واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ڈبل روٹی کی سزا معاف نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-11, 06:25 PM   #1
ڈبل روٹی کی سزا معاف نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
زارا زارا آف لائن ہے 09-02-11, 06:25 PM

ایک بڑھیا روتی ، بلکتی ،آنسو بہاتی میرے پاس آئی اور کہنے لگی ”میں نے تمہاری بڑی تعریف سنی ہے بیٹا “۔
”تعریف اس خدا کی جس نے مجھے بنایا“۔
سہارا دیکر بڑھیا کو کرسی پر بٹھاتے ہوئے میں نے پوچھا” کیسے آنا ہوا ہے، اماں؟“
بڑھیا نے چادر سے ناک صاف کرتے ہوئے چار دیواری کی طرف دیکھا اور کہا ” میں نے سنا ہے کہ تم دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہو؟“
”اسی نیک مقصد کے لئے میں نے یہ دفتر کھول رکھا ہے “ میں نے کہا ”مجھے بتاؤ اماں، میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“
میرے دفتر کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھتے ہوئے بڑھیا نے پوچھا”یہ کسی این جی او کا دفتر تو نہیں ہے ؟“
”نہیں اماں“ میں نے کہا ”یہ کسی این جی او کا دفتر نہیں ہے۔ یہ پی جی او کا دفتر ہے“۔
روتے ہوئے آثار قدیمہ جیسی بڑھیا نے کہا۔ ”تمہارا پی جی او کہیں کسی این جی او کا ٹیلنٹڈ کزن تو نہیں ہے ؟“
”ارے نہیں اماں “ میں نے کہا ”پی جی او سے میری مراد پرائیویٹ گورنمنٹ آرگنائزیشن “۔
شروع سے حکمران وقت سے میرے اچھے مراسم چلے آ رہے ہیں۔ میں ان کے کام آتا ہوں، وہ میرے کام آتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں بنڈل مار رہا ہوں۔ کراچی کے ہم پرانے باسی جھوٹ بولنے کو بنڈل مارنا کہتے ہیں۔ ہم اور ہمارا لہجہ اب ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ بعد ہمارا لہجہ سننے کے لئے آپ کو ممبئی جانا پڑے گا ۔ آپ کا یہ سوچنا درست ہے کہ میں معمولی سا ایک کیڑا مکوڑا حکمران وقت کے کس کام آ سکتا ہوں؟ میرے پلّے کچھ نایاب ہنر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران وقت سے میری گاڑھی چھنتی ہے۔ کبھی کبھی تو ہمیں چھاننے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ بغیر چھانے غڑپ کر جاتے ہیں،کچھ اور کھپے کھپے۔
ایوان اقتدار میں مٹر گشت کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا کہ آئے دن لوگوں کے کام سرکاری دفتروں میں پڑتے رہتے ہیں۔ لوگ سرکاری دفتروں کے چکر کاٹتے کاٹتے خود چکرا جاتے ہیں اور ایک روز چکرا کر گر پڑتے ہیں۔ گر پڑنے کے بعد وہ عام طور پر بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ بے ہوش ہونے کے بعد ہوش میں آنا پسند نہیں کرتے اور اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ اس پس منظر اور پیش منظر میں میرے وجود میں کنڈلی مار کر بیٹھے ہوئے بزنس مین کی نس بھڑک اٹھی۔ میں نے پی جی او کا دفتر کھول دیا۔ لوگ طرح طرح کے کام لیکر میرے پاس آتے ہیں۔ کسی کو اپنے نالائق بیٹے کے لئے اچھی ملازمت کی خواہش ہوتی ہے کسی کو اوپر کی آمدنی والے شعبوں مثلاً پولیس، انکم ٹیکس ، کسٹمز ،ایف آئی اے وغیرہ میں کام کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ کوئی سرکاری زمین پر قبضہ جمانے کی تاک میں رہتا ہے۔ کسی کو کروڑوں کے سرکاری ٹھیکوں کی ضرورت رہتی ہے۔ کوئی کرکٹ گراؤنڈ پر پلازہ بنانا چاہتا ہے۔ کوئی کچھ امپورٹ کرنا چاہتا ہے کوئی کچھ ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی پیٹرول پمپ اور کوئی سی این جی گیس اسٹیشن کا پرمٹ لینے کے لئے میرے پاس درخواستیں لے آتے ہیں۔ اپنی فیس ایڈوانس میں لیکر اپنا اثرو رسوخ اور سرکار سے یارانہ استعمال کرتے ہوئے میں ان سب کے کام کروا دیتا ہوں۔ میں بڑا بول نہیں بولتا مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک مرتبہ آ جانے کے بعد کوئی میرے در سے خالی نہیں لوٹتا، یہ اللہ کی دین ہے۔ کسی کو مجھ سے حسد کرنے اور اپنا خون جلانے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں نے روتی بلکتی بڑھیا سے پوچھا” اماں، تمہارا مسئلہ کیا ہے؟میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟“
بڑھیا نے آنسو بہاتے ہوئے کہا ”میرا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ میں تمہاری فیس نہیں دے سکتی “۔
”میں دیسی رابن ہڈ ہوں اماں“ میں نے کہا ۔”میں امیروں سے بھاری فیس لیتا ہوں اور تم جیسے لوگوں کے کام کر کے ان کی دعائیں لیتا ہوں۔ مجھے بتاؤ، تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟“
بڑھیا نے دردناک لہجے میں کہا” میرا بیٹا تریسٹھ برسوں سے جیل میں بند ہے “۔
”تریسٹھ برسوں سے ؟“ میں نے چونک کر پوچھا ۔
”کیا کیا تھا تمہارے بیٹے نے ؟“
”یہ 1947ئکی بات ہے “ بڑھیا نے روتے ہوئے کہا ۔ “گھر میں فاقہ کشی تھی۔ میرا بیٹا ایک بیکری سے ڈبل روٹی چرا کر بھاگا، راستے میں پکڑا گیا۔ تب سے جیل میں ہے“۔
بڑھیا کی کہانی سن کر مجھے تعجب ہوا ۔ میں نے بڑھیا سے پوچھا ”تم مجھ سے کیا چاہتی ہو ؟“
بڑھیا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا” صدر صاحب سے کہہ کر میرے بیٹے کو جیل سے رہائی دلوا دو “۔
،میں نے نفی میں سر کو جنبش دیتے ہوئے کہا۔ یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے“۔
”کیوں ممکن نہیں ہے ؟“ بڑھیا نے پوچھا۔
”کسی ڈبل روٹی چور کی سزا معاف کرنا صدر کے منصب کے شایان شان نہیں ہے“۔ میں نے بڑھیا کو سمجھاتے ہوئے کہا “ ہاں، اگر تمہارے بیٹے نے بنکوں کے قرضے ہڑپ کئے ہوتے،سرکاری خزانے میں خورد برد کا مرتکب ہوتا، قاتلوں اور ڈکیتوں اور جرائم پیشہ لوگوں کی پشت پناہی کا ملزم ہوتا تو میں صدر صاحب سے فوراً رجوع کرتا اور اسے فوراً رہائی دلواتا، ایک معمولی ڈبل روٹی چور کی سفارش میں نہیں کر سکتا“۔
بڑھیا نے ایک مرتبہ پھر چادر سے ناک صاف کی اور میرے دفتر کی چار دیواری سے نکل گئی۔ ابھی میں سنبھل کر بیٹھنے بھی نہ پایا تھا کہ دفتر کا چوکیدار ادھیڑ عمر کے ایک ڈراؤنے شخص کو اندر لے آیا اور کہا ”سر، یہ شخص اندر آنے کے لئے بضد تھا۔
ڈراؤنے شخص نے کہا ” سر، میرا نام کالو خان ہے، میں ہیڈ کانسٹیبل ہوں۔ “
”بڑا ہی مناسب نام رکھا تھا ۔ تمہارے ماں باپ نے“۔ میں نے کہا اور اسی مناسبت سے تم نے ملازمت کے لئے محکمہ کا انتخاب کیا ہے“۔
وہ ڈراؤنا شخص ڈرا ہوا تھا میں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا ۔ میں نے پوچھا ” اب بتاؤ تمہارا پرابلم کیا ہے؟“
”سر، ایس ایچ او کے حکم پر میں ایک عرصے سے انڈے، دودھ، ملائی، مکھن، چکن، گوشت، مچھلی اور سبزیاں افسروں کے گھر پر پہنچاتا تھا“۔ ڈراؤنے ہیڈ کانسٹیبل نے کہا ”دکانداروں نے پریس اور ایک ٹیلی ویژن چینل کے رپورٹروں کی مدد سے میری ویڈیو فلم بنوا کر ٹیلی کاسٹ کروا دی ہے۔
تب سے وہ اعلیٰ افسران جو مفت کے انڈے، دودھ، ملائی، مکھن، مچھلی ، گوشت اور چکن کھانے کے عادی تھے، میری جان کے دشمن بن گئے ہیں، انہوں نے مجھے ملازمت سے ڈس مس کر دیا ہے اور میری گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں اور میں ہوں کہ چھپتا پھررہا ہوں“۔
میں نے ہیڈ کانسٹیبل سے پوچھا ”تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟“
ہیڈ کانسٹیبل نے کہا ”صدر صاحب سے کہہ کر آپ میری سزا معاف کروا دیجئے اور ملازمت پر بحال کروا دیں۔
”ارے بھائی ! صدر صاحب کے منصب کا کچھ تو احترام کرو۔ وہ کیا بھتہ خوروں کی سزائیں معاف کرتے پھریں گے ؟“ میں نے کہا ” ہاں، اگر تم نے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے پولیس مقابلے میں قتل کیا ہوتا تو میں تمہیں صدر صاحب سے معافی دلوا دیتا لیکن تم تو معمولی سے بھتہ خور ہیڈ کانسٹیبل ہو“۔
ڈراؤنا ہیڈ کانسٹیبل بہت مایوس ہوا۔ وہ سر جھکا کر باہر جانے لگا۔ میں نے اس سے کہا ”تم اگر صدر صاحب سے معافی کے خواستگار بننا چاہتے ہو تو پھر بہت بڑا جرم کر کے آؤ، صدر صاحب تمہیں خندہ پیشانی سے معاف کر دینگے“۔

تحریر: امرجلیل
زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 112
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (10-02-11), محمدعدنان (09-02-11), مرزا عامر (09-02-11)
پرانا 09-02-11, 06:33 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,194
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فلم, کراچی, پیارے, پسند, چینل, چور, مفت, ممکن, اللہ, اعلیٰ, بھائی, جھوٹ, جیل, جیسی, جرم, خون, خان, خدا, دعائیں, شخص, عادی, عرصہ, صاف, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کاش میں کبھی سیانی نہ ہوتی۔۔ زارا شاعری اور مصوری 35 11-12-10 11:56 PM
چوٹی زریں کیس sahj خبریں 0 14-10-10 10:28 AM
محبت یہ نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ عائشہ شعر و شاعری 10 17-04-09 02:36 PM
لاہور:دو روپے کی روٹی فراہم نہیں کی جاسکی ابن جلال خبریں 0 13-09-08 08:43 PM
کراچی : ڈبل روٹی کی قیمت میں چار روپے تک اضافہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 17-12-07 08:32 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger