ہمارے حکمرانوں کے آقا عزت مآب جناب اوبامہ صاحب نے آج پہلی باراس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکی جاسوس طیارے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ہمارے حکمرانوں نے واویلا مچانا شروع کردیا ہے کہ یہ حملے غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہیں۔
چلیں جی شکر ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو بھی سمجھ آہی گئی کہ یہ حملے غیر قانونی ہیں۔
لیکن دوسری بات سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ حملے ان کےلئے ناقابلِ قبول کیونکر ہوگئے ؟
کیا امریکی سرکار نے ان کو ڈالرز دینا بند کردئیے ہیں؟
یا پھر یہ اپنا ریٹ بڑھوانا چاہ رہے ہیں؟
یا پھر یہ بےچارے معصوم عوام کا دھیان بٹانے کی خاطر یہ سب ڈرامے بازیاں کررہے ہیں ؟
کچھ دنوں تک کچھ واضح ہوجائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور ہمارے حکمران واقعی اپنے کہے کا پاس بھی رکھتی ہے کہ نہیں یا پھر پہلے کی طرح سے پھر کوئی امریکی وزیر صاحب پاکستان تشریف لائیں گے اور ہمارے حکمرانوں کے ہاتھوں میں لالی پاپ (ڈالرز) پکڑا کر چلے جائیں گے۔ اور پھر ہمارے حکمران اپنی کہی ہوئی بات کو ہی بھول جائیں گے۔
ویسے مجھے تو یہ ایک سازش لگتی ہے کہ کسی طور پہ عوام کا دھیان میمو سکینڈل، لوڈ شیڈنگ اور دوسرے ایشوز کی طرف سے ہٹایا جا سکے

۔
ڈرون حملے غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہیں: پاکستان | فضول آدمی