14 جون 2009 میں چک نمبر 13 اِٹاں والی ضلع ننکانہ میں ایک دل سوز سانحہ ہوا، اس کی تفصیل یہ ھے کہ اس گاؤں کے ایک زمیندار کے فالسے کا باغ ھے۔ علاقہ کی عورتیں فالسہ کے باغ سے پھل توڑتی ہیں اور اپنی مزدوری لیتی ہیں ۔ ان عورتوں میں آسیہ نام کی ایک مسیحی خاتون بھی تھیں، جو اس گاؤں کے ایک سابق فوجی ، عاشق مسیح کی اہلیہ ھے۔ عاشق مسیح کے گھر میں پہلے سے آسیہ کی بڑی بہن بھی موجود ھے ۔ عاشق نے پہلے آسیہ کی بڑی بہن سے شادی کی ۔ اس سے جوان اولاد ھے ۔ ان میں سے بعض کی شادی بھی ھوچکی ھے۔ یہ اب بھی زندہ ھے اور عاشق مسیح کے عقد میں ھے، اس دوران میں انہوں نے اپنی اہلیہ کی چھوٹی بہن آسیہ سے بھی شادی رچائی، اب دونوں بہنیں ایک ہی شخص کے عقد میں ایک ساتھ رہ رہی ہیں۔
فالسہ کا پھل توڑنے والی عورتوں میں مسلمان عورتیں عافیہ، اور عاصمہ سگی بہنیں بھی شریک تھیں۔ آسیہ مسیحی عورت نے عافیہ و عاصمہ کے گلاس سے پانی پیا ، ان دونوں بہنوں نے گلاس سے پانی پینے کی بجائے پیالی میں پانی پیا، اس کا آسیہ نے برا منایا اور پھر اس نے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے متعلق دلخراش ، اہانت آمیز کلمات کہے، سیدہ خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی مبارک کے بارے میں بھی سخت اہانت آمیز ، تحقیرانہ انداز میں واہی تباہی بکی، گاؤں کی دونوں مسلمان عورتیں عافیہ اور عاصمہ نے یہ سنا تو رونا شروع کردیا ۔
زمیندار جس کا باغ تھا ، اس کے بیٹے محمد افضل کو انہوں نے یہ واقعہ سنایا، اس نے خود آسیہ بی بی سے بھی پوچھا ، تو اس ملعونہ نے اعتراف کیا کہ واقعی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا کو اس نے گالیاں بکی ہیں۔ (معاذ اللہ)
رفتہ رفتہ بات پورے گاؤں میں پہنچی ۔ گاؤں کے امام مسجد قاری سلیم صاحب نے گاؤں کے لوگوں کی موجودگی میں اس ملعونہ سے پوچھا تو بھی اس ملعونہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کرنے کا برملا اعتراف کیا اور ساتھ معافی چاہی، گاؤں کی پنچایت نے قرار دیا کہ یہ ملعونہ خود اعتراف جرم کر رہی ھے اور یہ جرم ایسا ھے کہ جس کی کوئی مسلمان معافی نہیں دے سکتا۔ لہٰزا اس ملعونہ کو قانون کے سپرد کیا جائے۔
یہ پنچایت 19 جون 2009 کو ہوئی۔
چنانچہ پنچایت کی تحقیقات کے بعد مقدمہ نمبر 326/09 زیر دفعہ 295-سی تھانہ ننکانہ صدر میں درج ہوا۔ اسی روز پولیس نے ملعونہ آسیہ کو گرفتار کرلیا۔
مقدمہ کی تفتیش ایس پی انوسٹی گیشن شیخوپورہ سید محمد امین بخاری نے کی ۔
انہوں نے مدعی، ملزمہ دونوں پارٹیوں کا موقف سنا ، گواہوں کے بیانات قلمبند کئے اور اپنی آزادانہ تحقیقات میں ملعونہ آسیہ کو گناہ گار قرار دے کر چالان مکمل کرکے عدالت کے سپرد کردیا۔
جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل جج کی عدالت میں ڈیڑھ سال کیس چلتا رہا، استغاثہ کے گواہان پیش ھوئے، صفائی کے گواہ پیش ھوئے ،
مدعی و ملزمہ کے وکیل پیش ھوئے ،
سماعت مکمل ھونے کے بعد فاضل جج نے جرم ثابت ھونے پر 8 نومبر 2010 کو آسیہ مسیح کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی۔ اس سزا کے خلاف ملعونہ مجرمہ آسیہ کے شوہر نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی۔
اس دوران کلیسائے روم کے پوپ بینی ڈکٹ نے اخبارات کے زریعے مطالبہ کیا کہ اس ملعونہ کو رہا کیا جائے ، پہلے بھی اٹلی ، برطانیہ کے کلیسائے روم میں نصف درجن سے زائد ملعونین مجرمین کو محفوظ رہائش گاہیں اور روزگار فراہم کیا گیا۔ افغانستان کا مرتد عبدالرحمان ، مصر کی ملعونہ کمیلاشاہنا ، بحرین کا ملعون یاسر الحبیب ، کابل کا صحافی احمد ، یہ سب کلیسائے روم کے تحت مختلف ممالک ، جیسے اٹلی وغیرہ میں پناہ گزین ہیں۔
دنیائے مسیحیت کے پوپ ہمیشہ اہم انٹرنیشنل لیول پر مسائل پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ شخصی معاملات میں مداخلت ان کے منصب کے خلاف سمجھی جاتی ھے ۔ اس بار انہوں نے ملعونہ کے شخصی کیس میں مداخلت کی۔ نتیجہ میں پاکستان کے مختلف بشپ صاحبان بھی اس ملعونہ کی رہائی کے لئے بیان داغنے، اپیل کرنے لگے گویا مسلمانوں کے درپے آزار ھوئے۔
جناب صدر مملکت صاحب ! پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ عہد اقتدار میں بھی یہ واقعہ تاریخ کا حصہ ھے کہ ایک سزا یافتہ ملزم کو جیل سے راتوں رات رہا کرکے بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد پورے ملک میں غیر مسلموں کی طرف سے اہانت رسول کے واقعات ھونے لگے۔ ان ملعونین نے حکومتی اور کلیسائے روم کے طرز عمل سے باور کرلیا کہ باہر ملکوں کے ویزا ، نیشنلٹی کے لئے آسان راستہ یہ ھے کہ پیغمبر علیہ السلام کو (معاذ اللہ) گالیاں دو اور ایف آئی آر کو بنیاد بناکر باہر ملک کا آسانی سے ویزا حاصل کرو۔ کلیسائے روم اور مسیحی این جی اوز سے کوئی پوچھے کہ چودہ سو سال سے پیغمبر علیہ السلام ، قرآن مجید کے پیروکار، امت محمدیہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی صفائی کے وکیل کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ یہود کے بلمقابل چودہ سو سال سے اور ڈیڑھ سو سال سے قادیانی چیف گرو مرزا غلام قادیانی کے بلمقابل یہ دونوں (یہودی قادیانی) سیدنا مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں، اہانت کریں اور مسلمان ان کے مقابل سیدنا مسیح علیہ السلام کی عزت و آبرو کی پاسبانی کریں، آج کلیسائے روم اہل اسلام کو یہ بدلہ چکا رہا ھے کہ پیغمبر علیہ السلام ، قرآن، امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ کرنے کی بجائے پیغمبر کو گالیاں دینے والوں کی حوصلہ افزائی کررہا ھے اور اسلام کی عزت و ناموس کے قانون کو ختم کرنے کی مہم زوروں پر ھے ، کوئی پوپ صاحب سے پوچھے "جناب کیا مغربی ممالک میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی عزت کا قانون موجود نہیں؟ اگر ھے تو وہ صحیح ھے، اور پیغمبر اسلام کی عزت کا قانون غلط؟ آخر یہ دہرا معار کیوں؟" اور پھر طرفہ یہ کہ پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت کا قانون تمام انبیاء صادقین کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے بنایا گیاھے۔ بایں ہمہ اس پر تنقید کرنا، سیخ پا ھونا، اور اس کو ختم کرانے کے درپے ھونا اور اس کی تنسیخ کے لئے مہم جوئی کرنا ، سخت افسوس ناک امر ھے۔
جناب صدر مملکت پاکستان!جن حکومتوں نے پہلے اہانت رسول کے مجرموں کو بیرون ملک بھجوایا ان کا انجام دنیا نے دیکھ لیا اور اگر اب کسی نے اسی کردار کو دہرایا تو ان کا انجام دنیا دیکھ لے گی ۔ اسلئے کہ " باخدا دیوانہ و بامحمد ہشیار باش"۔
جناب عزت مآب صدر صاحب! کیا کیا جائے اس کا کہ ادھر کلیسائے روم بولا ، ادھر امریکہ نے نعرہ لگایا کہ ملعونہ آسیہ کے خاندان کے لئے امریکہ ویزا دینے کو تیار ھے ۔ جناب ! کبھی نہ بھولئے وہی امریکہ جس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی مسلمان خاتون کو نمونہ عبرت بنایا ھوا ھے ، وہی امریکہ ایک مسیحی ملعونہ گستاخِِ رسول آسیہ بی بی پناہ دینے کو تیار ھے، آپ کے نمائندہ ہمارے پنجاب کے گورنر جناب سلمان تاثیر کو یہ توفیق نہ ھوئی کہ مسلم بیٹی عافیہ کی خبر گیری کرے لیکن یہ صاحب بہادر 20 نومبر 2010 کو ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں جاتے ہیں، پریس کانفرنس کرتے ہیں، ملعونہ آسہ کو تھپکیاں دی جاتی ہیں، اس کی وکالت کا فریضہ گورنر پنجاب انجام دیتے ہیں ، تیار درخواست پر اسکے دستخط یا انگوٹھا لگواتے ہیں ، اس کی درخواست آنجناب (صدر) کی خدمت میں خود لے جانے کا اعلان عام ھوتا ھے اور گورنر صاحب کا یہ ارشاد ھوتا ھے کہ میں نے تحقیق کرلی ھے یہ وقوعہ غلط ھے، گویا پنچایت کا فیصلہ غلط، جناب سلمان تاثیر صاحب (سلمان رشدی کی بات نہیں ہورہی گورنر پنجاب کا ذکر مبارک ہورہا ھے) بیرونی دنیا کے سامنے پاکستان کا کیا نقشہ پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کا پنچایتی نمبر دارانہ نظام، پولیس، عدلیہ، سب غلط ہیں، جناب تاثیر کی پر تاثیر پاکستان کی خدمت ، تاریخ کا حصہ بن گئی ھے، مدتوں اسے گورنر بنانے کے آپ کے مبارک فیصلے کو خراج تحسین پیش کیا جاتا رہے گا۔
جناب صدر مملکت ! آپ سے درخواست ھے کہ اگر فیصلہ غلط ھے تو ہائیکورٹ پھر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کے تمام مراحل کو یکسر نظر انداز کرکے یہ کیا کیا جارہا ھے؟ کہ عدلیہ کو گورنر کے عہدے کی طرح یوں بے توقیر نہ کیا جائے ، یہ ملک کی خیر خواہی سے میل نہیں کھاتا۔ جان کی امان ملے تو عرض کرنا چاھوں گا کہ جب
اس پر ننکانہ صاحب میں ھڑتال ہوئی ، وکلاء نے ھڑتال کی ، عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا، عوام سڑکوں پر آئے، گویا جہاں وقوعہ وہاں کے سواد اعظم نے گورنر پنجاب کے موقف کو یکسر مسترد کردیا ۔
اس موقف کے کزب پر مہر تصدیق ثبت کردی تو گورنر صاحب نے دوسرا موقف اختیار کیا کہ یہ ضیاء الحق کا قانون ھے بھٹو صاحب کا قانون نہیں، لہٰزا یہ کالا قانون ھے ۔
صدر مملکت صاحب غور فرمائیے یہ کیا فرمان جاری کیا جارہا ھے؟ ضیاالحق کی آڑ میں انبیاء صادقین علیہم السلام بالخصوص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے قانون کو کالا قانون کہا جارہا ھے ؟
اس قانون کو تبدیل کرنے کے لئے شہباز بھٹی اعلان کرچکے ہیں این جی اوز، عاصمہ جہانگیر ، رانجھا صاحب پتہ نہیں کون کون میدان میں اترے کہ قانون کو ختم کیا جائے۔ ان کا جواب
ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے یہ دیا کہ پورے یورپ میں توہین رسالت کے قوانین موجود ہیں ، وہاں کیوں احتجاج نہیں ھوتا؟ اور
راجہ ظفر الحق صاحب کہتے ہیں کہ یہ قانون رہنے دیا جائے اس کی موجودگی کا ملزم کو ہی فائدہ ھوتا ھے ، ورنہ جہاں وقوعہ ھوا ،وہیں رد عمل کا سلسلہ شروع ھوجائے گا۔
لیکن ان معقول جوابات کے باوجود تحفظ ناموس رسالت قانون ختم کروانے والوں کے جزبات میں جوار بھاٹے کا ابھی تک جوبن موجود ھے اور وہ دلیل یہ لارہے ہیں کہ یہ قانون غلط استعمال ھوتا ھے ۔
محترم صدر مملکت صاحب ! آپ سے بہتر کون جانتا ھوگا کہ اور کون کون سے قانون ہیں جو غلط استعمال ھورہے ہیں، پھر ان کو ختم کرانے کے لئے ہلہ گلہ کیوں نہیں ہورہا؟؟؟
مانا کہ بعض بدنصیبوں نے اس قانون کو غلط استعمال کیا ھوگا ، کیا پولیس کی معاونت کے بغیر مقدمہ غلط درج ھوسکتا ھے؟ نہیں ؟ تو پھر پولیس کی سزا کی بات کیوں نہیں ہوتی ؟ قانون کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے ؟ تسلیم کیا جاسکتا ھے کہ مدعی و پولیس آنکھیں بند کرکے غلط مقدمہ درج کراتے ہیں ، تو جناب آپ عدالتوں کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے ؟؟؟آخر عدالت میں جاکر ملزم کی بے گناہی ثابت ھوجائے گی، تو غلط کیس درج کرنے والوں کے بارے میں دفعہ 82 سے کام کیوں نہیں لیا جاتا؟ ۔۔۔ پورے سسٹم کی موجودگی کے باوجود عدالتی فیصلوں کو سبوتاژ کرنا کہ اپیلوں کے فیصلے سے قبل اس کو رہا کرنا ، اس کے تصور سے ہی جسم پر کپکپی طاری ھوجاتی ہے۔
محترم جناب زرداری صاحب! آپ زرا تصور کیجئے ، خدا کرے آپ کے عہد حکومت میں محترمہ بے نظیر کے قتل ناحق کے ملزمان سزا یاب ھوجائیں ، ان کی اپیل آپ کے پاس آجائے ، کیا عدالتی فیصلوں کے باوجود آپ ملزمان کی سزا معاف کردیں گے؟
یقیناً اس کا جواب نفی میں ھے ،
تو پھر توجہ فرمائیے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سے کہیں زیادہ رحمر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کا ایک مسلمان حکمران پر حق ھے ، آپ اس سے چشم پوشی نہ کریں ، ورنہ یہ تو حقیقت ھے کہ دنیا چند روزہ ھے۔ ایک عدالت اور بھی ھے اس عدالت کے فیصلہ کو بائی پاس نہ کیا جاسکے گا۔
وصل اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد وعلٰی ال وصحبہ اجمعین