واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کچھ حقائق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-08, 03:16 PM   #1
کچھ حقائق
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 27-07-08, 03:16 PM

مذہب کی جو تاریخ قرآن مجید بیان فرماتا ہے کہ مذ ہب کے نام پر ظلم کرنے والے ہمیشہ یا تو لامذہب ہوا کرتے ہیں یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر حقیقی مذہب کا شائبہ تک باقی نہیں ہوتا اور جن کے امتداد ِ زمانہ سے مذہب بگڑ کر کچھ کا کچھ بن چکے ہوتے ہیںیا پھر ایسے مذہبی علماء اس ظلم کے ذمہ دار ہوتے ہیںجن کا مذہب سے تعلق محض نام کا ہوتا اور ان کا سیاسی ذہن مذہب کو سیاست میں اپنے اقتدار کی خاطر بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے ۔اور ایسے علماء جو مذ ہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیںاُن کے اور ان کے پیروکاروں کے دل روحانیت 'رحمت شفقت اور خدمت خلق کے پاکیزہ مذہبی جذبات سے عاری ہو کر چالاکی ' ریا کاری اور سفاکی کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔پس ایسے مذہبی راہنمائو ں اور ان کے پیروکار وںکی بداعمالیاںمذہب کی طرف منسوب کرنا مذہب پر بڑا ظلم ہے۔اور حق بات تو یہی ہے کہ وہ خدا جو تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے کسی مذہب کے ماننے والو ں کو اپنے بندوں پر ظلم کی اجازت نہیں دیتا ۔ہمارے بزرگ نبی کریم حضرت محمد مصطفی کی چند سالہ تاریخ ہی اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مذہب انسان کو ہرگز نفر ت نہیں سکھاتا ۔ظلم و تعّد ی اور شقاوت اور سفاکی کا سبق نہیں دیتا بلکہ اس کے برعکس رحمت اور شفقت اور صبر اور بُرد باری کی تعلیم دیتا ہے ۔صرف اس پر بس نہیں کی بلکہ وہ رَحمَتہ لّلِعَالَمِینۖ ظلم کے انسداد کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھا اور خدا سے وحی پاکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اعلان عام کردیا کہ لا اکراہ فی الدین۔کہ دین کے نام پر کوئی جبر جائیز نہیں

پس کامل قدرتوں کے حامل خدانے دین میں جبر کو سخت ناپسند فرمایا پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اسلام کے جہاد میں یہ گنجائش پیدا کردیتا کہ کسی کو مومن بنانے کے لئے جبر اور تلوار ضروری ہے ۔ پس رحمتہ للعالمین جو ساری دنیا کے انسانوں اور جانوروں کے لئے رحمت شفقت بن کر مبعوث ہوئے تھے اور انہوں نے خود یہ اعلان عام فرمایا لا اکراہ فی ا لدین کہ دین کے نام پر کوئی جبر جائیز نہیں ''اور پھر خود اور اپنے پیرو کاروں کو یہ حکم دیتے کہ اسلام کو اور ایمان کو دلوں میں داخل کرنے کے لئے مذہب اور ایمان کے معاملہ میں جبر کی تلوار کااستعمال عین جہاد ہے۔ پس قرآن مجید میں سورة حج کی آیات ٤٠۔٤١ میں جو مشرکین مکہ جنہوںنے اسلام کو مٹانے کے لئے آنحضرت ۖ اور آپ کے پیروکاروں پر جنگیں مسلط کردی تھیں۔ اور اس کے ظلم غارت گری کے جواب میں مسلمانوں کو اپنے دفاع میں تلوار کے جہاد کی اجازت ملی ۔یہ جہاد مشرکین مکہ کے خلاف مسلمانوں کا خود حفاظتی جہاد تھا نہ کہ جبر کی تلوار کے ذریعہ اسلام اور ایمان کو دلوں میں داخل کرنے کے لئے کسی ایسے جبر کے جہاد کی اجازت تھی۔ تاریخ میں ایک بھی واقعہ نہیں کہ 'جس میں آنحضور ۖ نے یا آپ کے کسی صحابہ نے کسی کو زبردستی مسلمان کیا ہو ۔اس کے لئے تلوار تو دور کی بات کبھی کوئی سخت الفاط بھی استعمال نہیں کیا ۔

دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسی بستی تھی جہاں مسلمان ،یہودی' عیسا ئیوں کو یکساں حقوق حاصل تھے تو وہ مدینہ مکرمہ کی بستی تھی ۔ پس ملاں کا ایجاد کردہ غلط نظریہ جہاد نہ اسلام سے اور نہ ہی انسانیت سے لگا کھاتا ہے ۔ اسلامی ملکوں کے معاشرہ میں ملاں کے جہاد نے انسانی ہمدر دی محبت وا خوت امن وسلامتی جیسے اوصاف کو غارت کرکے رکھ دیا اور بلاشبہ جہادی علماء پاکستان کے لئے درد سر ہیں ۔اور گورمنٹ کے خلاف بغاوت کا سرچشمہ ہے۔ عوام بیچارے ان لوگوں کے قابو میں ہیں۔ اور ان کے دلوں کی کَل ان کے ہاتھ میں ہے جس طرف چاہیں وہ ( اپنے تربیت یافتہ) عوام کے دل و دماغ کو پھیر دیں۔ اور پھر اپنے مخصوص تربیت یافتہ جہادیوں سے خود کش حملہ کرواکے قیامت برپا کرسکتے ہیں ۔ معاشرے میں فساد کی بنیادی وجہ بھی یہی ملاں کا پیدا کردہ جہادی متشدد رویہ ہے ۔ایسے لوگ فطرت کے اصولوں کے مطابق چلنے کی بجائے فطرت کے اصو لوں سے ٹکراتے ہیں۔مثلاَمحبت رواداری ' راست بازی عدل و انصاف ( انسانی خونریزی سے اعراض) جیسے ایسے اہم اصول ہیں۔اس کے مخالف چل کر کوئی مسلمان ' مسلمان نہیں کہلا سکتا ۔ .

لیکن اس کے باوجود یہ خود کو سب سے بہتر مسلمان قرار دیتے ہیں اورجو لوگ ان کے غلط نظریہ جہاد کو غیر اسلامی فعل قرار دیتے ہیں یہ ان پر کفر کی مہر ثبت کر دی جاتی ہے گویا ان کے مجوزہ جہاد پر ایمان لانا ضروری ہے ۔اورجو ان کے تجویز کردہ دین کی پیروی نہیں کرتا ان کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتا داڑھی نہیں رکھتا' میوزک سے دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں بلکہ واجب القتل بھی ہے ۔ ایسا نام نہاد جہادبے گناہ معصوم جانوں کا قتال خونریزی اسلام کے نام پر بدنما کالینک ہے۔شومئی قسمت ہمارے ہاں ایک عرصہ سے اپنے نظریات منوانے کے لئے مسلح جدو جہد کی جارہی ہے ۔جس کے بھیانک نتائج ہمارے ملک کے سامنے ہیں۔

آج جہادی مافیا کے لوگ جبر پر مبنی اسلام کو ملک پر مسلظ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ان کے اسلام کے بلند و بالا دعاوی تو نظر آتے ہیں لیکن حقیقی اسلام کے اوصاف ان میں نظر نہیں آتے ہیں جہادیوں کی زبان پر الجہاد الجہاد صدائیں تو بلند ہو رہی ہیں ۔لیکن بنی نوع کے لئے محبت روادای شفقت نظر نہیں آتی۔بلکہ محبت و اخوت بھائی چارہ کی بجائے مسلکی اختلافات ان میں در آئے ہیں ۔مسلکی اختلاف کی بناء پر دوسرے مسلک پر کفر کے فتاوی سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔اور ان سب کے اسلام اور ان کے خود ساختہ عقائد میں جبر کی تعلیم قدر مشترک ہے ۔اور یہ اپنے عقائد کو دوسروں پر جبراََ ٹھونسنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ان کے جبر پر مبنی عقائد جہاد قتال اور ظلم تعدی ' فتنہ فسار کی تعلیم دیتے ہیں ۔گویا ان کا اسلام فقط یہ ہے کہ یہ اپنی خود ساختہ شریعت کو دوسروں پر ٹھونسا جائے۔یہ طریق جب اختیار کیا جائے گا ہمیشہ ایک لا منتاہی فساد کا سلسلہ جاری ہو جائے گا ۔جہادی مافیا کے نزدیک اسلام میں ڈیمو کریسی قابل قبول نہیں( حالانکہ قرآن مجید نے فلاحی ریاست میں مشاورت پر زور دیا ہے)ڈیمو کریسی کی جگہ مولانا مودودی کے ( الجہاد فی الاسلام کتا ب اور دیگر) لٹیریچر میں کیمو نیزم کی طرح حکومت پر قبضہ حکومت الہیہ کے لئے ضروری قرار دیا ہے ۔اور انہوں نے مشرکین مکہ کی طرف سے اسلام اور آنحضرت ۖ مسلط کی گئی جنگوں کے دفاع میں آنحضرت ۖ کی طرف لڑی والی جنگوں کو اشاعت اسلام کی تلوار کی جنگیں قراردیا ہے۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں ۔۔۔۔کہ جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی ء اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی ۔۔۔تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا طبیعتوںکے فاسد مادے خود بخود نکل گئے روحوں کی کثافتیں دور ہو گئیں ۔۔۔عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی اسلام کو اس سرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہو گئی تو اس کی وجہ بھی یہی تلوار تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پردوں کو چاک کردیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے ۔''( الجہاد فی السلام صفحہ ۔١٣٨۔١٣٧) گویا مولانا کے نزدیک اسلام کی اشاعت تلوار کے جہاد کی مرہون منت تھی۔ جبکہ آنحضرت ۖ رحمتہ للعالیمن کے سراسر رحمت و شفقت کے مبارک وجود کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور تاریخ میں بھی ایک واقعہ نہیں ' جس میں آنحضرت ۖ یا آپ کے کسی صحابہ نے کسی کو تلوار کے زور پر مسلمان بنایا ہو۔کیونکہ یہ تو خدا کی طرف سے روحانی نظام تھا روحانی نظام کو قائم کرنے کے لئے آنحضرت ۖ کی قوت قدسی اور اللہ کی نصرت نے کام دکھایاتھا ۔لیکن اس کے برعکس ملائیت حکومت الہیہ کا قیام روحانیت کی بجا ئے فقط خونی انقلاب اور تلوار طاقت کی محتاج ہے ۔

قائداعظم کے وصال کے بعد ملاں ملائیت نے پاکستان کی سیاست میں زور شور سے حصہ لیا اس نے عوام میں اپنی جڑیں قائم کر نے کے لئے نظام مصطفیٰ قائم کرو شریعت کا نظام قائم کرو کے نعرے عوام کے درمیان بلند کئے ۔لیکن پاکستان میں ملاں کا خود راشیدہ نظام مصطفیٰ جبر کی آئیڈ یوجی کا یہ تصور عملاََ فیل ہوچکا ہے ۔( لیکن پھر بھی جہادی مافیا نے اسے پوری طرح فیل نہیں ہونے دیا) کیونکہ جہادی مافیا کی خود ساختہ شریعت کے ا حکام کا نفاز پاکستان کے سرحدی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔پاکستان کے دینی مدرسوں میں بھی جہادی مافیا کا جبر پر مبنی کلچر نشونما پا رہا ہے ۔ دینی مدرسوں کے فارغ التحصیل طلباء میں یعنی ان کے مسلکی عقائد میں انتہا پسندی اور انا پر ستی کا عنصر غالب ہے ۔دنیا میں کوئی نظام حکومت اخلاق کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا طاقت اور ڈنڈے کے استعمال سے نماز پڑھاناایمان کی بجائے منافقت کی شکل میں تو ظاہر ہوسکتا ہے ۔لیکن ڈنڈے کی نماز سے نہ اخلاق فاضلہ پیدا ہوسکتے ہیں نہ اس کا نتیجہ معرفت الہٰی کی صور ت میں نکل سکتا ہے ۔پشاور کی اخباری اطلاع کے مطابق لشکر اسلام کے باڑھ کے مسلح اہلکاروں نے نوجوان ایف سی کے ا ہلکار کو پشاور حدود میں نمازعصر کی ادائیگی نہ کرنے پر کلاشنکوف سے برسٹ مار کر قتل کردیا ۔عینی شاہدین کے مطابق نوجوان مکرم خان ولد سعید خان ملک دین خیل گزشتہ روز مسجد سے نماز عصر ادا کرکے نکل کر گھر جا رہا تھا ' کہ '' لشکر اسلام '' کے مسلح اہلکاروں نے باڑہ قدیم پولیس تھانہ سربند کے حدود میں نوجوان سے نماز عصر کی ادئیگی سے متعلق پوچھ گچھ شروع کردی ۔مکرم سعید خان نے نماز کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی ۔اس دوران تلخ کلامی پر مسلح اہلکاروں نے فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا ۔'' شریعت کے نفاز کی ایسی بہت سی وارداتیں ہیں پشاور اور اور اسکے گردو نواح کے علاقوں میں پیش آتی رہتی ہیں ۔ جہادی مافیا کے نزدیک داڑھی منڈوانا اور میوزک سُننا جرم قراردیا گیا ہے ۔ ان کی خود ساختہ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دی جارہی ہیں حجام کی اور ویڈیو میوزک اور دیگر ایسی دوکانیں دھماکہ کرکے اُڑادی جاتیں ہیں۔ ( جیسے ماضی میں جامعہ حفضہ اور لال مسجد والوں نے ا سلام آباد میں ایک قسم کی شریعت نافذ کی ہوئی تھی ) علاقہ غیر اور سوات میں تو ایسے بہت سے واقعات روزانہ کا معمول بن گیا ہے اور ان علاقوں میں شریعت نفاز کرنے والوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرسکتا ۔

دینی مدارس اور مساجد سے ملحق چھوٹی سطح پر سب مدارس پر ملاں کی ملائیت مسلط ہے وہاں بھی کوئی ملاں کے جبر کے خلاف زبان کھول نہیں سکتا ۔ دینی تعلیم کے دوران چھوٹی عمر کے طلبا ء سمیت سب طلبا پر ملاں کا آزادانہ جبر وتشدد کا سلسلہ دین سکھانے کے نام پر جاری رہتا ہے۔ غریب والدین کے بس کی بات نہیں کہ وہ اپنے معصوم بچوں کوملاں کی کڑی جسمانی سزائوں سے اس کا ہاتھ روک سکیں ۔ صوبہ پنجاب وہاڑی کی ایک مسجد سے ملحق مدرسہ میں تعلیم و تدریس کے دوران ( ایک مولوی معلم) کی طرف سے طلباء کے لئے جسمانی سزائیں روزانہ کا معمول تھا ۔لیکن ایک سات سالہ بینائی سے محروم بچہ جو ملاں کے تشدد اور جسمانی سزا کاہمیشہ تختہ مشق بنتا چلا آرہا تھا اور بدقسمتی سے اپنی ہلاکت کے دن جب اُس سے سبق یاد نہ ہوا تو ملاں نے اس کے لئے جان لیوا کڑی سزا تجویز کی کہ اُسے مدرسہ کے پنکھے کے ساتھ اُلٹا لٹکا دیا تاکہ دوسرے طلباء بھی عبرت پکڑیں۔ اور جب اُسے پنکھے کی صلیب سے اُتارا گیا تو چند گھنٹوں میں سات سالہ نابینا بچے کی جان اللہ کو پیاری ہوچکی تھی ۔اور اب بچوں کا معلم پولیس کی تحویل میں ہے مقدمہ چلنے کے بعد اسے اس انفرادی انتہائی ظلم کی زیادہ سے زیادہ سزا ہو سکتی ہے ۔لیکن کیا ایک معلم کی سزا سے ایسا ممکن ہے کہ دینی مدرسوں میں جبر کا مزاج یا جبر کے رویے تبدیل ہو جائیں گے؟۔ کیا ایک معلم کی سزا کے بعد معاشرہ میںجبر و تشدد کی وارداتیں ختم کی جا سکیں گی ؟ ۔ جبکہ ملاں مافیا اور جہادی مافیا دونوں پاکستان میں بہت طاقتور ہیں ۔ انہوں نے پاکستان میں خودکش حملوں کے ذریعہ پاکستا ن میں ٹارگٹ کلنگ کی جنگ کا سلسہ جاری کیا ہوا ہے جس سے ہماری چھائونیاں محفوظ ہیں اور نہ عبادتیں گاہیں ' بازار نہ ہی عدالتیں محفوظ ہیں ۔امن امان کو برقرار رکھنے کی جتنی ذمہ داری ایجنسیوں اور سیکورٹی اداروں کی ہے اتنی باشعور شہریوں کی بھی ہے کہ وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق انتہا پسندی اور خود کش حملوں کی تبلیغ کرنے والوں کے خلاف جہاد کریں ۔اس جہاد میں کامیابی سے عوام کو سکھ چین نصیب ہو گا۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 276
Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, واقعات, قائداعظم, قدم, قرآن, لوگ, چین, نماز, مکہ, مجید, مسجد, معاشرہ, آج, ایمان, احتجاج, بچوں, تعلیم, جرم, خودکش, خدا, دھماکہ, دین جبر جائیز نہیں, داڑھی, سیاست, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger