| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 264
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-03-11), ھارون اعظم (17-03-11), ناصر نعمان (17-03-11), محمد عاصم (17-03-11), مرزا عامر (17-03-11), حیدر (17-03-11), عبدالقدوس (17-03-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبردستی فیصلہ کروانے کی بات تو بعد میں آئے گی پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اگر زبردستی نہ بھی ہوتی تو بھی کیا ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیا جا سکتا تھا ۔؟؟
جی نہیں ۔ کیونکہ قصاص کا معاملہ کا تعلق عام قتل سے ہے ۔ کوئی شخص جو فساد فی الارض کا مرتکب ہو اسکی سزا صرف موت ہے یا اس کے ہاتھ پیر کاٹ دینا یا ملک بدر کرنا ۔ پاکستان ریمنڈ ڈیوس کا ملک تھا ہی نہیں جو اس کو ملک بدر کیا جاتا اب رہ جاتی ہیں پہلی دو سزائیں جن میں سے ایک اسے ملنی چاہیئے تھی ۔ عدالتوں نے اسے قصاص کے بدلے رہا کر کے قرانی قانون کا مذاق اڑایا ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ دن پہلےکسی ٹی وی چینل پرایک انگلش مووی دیکھا رہے تھے جسکا موازنہ ریمینڈ کیس سے کیا جارہا تھااورتقریباً85 فیصد فلم وہی تھی جو اُس وقت صورتحال تھی۔ جیسے ہی مجھے وہ مل گئی ضرورشیئرکروں گی۔ شکریہ
|
|
|
|
|
|
#4 | |||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
اھل علم والے سوال کا جواب تو وہی دیں گے باقی میں دے دیتا ہوں۔ اقتباس:
ای۔ سی۔ ایل میں جب نام ڈالا جاتا ھے تو اس وقت پاکستان کے انٹرنیشنل ائرپورٹ سے بندہ باہر نہیں جا سکتا۔ ایسے موقعوں پر بیرون ملک سے طیارے آتے ہیں اور اس کے لئے ملٹری ائربیس کا استعمال کیا جاتا ھے۔ اللیگل وے:- جن ممالک کی آپس میں سرحدیں لگتی ہیں وہاں سے باہر نکلنا کوئی مشکل کام نہیں زمینی راستوں سے رفیوجی بیک ڈور راستوں سے ایک ملک سے دوسرے ملک سمگل کرتے ہیں جو قدرے خطرہ ناک ہوتے ہیں مگر ممکن بھی ھے۔ اقتباس:
پاکستان میں شریف آدمی کو پتہ ھے کہ گھر کی حفاظت کے لئے پستول رکھنے کے لائسنس بنانا بہت ضروری ھے تو وہ بغیر لائسنس اگر پستول رکھتا ھے تو پھر وہ شریف نہیں ھے۔ اگر کوئی عام آدمی سے پستول برآمد ہو جائے تو پولیس والے اس کے گھر کے بڑوں سے رابطہ کرتے ہیں اور اس صورت میں کچھ لے دے کر معاملہ رفع دفعہ ہو جاتا ھے مگر پستول ضبط ہو جاتی ھے اور پھر اسے کسی اور کے پاس بیچ دیا جاتا ھے۔ 6 ماہ قید اور 50 ہزار جرمامہ قانون میں لکھا ہو گا وہ کم از کم نہیں زیادہ سے زیادہ ہوتا ھے، مگر جج پر ڈپینڈ کرتا ھے کہ وہ اس پر کتنی کم سے کم سزا دیتا ھے، اس پر کوئی چیلنج نہیں کیونکہ سزا و جرمانہ کم ہی ہوتا ھے۔ اقتباس:
اس پر عدالت نے دونوں جرائم پر فیصلہ کر دیا ھے اور وہ درست ھے۔ مگر ابھی رقم وصول کرنے والوں کا بیان بھی بہت ضروری ھے اب وہ بیان کہاں سے جاری کرتے ہیں امریکہ پہنچ کر یا وہ اغواہ ہی رہیں گے اس پر ابھی کوئی اطلاع نہیں۔ غلط یہاں ہوا ھے کہ اسے وہیں مار دیا جاتا جہاں اس نے قتل کئے تھے۔ اس کی وجہ سے ملک کو جو نقصان پہنچ رہا تھا اس پر پاکستان کی ایجنسی کا کام تھا وہ اس کے اسی طرح انکوائری کرتی جیسی گوانتاناموبے میں ہو رہی ھے، تو بہت کچھ سامنے آتا مگر سب اس میں فیل رہے۔ رہی بات بہت کچھ ہونے کی تو اس کے لئے بھی نظر نہیں آتا کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔ والسلام
__________________
|
|||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | sahj (17-03-11), shafresha (18-03-11), ھارون اعظم (17-03-11), مرزا عامر (18-03-11), حیدر (17-03-11), حیدر Rehan (17-03-11), عبدالقدوس (17-03-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام علیکم
کعنان بھائی آپ کی معلومات دیکھتے ہوئے اکثر ایک جملہ جو شائد کسی لطیفہ کا حصہ ہے زہن میں آتا ہے اے کلے بندے دا کام نہی ہے کیا اپ اکیلے ہی ہیں ؟؟ یا آپ صرف بتاتے ہیں اور لکھتا کوئی اور ہے ؟؟ |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() بھائی یہ اکیلے بندے کا کام ہی ھے اور لکھتا بھی میں ہی ہوں۔ اب کوئی انگلینڈ میں آئے اور مجھے ملے تو ہی جان سکتا ھے کہ میں کون ہوں۔ ![]() والسلام |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-03-11), پاکستانی (18-03-11), حیدر (17-03-11), حیدر Rehan (18-03-11), عبدالقدوس (17-03-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوفزدہ کرنے والی معلومات پاء پاءکر میرا تو مارے پریشانی بُرا حال ھے اللہ بس میرے وطن پر رحم کرے ورنہ اسکے دشمن زیادہ جبکہ خیرخواہ کم ھیں۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ ! ویسے تو آپ کے دئیے گئے لنک پر "جبر سے لئے گئے فیصلہ پر"کافی بحث موجود ہوگی ۔۔۔ سردست آپ کے سامنے "قصاص اور دیت" کے مسئلہ پر ایک صاحب علم مفتی مزمل حسین کاپڑیا صاحب کے مضمون سے کچھ اقتباس پیش خدمت ہے : مفتی صاحب جرائم دو قسم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک وہ جرائم ہیں جن میں کسی دوسرے شخص کی جان، مال یا آبرو پر زیادتی ہوتی ہے، جیسے قتل چوری یا کسی پر بد کاری کا الزام۔ جب کہ دوسرے قسم کے جرائم وہ ہیں کہ جن میں کسی دوسرے شخص کی جان مال یا آبرو پر حملہ نہ ہو لیکن شریعت کی نظر میں ان افعال کا ارتکاب بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جیسے شراب نوشی اور بد کاری وغیرہ۔ وہ جرم جس میں کسی شخص کی جان پر زیادتی کی جاتی ہے مثلاً کسی کو قتل کر دیا، اس کے جسم کے کسی حصے کو نقصان پہنچایا تو اگر یہ جرم قصداً یعنی جان بوجھ کر کیا ہے تو اس کی سزا قصاص ہے۔ یعنی جیسا فعل مجرم نے کیا ہے اس کو اس طرح سزا دی جائے۔ اگر قتل کیا ہے اور کسی کو زندگی کی نعمت سے محروم کیا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قاتل کو بھی اس نعمت سے محروم کر دیا جائے اور اگر اس نے جان بوجھ کر کسی انسان کو اس کے جسم کے کسی حصے سے محروم کر دیا ہے تو عدل وانصاف کا تقاضا ہے کہ مجرم کو بھی اس عضو اور حصے سے محروم کر دیا جائے۔ اس سزا کو شریعت کی اصطلاح میں قصاص کہا جاتا ہے او راس سلسلہ میں قرآن کریم میں متعدد آایات ہیں ،ارشاد باری تعالی ہے ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الخ البقرۃ 178 اے ایمان والو! تم پر مقتولین کے سلسلے میں قصاص یعنی جرم کا بدلہ فرض کیا گیا ہے، دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ الخ المائدہ 45 ترجمہ:جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ ناک کے بدلے ناک ، کان، کے بدلے کان دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح دیگر زخموں کا بدلہ بھی لیا جائے گا۔“ مزید لکھتے ہیں کہ شریعت کی نظر میں قصاص لینا مقتولین کے ورثا کا حق ہے یا اگر کسی شخص کے جسم کے کسی حصے پر زیادتی ہوئی ہے اور وہ ابھی زندہ ہے تو قصاص لینا اس کا حق ہے، اگر وہ اپنے حق سے دستبر دار ہو جاتا ہے یا مقتول کے ورثا قصاص کے حق سے دستبر دار ہو جاتے ہیں اور مجرم کو معاف کر دیتے ہیں تو ان کو یہ اختیار ہے کہ وہ دیت لے لیں۔ دیت دراصل ایک قسم کا مالی معاوضہ ہے، اس مالی معاوضہ کی مقدار بھی مقرر ہے اور اس کی کافی تفصیلات ہیں، جو کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد جہاں تک "جبر سے دیت " پر آمادہ کرنے کا تعلق ہے تو یقینا یہ نکتہ تو ہر کوئی باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جبر سے دیت لینے پر مجبور کرنا کیسے شرعی احکامات کے مطابق ہوسکتا ہے ؟؟ حتی کہ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ اپنی تفسیر ابن کثیر میں دیت پر ایک مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: قال مالك رحمه الله في رواية ابن القاسم عنه، وهو المشهور، وأبو حنيفة وأصحابه، والشافعي وأحمد في أحد قوليه: ليس لولي الدم أن يعفو على الدية إلا برضا القاتل، وقال الباقون: له أن يعفو عليها وإن لم يرض الخ یعنی امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں کا اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا ایک رروایت کی رو سے مذہب یہ منقول ہے کہ مقتول کے اولیاء کا قصاص چھوڑ کر دیت پر راضی ہونا اس وقت جائز ہے جب خود قاتل بھی اس پر آمادہ ہو لیکن اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اس میں قاتل کی رضامندی شرط نہیں اگر چہ اس قول پر اور بزرگان دین متفق نہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ جب بزرگوں نے یہاں تک احتیاط فرمانے کی کوشش کی ہے کہ دیت کے لئے بھی قاتل کی رضامندی شامل ہو. تو اس کے بعد مقتول کے ورثا کو (جو پہلے ہی مظلوم ہے) دیت کے لئے جبرا آمادہ کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟؟؟ Last edited by ناصر نعمان; 17-03-11 at 09:08 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیونکہ کراچی کی عوام کا اب یہ سوچ اور وطیرہ بنتا جارہا ہے کہ دھشتگرد کو اگر پولیس کو دیا تو وہ اثرورسوخ کی وجہ سے رہا ہو جائے گا اسلئے دہشت گردوں کو پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اس حوالے سے کراچی کے3 علاقے ڈاکووں رہزنوں کے لئے نوگو ایریا تصور کئے جا تے ہیں 1؛؛گودھرا کیمپ 2لائینز ایریا 3رنچھوڑلائن یہاں پر اکثر دہشت گرد جو عوام کے ہتھے چڑھے انکو وہی پر مار دیا گیا
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. Last edited by ALI-OAD; 18-03-11 at 08:42 AM. |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے یہاں بات دیت سے کچھ آگے کی ہے کیوں کہ فساد فی الارض کا معاملہ ہے جیسا کہ مرزا عامر بھائی نے ذکر کیا ہے۔
دوم یہ کہ امریکہ کسی قسم کی پیمنٹ سے انکاری ہے تو پھر دیت کس نے دی؟ سوم یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر مستامن دار الاسلام میں فساد کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا وہاں بھی دیت کا قانون لاگو ہو سکتا ہے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| کمائي نے زارا کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 18-03-11 | shafresha | ان سوالات کے جوابات مل بھی گئے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا! | 0 |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابھی تو نہیںہو گا لیکن وہ وقت ضرور ہو گا جب ان سوالوں کے زندہ جواب ابھریں گے۔ اور جواب بھی عملی نہ کہ صرف نظری
|
|
|
|