واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کثیر الازدواجیت کے فروغ کا کلب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-12-09, 04:45 PM   #1
کثیر الازدواجیت کے فروغ کا کلب
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 24-12-09, 04:45 PM

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے ایک مضافاتی علاقے میں پر سکون ماحول میں ایک بڑے ہال میں مرد جب عبادت کر رہے ہوتے ہیں تو ان کی پچھلی قطار میں خواتین سر جھکائے بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔

یہ مسلم اکثریتی ملک انڈویشیا میں کسی بھی جگہ عبادت کا وقت ہوگا لیکن یہ مناظر جکارتہ میں پھیلتے ہوئے نئے کلب ’گلوبل اخوان‘ یا کثیر الازدواجیت (ایک سے زائد شادیاں) کا کلب کے ہے۔

یہ کلب جکارتہ سے کچھ گھنٹوں کی مسافت پر قائم ہے اور اسے رواں سال ہی کھولا گیا ہے لیکن اس کا بنیادی تعلق ملائیشیا سے ہے۔

کلب کے مطابق اس کے امریکہ اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں ایک ہزار ممبران ہیں۔ انڈونشیا کے قانون کے مطابق مرد ایک سے زائد شادیاں کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے سخت شرائط مقرر کی گئی ہیں جس کی وجہ سے یہاں کثیر الازواج کا رجحان دوسرے مسلمان ممالک کے برعکس بہت کم ہے ۔

کلب کے مطابق اس کے امریکہ اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں ایک ہزار ممبران ہیں۔ انڈونشیا کے قانون کے مطابق مرد ایک سے زائد شادیاں کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے سخت شرائط مقرر کی گئی ہیں جس کی وجہ سے یہاں کثیر الازدواجیت کا رجحان دوسرے مسلمان ممالک کے برعکس بہت کم ہے۔

اس رجحان کوتبدیل کیا جا سکتا ہے کہ اگر متنازع کثیر الازدواجیت کلب کامیاب ہوتا ہے۔ کلب کو آغاز ہی سے ہی تنقید کا سامنا ہے۔ کلب کے بڑے ہال میں پر سکون ماحول میں صرف چھوٹے بچوں کی ہی آوازیں آتی ہیں جو ہال کے باہر برآمدوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان چھوٹے بچوں کو اسلامی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تاکہ وہ بچپن سے ہی ایک پرہیز گار مسلمان بن جائیں۔

اس کے علاوہ کلب میں ایک چھوٹی سی دکان بھی ہے جہاں حلال کھانا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک پروڈکشن ہاؤس بھی ہے جہاں اسلام کے بارے میں فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن کلب کا بینادی مقصد کثیر الازدواجییت کو فروغ دینا اور اس کے ساتھ ایسے لوگوں کی مدد کرنا ہے جو اپنی پسند کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

کلب کے ایک کمرے میں کلب کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گینا پوسپیٹا خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئیں تھیں جہاں وہ جوان لڑکیوں کو رقابت اور عدم تحفظ سے نمٹنے کے بارے میں سنجھا رہی تھیں۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ وقت ان کے لیے کافی مشکل تھا جو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر تھی۔ ’ شروع میں میرے لیے بہت مشکل تھا لیکن میں جانتی تھی کہ یہ ان کے جذبات، خواہش کی وجہ سے ہے۔ لیکن کثیر الازواجی ایک ایسا راستہ ہے جس کی وجہ سے آپ دنیا میں پیار اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ وقت ان کے لیے کافی مشکل تھا جب ان کے شوہر نے دوسری شادی کی تھی۔ ’شروع میں میرے لیے بہت مشکل تھا لیکن میں جانتی تھی کہ یہ ان کے جذبات اور خواہش کی وجہ سے ہے۔ لیکن کثیر الازدواجی ایک ایسا راستہ ہے جس کی وجہ سے آپ دنیا میں پیار اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں‘۔

کثرت الازدواجی میں عورتوں کے لیے بہت سارے فوائد ہیں، اس سے ہم جانتے ہیں کہ اپنی حسد اور خواہشات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ ہمیں خدا کے نزدیک لے جاتا ہے۔

لیکن ڈاکٹر پوسپیٹا کے کثیر الازدواجی کے تصور کی انڈونشیا میں متعدد گروہوں نے مخالفت کی ہے۔ ملک میں ایک سے زائد شادی کرنے پر سخت شرائط عائد ہیں۔ انڈونیشیا میں شادی کے قانون کا بنیادی اصول یک زوجگی یا ایک شادی ہے لیکن کثیر الازدواجی بھی قابل برداشت ہے تاہم اس کو سختی سے کنڑول کیا جاتا ہے۔

ایک سے زائد بیویاں رکھنے کے لیے بہت سارے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے پہلی بیوی کی اجازت، دوسرا اگر بیوی سے اجازت نہیں ملتی تو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ اولاد پیدا نہیں کر سکتی، شدید بیمار ہے یا گھریلو ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے اور اس کے بعد آپ کو کسی عالم سے اجازت درکار ہوتی ہے۔

سرکاری طور پر ایک سے زائد شادیوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہیں کیونکہ یہاں شادیوں کا اندراج نہیں کیا جاتا ہے۔ خواتین کے گروپس کا کہنا ہے کہ مختلف تنظیمیں جیسے کثیر الازدواجی کلب کی وجہ سے مردوں میں ایک سے زائد بیویاں رکھنے کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔

سماجی کارکن نورسیحابانی جو کثیر الازواجی کلب کے قیام پر ناراض ہیں نے مقدس کتاب قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے اس دعوے کو رد کیا کہ اسلام میں کثیر الازواجی کی اجازت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی کتابوں میں جب پیغمبر اسلام کثیر الازواجی کی طرف گئے تو اس وقت جنگ کا زمانہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطب یہ نہیں تھا کہ مردوں کو حکم دیا گیا ہو کہ وہ ایک زائد( چار) بیوری رکھ سکتے ہیں۔

سماجی کارکن نورسیحابانی جو کثیر الازواجی کلب کے قیام پر ناراض ہیں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے اس دعوے کو رد کیا کہ اسلام میں کثیر الازدواجی کی اجازت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی کتابوں میں جب پیغمبر اسلام کثیر الازدواجی کی طرف گئے تو اس وقت جنگ کا زمانہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطب یہ نہیں تھا کہ مردوں کو حکم دیا گیا ہو کہ وہ ایک زائد (چار) بیویاں رکھ سکتے ہیں۔

لیکن ڈاکٹر گینا پوپیٹا اور ان کے خاندان کی تشریح مختلف ہے۔ کلب کی پچھلی جانب ان کے گھر میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ وہ کھانا تیار کر رہی تھیں جب کہ سلوا تیسری بیوی سبزی کاٹ رہی تھی۔ یہ ایک روایتی تصویر ہے جس کا عام فیملی میں تصور نہیں ہے۔

ڈاکٹر کے شوہر رضدام کے مطابق ’کثیر الازدواجی یک زوجگی سے بہتر ہے‘ اس میں مردوں کے لیے بہت سارے فوائد ہیں، جیسا کہ لیڈر شپ، شادی کے بعد ایک بیوی کو سنبھالنا مشکل ہے لیکن چار کو اس سے زیادہ مشکل ہے اور یہ سیکھنے کے لیے بہت اچھا ہے۔ ‘

انڈونیشیا میں خواتین کی تنظیموں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کثیر الازدواجی کلب کو بند کیا جائے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وہ کلب کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن اسے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔


بی بی سی
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1065
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حسن قادری (10-11-11), رضی (10-11-11), طارق راحیل (10-11-11)
پرانا 24-12-09, 04:49 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لیکن کثیر الازدواجی ایک ایسا راستہ ہے جس کی وجہ سے آپ دنیا میں پیار اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں‘۔

کثرت الازدواجی میں عورتوں کے لیے بہت سارے فوائد ہیں، اس سے ہم جانتے ہیں کہ اپنی حسد اور خواہشات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ ہمیں خدا کے نزدیک لے جاتا ہے۔
بہترین سوچ ہے ڈاکٹر صاحبہ کہ
ماشاء اللہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (10-11-11)
پرانا 02-01-10, 12:21 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستانی لوگوں کی اس میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آئی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حسن قادری (10-11-11)
پرانا 02-01-10, 12:31 AM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں مرد کی ایک سے ذیادہ شادی کا تو ذکر ہے ۔ اس کی اجازت ہے اسلام میں اس بات پر تو بحث ہی نہیں کرنی چاہیے ۔
لیکن جو اصل معاملہ ہے اس سے مرد حضرات بھی چشم پوشی کرتے ہیں اور وہ ہے عدل کرنا ۔
اور ایسا عدل کرنا جیسا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ایسا عدل کرنا ہر مرد کے بس کی بات نہیں ۔
کثیر الزواج کے معاملے میں خواتین کو سمجھانے سے ذیادہ مردوں کو اس عدل کی تربیت دینی چاہیے ،
اور جو مرد یہ سمجھے کہ وہ عدل قائم نہیں کرسکتا تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک ہی بیوی رکھے ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
بلال الراعی (10-11-11), رضی (10-11-11)
پرانا 02-01-10, 12:35 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کثیر الزواج کے معاملے میں خواتین کو سمجھانے سے ذیادہ مردوں کو اس عدل کی تربیت دینی چاہیے ،
یہ کیا بات ہوئی؟
سمجھانا دونوں کو چاہیئے
یہ نا ہو کہ مرد عدل کرنے پر راضی ہو تو بیوی کا منہ بن جائے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 01:28 AM   #6
J.S
Senior Member
 
J.S's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,136
کمائي: 193,108
شکریہ: 9,966
7,889 مراسلہ میں 16,033 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
کثیر الزواج کے معاملے میں خواتین کو سمجھانے سے ذیادہ مردوں کو اس عدل کی تربیت دینی چاہیے ،
یہ کیا بات ہوئی؟
سمجھانا دونوں کو چاہیئے
یہ نا ہو کہ مرد عدل کرنے پر راضی ہو تو بیوی کا منہ بن جائے
اکرام صاحب کنٹرول
شادی ہو گئی آپ کی؟
J.S آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے J.S کا شکریہ ادا کیا
پرانا 02-01-10, 10:29 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : جاویدتالےوالے مراسلہ دیکھیں
اکرام صاحب کنٹرول
شادی ہو گئی آپ کی؟
ایسے نصیب کہاں بھائی جان
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
J.S (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 10:39 AM   #8
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,388
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
کثیر الزواج کے معاملے میں خواتین کو سمجھانے سے ذیادہ مردوں کو اس عدل کی تربیت دینی چاہیے ،
یہ کیا بات ہوئی؟
سمجھانا دونوں کو چاہیئے
یہ نا ہو کہ مرد عدل کرنے پر راضی ہو تو بیوی کا منہ بن جائے
ہا ہا ہا ہا ہا ہا
------------------------------
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 11:32 AM   #9
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : جاویدتالےوالے مراسلہ دیکھیں
اکرام صاحب کنٹرول
شادی ہو گئی آپ کی؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
ایسے نصیب کہاں بھائی جان
مجھے پہلے ہی شک تھا ---
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 11:43 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
مجھے پہلے ہی شک تھا ---
ارے محمود صاحب
ایسا کیا سرزد ہو گیا کہ آپ کو شک پڑ گیا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 11:49 AM   #11
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
ارے محمود صاحب
ایسا کیا سرزد ہو گیا کہ آپ کو شک پڑ گیا
یہی کہ غیر شادی شدہ آدمی ہی اس موضوع پر لکھنے کا وقت نکال سکتا ہے :
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (02-01-10)
پرانا 02-01-10, 11:53 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارے بھائی
لیکن یہ موضوع شادی شدہ اور غیر شادہ سب کے لئے یکساں دلچسپی کا ہے۔
اک بار ذرا نظر پڑنے دیں آپ ان حضرات کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر دیکھیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 11:55 AM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ذرا یہ بھی دیکھیں
خواتین مردوں کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 11:59 AM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
کثیر الزواج کے معاملے میں خواتین کو سمجھانے سے ذیادہ مردوں کو اس عدل کی تربیت دینی چاہیے ،
یہ کیا بات ہوئی؟
سمجھانا دونوں کو چاہیئے
یہ نا ہو کہ مرد عدل کرنے پر راضی ہو تو بیوی کا منہ بن جائے
اوہ بھائی
ہمارے یہاں شوہر حضرات ایک بیوی کے ساتھ عدل نہیں کرپاتے آپ ایک سے ذیادہ کی بات کررہے ہیں ۔
پہلے اپنی ماں اور بیوی میں تو بیلنس کرلیں ۔ پھر آگے بات کریں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (05-01-10)
پرانا 02-01-10, 12:04 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اوہ بھائی
ہمارے یہاں شوہر حضرات ایک بیوی کے ساتھ عدل نہیں کرپاتے آپ ایک سے ذیادہ کی بات کررہے ہیں ۔
پہلے اپنی ماں اور بیوی میں تو بیلنس کرلیں ۔ پھر آگے بات کریں ۔
شکریہ
یہاں بیویوں کے درمیان عدل کی بات ہے، سا س بہو کا جھگڑا نہیں۔
جب ایک سے زائد شادی کے لئے خواتین قائل ہو جائیں گی، سوکن برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو جائے گا تو یقین کیجئے ساس بہو کے سارے جھگڑے مٹ جائیں گے۔
کیوں کہ ساس کبھی بھی سوکن سے زیادہ تکلیف دہ نہیں ہو سکتی۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پسند, قرآن, نظر, مسلمان, امریکہ, اسلامی, بچپن, بچوں, تصویر, حکم, خواتین, خدا, دنیا, راستہ, زمانہ, سال, شوہر, عورتوں, علاقے, عالم, عائد, عبادت, عدم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے (فراز) The Great احمد فراز 7 28-03-12 10:17 PM
امن دوستی تحاداوربھائی چارہ کا فروغ اسراراحمد چوہدری تعارف 0 13-07-10 07:57 PM
اسلامی جمہوریۂ ایران میں علم و دانش کا فروغ ایک تاریخی حقیقت پاکستانی دیس ہوئے پردیس 8 22-03-09 01:24 AM
اہم اعلان!!!! (قادیانیت کو فروغ) وجدان خبریں 2 09-10-08 05:59 PM
حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے اقدامات کررہی ہے، جام کرم علی خرم شہزاد خرم خبریں 1 04-01-08 11:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger