واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا ایسا ممکن ہے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-10-11, 04:34 AM   #1
کیا ایسا ممکن ہے ؟
سحر سحر آن لائن ہے 18-10-11, 04:34 AM

میرا ایک سوال ہے آپ تمام لوگوں سے کیا ایک مسلمان بغیر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو محسوس کیے ہو سکتا ہے ؟
یا یوں کہنا چاہیے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک مسلمان کا دل اللہ کی محبت کومحسوس کرنے سے خالی ہو؟ یا ایک مسلمان کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نا ہوتی ہو ؟

۔
نوٹ :
اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دیے گا ، کیونکہ ہمارا ایک ایک لفظ لکھا جارہا ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 18-10-11 at 07:10 AM..

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 513
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-10-11), کنعان (19-10-11), نبیل خان (18-10-11), محمد عاصم (18-10-11), مرزا عامر (18-10-11), آبی ٹوکول (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), حیدر Rehan (18-10-11), حسن قادری (20-10-11), رضی (19-10-11), شمشاد احمد (18-10-11), عبداللہ آدم (19-10-11)
پرانا 18-10-11, 06:14 AM   #2
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میرا ایک سوال ہے آپ تمام لوگوں سے کیا ایک مسلمان بغیر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ہو سکتا ہے ؟
یا یوں کہنا چاہیے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک مسلمان کا دل اللہ کی محبت سے خالی ہو؟ یا ایک مسلمان کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نا ہو ؟

۔
نوٹ :
اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دیے گا ، کیونکہ ہمارا ایک ایک لفظ لکھا جارہا ہے ۔
جواب المختصر :- بالکل بھی نہیں ہرگز نہیں کوئی اس وقت تک مومن ہوہی نہیں سکتا جب تک کے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے محبت نہ ہو کوئی زبان سے کلمہ پڑھ لے اور چند ظاہری اعمال میں دین اسلام کی مشابہت اختیار کرلے تو اس طرح سے ظاہرا تو مسلمان کہلائے گا مگر حقیقت میں منافق ہوگا ۔ کیونکہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم شرط ایمان اور بنیادی تقاضا ایمان ہے جبکہ ہر شئے سے بڑھ کر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہونا کامل ایمان کی شرط اور نشانی ہے لہذا جسکا دل مطلقا حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی ہے وہ ہرگز مومن نہیں اور جسکے دل میں محبت رسول نفسا تو ہے مگر دیگر محبتیں اس پر حاوی ہیں تو ایسے شخص کا ایمان کامل نہیں یاد رہے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جدا جدا ہرگز نہیں دونوں ایک ہی ہیں ۔۔۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 18-10-11 at 06:18 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (18-10-11), shafirajput (19-10-11), کنعان (19-10-11), ننھا بچہ (18-10-11), نبیل خان (18-10-11), محمد عاصم (18-10-11), مرزا عامر (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), سحر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11), عبداللہ آدم (19-10-11), عبداللہ حیدر (18-10-11), عروج (18-10-11)
کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
19-10-11 عبداللہ آدم ر جسکے دل میں محبت رسول نفسا تو ہے مگر دیگر محبتیں اس پر حاوی ہیں تو ایسے شخص کا ایمان کامل نہیں 50
پرانا 18-10-11, 06:23 AM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
جواب المختصر :- بالکل بھی نہیں ہرگز نہیں کوئی اس وقت تک مومن ہوہی نہیں سکتا جب تک کے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے محبت نہ ہو کوئی زبان سے کلمہ پڑھ لے اور چند ظاہری اعمال میں دین اسلام کی مشابہت اختیار کرلے تو اس طرح سے ظاہرا تو مسلمان کہلائے گا مگر حقیقت میں منافق ہوگا ۔ کیونکہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم شرط ایمان اور بنیادی تقاضا ایمان ہے جبکہ ہر شئے سے بڑھ کر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہونا کامل ایمان کی شرط اور نشانی ہے لہذا جسکا دل مطلقا حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی ہے وہ ہرگز مومن نہیں اور جسکے دل میں محبت رسول نفسا تو ہے مگر دیگر محبتیں اس پر حاوی ہیں تو ایسے شخص کا ایمان کامل نہیں یاد رہے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جدا جدا ہرگز نہیں دونوں ایک ہی ہیں ۔۔۔والسلام
آبی بھائی
کسی کو منافق بولنے میں جلدی نا کریں ۔
چلیں میں اپنا سوال مختلف اندازمیں کرتی ہوں
ایک شخص ہے جس کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-10-11), کنعان (19-10-11), محمد عاصم (18-10-11), آبی ٹوکول (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), حسن قادری (20-10-11), شمشاد احمد (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 06:28 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میرا ایک سوال ہے آپ تمام لوگوں سے کیا ایک مسلمان بغیر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ہو سکتا ہے ؟
یا یوں کہنا چاہیے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک مسلمان کا دل اللہ کی محبت سے خالی ہو؟ یا ایک مسلمان کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نا ہو ؟

۔
نوٹ :
اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دیے گا ، کیونکہ ہمارا ایک ایک لفظ لکھا جارہا ہے ۔

'مسلمان' تو ایسا ہو سکتا ہے اور میرے خیال میں ہزاروں ایسےہیں،جن کواللہ اور رسول کا شعور ہی نہیں،توان سے محبت کا شعور کیا ہو گا،تاہم کوئی مومن ایسا نہیں ہو سکتاجس کا دل اللہ اور رسول کی محبت سے خالی ہو۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی پکی نشانی یہ بیان کی گئی ہے:
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ " ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں"

دوسرے مقام پر ان لوگوں کو فاسق قرار دیا گیا ہے جو اللہ،رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کو دنیا کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب نہیں رکھتے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ
اے نبی(ﷺ ) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں ، اور تمہارے عزیز و اقارب ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار، جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول(ﷺ)اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔(التوبہ:24)
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (18-10-11), shafirajput (19-10-11), skjatala (18-10-11), کنعان (19-10-11), محمد عاصم (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), سحر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11), عبداللہ آدم (19-10-11)
پرانا 18-10-11, 06:35 AM   #5
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آبی بھائی
کسی کو منافق بولنے میں جلدی نا کریں ۔
چلیں میں اپنا سوال مختلف اندازمیں کرتی ہوں
ایک شخص ہے جس کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے
میرے بہن محبت کا محسوس نہ ہونا اور محبت کا نہ ہونا دو الگ امور ہیں جیسا کہ میں نے عرض کی کوئی شخص اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتا کہ جسے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ ہو کیونکہ ایمان اور اسلام ان دونوں کا خمیر ہی محبت سے اٹھا ہے جبکہ انسان جو کہ انس سے عبارت ہے وہ بھی سراپا محبت ہی کا عنوان ہے یاد رہے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی حقیقت ان سے محبت ہی ہے ۔
پھر یاد رہے کے ہمارا کسی سے محبت کرنا اور اس محبت کے عوارض کو اپنی ذات میں محسوس کرنا دو الگ امور ہیں جب ہم اپنی محبت میں ناقص ہوتے ہیں تو محبت کے عوارض کو اپنی ذات میں محسوس نہیں کرپاتے مگر اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ہم اور ہماری ذات اور وجود سے نفس محبت ہی کی نفی کردی جائے محبت تو ہوتی ہے مگر وہ اپنے تمام تر تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی لہذا وہ مختلف مراحل میں ہوتی ہے لہذا جو یہ کہے کہ وہ مومن تو ہے مگر اسے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی تو ہم اس سے مطلقا محبت کی نفی نہیں کریں گے بلکہ ا سکی محبت کے ناقص ہونے کی وجہ سے اسے یہ بتلائیں گے کہ وہ اسے کامل بنائے تاکہ اس احساس کو فکری اور شعوری سطح تک لائے اور اس اسٹیج سے نکلے کہ جس میں اسے خود اپنی ذات پر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کہ عوارض کو محسوس کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ آپ نقطہ پاگئی ہونگی ۔۔۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (18-10-11), shafirajput (19-10-11), کنعان (19-10-11), مرزا عامر (19-10-11), احمد نذیر (18-10-11), سحر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11), عبداللہ آدم (19-10-11), عبداللہ حیدر (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 06:35 AM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
'مسلمان' تو ایسا ہو سکتا ہے اور میرے خیال میں ہزاروں ایسےہیں،جن کواللہ اور رسول کا شعور ہی نہیں،توان سے محبت کا شعور کیا ہو گا،اہم کوئی مومن ایسا نہیں ہو سکتاجس کا دل اللہ اور رسول کی محبت سے خالی ہو۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی پکی نشانی یہ بیان کی گئی ہے:
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ " ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں"

دوسرے مقام پر ان لوگوں کو فاسق قرار دیا گیا ہے جو اللہ،رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کو دنیا کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب نہیں رکھتے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ
اے نبی(ﷺ ) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں ، اور تمہارے عزیز و اقارب ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار، جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول(ﷺ)اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔(التوبہ:24)

اگر شعور کی بات آپ علم اور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے کررہے ہیں تو اس میں اگر کوئی شخص بہت سوں سے بہتر ظاہر ہو ۔
میرا سوال پہر اپنی جگہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان تمام تر شعور ، اور علم رکھتے ہوئے اور سب کچھ جانتے بوجھتے اور سوچ سمجھ کہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی ۔
۔

Last edited by سحر; 18-10-11 at 07:24 AM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-10-11), آبی ٹوکول (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), حیدر Rehan (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 07:15 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اگر شعور کی بات آپ علم اور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے کررہے ہیں تو اس میں وہ شخص بہت سوں سے بہتر ہے ۔
میرا سوال پہر اپنی جگہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان تمام تر شعور ، اور علم رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی ۔
ناسمجھی کی بات بھی نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ اس نے یہ بات بہت سوچ سمجھ کر کی ہے ۔
قرآن نے یہ مسئلہ یوں حل کیا ہے
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاقُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْاوَلٰكِنْ قُوْلُوْۤااَسْلَمْنَاوَلَ مَّايَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَاِنْ تُطِيْعُوااللّٰهَ وَرَسُوله لَايَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْـااِنَّ اللّٰہ غَفُوْرٌرَّحِيْمٌ
یہ بدوی کہتے ہیں کہ ’’ہم ایمان لائے ۔ ‘‘ ان سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے ، بلکہ یوں کہو کہ ’’ہم مسلمان ہوگئے۔‘‘ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقینا اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام قبول کرتے ہی کوئی شخص مومن نہیں بن جاتا۔اس میں کئی مدارج ہیں۔مومن بھی سب برابر نہیں بلکہ ایمان کے لحاظ سےان کے مختلف درجے ہیں۔
رہا وہ خاص معاملہ جس کا آپ نے ذکر کیا ہے کہ ایک علم سے آراستہ شخص اللہ اور رسول سے محبت کے جذبے سے خالی ہے تویقینا اس کا علم خام ہے۔تاہم ہمیں ایسے شخص کے لیے غم و غصے کے بجائے دعا کرنی چاہیے۔

Last edited by عبدالہادی احمد; 18-10-11 at 07:25 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (19-10-11), کنعان (19-10-11), مرزا عامر (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), سحر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11), عبداللہ آدم (19-10-11)
پرانا 18-10-11, 10:57 AM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
قرآن نے یہ مسئلہ یوں حل کیا ہے
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاقُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْاوَلٰكِنْ قُوْلُوْۤااَسْلَمْنَاوَلَ مَّايَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَاِنْ تُطِيْعُوااللّٰهَ وَرَسُوله لَايَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْـااِنَّ اللّٰہ غَفُوْرٌرَّحِيْمٌ
یہ بدوی کہتے ہیں کہ ’’ہم ایمان لائے ۔ ‘‘ ان سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے ، بلکہ یوں کہو کہ ’’ہم مسلمان ہوگئے۔‘‘ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقینا اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے۔
۔
یہ آیت بدوی نو مسلموں کے لیے نازل ہوئی ہے جو علم و شعور میں باقی صحابہ رضی اللہ عنہ سے کم تھے ۔
کیا اس آیت کو ہم پر فٹ کیا جاسکتا ہے ۔
جو کہ سال ہا سال سے مسلمان ہیں مطلب پیدائشی مسلمان اور علم و شعور میں بھی بہت آگے ۔ کہ کتابیں پڑھ پڑھ کر ڈھیر لگادیں ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 11:05 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
میرے بہن محبت کا محسوس نہ ہونا اور محبت کا نہ ہونا دو الگ امور ہیں جیسا کہ میں نے عرض کی کوئی شخص اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتا کہ جسے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ ہو کیونکہ ایمان اور اسلام ان دونوں کا خمیر ہی محبت سے اٹھا ہے جبکہ انسان جو کہ انس سے عبارت ہے وہ بھی سراپا محبت ہی کا عنوان ہے یاد رہے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی حقیقت ان سے محبت ہی ہے ۔
پھر یاد رہے کے ہمارا کسی سے محبت کرنا اور اس محبت کے عوارض کو اپنی ذات میں محسوس کرنا دو الگ امور ہیں جب ہم اپنی محبت میں ناقص ہوتے ہیں تو محبت کے عوارض کو اپنی ذات میں محسوس نہیں کرپاتے مگر اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ہم اور ہماری ذات اور وجود سے نفس محبت ہی کی نفی کردی جائے محبت تو ہوتی ہے مگر وہ اپنے تمام تر تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی لہذا وہ مختلف مراحل میں ہوتی ہے لہذا جو یہ کہے کہ وہ مومن تو ہے مگر اسے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی تو ہم اس سے مطلقا محبت کی نفی نہیں کریں گے بلکہ ا سکی محبت کے ناقص ہونے کی وجہ سے اسے یہ بتلائیں گے کہ وہ اسے کامل بنائے تاکہ اس احساس کو فکری اور شعوری سطح تک لائے اور اس اسٹیج سے نکلے کہ جس میں اسے خود اپنی ذات پر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کہ عوارض کو محسوس کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ آپ نقطہ پاگئی ہونگی ۔۔۔والسلام
آبی بھائی آپ کے مراسلے سے ریلیٹڈ ایک سوال ذہن میں ایا ہے کہ
آپ نے کہا کہ محبت کے ہونے اور محبت کے محسوس کرنے میں فرق ہے ۔
جب دنیاوی محبت ہوتی ہے تو وہ اتنی شدت سے محسوس ہوتی ہے تو اللہ کی محبت تو اصل محبت ہے وہ اگر ہوتی ہے تو محسوس کیوں نہیں ہوگی

Last edited by سحر; 18-10-11 at 11:18 AM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (18-10-11), فیصل ناصر (18-10-11), مرزا عامر (18-10-11), آبی ٹوکول (18-10-11), احمد نذیر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 02:53 PM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آبی بھائی آپ کے مراسلے سے ریلیٹڈ ایک سوال ذہن میں ایا ہے کہ
آپ نے کہا کہ محبت کے ہونے اور محبت کے محسوس کرنے میں فرق ہے ۔
جب دنیاوی محبت ہوتی ہے تو وہ اتنی شدت سے محسوس ہوتی ہے تو اللہ کی محبت تو اصل محبت ہے وہ اگر ہوتی ہے تو محسوس کیوں نہیں ہوگی
جسے محسوس ہوتی ہے اسے خوب محسوس ہوتی ہے ۔ اس کا کوئی پیمانہ نہیں ۔ اور اس کا احساس وقت کے ساتھ ساتھ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے ۔ کبی آپ اسے بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں اور کبھی نارمل طریقے سے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا

Last edited by مرزا عامر; 18-10-11 at 02:55 PM.
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (19-10-11), فیصل ناصر (18-10-11), آبی ٹوکول (18-10-11), سحر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 03:12 PM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میرا ایک سوال ہے آپ تمام لوگوں سے
کیا ایک مسلمان بغیر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو محسوس کیے ہو سکتا ہے ؟
نوٹ :
اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دیے گا ، کیونکہ ہمارا ایک ایک لفظ لکھا جارہا ہے ۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
کیا کوئی مسلمان تمام تر شعور ، اور علم رکھتے ہوئے اور سب کچھ جانتے بوجھتے اور سوچ سمجھ کہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محسوس نہیں ہوتی ۔
۔

نوٹ لکھ کر جب جواب کے لیے ایک ایک لفظ کہ لکھئے جانے کا اپ کہہ چکی ہیں تو پھر اپ نے اپنے سوال پر پہلے غور کیوں نہی کیا ؟

یعنی بعد میں عبدالہادی احمد صاحب کے تفصیلی جواب کو سمجھنے کے بعد اپ نے اپنے سوال کو پورے طور پر بدل دیا۔

کیا اپ کا یہ کہنا کہ جواب سوچ سمجھ کر دییجئے گا کیونکہ ایک ایک لفظ لکھا جارہا ہے
سوال کے لیے نہی تھا ؟؟؟؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
اپ کا سارا دھیان ایک نامکمل سوال پر تھا
اسی وجہ سے اپ نے یہ سوال دوسرے مراسلے میں 6 یا 7 بار دھرایا یہاں تک کہ اکرام بھائی نے بھی جواب نہ دیا

۔
۔
۔
چند اصولوں سے یہ دو الگ الگ سوال بتنے ہیں
ان میں سے اپ کو کون سے سوال کا جواب چاہیے ؟

کیونکہ
پہلے سوال کا جواب "ہاں" میں ہے
اور
دوسرے سوال کا جواب "نہی" میں ہے
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-10-11, 03:26 PM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
نوٹ لکھ کر جب جواب کے لیے ایک ایک لفظ کہ لکھئے جانے کا اپ کہہ چکی ہیں تو پھر اپ نے اپنے سوال پر پہلے غور کیوں نہی کیا ؟

یعنی بعد میں ل کے تفصیلی جواب کو سمجھنے کے بعد اپ نے اپنے سوال کو پورے طور پر بدل دیا۔

کیا اپ کا یہ کہنا کہ جواب سوچ سمجھ کر دییجئے گا کیونکہ ایک ایک لفظ لکھا جارہا ہے
سوال کے لیے نہی تھا ؟؟؟؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
اپ کا سارا دھیان ایک نامکمل سوال پر تھا
اسی وجہ سے اپ نے یہ سوال دوسرے مراسلے میں 6 یا 7 بار دھرایا یہاں تک کہ اکرام بھائی نے بھی جواب نہ دیا

۔
۔
۔
چند اصولوں سے یہ دو الگ الگ سوال بتنے ہیں
ان میں سے اپ کو کون سے سوال کا جواب چاہیے ؟

کیونکہ
پہلے سوال کا جواب "ہاں" میں ہے
اور
دوسرے سوال کا جواب "نہی" میں ہے
میں تو نہیں سمجھتی کہ یہ دونوں سوالات متضاد ہیں ۔
ہاں دوسرے سوال میں تفصیلات ضرور ہیں ۔
پہلے مراسلے میں صرف مسلمان لکھا ہے ۔
اور دوسرے میں عبدالہادی بھائی کے مراسلے کے بعد چند باتیں ایڈ کی ہیں ۔
یعنی کہ ایک مسلمان پورے علم و شعور کے ساتھ یہ کہتا ہے
جی یہ نوٹ سوال پر پہلے نافذ ہوتا ہے بعد میں جواب پر آپ کے خیال میں مکمل سوال کیا ہونا چاہیے ۔ اگر آپ میرا مدعا سمجھ گئے ہوں تو
شکریہ

Last edited by سحر; 18-10-11 at 03:29 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (18-10-11), حیدر Rehan (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 04:21 PM   #13
Member
اجنبی
 
ونودراتھور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 95
کمائي: 92
شکریہ: 150
66 مراسلہ میں 173 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماف کیجئے گا بہنابات میری سمج سے باہر ہے
ونودراتھور آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-10-11, 04:52 PM   #14
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آبی بھائی آپ کے مراسلے سے ریلیٹڈ ایک سوال ذہن میں ایا ہے کہ
آپ نے کہا کہ محبت کے ہونے اور محبت کے محسوس کرنے میں فرق ہے ۔
جب دنیاوی محبت ہوتی ہے تو وہ اتنی شدت سے محسوس ہوتی ہے تو اللہ کی محبت تو اصل محبت ہے وہ اگر ہوتی ہے تو محسوس کیوں نہیں ہوگی
اسلام علیکم ڈئر سسٹر آپکے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ محبت کا مادہ حب ہے اور حب کی خو ہے کہ وہ حسن و خوبی پر ہی منتج ہوتی ہے یعنی محبت بنیادی طور پر اپنے نفس میں اور خارجی نفوس میں ہمیشہ حسن و خوبی کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے لہذا چاہے وہ حسن وخوبی ظاہر میں ہو یا باطن میں چاہے اشکال میں ہو افعال میں ہویا اوصاف میں ہو محبت اسکی تلاش میں سرگرداں رہتی ہےکیونکہ حقیقت میں محبت کا یہ فطری اثر ہے کہ وہ انسان کو محبوب کے اوصاف حمیدہ کی طرف مائل کرکے اسے انسان کا محبوب بنادیتی ہے نتیجتا اس (محبت)کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان (تقاضوں) کی وجہ سے وہ انسان کو اپنے محبوب اور اس کی خواہشات کی طرف بھی بہا لے جاتی ہے ۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نفس الامر میں ہماری محبت کمزور ہو ،
تو ایسی صورت میں وہ اپنے ہونے کہ اعتبار سے تو حقیقت رکھتی ہے مگر چونکہ تقاضوں کے اعتبار سے کمزور ہوتی ہے لہذا محسوسات میں جلد آ نہیں پاتی، کیونکہ ایک حقیقی محبت یقینا عملی آثار کی حامل ہوتی ہے اور ایسی محبت محب کا محبوب سے ایک ایسا تعلق قائم کردیتی ہے جو محبوب کی آرزووٴں کی راہ میں ثمر بخش ہو اور ا س کی آرزووٴں کی تکمیل کے لئے محب کو سعی و کوشش کے لئے ایستادہ کردیتی ہے ۔
اس بات کی دلیل اور وجہ بہت واضح ہے کیونکہ انسان کا کسی سےمحبت اور فطری لگاؤ محض اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اسے اس میں کوئی نہ کوئی نقطہ کمال نظر آرہا ہوتا ہے چناچہ انسان کبھی کسی ایسی چیز سے محبت نہیں کرتا کہ جس میں کوئی نقطہٴ کمال نہ ہولہذا خدا سے انسان کی محبت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے کمال کا سرچشمہ و منبع بلکہ منتہاء ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے محبت نفس الامر یعنی حقیقت میں وھبی شئے ہےمگر کبھی کبھی اس کاحصول کسب سے بھی ممکن ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ کسب کے زریعے اس محبت کو شدت یا کمال بخشا جاتا ہے سو یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا خود سے محبت بلکہ اپنی محبت کو تمام محبتوں پر ترجیح دینے کا حکم دیا ہے ۔ اور حکم وہب پر نہیں بلکہ ہمیشہ کسب پر منتج ہوتا ہے ۔ لہذا وہ محبتیں جو اپنے نفس الامر میں تو وجود رکھتی ہوں انکو نقطہ کمال تک پہنچانے کے لیے کسب شرط ہے اور یہی کسب چونکہ ہماری زندگیوں سے مفقود ہو چلا ہے تو یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی شدت کو ہم اپنے نفوس میں محسوس نہیں کرپاتے جبکہ یہی محبت جب ہمیں غیر اللہ یعنی دنیا سے ہوتی ہے تو ہم اس کو اسکے تمام تر تقاضوں سے نبھاتے ہیں سو اسی وجہ سے اسےشدت سے محسوس بھی کرتے ہیں ۔امید کرتا ہونںکہ نقطہ پا گئی ہونگی وگرنہ یہ مضمون محبت انتہائی طوالت کا متقاضی ہے ۔۔۔والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 18-10-11 at 05:01 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (18-10-11), shafirajput (19-10-11), کنعان (19-10-11), منتظمین (20-10-11), مرزا عامر (19-10-11), حیدر Rehan (19-10-11), سحر (18-10-11), شمشاد احمد (18-10-11), عبداللہ حیدر (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 05:02 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم ڈئر سسٹر آپکے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ محبت کا مادہ حب ہے اور حب کی خو ہے کہ وہ حسن و خوبی پر ہی منتج ہوتی ہے یعنی محبت بنیادی طور پر اپنے نفس میں اور خارجی نفوس میں ہمیشہ حسن و خوبی کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے لہذا چاہے وہ حسن وخوبی ظاہر میں ہو یا باطن میں چاہے اشکال میں ہو افعال میں ہویا اوصاف میں ہو کیونکہ حقیقت میں محبت کا یہ فطری اثر ہے کہ وہ انسان کو محبوب کے اوصاف حمیدہ کی طرف مائل کرکے اسے انسان کا محبوب بنادیتی ہے نتیجتا اس (محبت)کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان (تقاضوں) کی وجہ سے وہ انسان کو اپنے محبوب اور اس کی خواہشات کی طرف بھی بہا لے جاتی ہے البتہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نفس الامر میں ہماری محبت کمزور ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے ہونے کہ اعتبار سے تو حقیقت رکھتی ہے مگر چونکہ تقاضوں کے اعتبار سے کمزور ہوتی ہے لہذا محسوسات میں جلد آ نہیں پاتی کیونکہ ایک حقیقی محبت یقینا عملی آثار کی حامل ہوتی ہے اور ایسی محبت محب کا محبوب سے ایک ایسا تعلق قائم کردیتی ہے جو محبوب کی آرزووٴں کی راہ میں ثمر بخش ہو اور ا س کی آرزووٴں کی تکمیل کے لئے محب کو سعی و کوشش کے لئے ایستادہ کردیتی ہے ۔
اس بات کی دلیل اور وجہ بہت واضح ہے کیونکہ انسان کا کسی سےمحبت اور فطری لگاؤ محض اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اسے اس میں کوئی نہ کوئی نقطہ کمال نظر آرہا ہوتا ہے چناچہ انسان کبھی کسی ایسی چیز سے محبت نہیں کرتا کہ جس میں کوئی نقطہٴ کمال نہ ہولہذا خدا سے انسان کی محبت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے کمال کا سرچشمہ و منبع بلکہ منتہاء ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے محبت نفس الامر یعنی حقیقت میں وھبی شئے ہے مگر اس کا حصول کسب سے بھی ممکن ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ کسب کے زریعے اس محبت کو شدت یا کمال بخشا جاتا ہے سو یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا خود سے محبت بلکہ اپنی محبت کو تمام محبتوں پر ترجیح دینے کا حکم دیا ہے ۔ اور حکم وہب پر نہیں بلکہ کسب پر منتج ہوتا ہے ۔ لہذا وہ محبتیں جو اپنے نفس الامر میں تو وجود رکھتی ہیں انکو نقطہ کمال تک پہنچانے کے لیے کسب شرط ہے اور یہی کسب چونکہ ہماری زندگیوں سے مفقود ہو چال ہے سو یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی شدت کو اپنے نفوس میں محسوس نہیں کرپاتے جبکہ یہی محبت جب ہمیں غیر اللہ یعنی دنیا سے ہوتی ہے تو ہم اس کو اسکے تمام تر تقاضوں سے نبھاتے ہیں سو اسی وجہ سے مشدت سے محسوس بھی کرتے ہیں ۔امید کرتا ہون کہ نقطہ پا گئی ہونگی وگرنہ یہ مضمون محبت انتہائی طوالت کا متقاضی ہے ۔۔۔والسلام
آبی بھائی معذرت چاہتی ہوں ۔ مراسلے کا کافی حصہ سمجھ نہیں آیا مشکل الفاظ کی وجہ سے
میں نے آپ کے مراسلے سے جو باتیں ہائی لائٹ کی ہیں ان کو اسان الفاظ میں سمجھادیں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-10-11), آبی ٹوکول (18-10-11), حیدر Rehan (19-10-11), شمشاد احمد (18-10-11)
جواب

Tags
ہو؟, ہمارا, کہنا, یوں, وسلم, لفظ, لکھا, لوگوں, چاہیے, ممکن, محبت, مسلمان, ایسا, اللہ, تمام, جواب, جارہا, خالی, دیے, دل, رسول, سوچ, سوال, سمجھ, طرح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بادل کیسا ہے ایسا ویسا ہے! نایب ناظم گپ شپ 6 14-01-11 07:51 AM
دل کا یہ کیسا ارمان،?????? عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید 0 08-02-09 01:52 PM
پروفیسر صاحب کا پہلا لیکچر شیراز احمد قہقہے ہی قہقے 0 22-01-09 07:42 AM
حکمراں اتحاد صدر پرویز کیساتھ فاروق لغاری جیسا سلوک کرنے کیلئے تیار عبدالقدوس خبریں 0 18-04-08 07:49 AM
حب: اسلم رئیسانی کومبارکباد عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger