واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کس بات کی ہے تسکینِ طمع زندگی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 20-12-10, 10:23 AM   #1
کس بات کی ہے تسکینِ طمع زندگی
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 20-12-10, 10:23 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

ایک زمانہ ہوا چند دوستوں کے ساتھ کراچی کا تفریحی ٹور کیا ۔ دو ہفتہ وہاں قیام کیا ۔ ڈرگ کالونی، سوسائٹی، صدر اور کلفٹن کے علاقوں میں کبھی بس تو کبھی موٹر سائیکل پر سڑکوں پر مٹر گشت کرتے ۔ ساحل سمندر پہلی بار دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ خوب مزے کئے ، ساحل سمندر پر گھوڑے دوڑانے سے لطف اندوز ہوتے ۔ راستہ میں چھوٹے چھوٹے سٹال لگے تھے ۔ کوئی رِنگ پھینکتے تو کوئی شاٹ گن سے دو غباروں کو ایک ساتھ نشانہ بنانے والے کو گھڑی انعام میں دینے کا اعلان کرتے۔
اسے اتفاق کہیے ایک دس بارہ سال کے بچہ نے مجھے روکا اور کہنے لگا بھائی جان میرے لئے نشانہ لگا دیں ۔
دو روپے اس نے سٹال والے کو دئیے اور اس نے بندوق میرے ہاتھ ۔ میں نے ایک آنکھ بند کر کے جو نشانہ لگایا ۔ ایک چھرے سے دونوں غبارے پھٹ گئے ۔بچے نے گھڑی ہاتھ پہ باندھی اور وہ یہ جا وہ جا۔ اب تو میرے دوستوں کو یقین ہو گیا کہ میرا بچپن کا پٹھوں گرما گرم اور بنٹوں کا اینٹ ابھی تک قائم ہے ۔ اس لئے انہوں نے اب میرے نشانہ پر اعتبار کرتے ہوئے آزمانے کا فیصلہ کیا ۔
مگر!
لالچ بری بلا ہے جب انہیں سمجھ آیا ۔ تو اس وقت تک بیس بیس روپے ضائع کر چکے تھے ۔
قصور میرے نشانہ کا نہیں تھا ، ان کی قسمت کا تھا ۔ ورنہ میں ہر بار پہلے سے بھی زیادہ اطمینان اور تاک کر نشانہ باندھتا۔
ہر صبح کا اسی طرح آغاز ہوتا اور پلک جھپکتے شام ہو جاتی اور ہم گھروں کو لوٹ جاتے ۔ پندرہ دنوں کا پتہ بھی نہ چلا ۔ خیبر میل سے لاہور کے لئے قصد سفر باندھا ۔ لاہور اسٹیشن سے باہر آتے ہی ایک بات کا فوری احساس ہوا کہ دونوں شہروں میں ایک فرق واضح ہے ۔ کراچی کی زندگی لاہور کی نسبت کافی تیز ہے ۔
یہاں تو جگہ جگہ عوام ہوٹلوں اور گلی محلوں میں ضیاالحق کے مارشل لاء کے کارناموں پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں۔ ڈھیروں بیٹھتے ہیں ، باتیں کرتے ہیں ، بچے گلی میں کھیلتے تو خواتین دیواروں سے جھانک کر ہمسائیوں سے روزمرہ پیش آنے والے حالات سے آگاہی لیتیں۔ بزرگ گلی کی نکڑ پر ٹیبل لگائے شطرنج کی بازی میں مشغول رہتے۔ نوجوان ایک ایک کر کے چوک میں اکھٹے ہوتے اور ہنسی مذاق ہوتا ۔ سب کو اسی زندگی کی عادت تھی ۔ اس لئے بہت خوش تھے کہ لاہور شہر ایسی ترقی میں نہیں پڑا تھا ۔
ورنہ ہم پہلے دہی لینے والوں کی طرح صبح لائن میں کھڑے ہوتے اور پھر بسوں کی ۔
مگر! یہ رویہ ہمیشہ تو رہنے والا نہیں تھا ا ۔یک نہ ایک دن تو ترقی کے بل میں لپٹنا تھا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ محلے سنسان ہو گئے ۔ دن میں ریڑھی پھیری والوں کی صدائیں رہ گئیں۔ اور شام کو آوارہ کتوں کے بھونکنے کی ۔
صبح گھروں سے جانا رات دیر سےگھر آنا معمولات زندگی کا حصہ بن گیا ۔ باپ جب رات کو لوٹتا تو بچے سو چکے ہوتے ۔ صبح جب وہ جاگتا تو بچے سکول جا چکے ہوتے ۔ ہفتہ میں ایک بار سب گھر میں اکٹھے ہوتے۔
اب ہر آدمی بھاگ رہا ہے ۔ ضروریات کے پیچھے تو کوئی تین تین کمیٹیوں کی اقساط کی آدائیگی کی پریشانی میں ۔ جیسے ٹرین جب چھوٹتی ہے تو مسافر کا ہاتھ رخصت کرنے والوں سے خود ہی چھوٹ جاتا ہے ۔ یہی عالم اب ہمارا بھی ہوتا جا رہا ہے ۔ ابھی تو صرف ہاتھ چھوٹے ہیں ۔ وہ وقت دور نہیں جب رشتے بھی اس کی بھینٹ چڑھیں گے ۔
جن معاشروں کی ہم تقلید کر رہے ہیں ۔ وہ چمکتا ہوا دھوکہ ہیں ۔ جہاں رشتے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے "مجھے کوئی پرواہ نہیں" جیسے کلمات ان کی زبان زد عام ہیں۔ آلودگی سے پاک آب و ہوا ،معاشی زنجیروں میں جکڑا معاشرہ ادھار کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔
دور کے ڈھول سہانے کے مصداق انسان جسے کامیابی کا نام دیتا ہے ۔ وہ دراصل ایک کھوکھلا پن ہے۔ جونفسانی خواہشات کی تسکین پر آمادہ ہے ۔ جہاں تُو تیرا اور میں میرا کی گردان سے زندگی کے اشعار لکھے جاتےہیں ۔ مفہوم کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔
" زندگی ایک بار ملتی ہے مزے لوٹ لیں" کے مفروضے پر جوانی لٹا دیتے ہیں ۔پھر بڑھاپے میں ایک انتظار آنکھوں میں لئے وقت کے پہیے کے لگائےنشان کو دیکھتے ہیں ۔ زندگی کے بیتے دنوں کا قرض چکانے کے لئے 365 میں سے ایک دن ان کے نام کر دیا جاتا ہے ۔ وہ 364 دن ایک گلدستہ پھول کے انتظار میں گھڑیوں کی سوئیوں سے چپک جاتے ہیں۔ سالوں کی زندگی سمٹ کر سیکنڈ کی سوئی پر ٹک جاتی ہے۔
ہر ایک پروانوں کی طرح ایک کے بعد ایک شمع پر مرتے ہیں۔ مگر ہٹنے کی سوچ ہی پیدا نہیں ہوتی ۔انجام سامنے ہے پھر بھی اسی راہ کے مسافر ہیں۔ نہ جانے اس دنیا میں کیا خوبی ہے کہ انسان صرف لباس اور خوراک کی افادیت کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ جسم کی بھوک بڑھ کر ہوس بن چکی ہے۔
ایک مکان کم پڑ گیا رہنے کو، گاڑی نیا ماڈل نہیں تو فخر نہیں، دولت کی فراوانی نہیں تو وقار نہیں۔
اگر کمی ہے تو صرف محبت کی۔ بھائی بھائی سے غرض رکھنے لگا۔ مطلب براری کے لئے جھوٹ اور فریب کا ایسا چہرہ شائد پیاز کی تہیں کم ہوں اور رشتے کو صرف ایک ہی ترازو سے تولنے کا عمل باقی رہ گیا۔
کس پر بھروسہ کریں کس کو اپنا سمجھیں دلوں میں نفرت اور بغض کی عظیم پناہ گاہیں۔ جو چہروں پر ریاکاری اور مکاری کا ملمع کئے ہوئے ہیں۔ ایسےاولادیں جو ماں باپ کی آنکھوں کی بینائی کم ہو تو آنکھیں موندھ لیتے ہیں ذمہ داریوں سے۔ اور ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی زندہ ہو جاتے ہیں اپنے حق کے حصول کے لئے ۔
وہ رشتے جو انسانی کی بجائے نفسانی خواہشات کے غلام ہوں۔ ایسے لوگوں اور رشتوں کو اگر دل ہی قبول نہ کرے۔ تو ان سے ہاتھ ملا کر شائد چہرے پر جھوٹ کی ایک تہہ نظر آ جائے۔ مگر دل جیسے طوفانی لہر کشتی کو ہچکولے دیتی ہے جنجھوڑ دیتا ہے۔ ایسی عقلمندوں کی دنیا میں رہنے سے احمق رہنا ہی اچھا ہے۔ کہ جہاں پہلا سبق ہی یہ ہو کہ میرا کیا ہو گا۔

کس بات کی ہے تسکینِ طمع زندگی
ہر رات تو بجھتی ہے شمع زندگی
بڑھتی متاعِ دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی

محمودالحق
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 266
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
پرانا 20-12-10, 07:24 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

محمود صاحب، آپ نے یہ نہیں‌ بتایا، آپ کے دوستوں نے نشانہ غلط ہونے پر کیا کہا تھا؟
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 07:26 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

کس بات کی ہے تسکینِ طمع زندگی
ہر رات تو بجھتی ہے شمع زندگی
بڑھتی متاعِ دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی


شیئرنگ کا شکریہ
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (21-12-10)
پرانا 21-12-10, 02:07 AM   #4
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
محمود صاحب، آپ نے یہ نہیں‌ بتایا، آپ کے دوستوں نے نشانہ غلط ہونے پر کیا کہا تھا؟
اب ظاہر ہے شاباشی تو ملنے سے رہی ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (21-12-10)
پرانا 21-12-10, 02:13 AM   #5
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

کس بات کی ہے تسکینِ طمع زندگی
ہر رات تو بجھتی ہے شمع زندگی
بڑھتی متاعِ دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی


شیئرنگ کا شکریہ
بہت شکریہ پسندیدگی کا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پھول, پاک, قصد, نفرت, نظر, موٹر سائیکل, ماں, محبت, معاشرہ, آلودگی, آدمی, انسان, اشعار, بھائی, بچپن, جھوٹ, خواتین, خوش, دور کے ڈھول سہانے, راستہ, رشتے, زندگی, سفر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
غلطی تسلیم کرلے اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 04:59 PM
جہاد کا نا قا بلِ تسِخیر سامان sahj جہاد 0 16-10-09 05:42 PM
نظریات کا تسلط عادل سہیل اپکے کالم 5 02-08-07 06:33 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger