے حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ نے حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھایارسول اللہ ابوسفیان کنجوسی کرتے ہیںجسکی وجہ سے میرا اور بچوں کا خرچہ پورا نہیں ہوتا کیامیں انکے مال سےکچھ چھپا کر لی سکتی ہوںآپ نے فر مایا اتنا لے لیا کر جو انصاف اور دستورکے مطابق تمھارے اور تمھارے بچوں کے لے کافی ہو(بخاری کتاب النفقات( چوری کا گناہ بھی بندہ اسی لیے کرتا ہےکہ وہ خدا کو حاضر ناظر نہیں جانتایا اس فعل کے وقت اسکے خیال میں یہ بات آتی ہو لوگ نہیں دیکھ رہے خدا بھی نہیں دیکھ رہا رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم اس قبیح فعل کی مذمت کےلے یہاں تک فر مایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی میں اسکا ہاتھ کاٹ دیتا کچھ چوریاں ایسی بھی ہیں جنہیں ہم چوری تسلیم ہی نہیں کرتے مگر در حقیت وہ بھی چوری ہی کہلاتی ہے
جیسے بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا
بجلی چوری کرنا
سرکاری فون اپنی ضروریات کے لے استعمال کرنا
پھول پھل سبزی مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا
دعوت پر گے اور گھر والے کی کوئی چیز اٹھا لاے
کسی چیز کے اصل پرزے نکال لینا یا تبدیل کردینا
بعض مذاق میں کوئی چیز چھپاتے ہیں پھر واپس نہیں کرتے
بعض مسجد سے جوتی اٹھا کریا بدل کر چلے جاتے ہیںیہ سب عمل چوری ہی کے زمرے میں آتےہیں
مسجد سے جوتے اٹھانے کتنی بڑی زیادتی ہےجس سے نمازیوں کو ایک علیحدہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہمارے دوست نے نئے جوتے خریدے اور جمعہ پڑھنے گے میں نے کہا جناب جوتے ذرا سنبھال کے رکھنا نماز کے بعد جب واپس جانے کے لے جوتوں کی جگہ پہنچے جوتے کوئی پہلے ہی لے گیا تھا میرے دوست نے بڑ بڑانا شروع کردیا میں نے کہا کیا بڑ بڑارہے ہو کہنے لگے چور کو بد دعا دے رہا ہوں جا بد بختا رب تجھے زرداری جیسی عزت
دے اور ملک عبد الرحمان جیسی عقل دے
اوبامہ جیسی تیری رنگت ہو جاے
شیخ رشید جیسی تجھے جوانی ملے
نواز شریف جیسا تیرا ھیئر اسٹا ئل ہو
چوہدری شجاعت جیسی تیری آواز ہو جاے
میں نے کہا جناب یہ دعا ہے یا بدعا ہم دونوں مسکراتے ہوے نئے جوتے لے کر گھر پہنچے
چوری ہر حال میں بری ہے

 
حسن قادری's Avatar
حسن قادری
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 97
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
بنت حوا (06-11-11), عروج (06-11-11)
جواب

Tags
پولیس, لوگ, لڑکی, ماں, مسجد, آج, آدمی, اللہ, اسلام, بچوں, تنکے, تعلیم, جرم, حال, خون, خدا, دوست, دعا, زرداری, سفر, شور, شام, شخص, عقل, عالم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger