واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا…؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-08-10, 01:07 PM   #1
کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا…؟
sahj sahj آف لائن ہے 01-08-10, 01:07 PM

کیا ہم اللہ کی پکڑ میں آچکے ہیں؟ کیا اللہ نے اپنی دراز کی ہوئی رسی کھینچ لی ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر یہ سب کیا ہے؟
دیکھتے ہی دیکھتے اچھے بھلے لوگ چیتھڑوں میں تبدیل ہوگئے۔ ابھی ہم ان بکھرے وجودوں کو اکٹھا کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک ہمیں تباہ کن سیلاب نے آلیا اور آن کی آن میں سینکڑوں لوگ بپھرے ہوئے پانیوں میں تنکوں کی طرح بہہ گئے۔ بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں۔ عمر بھر کا جمع کیا ہوا مال و اسباب لمحوں میں برباد ہوگیا۔
درجنوں ٹی وی چینل ' سینکڑوں کی تعداد میں اخبارات اور ان میں بیٹھے ''بقراط'' اور ''افلاطون'' تماشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی حکمرانوں کو کوس رہا ہے۔ کوئی جہاز کی تباہی کو تکنیکی خرابی قراردے رہا ہے کوئی یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کنٹرول ٹاور نے اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتی۔ کوئی متاثرین سیلاب کے لئے بروقت امداد نہ پہنچنے کا رونا رو رہا ہے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں لیکن جو بات کہنے والی اور کرنے والی ہے وہ کوئی نہیں کر رہا۔
شاید یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ ایک ذات ایسی بھی ہے جو میزان عدل تھامے بیٹھی ہے ۔ یہ وہ ذات ہے جو افراد کے گناہوں سے اغماض بھی کرلیتی ہے لیکن ملت کے گناہوں کو معاف نہیں کرتی۔ یہ وحدہ لاشریک ذات کسی پر ظلم نہیں کرتی لیکن جب کوئی قوم ظلم میں حد سے گزر جائے تو اس پر قہر بن کر ٹوٹ پڑتی ہے۔ آج ہم اسی قہر کی زد میں ہیں لیکن اس احساس سے بھی عاری ہوچکے ہیں کہ ہم پر قہر کیوںٹوٹ رہا ہے۔
راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ میں فاسٹ فوڈ کی ایک مشہور دکان ہے یہاں شام کے اوقات میں بے پناہ رش ہوتا ہے۔ جس روز طیارے کا المناک حادثہ ہوا ' اسی شام میں اس دکان کے سامنے سے گزرا تو یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دکان پر اسی طرح رش لگا ہوا ہے جیسے عام دنوں میں ہوتا ہے۔ جس روز صوبہ سرحد کے کئی اضلاع ' مظفر آباد اور پنجاب کے کچھ اضلاع خوفناک سیلاب کی زد میں تھے اس شام بھی میرا ادھر سے گزر ہوا اور یہ دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ دکان کے باہر اسی طرح لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ راولپنڈی بھی نالہ لئی کی وجہ سے شدید خطرے میں تھا لیکن جو لوگ خطرے سے باہر تھے وہ حسب معمول اللوں تللوں میں مصروف تھے۔شائد اس احساس میں مبتلا کہ وہ پکے اور مضبوط گھروں کے باسی ہیں مگر بھول چکے کہ بسا اوقات آفات ارضی و سماوی میں پکے گھر بھی ریت کے گھروندے بن جاتے ہیں۔
اگلے روز جبکہ طوفانی بارشوں کا سلسلہ تھم چکا تھا۔ برطانیہ سے مولانا ادریس کا فون آگیا۔ کہنے لگے میں حیران ہوں کہ یہ ٹی وی چینلز پر بیٹھے لوگ کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ الزام تراشی کا بازار گرم ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک نکتہ آفرینی ہے لیکن کسی ایک کی زبان سے بھی نہیں نکل رہا کہ اللہ ہم سے ناراض ہے۔ کسی کو یہ کہنے کی توفیق نہیں ہو رہی کہ یہ اجتماعی توبہ کا وقت ہے۔ اللہ کو راضی کرنے ' اپنی خطائوں پر پچھتانے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوکر گڑگڑانے کا وقت ہے۔ روٹھے ہوئے رب کو منانے کا وقت ہے۔ زندگی کے ایک لمحے کا بھی بھروسہ نہیں۔ زندگی کی صورت جو مہلت عمل ہے یہ ختم ہوگئی تو ہم اللہ کے حضور کس حال میں پیش ہوں گے؟ کیا ہم موت کو بھول گئے ہیں حالانکہ اللہ کے رسولۖ نے اسے کثرت سے یاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ امتیاز بھائی میری قوم کو بتائو کہ ایک کے بعد دوسرے سانحے سے دوچار کرکے قدرت ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے ہمیں ایک کے بعد دوسرا پیغام مل رہا ہے کہ ہم اللہ کی طرف واپس لوٹ آئیں۔ ہم سب اپنا اپنا محاسبہ کریں۔ اپنے حقوق و فرائض کو پہنچانیں۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم سوچ سکیں یہ آئے روز ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم جان سکیں ہمارا پروردگار ہم سے کیا چاہتا ہے؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اجتماعی توبہ کا اہتمام کریں۔ بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوکر اتنا روئیں ' اتنا روئیں کہ خدا کو ہم پر رحم آجائے۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اللوں تللوں کو چھوڑ کر غریبوں ' ناداروں ' کمزوروں ' مجبوروں ' مقہوروں ' یتیموں ' بیوائوں ' ضعیفوں اور معذوروں کی دستگیری کریں؟ کیا ہمیں اس وقت کا انتظار ہے جب صور اسرافیل پھونک دیا جائے؟ اگر یہ زلزلے ' شہر شہر دندناتی موت ' یہ پہاڑوں سے ٹکراتے طیارے اور یہ بپھرے ہوئے سیلاب بھی ہمیں نہ جگاسکے تو پھر کیا ہم اس لمحے جاگیں گے جب پہاڑوں کو روئی کے گالوں کی طرح اڑا دیا جائے گا؟ یہ خودسری ' یہ سرکشی اور یہ بغاوت کب تک؟
سیلاب نے اگر لاکھوں لوگوں کو بے گھر و بے آسرا کر دیا ہے تو پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے بھی تو ہیں جو اس طوفان بلاخیز میں محفوظ رہے ہیں۔ اگر یہ سب لوگ ایثار کا مظاہرہ کریں تو ہر آفت زدہ مرد و زن اور بچے کو چھت ہی نہیں دو وقت کی روٹی بھی مل سکتی ہے میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ جس کے پاس دو روٹیاں ہیں وہ ایک روٹی اپنے اس مسلمان بھائی کو دیدے جو بھوکا ہے جس کو ایک روٹی میسر ہے وہ آدھی روٹی اپنے اس مسلمان بھائی کو دیدے جو نادار اور مصیبت زدہ ہے جب اس طرح کی دردمندی اور ایثار کا مظاہرہ ہوگا تو مجھے بتائیں پھر کون بھوکا رہے گا ۔ کوئی کھلے آسمان تلے کیوں پڑا رہے گا؟
مولانا ادریس کی گفتگو سن کر میرا دل بوجھل ہوگیا اور مجھے وہ منظر یاد آگیا جب ایک طرف لوگ اپنے گھروں اور مال اسباب سمیت سیلاب میں بہہ رہے تھے اور دوسری طرف راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ کی ایک فوڈ شاپ پر ان گنت لوگ داد عیش دے رہے تھے۔ کھائو ' پیو ' موج اڑائو اور باقی سب بھول جائو کی عملی تفسیر بنے ہوئے تھے۔
معاً میری سوچوں کا پنچھی ماضی کی طرف اڑان بھرنے لگا۔ مجھے یاد آیا کہ نائن الیون کے بعد جب افغانوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑائے جارہے تھے تو اس وقت بھی ہم کھاپی اور موج اڑا رہے تھے۔2005 ء کے زلزلے نے ہمیں اتھل پتھل کرکے رکھ دیا لیکن ہمارے انداز و اطوار میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ ا س کے بعد خودکش دھماکوں ' بم دھماکوں نے ہمارے وجودوں کو کرچی کرچی کرکے رکھ دیا لیکن ہم نے اللہ سے رجوع کیا اور نہ ہی ہمارے دل توبہ کی طرف مائل ہوئے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے ہی ایک شہر کی مسجد اور مدرسے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی لیکن ہم خاموش تماشائی اور بے حس تماشبین کی طرح صرف تماشہ دیکھتے رہے۔ ہماری سڑکیں خون سے رنگین ہوتی رہیں۔ ہماری عمارتیں کھنڈر ہوتی رہیں۔ ہمارے بھائیوں ' بہنوں ' بزرگوں اور بچوں کی لاشیں اٹھتی رہیں لیکن ہم نے توبہ کی اور نہ اللہ سے رجوع کیا۔ اور تو اور ان بھیانک گناہوں کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہ کیا جو ہم سے سرزد ہوچکے ہیں۔ گویا ہم احساس ندامت سے بھی محروم کر دیئے گئے؟ تو پھر باقی کیا بچا؟
خیالات کی بہتی رو سے واپس پلٹنے کے بعد میرے کانوں میں مولانا ادریس کا کہا ہوا وہ جملہ ایک بار پھر گونجا ' کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اجتماعی توبہ کا اہتمام کریں اور اگر اب بھی وہ وقت نہیں آیا تو پھر ہمیں انتظار کرنا چاہیے اس لمحے کا جب صور اسرافیل پھونک دیا جائے گا۔


http://www.dailyausaf.com/edi_detail...2924&art_id=36
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 103
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (03-08-10), ھارون اعظم (01-08-10), محمدخلیل (01-08-10), مرزا عامر (02-08-10), سحر (01-08-10), عبداللہ آدم (04-08-10)
جواب

Tags
color, com, php, کوشش, کنٹرول, پاکستان, لوگ, لمحوں, چینل, موت, مسجد, آج, اللہ, الزام, بھائی, بچوں, حال, خون, خودکش, خدا, زندگی, شہر, شام, صوبہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
کوئی بھی ڈرائیو کسی بھی Window میں Hide کریں عبدالقدوس کمپیوٹر کی باتیں 1 01-07-08 09:16 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger