|
کتنے پاکستان—ایک مطالعہ

11-09-07, 12:38 PM
مصنف : کملیشور پرساد سکسینہانسانی معاشرے کا ایک بھیانک المیہ فرقہ واریت اور علاحدگی پسندی کا زہر ہے۔ یہ زہر آغاز ہی سے معاشرے کی رگوں میں گردش کر رہا ہے۔ انسانی معاشرہ جیسے جیسے وسعت اختیار کرتا گیا یہ زہر بھی پھیلتا چلا گیا۔ کبھی رنگ و نسل کی برتری کے نام پر، کبھی تہذیبی و لسانی شناخت کے نام پر، کبھی تاریخی و جغرافیائی امتیاز کے نام پر اور کبھی مذہبی و سیاسی اقتدار کے حصول کی ہوس میں، انسانی یک جہتی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی چلی آئی ہے۔ حکومت و سہولت کے لالچ میں انسانوں نے پہلے خود کو فرقوں میں بانٹا اور پھر فرقوں کو برادریوں اور کنبوں میں بانٹ کر آج پشیمان و پریشاں ہے۔ منتشر معاشرے کے اس کرب سے ہی جذبہ ¿ اتحاد و اخوت نے جنم لیا ہے۔ یہ جذبہ مجسم ہو کر جب سرگرم ہوتا ہے اور ہاتھ میں قلم لے کر للکارتا ہے تو کملیشور جیسے لوگوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔انسان ازل سے ہی جینے کی تمنا میں بے قرار ہے۔ زندگی کی یہی تلاش و جستجو اسے مسلسل جدوجہد پر آمادہ کر رہی ہے اور جب تک یہ تلاش ختم نہیں ہوتی وہ نِت نئے مرحلوں اور منزلوں سے گزرتا رہے گا۔ زندگی کے لیے یہی بے قراری، یہی تڑپ انسان کو تاریک غاروں سے نکال کر روشن آسمانوں میں لے آئی ہے۔ ایک اضطراب ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بے قراری کا عالم یہ ہے کہ ہر آنے والا المیہ ایک ایٹمی دھماکے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس دھماکے کی دھول میں کھڑے انسان کی تلاش زندگی میں پہلے سے زیادہ شدید ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی بے قراری بھی بے حد شدت اختیار کر چکی ہے۔ یہ انسانی اضطراب اور حرارت جو ایک تحریک کی صورت ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے، کملیشور جیسی شخصیتوں کی مرہون منت تسلیم کرلی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایسی شخصیت و شال اور وسیع سمندر کی مانند ہوتی ہے جسے چند جملوں یا ایک چھوٹے سے مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ لہٰذا میں نے اپنی سہولت کے لیے کملیشور کے حالیہ ناول ”کتنے پاکستان“ (اردو ترجمہ۔ ڈاکٹر خورشید عالم) کا انتخاب کیا ہے۔
ک”˜تنے پاکستان“ کے بارے میں پہلاسوال یہی اٹھتا ہے کہ آخر یہ پاکستان ہے کیا چیز؟ وہ پاکستان جس نے وجود میں آتے ہی 20لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی، لاکھوں عورتوں کی آبرو ریزی کا سبب بنا، لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ کر ادھر سے ادھر کر دیا اور جو نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی اس برصغیر کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں کشیدگی، بے چینی، بے اعتمادی اور انتشار کا سبب بنا ہوا ہے، یہ آخر آیا کہاں سے اور کن بنیادوں پر قائم ہے؟ درحقیقت کملیشور کے ناول کا پاکستان وہ نہیں جس کی راجدھانی اسلام آباد ہے یا جس کا ایک شہر کراچی ہے، جہاں سابق نائب وزیر اعظم ہند جناب لال کرشن آڈوانی کا جنم ہوا یا جس کی کرکٹ ٹیم بھارت کی کرکٹ ٹیم سے کبھیہار جاتی ہے تو کبھی جیت جاتی ہے یا 1971 میں جس سے الگ ہوکر بنگلہ دیش وجود میں آیا، یا جس کی ریاست سندھ میں ہندوستان سے گئے لاکھوں مسلمان آج بھی مہاجر کی زندگی جی رہے ہیں۔
کملیشور کی نگاہ پوری تاریخ انسانی پر ہے۔ ان کی نگاہ میں پاکستان اس جذبے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی دھرتی کو ٹکڑوں میں بانٹتا ہے، اس فکر کا نام ہے جو انسانوں میں انتشار کا سبب بنتی ہے، اس نفرت کا نام ہے جو علاحدگی پسندی کو ہوا دیتی ہے، اس مفاد کا نام ہے جو مذاہب انسانی کے درمیان فسادات کو جنم دیتا ہے اور اس تحریک کا نام ہے جو اقتدار کی ہوس میں امن و سکون کا دشمن بن جاتی ہے۔ یہ پاکستان دنیا کے کسی بھی ملک میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی اس پاکستان کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ خود پاکستان میں بھی یہ پاکستان سر اٹھائے پھر رہا ہے—”ہندوستان بنگالیوں کو ان کا پاکستان بنانے میں مدد کر رہا ہے۔ بھئی یہ خود پاکستان، اس میں کتنے پاکستان پیدا ہوںگے۔ پنجاب کے سرائیکی نیا صوبہ مانگ رہے ہیں، پرانے سندھی اپنا سندھ دیش بنانا چاہتے ہیں، پختون اپنا پختونستان چاہتے ہیں۔ عطاءاللہ مینگل آزاد بلوچستان مانگ رہا ہے اور اپنے مہاجر بھائی کراچی میں اپنا ایک اور پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ سنا ہے وہاں ہندوستان کے ہندو بھی ہندوستانیوں سے اپنا ہندوتو وادی پاکستان مانگ رہے ہیں، لنکا میں تمل اپنی لنکا الگ کرنا چاہتے ہیں۔
کملیشور کی نگاہ میں پاکستان لفظ علاحدگی پسندی کی علامت ہے۔ جب سے انسانی تاریخ میں نفرت نے جنم لیا ہے تبھی سے علاحدگی پسندی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ تو پتہ نہیں کہ اس نفرت نے پہلا پاکستان کب بنایا لیکن گذشتہ پانچ ہزار برس کی انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اس نفرت نے دھرتی کو بار بار ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے۔ سیکڑوں پاکستان وجود میں آچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ انسانیت سوز نفرت نے ایک ایسی بھیانک کشمکش کو جنم دیا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ یہ نفرت کبھی مذہب ونسل کے نام پر تو کبھی علاقائیت کے نام پر کشمکش پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 1947 میں یہ نفرت انتہا پر تھی۔ تقسیم ہند کے دوران انسانیت کی تباہی اور وحشت کے ننگے ناچ کا ذکر سن کر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے لیکن صورت حال دیکھ کر لگتا ہے کہ انتہا پسندی ہنوز باقی ہے۔ ناول نگار کی فکر یہی ہے کہ یہ سلسلہ اب کہیں پر تو جاکر رکے۔
حصول اقتدار اور نجی مفادات کی خاطر انسانیت کا قتل کرنے میں جہاں ذرا بھی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کی گئی، اس طرح کے واقعات ناول میں تسلسل کے ساتھ موجود ہیں۔ ناول میں عہد مغلیہ کا ایک منظرنامہ ملاحظہ کریںجو عبرت ناک ہے— ”جلوس جب گزر رہا تھا تب دلی کے عوام کا غصہ آنکھوں کے کڑھاﺅں میں ابل رہا تھا اور ان کی غمزدہ سانسوں کو جھلسانے والی آندھیوں نے راجدھانی کے پورے علاقے کو اپنی زد میں لے لیا تھا.... جب عوام کی دارا شکوہ سے محبت کی اس آندھی نے اورنگ زیب کو گھیرا اور خاموش تردید کے اس طوفان کی خبر ملی تو وہ اندر ہی اندر کانپ اٹھا تھا.... یہ بیان کلجگ کا تھا.... اورنگ زیب کو لگا کہ عوام بغاوت کر سکتے ہیں اور داراشکوہ کی زندگی اور آزادی کے لیے جان بھی دے سکتے ہیں، تو وہ فکرمند ہو گیا.... اسے لگ رہا تھا جیسے اپنے اعمال کے ملبے میں دب گیا ہو۔
—ی’یا اللہ‘ چیختے ہوئے اورنگ زیب اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کمرے کی دیوار سے ٹکرایا تو روشن آرا نے آکر اسے سنبھالا— ’اے میرے خوش بخت بھائی! یہ وقت کشمکش اور وہم کا نہیں، یہ وقت فیصلہ کن چوٹ کا ہے۔ تمھیں تاریخ نے یہ موقع دیا ہے جو دنیا میں اس وقت کسی کو حاصل نہیں۔ اس لیے اپنی روح کے رستے اس پسینے کو پونچھو اور داراشکوہ پر فیصلہ کن وار کرو۔
—’آپا‘ اورنگ زیب نے کراہتے ہوئے کہا— ’آپا!ٍ میں کیا کروں.... بھائی جان داراشکوہ کو کوئی بھی سزا دیتے میری روح کانپتی ہے۔ ہندوستان کے سارے عوام اسے چاہتے ہیں۔ آج کے موجودہ ماحول کی جو اندرونی خبریں مجھے ملی ہیں وہ ہولناک ہیں اور ہندوستان.... خاص طور سے دلی کے عوام کبھی بھی میرے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔
—’تو پھر اس بغاوت کو دبانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔‘ روشن آرا نے کہا۔
—’کیا؟‘
—’یہی کہ ہندوستانی عوام کی مذہب پرستی اور مذہب کے لیے ان کی بنیادی کمزوری کا تم اس نازک موقع پر فائدہ اٹھاﺅ۔‘ روشن آرا نے اسے مشورہ دیا۔
—’کیسے....کیسے؟‘ اورنگ زیب نے اپنی مدھم اور لگ بھگ خاموش آواز میں پوچھا۔
—’وہ ایسے کہ داراشکوہ کے خلاف کافر اور غیر موحد ہونے کا الزام لگا کر علما سے اسے سزائے موت کا فتویٰ جاری کرا دو۔‘ روشن آرا نے مشورہ دیا۔
—’لیکن ایسا فتویٰ جاری کرانا کیسے ممکن ہوگا؟‘ اورنگ زیب نے جاننا چاہا۔
—’میں ان ملّا، مولویوں اور علما کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ یہ عرب اور ایران نہیں ہے۔ یہ ہندوستان ہے اور یہاں شاہی حکومت کے سامنے انھوں نے ہمیشہ دم ہلائی ہے۔‘ روشن آرا نے کہا ’تم ابھی ان کی میٹنگ بلاﺅ اور اپنا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے دارا کی زندگی کے بارے میں بہت ہی شائستگی سے فیصلے کا حق انھیں سونپ دو اور تم دیکھنا کہ ان کا فیصلہ وہی ہوگا جو تمھارا اور میرا فیصلہ ہے۔‘
اس قدر خوب صورتی سے مذہب کا استحصال انسانی تاریخ میں کئی مقامات پر ہوا ہے۔ یہ ناول دراصل ایک عدالت ہے اور منصف کی کرسی پر ایک ادیب براجمان ہے۔ تاریخ کے اہم ترین کردار اس عدالت میں حاضر ہو کر اپنا اپنا بیان درج کراتے ہیں، تمام تاریخی، تہذیبی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی واقعات اس عدالت میں اپنے اپنے تصادم اور ٹکراﺅ کی داستان بیان کرتے ہیں۔ ادیب یعنی منصف ان کردار و واقعات سے صرف جرح کرتا ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں سناتا۔ فیصلہ تو اب اس عدالت کی داستان پڑھنے اور سننے والوں کو کرنا ہوگا۔ فیصلہ انھیں کرنا ہے جو آج بھی واقعات اور حقیقی مسائل سے دوچار ہیں۔ کملیشور نے نہایت جرا ¿ت مندی کے ساتھ عالم انسانیت کو اس کا زخم زدہ چہرہ دکھا دیا ہے۔ اس چہرے کے زخم بھر بھی جائیں تو بھی داغ چھپائے نہیں جا سکتے۔ لہٰذا نیا چہرہ بنانا ضروری ہو گیا ہے۔ انسانیت کا ایسا نیا چہرہ جس کی آنکھوں میں نفرت و تعصب کا تنکا نہ ہو جس کے ہونٹوں پر قومیں اور مذاہب نغمہ خواں اور تہذیبیں مسکراتی ہوں۔ کملیشور وسدھیو کٹکم یعنی ”ساری دھرتی ایک خاندان“ کے ہندوستانی نعرے کو حقیقت میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھنے کے آرزو مند ہےں۔ یہ آرزو صرف کملیشور کی ہی نہیں دنیا کے بے شمار درد مند انسانوں کی بھی ہے۔ کملیشور نے ان سب کو زبان دی ہے۔ ان کے ناول کی کردار سلمیٰ کراچی میں بیٹھ کر ببانگ دہل کہتی ہے۔— ”جناح صاحب نے تاریخ نہیں بنائی تھی۔ تاریخ نے جناح صاحب کو بنایا تھا۔ اپنی تاریخ سے سبق لیجیے۔ اس کی دیگ کو مذہب کے چولھے پر مت چڑھائیے۔ نہیں تو پھر وہی حال ہوگا جو تقسیم کے وقت ہندوستان کا ہوا تھا اور آج پاکستان کاہو رہا ہے۔“ممتاز دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ”کتنے پاکستان“ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ”وقت کے اس اندھیرے سے کملیشور نے اس سچ کو ہمارے حوالے کر دیا ہے کہ ہم چاہیں تو اس سچ کی روشنی میں اپنے مستقبل کا منظرنامہ ترتیب دے سکتے ہیں۔“ پروفیسر موصوف آگے لکھتے ہیں— ”معلوم نہیں کملیشور نے کتنے برس انسانیت کے اس اتھاہ درد کو اپنے اندر بھگتا ہوگا۔ نیل کنٹھ کی طرح اس کا زہر پیا ہوگا اور پھر اسے تخلیق کے امرت میں بدلا ہوگا۔ کملیشور اس تخلیقی پل صراط سے نہایت کا میابی اور ادبی حسن کاری سے گزرے ہیں، جس کے لیے بڑی ریاضت، بڑی پامردی، بڑی تپسیا، بڑے تیاگ اور حد درجہ محنت و ہمت اور حوصلے کی ضرورت تھی۔ یہ اتنا بڑا کام ہے اور اتنے بڑے کینوس پر کیا گیا ہے کہ یگوں یگوں زندہ رہے گا اور اس کی داد زمانہ دے گا۔
انسانی ارتقا کے ابتدائی عہد سے اس افسانہ نما حقیقی داستان ”کتنے پاکستان“ کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ داستان تاریخی واقعات و واردات کے تسلسل کی پابند نہیں ہے۔ محض وقت کی عدالت معلوم ہوتی ہے۔ کبھی کوئی واقعہ، کردار یا تصادم خود اپنا کرب لے کر اس عدالت میں حاضر ہوتا ہے تو کبھی کسی واردات یا شخص کو طلب کرلیا جاتا ہے۔ ظلم و جبر، بھوک اور وحشت، تشدد و تکلیف، تمدن و تہذیب، مذہب و عقیدت، حکمت و سیاست، قتل و غارت گری، تاریکی و تنہائی اور ذہنی و جسمانی کشمکش کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی خواہش کا بوجھ اٹھائے انسانی کارواں آگے بڑھ رہا ہے۔ لہولہان حقائق کبھی سردھنتے ہیں تو کبھی چیختے چلاتے اور روتے ہیں۔ ادیب کی آنکھوں کے سامنے سچائی کا ایک سمندر موجزن ہے۔ کیا ان سچائیوں کے باطن سے وہ سورج نکل سکتا ہے جو انسانیت سوز تاریک حال کو روشن کرکے مستقبل کو پرامن اور خوشحال بنا دے۔ انسان کو چین، عرب، امریکہ،پاکستان یا ہندوستان کا باشندہ نہیں بلکہ اس دھرتی کا باشندہ بنا دے۔ اس کی شناخت رنگ و نسل، مذہب و علاقہ تہذیب و زبان سے نہیں بلکہ انسانی اعمال و اقدار سے ہو۔
وقت کی اس عدالت میں عابد و معبود، جابر و مجبور، استاد و شاگرد، شاہ و گدا، خاص و عام سبھی ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ حاکم انگریز اور غلام ہندوستانی سمیت گاندھی اور جناح دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔عدالت صرف بیان ہی نہیں سنتی جرح ہی نہیں کرتی بلکہ واردات و حقائق پر قہقہہ زن بھی ہوتی ہے۔
اس عدالت میں زندہ افراد کی ہی نہیں مردہ لوگوں کی بھی زبردست بھیڑ ہے۔ ان مردوں میں ترشول دھاری بھی ہیں۔ ایک ترشول دھاری چیختا ہے— ”ہماری غلامی کی تاریخ بابر سے شروع ہوتی ہے۔“
”—نہیں ہماری غلامی کی تاریخ انگریزوں کے آجانے سے شروع ہوتی ہے۔“ بھاگلپور کا ایک بڈھا چلایا۔ ”انگریزوں نے ہماری سلطنت بہادر شاہ ظفر سے چھینی تھی۔ وہ جب گئے تو ہماری سلطنت ہمیں سونپ کر جانا چاہیے تھا۔ بابر تو غازی تھا۔
”—بابر درندہ تھا۔ اس نے آتے ہی اجودھیا میں ہمارا رام جنم بھومی مندر توڑا تھا اور وہاں بابری مسجد بنائی تھی۔ پاکستان بننا تو اسی دن سے شروع ہو گیا تھا۔“ ترشول دھاری بھڑکا۔
”—یہ غلط ہے۔“ میرٹھ کا ایک ادھیڑ چیخا۔
”—یہ صحیح ہے۔“ ترشول دھاری اور بھڑکا۔
عدالت میں عجیب سا ہنگامہ برپا ہوگیا۔ مردوں کی آنکھیں دہشت سے بھرگئیں۔ وہ بدن پر جمے خون کے تھکے اکھاڑنے لگے۔ اکھاڑنے کے ساتھ ساتھ تازہ خون بھی رِسنے لگا۔
”—یہ تازہ خون کہاں سے آیا؟ تمھارا تو خون ہو چکا ہے۔“
”—یہ بابر کی رگوں سے آیا ہے۔“ ترشول بہت جوش میں تھا۔ اس کے جوش سے اوروں کے چہرے کالے پڑتے جا رہے تھے۔
”—سرکار! جب تک بابر کا نام لیا جاتا رہے گا۔ صدیوں کا خون رِستا رہے گا۔“ اردلی نے ادیب سے کہا۔
—ادیب سوچتا رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہ منصف کی کرسی پر تو بیٹھا تھا لیکن یہ نشست وکرمادتیہ کی تو تھی نہیں کہ کوئی پتلی نکل کر اسے کوئی راستہ بتا سکتی۔ راستے کی تلاش تو اسے خود کرنی تھی اور اپنے وقت میں کرنی تھی۔ وقت کو وہ پھیلا سکتا تھا۔ وقت کو وہ سمیٹ سکتا تھا۔ آخر اپنے دماغ پر زور ڈال کر اس نے حکم دیا۔
”—بابر کو عدالت میں حاضر کیا جائے۔“
”تاریخیں، تہذیبیں، افراد، مقامات اور وقت عدالت میں حاضری دیتے ہیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں اس کا اصل چہرہ ہوتا ہے۔ ہر چہرہ خون میں لتھڑا، گرد آلودہ بے چین، غم زدہ اور اپنی اصلیت اجاگر کرنے کے لیے بے قرار۔ خون اور خاک کی موٹی موٹی تہوں کے نیچے سے چیختے چلاتے ان چہروں کی بے قراری دراصل کملیشور اور ان جیسے دردمند انسانوں کی بے قراری ہے جو خود تاریخوں اور تہذیبوں کا قصّہ ¿ پارینہ بن جانے سے قبل اس دنیا کا صاف ستھرااور نیا چہرہ دیکھ لینا چاہتے ہیں تاکہ پھر کسی شبلی نعمانی کو وقت کی عدالت کی یہ جھڑکی نہ سننی پڑے— دوستو! مجھے لگتا ہے کہ بابر اور ہمایوں کی پشیمانی اور رنج کی مجسم شکل— اکبر اور جہانگیر و شاہجہاں کی پشیمانی کا نتیجہ تھا— دارا شکوہ! لیکن مشکل یہ ہے کہ ملوکیت کی کوئی مذہبی تنظیم، کوئی مذہبی تحریک کسی رنج و پشیمانی کو قبول نہیں کرتی کیونکہ دھرم یا مذہب زندگی کی سچائیوں سے ہمیشہ صدیوں پچھڑا رہتا ہے اور یہی سب کچھ بے بنیاد پاکستانوں کی بنیاد بنتا ہے.... حضرت شبلی نعمانی جیسے لوگ ہی ان غیر فطری پاکستانوں کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ مصر، تیونس، ترکی، صومالیہ، الجیریا، لبنان اور عراق میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں تو مسلمان ہی مسلمان سے لڑ رہا ہے۔ تو شبلی نعمانی صاحب! یہ لڑائی دھرم کی نہیں، دھرم اور مذہبی کٹّرپن کی ہے۔ اسلام جیسا مذہب ہی خود اپنے مذہبی کٹّرپن سے لڑرہا ہے اور شاید دنیا کے ہر مذہب کو اپنے کٹّرپن سے لڑنا اور اسے جیتنا پڑے گا۔ آپ اپنے مذہبی کٹّرپن کے دلائل سے پاکستان میں سے اور پاکستان بنائیں گے، لیکن مذہبی دنیا اپنے مذہبی عقائد کو زندہ رکھتے ہوئے ایک انسانی مذہب کے آئین کا تصور کرے گی۔ یہ کسی ایک مذہب کی دنیا نہیں ہوگی۔ یہ کثیر مذہبی لوگوں کی ایک مذہبی دنیا ہوگی۔ اپنے اپنے مذہب کے کٹّرپن سے لڑتے رہنے والے مذہب پرست لوگوں کی دنیا۔
ک”˜تنے پاکستان“ کا مطالعہ اصل میں ہزاروں سالہ انسانی تاریخ کے تمام نشیب و فراز سے پورے شعور و ہوش کے ساتھ گزر جانے کے مترادف ہے۔ انسانیت کے دکھ کی یہ داستان اس نئے اور اچھوتے انداز سے پیش کی گئی ہے کہ پڑھنے والے کے لیے بھی ایک نیا اور اچھوتا تجربہ لگتا ہے۔ مہاتما بدھ اور مرزا غالب بھلے ہی اس دکھ کا علاج دنیا سے فرار یا موت بتائیں لیکن حقیقت پسندی اور سائنس کے اس دور میں اس بھیانک دکھ کا علاج زندگی ہی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا زندگی کی تلاش بے حد ضروری ہے۔ کملیشور نے دنیا کے تمام فکر مند انسانوں کو ’کتنے پاکستان‘ دے کر زندگی کی تلاش کی مہم کا شاندار آغاز کیا ہے۔ ایسا آغاز جو خواب و خیال پر نہیں بلکہ سچائی اور صداقت پر مبنی ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|