واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کان اور ناک کاٹنے کا حکم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-12-09, 09:48 PM   #1
کان اور ناک کاٹنے کا حکم
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 23-12-09, 09:48 PM

پاکستان کی ایک عدالت نے شادی سے انکار پر لڑکی کے کان اور ناک کاٹنے والے دو ملزموں کے ناک اور کان کاٹنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد نوید ڈار نے ان دو بھائیوں کے خلاف مقدمے پر سنایا جنہوں نے اپنی ایک رشتہ دار خاتون فضیلت بی بی کے ناک اور کان کاٹ دیے تھے۔ عدالت نے ان دو بھائیوں کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی سنائی ہیں۔

سرکاری وکیل احتشام قادر کا کہنا ہے کہ عدالت نے دونوں ملزموں کو اسلام کے اس اصول کے تحت سزا دی ہے جس کے تحت آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت اور بقول ان کے پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی عدالت نے اس قسم کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر کان اور ناک کاٹنے کے سزا پر عمل درآمد نہ ہوسکے تو اس صورت میں دونوں ملزموں کو دس، دس سال قید کاٹنا ہوگی۔

عدالت نے دونوں ملزموں کوعمر قید کے علاوہ اقدام قتل کےالزام دس سال قید جب کہ تین، تین لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے اور حکم دیا کہ وہ لڑکی کو سات، سات لاکھ معاوضہ ادا کریں۔

عدالت نے یہ حکم دیا کہ ملزموں کو قید کی جو سزا سنائی گئی ہے اس پر ایک ساتھ عمل نہیں ہوگا بلکہ ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا پر عمل کیا جائے گا۔

شیر محمد اور امانت علی پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے اس سال اٹھائیس ستمبر کو بائیس سالہ فیضلیت کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں ایک بھٹہ پر کام کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جارہی تھی۔

سرکاری وکیل کے مطابق شیر محمد اور امانت علی نے اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ ملکر لڑکی کا ناک اور کان کاٹ دیے جس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اس واقعہ کے بارے اخباری خبر پر از خود نوٹس لیا تھا اور متعلقہ ٹرائل عدالت کو اس مقدمے جلد از جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

استغاثہ کے مطابق شیر محمد فیضلت بی بی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی والد کی طرف سے انکار پر ملزموں نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ناک اور کان کاٹ دیے۔ اس مقدمے کے تین ملزم محمد علی، آصف شاہ اور علی تاحال مفرور ہیں۔

سرکاری وکیل احتشام قادر کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ پر ایک ماہ میں کارروائی مکمل کی اور ملزموں کو سزا سنائی ہے۔

بی بی سی اردو
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 241
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), shafresha (24-12-09), نیلم خان (23-12-09), ابو عمار (24-12-09), حیدر (23-12-09), راجہ اکرام (23-12-09), سحر (23-12-09), عبداللہ حیدر (23-12-09), عدنان دانی (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 09:53 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی سلسلے کی ایک اور خبر بھی دیکھیں اور بتائیں آپ کی کیا رائے ہے ؟

’سزا غیر آئینی اور غیر انسانی ہے‘
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستانی عدالت کی طرف سے ایک مقدمے میں
دو افراد کے کان اور ناک کاٹنے کا حکم دینے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں
چیلنج کیا جائے گا تو عدالت اسے کالعدم قرار دے دی گی۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرمین سید اقبال حیدر نے عدالت کی طرف سے
ناک اور کان کاٹنے کی سزا غیر آئینی اور غیر انسانی قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی
اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔انہوں نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ
فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی
ملکی آئین ضمانت دیتا ہے۔


پوری خبر یہاں پڑھیں
بی بی سی اردو
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 10:04 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے تو قران میں یہی پڑھا تھا کہ ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، غلام کے بدلے غلام، جان کے بدلے جان۔ کچھ ایسا بھی پڑھا تھا کہ قصاص میں تمہارے لیے بہتری ہے اگر تم جانو اور سمجھو۔
دوسری بات میں یہ جانتا ہوں وہ یہ کہ ۔۔۔اسلام میں جو سزائیں دی گئی ہیں وہ انسانوں کے لیے ہیں بھی نہیں ۔ وہ تو ہیں ہی ایسوں کے لیے کہ جو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے گر جاتے ہیں۔ چناچہ انسانوں کو تو انسانی سزائیں دی جائیں ، حیوانوں کے لیے حیوانی سزائیں ہی ہونی چاہیں۔

اب اپ خود ہی بتائیں کہ کسی کے ناک ، کان کاٹنے والے انسان ہو سکتے ہیں؟ اور وہ بھی اس صورت میں کہ جس کے اعضا کاٹے جا رہے ہوں وہ ہو بھی انکی رشتہ دار ۔ سید مودودی نے خوبصورت بات کی تھی کہ اسلام کی سزائیں نیک دل لوگوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ تو ان لوگوں کے لیے ہیں جو محض اپنی نفسانی اور شیطانی خواہشات کی پیروکاری کرتے ہوئے اسلامی معاشرے کا امن و سکون تباہ کر دیتے ہیں
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-12-09), ابو عمار (24-12-09), باسط (01-02-10), راجہ اکرام (23-12-09), سحر (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 10:08 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تاہم اس سلسلہ میں "گواہی کا معیار" ایک نہایت اہم نقطہ ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), فیصل ناصر (23-12-09), ابو عمار (24-12-09), راجہ اکرام (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 10:55 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اسی سلسلے کی ایک اور خبر بھی دیکھیں اور بتائیں آپ کی کیا رائے ہے ؟

’سزا غیر آئینی اور غیر انسانی ہے‘
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستانی عدالت کی طرف سے ایک مقدمے میں
دو افراد کے کان اور ناک کاٹنے کا حکم دینے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں
چیلنج کیا جائے گا تو عدالت اسے کالعدم قرار دے دی گی۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرمین سید اقبال حیدر نے عدالت کی طرف سے
ناک اور کان کاٹنے کی سزا غیر آئینی اور غیر انسانی قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی
اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔انہوں نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ
فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی
ملکی آئین ضمانت دیتا ہے۔


پوری خبر یہاں پڑھیں
بی بی سی اردو
انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اس لڑکی سے اب کوئی ہمدردی محسوس نہیں ہورہی ، جو حقوق نسواں کے
پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), فیصل ناصر (23-12-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), ابو عمار (24-12-09), حیدر (23-12-09), راجہ اکرام (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 11:13 PM   #6
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اسی سلسلے کی ایک اور خبر بھی دیکھیں اور بتائیں آپ کی کیا رائے ہے ؟

’سزا غیر آئینی اور غیر انسانی ہے‘
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستانی عدالت کی طرف سے ایک مقدمے میں
دو افراد کے کان اور ناک کاٹنے کا حکم دینے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں
چیلنج کیا جائے گا تو عدالت اسے کالعدم قرار دے دی گی۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرمین سید اقبال حیدر نے عدالت کی طرف سے
ناک اور کان کاٹنے کی سزا غیر آئینی اور غیر انسانی قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے عدلیہ کو ٹھیس لگے گی
اور اس کا وقار مجروح ہوگا۔انہوں نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ
فیصلہ از خود انسانی حقوق کی خلاف وزری کرتا ہے جن کے تحفظ کی
ملکی آئین ضمانت دیتا ہے۔


پوری خبر یہاں پڑھیں
بی بی سی اردو
سزا یہی ہونی چاہیں۔۔۔۔۔ اور یہی ہمارے دین اسلام کا اصول ہے
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), فیصل ناصر (23-12-09), ابو عمار (24-12-09), باسط (01-02-10), حیدر (23-12-09), سحر (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 11:15 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
سرکاری وکیل احتشام قادر کا کہنا ہے کہ عدالت نے دونوں ملزموں کو اسلام کے اس اصول کے تحت سزا دی ہے جس کے تحت آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت اور بقول ان کے پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی عدالت نے اس قسم کی سزا سنائی گئی ہے۔
انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے یہ اچھل کود غیر متوقع نہیں ہے، یہی اچھل کود ان کا ذریعہ معاش ہے۔
اور اس تکلیف کا باعث صرف اور صرف یہ بیان ہے جو اوپر نقل کیا گیا ہے۔ اسلام یا قرآن کے نام سے کیا جانے والا کوئی بھی کام، کتنا ہی مبنی بر انصاف کیوں نہ ہو، انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے باعث تکلیف ہوتا ہے۔

بہر حال یہ انتہائی خوش آئند فیصلہ ہے، اللہ کرے اسلامی نظام نافذ ہوتاکہ اس طرح کے شر پسند عناصر کی روک تھام ہو سکے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), فیصل ناصر (23-12-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), ابو عمار (24-12-09), باسط (01-02-10), حیدر (23-12-09), سحر (23-12-09)
پرانا 23-12-09, 11:49 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اس لڑکی سے اب کوئی ہمدردی محسوس نہیں ہورہی ، جو حقوق نسواں کے
پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔
پس ثابت ہوا کے انسانی حقوق کی آڑ میں عورتوں کی آزادی کی آواز لگانے والی ان این جی اوز کے اصل مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), باسط (01-02-10), راجہ اکرام (24-12-09)
پرانا 24-12-09, 12:55 AM   #9
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
پس ثابت ہوا کے انسانی حقوق کی آڑ میں عورتوں کی آزادی کی آواز لگانے والی ان این جی اوز کے اصل مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں
بھئی یت پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یا منہ میں رام رام بغل میں چھری
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), فیصل ناصر (24-12-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), راجہ اکرام (24-12-09)
پرانا 24-12-09, 12:29 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بنیادی انسانی حقوق بظاہر ایک بہت ہی خوبصورت اور دل کو لبھانے والا نعرہ ہے لیکن میں نے اس کی تاریخ اور اس موجودہ تحریک کا جہاں تک مطالعہ کیا ہے اس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ مذہب کے مقابل ایک تحریک ہے۔
بنیادی طور پر سیکولر سامراجیت کا یہ بہترین ہتھیار ہے جسے شخصی آزادی کے بہترین لبادے میں استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ مقاصد حاصل کئے جا رہے ہیں جو بصورت دیگر ممکن نہ تھے۔

بطور خاص مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کو دنیا میں رواج دینے کے لئے اس سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں ہے۔ اور یہ اتنا منہ زور نظریہ بنتا جا رہا ہے کہ اس سے متصادم کسی بھی دین کی ابتدائی تعلیمات کو بھی چیلنج کر دیا جاتا ہے۔ بطور خاص دین اسلام کی شرعی سزاؤں کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف قرار دے کر انہیں وحشی اور غیر انسانی قرار دیا جاتا ہے۔

مذکورہ فیصلے کے خلاف پاکستان کے نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے انسانی حقوق کا راگ الاپنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

مزید تفصیلات پھر کسی وقت
تب تک کے لئے اللہ نگہبان
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), فیصل ناصر (25-12-09), نجم السحر (24-12-09), باسط (01-02-10)
پرانا 24-12-09, 12:37 PM   #11
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 9
کمائي: 391
شکریہ: 1
8 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام کی سزائیں تو انسانی معاشرے پر ایک احسان عظیم ہیں۔پرامن، شریف اور نیک لوگوں پر احسان اس لیے کہ ان کو ہر قسم کے ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اور مجرم ذہن کے لوگوں کے لیے اس وجہ سے احسان ہیں کہ ان کو جرم اور برائی کے راستے سے بچاتی ہیں۔
نجم السحر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نجم السحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), راجہ اکرام (24-12-09)
پرانا 24-12-09, 12:51 PM   #12
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,222
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Very Good..................
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), راجہ اکرام (24-12-09)
پرانا 24-12-09, 01:20 PM   #13
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,085
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جب تک ایسی کڑی سزائیں مجرموں کو نہیں ملیں گیں اس وقت تک لوگ بلا خوف و خطر ایسی حیوانی حرکات کرتے رہیں گے۔
ابو عمار آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-12-09), shafresha (24-12-09), فیصل ناصر (25-12-09), راجہ اکرام (24-12-09)
جواب

Tags
pakistan, کورٹ, گھر, گئی, پہلی, پاکستان, وقت, قید, لڑکی, مکمل, مطابق, اردو, اسلام, جلد, جائے, حکم, خود, خلاف, خبر, خصوصی, سال, شادی, علی, علاقے, عدالت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger