واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا بلوچی ہمارے بھائی ہیں صرف نام کے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-03-10, 11:27 AM   #1
کیا بلوچی ہمارے بھائی ہیں صرف نام کے؟
پاکستانی پاکستانی آف لائن ہے 23-03-10, 11:27 AM

اسلام علیکم۔
امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے۔
"بلوچستان الگ ریاست بنے گا انشاءاللہ؟؟؟؟؟" یہ الفاظ ہیں میرے ہوسٹل میں رہنے والے ایک بلوچی بھائی کہ۔ جو کہ کہہ رہا ہے کہ ہم عنقریب اپنا حق حاصل کریں گے۔ میں نے اس کی کچھ باتیں یہاں آپ لوگوں‌کے لئے شئیر کر رہا ہوں ۔ کیونکہ وہ کہہ رہا تھا ہماری بات کوئی نہیں سنتا ، اور میرے خیال میں پاک۔نیٹ بلوچی پاکستانی بھائی کی آواز دیگر پاکستانی بہن بھائیوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یہاں ایک بات بتاتا چلو نہ تو وہ بھائی دہشت گرد ہے اور نہ ہی کسی دہشتگرد تنظیم کا حصہ ۔
اس بھائی کی کچھ باتیں۔۔
1 ۔ بلوچستان میں ایک پروفیسر کا قتل ہوا میڈیا نے شور مچا دیا، بلوچستان میں آئے روز کسی نہ کسی کو سکیورٹی ایجنسیز اٹھا کے لے جاتی ہیں کوئی کچھ نہیں بولتا۔
2۔ پنجاب میں اگر کوئی گاڑی میں اونچی آواز کے ساتھ میوزک سنے کوئی بات نہیں بلوچستان میں اس بات کی اجازت نہیں کو ایف سی والے پکڑ کے مارتے ہیں۔
3 ۔ بلوچستان میں ووٹ مرضی کے لئے جاتے ہیں ، بیلٹ پیپر پہلے کے سٹمپ کیے ہوتے ہیں۔
4 ۔ بلوچستان کو اس کے حصہے کی رقم ادا نہیں کی جاتی۔ گیس کے پیسے نہیں دیے جاتے ، بلوچستان کی فضا سے گزرنے والے جہازوں سے حکومت ٹیکس لیتی ہے اور بلوچستان کو کچھ نہیں دیا جاتا۔
5 ۔ بڑی شلوار جو بلوچستان کے روایتی لباس کا حصہ ہے اس کو پہنے کی اجازت نہیں ہے، اگر کوئی پہنے تو شلوار کاٹ دی جاتی ہیں، میں آپ کو اپنی کئی شلواریں دیکھا سکتا ہوں۔
6 ۔ اگر سردار غلط ہیں تو کچھ ہو بھی سکتے ہیں ، لیکن اگر بلوچستان کی عوام کسی سردار کے خلاف کچھ کہنا بھی چاہیے تو میڈیا اور حکومت ساتھ نہیں دیتی۔
7 ۔ بلوچستان کی آبادی کہتے ہیں بہت کم ہے تو پہاڑوں کو کیوں نہیں کاٹتے؟ آخر پہاڑوں پر رہنے والے بھی تو بلوچستان کا حصہ ہیں۔
8 ۔ جب پنجابی ،سندھی اور دیگر صوبوں کے پاکستانی بلوچستان جا سکتے ہیں تو پنجاب میں بہاولپور، بوریوالا ، لاہور سے بلوچوں کو کیوں نکالا جاتا ہے کہ اپنے علاقے میں رہو؟
9 ۔ یہ نہ انصافی کی جاتی رہی تو اپنا حق چھین کے لیں گے اوربلوچستان الگ ریاست بنے گا انشاءاللہ؟؟؟؟؟

یہ بھائی ایک عام پاکستانی ہیں جو کہ بلوچستان سے پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اگر گھر میں آگ لگی ہو تو گھر میں رہنے والے ہر فرد کو اسکا درد محسوس ہوتا ہے،
کیا عام پنجابی ، سندھی،سرحدی اور دیگر علاقوں کے پاکستانی بلوچوں کو صرف نام کا بھائی سمجھتے اور کہتے ہیں؟؟؟؟؟ ذرا سوچئے

والسلام
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر

Last edited by پاکستانی; 23-03-10 at 08:43 PM..

 
پاکستانی's Avatar
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 747
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-03-10), ہادی (23-02-12), فرحان دانش (24-03-10), ھارون اعظم (26-03-10), یاسر عمران مرزا (05-05-10), منتظمین (23-03-10), محمدعدنان (23-02-12), ام طلحہ (24-03-10), اخترحسین (24-03-10), حیدر (06-04-10), راجہ اکرام (23-03-10), سحر (22-02-12), شمشاد احمد (23-02-12), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 01:19 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (23-03-10), اخترحسین (09-05-10), عارف اقبال (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 11:17 AM   #3
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستانی بھائی بہت بہت شکریہ، ماشاء اللہ بہت اچھا سلسلہ ہے


تیرا پاکستان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا پاکستان ہے
اس پہ دل بھی قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پہ جان بھی قربان ہے
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 12:01 PM   #4
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 37,057
شکریہ: 4,903
809 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم۔
امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے۔
"بلوچستان الگ ریاست بنے گا انشاءاللہ؟؟؟؟؟" یہ الفاظ ہیں میرے ہوسٹل میں رہنے والے ایک بلوچی بھائی کہ۔ جو کہ کہہ رہا ہے کہ ہم عنقریب اپنا حق حاصل کریں گے۔ میں نے اس کی کچھ باتیں یہاں آپ لوگوں‌کے لئے شئیر کر رہا ہوں ۔ کیونکہ وہ کہہ رہا تھا ہماری بات کوئی نہیں سنتا ، اور میرے خیال میں پاک۔نیٹ بلوچی پاکستانی بھائی کی آواز دیگر پاکستانی بہن بھائیوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یہاں ایک بات بتاتا چلو نہ تو وہ بھائی دہشت گرد ہے اور نہ ہی کسی دہشتگرد تنظیم کا حصہ ۔
اس بھائی کی کچھ باتیں۔۔
1 ۔ بلوچستان میں ایک پروفیسر کا قتل ہوا میڈیا نے شور مچا دیا، بلوچستان میں آئے روز کسی نہ کسی کو سکیورٹی ایجنسیز اٹھا کے لے جاتی ہیں کوئی کچھ نہیں بولتا۔
2۔ پنجاب میں اگر کوئی گاڑی میں اونچی آواز کے ساتھ میوزک سنے کوئی بات نہیں بلوچستان میں اس بات کی اجازت نہیں کو ایف سی والے پکڑ کے مارتے ہیں۔
3 ۔ بلوچستان میں ووٹ مرضی کے لئے جاتے ہیں ، بیلٹ پیپر پہلے کے سٹمپ کیے ہوتے ہیں۔
4 ۔ بلوچستان کو اس کے حصہے کی رقم ادا نہیں کی جاتی۔ گیس کے پیسے نہیں دیے جاتے ، بلوچستان کی فضا سے گزرنے والے جہازوں سے حکومت ٹیکس لیتی ہے اور بلوچستان کو کچھ نہیں دیا جاتا۔
5 ۔ بڑی شلوار جو بلوچستان کے روایتی لباس کا حصہ ہے اس کو پہنے کی اجازت نہیں ہے، اگر کوئی پہنے تو شلوار کاٹ دی جاتی ہیں، میں آپ کو اپنی کئی شلواریں دیکھا سکتا ہوں۔
6 ۔ اگر سردار غلط ہیں تو کچھ ہو بھی سکتے ہیں ، لیکن اگر بلوچستان کی عوام کسی سردار کے خلاف کچھ کہنا بھی چاہیے تو میڈیا اور حکومت ساتھ نہیں دیتی۔
7 ۔ بلوچستان کی آبادی کہتے ہیں بہت کم ہے تو پہاڑوں کو کیوں نہیں کاٹتے؟ آخر پہاڑوں پر رہنے والے بھی تو بلوچستان کا حصہ ہیں۔
8 ۔ جب پنجابی ،سندھی اور دیگر صوبوں کے پاکستانی بلوچستان جا سکتے ہیں تو پنجاب میں بہاولپور، بوریوالا ، لاہور سے بلوچوں کو کیوں نکالا جاتا ہے کہ اپنے علاقے میں رہو؟
9 ۔ یہ نہ انصافی کی جاتی رہی تو اپنا حق چھین کے لیں گے اوربلوچستان الگ ریاست بنے گا انشاءاللہ؟؟؟؟؟

یہ بھائی ایک عام پاکستانی ہیں جو کہ بلوچستان سے پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اگر گھر میں آگ لگی ہو تو گھر میں رہنے والے ہر فرد کو اسکا درد محسوس ہوتا ہے،
کیا عام پنجابی ، سندھی،سرحدی اور دیگر علاقوں کے پاکستانی بلوچوں کو صرف نام کا بھائی سمجھتے اور کہتے ہیں؟؟؟؟؟ ذرا سوچئے

والسلام
پاکستانی بھائی السلام علیکم

کچھ پاکستانی بلوچ فوج اور ظالم سرداروں کے مظالم کے جواب میں خواہ مخواہ پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ان کو سمجھ دیوے اور راہ راست پر لائے

آمین
اخترحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا
ہادی (23-02-12), پاکستانی (24-03-10), یاسر عمران مرزا (05-05-10), ام طلحہ (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 01:48 PM   #5
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم۔
امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے۔
"بلوچستان الگ ریاست بنے گا انشاءاللہ؟؟؟؟؟
ان کے منہ میں خاک، ایسا کبھی نہ ہو گا انشاللہ
"میرے خیال میں پاک۔نیٹ بلوچی پاکستانی بھائی کی آواز دیگر پاکستانی بہن بھائیوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اگر وہ خود کو پاکستانی سمجھتے تو کبھی یہ واہیات خیال اپنے دل میں نہ لاتے۔ پاک نیٹ کبھی بھی غداروں کی آواز کیلئے ذریعہ نہیں بنے گا جو اس ملک کو توڑنے کا خواب دیکھتے ہیں۔
یہاں ایک بات بتاتا چلو نہ تو وہ بھائی دہشت گرد ہے اور نہ ہی کسی دہشتگرد تنظیم کا حصہ ۔
پھر بھی انکی سوچ پاکستان کیلئے نفرت آمیز ہے تو سبحان اللہ
اس بھائی کی کچھ باتیں۔۔
1 ۔ بلوچستان میں ایک پروفیسر کا قتل ہوا میڈیا نے شور مچا دیا، بلوچستان میں آئے روز کسی نہ کسی کو سکیورٹی ایجنسیز اٹھا کے لے جاتی ہیں کوئی کچھ نہیں بولتا۔
[SIZE="6"]میڈیا نے شور مچایا ہوتا تو ہر روز آباد کاروں کے گھروں سے لاشیں نہ اٹھتیں۔ابھی کچھ ہی دن پہلے ہمارے سامنےایک غریب سپاہی کی لاش اٹھی ہے جسے اسکی چھوٹی سی بچی کی نظروں کے سامنے خون میں نہلا دیا گیا، ابھی اسکا چہلم بھی نہیں ہوا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض کردوں کہ انہوں نے مفروروں کو بھی لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ ابھی ایک ہفتہ قبل جو بلوچ دہشت گرد ایف سی پر حملہ کرتے ہوئے مارا گیا ہے وہ بھی لاپتہ سمجھا جاتا تھا اور جب مارا گیا تو پتہ چلا کہ چار ماہ سے مفرور تھا۔ تو یہ ہے لاپتہ افراد سکینڈل کی حقیقت۔ چند افراد قانون شکنی اور دہشت گردی کے باعث بند بھی ہونگے لیکن جب تک یہ پاکستان کا حصہ ہیں پاکستانی قانون کے مطابق ہی سزا و جزا کے حقدار ہیں۔
۔ پنجاب میں اگر کوئی گاڑی میں اونچی آواز کے ساتھ میوزک سنے کوئی بات نہیں بلوچستان میں اس بات کی اجازت نہیں کو ایف سی والے پکڑ کے مارتے ہیں۔
یہ جھوٹ ہے۔اونچی آواز میں میوزک اور ہلڑ بازی، یہ بیہودگی تو بلوچ کلچر میں موجود ہی نہیں اس میں ایف سی کا کیا کام۔ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے قومی ترانہ بین کریں اور اپنی گاڑیوں کے ڈیک پر بلوچستان کا وطن دشمنی پر مبنی ترانہ اور دیگر نفرت آمیز منظومات بجائیں تو کیا اسکی حمایت ہونی چاہئے؟؟
3 ۔ بلوچستان میں ووٹ مرضی کے لئے جاتے ہیں ، بیلٹ پیپر پہلے کے سٹمپ کیے ہوتے ہیں۔
جھوٹ ہے، اسمیں سب شامل ہیں یہ لوگ خود بھی۔ پورے پاکستان میں جس انداز کی دھاندلی ہوتی ہے یہاں بھی ہوتی ہے۔ یہ بات بلوچستان کیلئے مخصوص نہیں کی جا سکتی۔ابھی جعفر آباد میں دھاندلی سے ایک سردار جیتا ہے تو؟؟؟ویسے یہ تو سب جانتے ہی ہونگے کہ اس وقت بلوچستان کا گورنر اور وزیر اعلیٰ دونوں ہی بلوچ ہیں اور کئی وزرا بھی۔

4 ۔ بلوچستان کو اس کے حصے کی رقم ادا نہیں کی جاتی۔ گیس کے پیسے نہیں دیے جاتے ، بلوچستان کی فضا سے گزرنے والے جہازوں سے حکومت ٹیکس لیتی ہے اور بلوچستان کو کچھ نہیں دیا جاتا۔
جھوٹ ہے۔ اتنے برسوں تک انکے سرداروں نے ذاتی طور پر پیسے وصول کئے ہیں اور اپنے علاقے میں کوئی سکول کوئی ہسپتال تک نہیں بنایا۔آج انکی اولاد اسی پیسے کیلئے لڑ مر رہی ہے۔ویسے یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ صاحب پاکستانی بن کر سوچ ہی نہیں سکتے، کونسی حکومت ٹیکس لیتی ہے؟؟ پاکستانی نا؟؟ یہیں انکی سوچ کا پتہ چلتا ہے۔ جب گھر کا فرد بن کر سوچیں گے ہی نہیں تو ہمیشہ یہی لگے گا نا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
۔ بڑی شلوار جو بلوچستان کے روایتی لباس کا حصہ ہے اس کو پہنے کی اجازت نہیں ہے، اگر کوئی پہنے تو شلوار کاٹ دی جاتی ہیں، میں آپ کو اپنی کئی شلواریں دیکھا سکتا ہوں۔
تعصب کو روکنے کیلئے ایسا کیا گیا ہے کچھ لوگوں نے یہ وطیرہ بنا لیا تھا کہ یہ شلواریں پہن کر سڑکوں پر اسلحہ کی نمائش اوردادا گیری کرتے پھرتے تھے نعرے بازی، ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود قانون شکنی اب قانون شکنی کیلئے دی گئی یہ سزا تو کچھ بھی نہیں ہے۔
6۔اگر سردار غلط ہیں تو کچھ ہو بھی سکتے ہیں ، لیکن اگر بلوچستان کی عوام کسی سردار کے خلاف کچھ کہنا بھی چاہیے تو میڈیا اور حکومت ساتھ نہیں دیتی۔
جھوٹ بالکل جھوٹ۔سارا میڈیا انہی کی زبان بول رہا ہے۔
۔ بلوچستان کی آبادی کہتے ہیں بہت کم ہے تو پہاڑوں کو کیوں نہیں کاٹتے؟ آخر پہاڑوں پر رہنے والے بھی تو بلوچستان کا حصہ ہیں۔
جو پہاڑوںپر چھپ کر مجرمانہ سرگرمیوں کی پلاننگ کرتے ہیں، وہ مفرور افراد گنتی میں خود ہی نہیں آتے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔جس زمانے میں مردم شماری ہو رہی تھی، ان ٹیموں کو روک کر ان پر تشدد اور انہیں زبردستی نکالنے کی تو میں خود گواہ ہوں۔
8 ۔ جب پنجابی ،سندھی اور دیگر صوبوں کے پاکستانی بلوچستان جا سکتے ہیں تو پنجاب میں بہاولپور، بوریوالا ، لاہور سے بلوچوں کو کیوں نکالا جاتا ہے کہ اپنے علاقے میں رہو؟
یہ بھی جھوٹ ہے۔ کسی کو نہیں نکالا جا رہا بلکہ یہ ہر صوبے میں آزادی سے موجود ہیں پڑھ رہے ہیں کاروبار کر رہے ہیں اور سب کچھ جبکہ بلوچستان میں برس ہا برس سے رہنے والوں کا خون قومیت کی بنیاد پر بہا رہے ہیں۔خود یہ بھائی بھی تو ہاسٹل میں پڑھ رہے ہیں یا نہیں؟؟
ایک بات اور بھی عرض کر دوں کہ صوبہ پنجاب پر 5 سال ایک بلوچ گورنر کے عہدے پر فائز رہا، اسکا بیٹا وزیر اعلیٰ بنا اور آج بھی وہ بلوچ وزرا ہیں۔پنجاب کے سرکاری محکموں اور سیکٹریٹ میں اعلیٰ ترین عہدوں پر بلوچ موجود ہیں۔اعداد و شمار کہتے ہیں کہ پنجاب میں چھہ لاکھ کے قریب بلوچ بستے ہیں جبکہ بلوچستان میں صرف 4 لاکھ جن میں پنجابی،سندھی ہندکو، اردو، کشمیری اور فارسی بان سب شامل ہیں جن سب کیلئے انہوں نے مشترک نام پنجابی چن رکھا ہے، یہ اور بات کہ یہی حالات رہے تو چند ماہ میں شاید یہ 4 ہزار بھی نہ بچیں۔ آدھے انکے ہاتھوں مارے جائیں اور باقی انکی لاشوں اور بچے کھچے گھرانے کو لیکر ہجرت کر جائیں۔یہ یاد رہے کہ اب تک 12 ہزار آباد کاروں کا خون ناحق بہایا جا چکا ہے۔

۔ یہ نہ انصافی کی جاتی رہی تو اپنا حق چھین کے لیں گے اوربلوچستان الگ ریاست بنے گا انشاءاللہ؟؟؟؟؟
انشاللہ یہ خواب کبھی کبھی کبھی پورا نہیں ہو گا۔اور اگر انڈیا کے تعاون اور سازش سے پورا ہو بھی گیا تو تب یہ پاکستان کی قدر جانیں گے۔ گیس کھائیں گے گیس پئیں گے اور اوڑھیں گے تب کوئی پنجاب نہ ہوگا جس سے مدد مانگیں اور کوئی وفاقی حکومت نہ ہوگی جسے استحصال کے نام پر بلیک میل کریں۔

یہ بھائی ایک عام پاکستانی ہیں جو کہ بلوچستان سے پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اگر گھر میں آگ لگی ہو تو گھر میں رہنے والے ہر فرد کو اسکا درد محسوس ہوتا ہے،
پاکستانی آباد کاروں کا بھی درد محسوس کریں جو پاکستان کی محبت کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔ سارا میڈیا بھی غداروں سے ہمدردی کرتا ہے۔ آباد کاروں کا خون بہتا دیکھ کر کسی کا دل نہیں تڑپتا؟؟ایک استاد جسکی ساری زندگی انکے بچوں کو تعلیم دیتے گزر گئی جس نے اپنا سارا تجربہ انکو دے دیا اسکی زندگی اتنی سستی تھی کہ اس قدر توہین آمیز انداز میں اس سانحے کو بیان کیا جا رہا ہے؟
کیا عام پنجابی ، سندھی،سرحدی اور دیگر علاقوں کے پاکستانی بلوچوں کو صرف نام کا بھائی سمجھتے اور کہتے ہیں؟؟؟؟؟ ذرا سوچئے
آپ بھی سوچئے کہ اگر یہ واقعی خود کو ہمارا بھائی سمجھتے تو ایسے خیالات نہ ہوتے۔ہم ہر اس بھائی کودل سے سلام کرتے ہیں جو وطن کی سلامتی اور تحفظ کے مشن میں ہمارے ساتھ ہوں۔ پاکستان کا دشمن کبھی ہمارا بھائی نہیں ہو سکتا۔
والسلام
پاکستانی بھائی!!آپکے یوزر نیم سے وطن کی محبت جھلکتی ہے۔ میرے بھائی!! ایک گھر میں چار بچے ہوں اورایک بچہ نافرمان ہو جائے اور گھر توڑنے کی ضد کر بیٹھے تو اسکا ساتھ نہیں دیتے، اسے سمجھاتے ہیں۔ پیار سے نہ مانے تو کبھی کبھی سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔اسے کاٹ کر الگ نہیں کر دیتے۔چار بچے کماتے ہوں اور مل کر گھر چلاتے ہوں اور ان میں سے ایک بیٹا یہ کمائی میری ہے اس پر صرف میرا حق ہے، میرا میرا میرا، تو کیا ہو گا؟؟ نفرتیں جنم لیں گی۔پھر وہ اپنے بھائی کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر پھینکتا جائے کہ یہ میرا حق مار رہا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟؟بھائی!! ایسے لوگوں کی سوچ میں ساتھی نہیں بنتے، انہیں سمجھاتے ہیں۔انہیں بتائیں کہ پاکستان انکے لئے کیا ہے اور پاکستان کے بغیر یہ کیا ہونگے۔یہ ہم سب کا گھر ہے۔ اسے ہم سب کو ملکر چلانا ہے۔جن مفاد پرستوں کے چھوڑے گئے شوشے ہیں انہوں نے اپنی اولادوں کو تو لندن امریکہ تعلیم دلوائی ہے اور سیٹ کیا ہوا ہے اور اپنے علاقوں میں سکول تک نہیں بننے دئیے۔ان کے بچوں کی جان جان ہے اور باقی بلوچوں کی جان کی کوئی قیمت نہیںجنہیں آگ میں جھونک رہے ہیں؟؟انہیں سمجھنا ہو گا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں۔ انکے آلہءکار نہ بنیں،ان سرداروں کوانکی زیادتی کی سزا دیں انکی ازلی غلامی سے نجات پاکر۔اصل بلوچ قوم نہایت وضعدار اور اعلیٰ ظرف ہے۔ جس سوچ کو آپ سامنے لائے یہ بلوچ قوم کی آواز نہیں ہے۔ یہ جان لیجئے کہ بلوچ اور علیحدگی پسند تحریک کے آلہ کار مشرق و مغرب ہیں۔اصل بلوچ اس چاکر اعظم کی قوم ہیں جس کے قلعہ میں دشمن بھی داخل ہو جاتا تھا تو اسکی جان کی امان کیلئے وہ قسم کھا لیتا تھا اور اپنی جان دینے کو تیار ہوتا تھا۔یہ وہ محب وطن قوم ہے جس نے تحریک پاکستان میں شانہ بشانہ کام کیا تھا۔ انہیں مثبت سمت لائیے پاکستانی بھائی!!
آپ سے میں یہی امید رکھتی ہوں۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین

Last edited by ام طلحہ; 24-03-10 at 02:08 PM.
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ہادی (23-02-12), پاکستانی (24-03-10), یاسر عمران مرزا (05-05-10), ابرارحسین (24-03-10), اخترحسین (24-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 05:42 PM   #6
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
پاکستانی بھائی!!آپکے یوزر نیم سے وطن کی محبت جھلکتی ہے۔ میرے بھائی!! ایک گھر میں چار بچے ہوں اورایک بچہ نافرمان ہو جائے اور گھر توڑنے کی ضد کر بیٹھے تو اسکا ساتھ نہیں دیتے، اسے سمجھاتے ہیں۔ پیار سے نہ مانے تو کبھی کبھی سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔اسے کاٹ کر الگ نہیں کر دیتے۔چار بچے کماتے ہوں اور مل کر گھر چلاتے ہوں اور ان میں سے ایک بیٹا یہ کمائی میری ہے اس پر صرف میرا حق ہے، میرا میرا میرا، تو کیا ہو گا؟؟ نفرتیں جنم لیں گی۔پھر وہ اپنے بھائی کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر پھینکتا جائے کہ یہ میرا حق مار رہا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟؟بھائی!! ایسے لوگوں کی سوچ میں ساتھی نہیں بنتے، انہیں سمجھاتے ہیں۔انہیں بتائیں کہ پاکستان انکے لئے کیا ہے اور پاکستان کے بغیر یہ کیا ہونگے۔یہ ہم سب کا گھر ہے۔ اسے ہم سب کو ملکر چلانا ہے۔جن مفاد پرستوں کے چھوڑے گئے شوشے ہیں انہوں نے اپنی اولادوں کو تو لندن امریکہ تعلیم دلوائی ہے اور سیٹ کیا ہوا ہے اور اپنے علاقوں میں سکول تک نہیں بننے دئیے۔ان کے بچوں کی جان جان ہے اور باقی بلوچوں کی جان کی کوئی قیمت نہیںجنہیں آگ میں جھونک رہے ہیں؟؟انہیں سمجھنا ہو گا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں۔ انکے آلہءکار نہ بنیں،ان سرداروں کوانکی زیادتی کی سزا دیں انکی ازلی غلامی سے نجات پاکر۔اصل بلوچ قوم نہایت وضعدار اور اعلیٰ ظرف ہے۔ جس سوچ کو آپ سامنے لائے یہ بلوچ قوم کی آواز نہیں ہے۔ یہ جان لیجئے کہ بلوچ اور علیحدگی پسند تحریک کے آلہ کار مشرق و مغرب ہیں۔اصل بلوچ اس چاکر اعظم کی قوم ہیں جس کے قلعہ میں دشمن بھی داخل ہو جاتا تھا تو اسکی جان کی امان کیلئے وہ قسم کھا لیتا تھا اور اپنی جان دینے کو تیار ہوتا تھا۔یہ وہ محب وطن قوم ہے جس نے تحریک پاکستان میں شانہ بشانہ کام کیا تھا۔ انہیں مثبت سمت لائیے پاکستانی بھائی!!
آپ سے میں یہی امید رکھتی ہوں۔

محترمہ ام طلحہ آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستے پر چلائے ، آزمائشوں سے بچائےاور استقامت دے۔
والسلام علیکم
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
ہادی (23-02-12), پاکستانی (24-03-10), ام طلحہ (25-03-10), اخترحسین (09-05-10)
پرانا 24-03-10, 07:37 PM   #7
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,639
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اخترحسین مراسلہ دیکھیں
پاکستانی بھائی السلام علیکم

کچھ پاکستانی بلوچ فوج اور ظالم سرداروں کے مظالم کے جواب میں خواہ مخواہ پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ان کو سمجھ دیوے اور راہ راست پر لائے

آمین
بھائی میں آُ سے متفق ہوں۔ لکین غلطی ہماری بھی ہے۔ اگر لاہور ،کراچی،اسلام آباد ،پشاور میں کوئی مسئلہ ہو تو ، ہمارے پاس باتیں کرنے کے لئے الفاظ ہی الفاظ ہوتے ہیں لیکن اگر کوئٹہ میں‌کچھ ہو جائے تو بات کرنا تو دور کی بات اس بارے میں سوچتے تک نہیں ہیں،
مانا کہ کچھ پاکستانی بلوچ فوج اور ظالم سرداروں کے مظالم کے جواب میں خواہ مخواہ پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سیاست دان بھی تو خواہ مخواہ بلوچستان کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (09-05-10), عارف اقبال (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 07:53 PM   #8
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,639
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستانی بھائی!!آپکے یوزر نیم سے وطن کی محبت جھلکتی ہے۔ میرے بھائی!! ایک گھر میں چار بچے ہوں اورایک بچہ نافرمان ہو جائے اور گھر توڑنے کی ضد کر بیٹھے تو اسکا ساتھ نہیں دیتے، اسے سمجھاتے ہیں۔ پیار سے نہ مانے تو کبھی کبھی سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔اسے کاٹ کر الگ نہیں کر دیتے۔چار بچے کماتے ہوں اور مل کر گھر چلاتے ہوں اور ان میں سے ایک بیٹا یہ کمائی میری ہے اس پر صرف میرا حق ہے، میرا میرا میرا، تو کیا ہو گا؟؟

بہن زمانہ بہت بدل چکا ہے ضروریات بھی بدل چکی ہیں، آپ نے ایک گھر کی مثال دی ہے، بہن آپ کے بات سے متفق ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو دریا دلی ہو گی اس بچے کی اگر وہ چھوٹوں کا خیال کرے اور یہ بات کبھی نہ کہے اور نہ کبھی سوچے۔ لیکن بہیں آپ پنجاب ،سندھ کو دیکھ لیں ایک قطرہ پانی کا بھی زیادہ ادھر ُادھر ہو جائے تو طوفان برپا کر دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان پر سارے بڑے چھوٹے والے اصول و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں کیا یہ بات اصولی طور پر ٹھیک ہے؟


نفرتیں جنم لیں گی۔پھر وہ اپنے بھائی کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر پھینکتا جائے کہ یہ میرا حق مار رہا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟؟بھائی!! ایسے لوگوں کی سوچ میں ساتھی نہیں بنتے، انہیں سمجھاتے ہیں۔انہیں بتائیں کہ پاکستان انکے لئے کیا ہے اور پاکستان کے بغیر یہ کیا ہونگے۔یہ ہم سب کا گھر ہے۔ اسے ہم سب کو ملکر چلانا ہے۔جن مفاد پرستوں کے چھوڑے گئے شوشے ہیں انہوں نے اپنی اولادوں کو تو لندن امریکہ تعلیم دلوائی ہے اور سیٹ کیا ہوا ہے اور اپنے علاقوں میں سکول تک نہیں بننے دئیے۔ان کے بچوں کی جان جان ہے اور باقی بلوچوں کی جان کی کوئی قیمت نہیںجنہیں آگ میں جھونک رہے ہیں؟؟

بہن آپ کی بات سے متفق ہوں لیکن ایسے بچے کو سمجھانے کے لئے بولنے کی اجازت تو دینی چاہیے نہ؟ اگر ہم اسے سرے سے ہی غلط کہ دیں اور تو غلظ فہمیاں ختم ہونے کی بجائے اور بڑھتی جائیں گی، باقی نظام کی خرابی تو سارے پاکستان میں موجود ہے، جنوبی پنجاب میں تو آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بچوں کو سکول نہیں بھجتے۔


اقتباس:
انہیں سمجھنا ہو گا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں۔ انکے آلہءکار نہ بنیں،ان سرداروں کوانکی زیادتی کی سزا دیں انکی ازلی غلامی سے نجات پاکر۔اصل بلوچ قوم نہایت وضعدار اور اعلیٰ ظرف ہے۔ جس سوچ کو آپ سامنے لائے یہ بلوچ قوم کی آواز نہیں ہے۔ یہ جان لیجئے کہ بلوچ اور علیحدگی پسند تحریک کے آلہ کار مشرق و مغرب ہیں۔اصل بلوچ اس چاکر اعظم کی قوم ہیں جس کے قلعہ میں دشمن بھی داخل ہو جاتا تھا تو اسکی جان کی امان کیلئے وہ قسم کھا لیتا تھا اور اپنی جان دینے کو تیار ہوتا تھا۔یہ وہ محب وطن قوم ہے جس نے تحریک پاکستان میں شانہ بشانہ کام کیا تھا۔ انہیں مثبت سمت لائیے پاکستانی بھائی!


اس بات سے متفق ہوں
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (25-03-10), اخترحسین (09-05-10)
پرانا 24-03-10, 07:54 PM   #9
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,639
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ گرین کلر میں کس بھائی نے جواب دیا تھا ان کا تعارف کوئی کروا سکتا ہے تاکہ میں جواب دے سکوں؟
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
پاکستانی کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (09-05-10)
پرانا 24-03-10, 09:44 PM   #10
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ گرین کلر میں کس بھائی نے جواب دیا تھا ان کا تعارف کوئی کروا سکتا ہے تاکہ میں جواب دے سکوں؟
ام طلحہ باجی نے ہی جواب دیا ہے جس سے میں‌ مکمل اتفاق کرتا ہوں ۔ بلوچستان کی اکثریت آبادی کے یہی خیالات ہیں ۔

میرے پاس وقت نہیں‌ ورنہ تفصیل سے لکھتا ۔ تاہم کچھ اعداد و شمار پیش کرنا چاہوں گا جو آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔

وزارت داخلہ بلوچستان سے حاصل کئے گئے یہ اعداد و شمار میری ایک رپورٹ کا حصہ ہے جو انشاء اللہ ایک دو دنوں میں‌میڈیا پر آجائے گی۔


2010ء میں جنوری سے لیکر 10 مارچ تک 09واقعات میں‌05 ہلاک اور 150 زخمی ہوئے ۔ 11واقعات میں‌ فرنٹیئر کور کے 07 اہلکار ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ۔ آباد کاروں پر 26 حملوں‌میں 21 آباد کار ہلاک ہلاک اور19 زخمی ہوئے ۔فرقہ وارانہ دہشت گردی کے 03واقعات میں‌05 ہلاک اور07 زخمی ہوئے جبکہ دیگر 28واقعات ،14 افراد ہلاک اور112 زخمی ہوئے ۔ یعنی 77واقعات میں‌52افراد ہلاک اور170 زخمی ہوئے۔

جبکہ 10 مارچ سے اب تک (24 مارچ) 25 سے زائد افراد ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں سمیت دہشت گردی کے دوسرے واقعات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

گیارہ سے پندرہ مارچ کے اعداد وشمار ابھی تک دستیاب نہیں ہوسکے ۔ تاہم سولہ مارچ سے اب تک کے واقعات کا مختصر ذکر کرنا چاہوں‌گا۔

17 مارچ کو کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں پر فائرنگ کے تبادلے میں بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اشتہاری ملزم مجید لانگو کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ۔

اسی روز ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور ایک سابق ڈی ایس پی عثمان ٹکا خان قتل کیا گیا۔

18 مارچ کو کوئٹہ کے سمنگلی روڈ اور ہزار گنجی میں‌پر پولیس کی گشتی ٹیم اور ایک دکان پر پر فائرنگ سے اہلکار اور ایک دکاندار ہلاک ہوا۔ ڈیرہ بگٹی میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔مستونگ میں فائرنگ اور دستی بم حملوں میں پولیس اہلکار اور آباد کار نشانہ بنا ،

19 مارچ کو ضلع مستونگ میں کیڈٹ‌کالج کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک طالب علم سمیت تین افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

20 مارچ کو کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ‌کلنگ میں‌ تین افراد قتل ہوئے ۔ امروز ضلع کیچ کے علاقے تربت میں آباد کار کی برگر کی دکان پر فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔

21 مارچ کو کوئٹہ کے کواری روڈ پر ڈی پی او خضدار کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملے میں دو اہلکار اور ایک دکاندار ہلاک ہوا۔ واقعہ میں سولہ راہ گیر خمی بھی ہوئے ۔

22 مارچ کو کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس پر گاڑی پر فائرنگ کرکے ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر فضل باری قتل اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوا۔ اسی روز گولیمار چوک پر ریموٹ کنٹرول دھماکے میں گدھا گاڑی چلانےوالا مزدور ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

23 مارچ کو پنجگور میں فائرنگ سے دو آباد کار ہلاک ہوئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
2007ء سے لیکر 2009ء کے اعداد و شمار کچھ اس طرح‌ہے ۔

2009ء
پولیس ۔ ۔۔۔۔۔75واقعات ،73 ہلاک ،97 زخمی
ایف سی ۔۔۔۔۔۔56واقعات ،30 ہلاک ،150 زخمی
آباد کار۔۔۔۔۔110واقعات ،75 ہلاک ،124 زخمی
فرقہ وارانہ دہشت گردی۔۔۔۔26واقعات ،39 ہلاک ،17 زخمی
دیگر ۔۔۔۔۔196واقعات ،112 ہلاک ،618 زخمی
ٹوٹل ۔۔۔۔۔463واقعات ،329ہلاک،1006 زخمی
٭٭٭٭
2008ء
پولیس ۔ ۔۔۔۔۔59 واقعات ،42 ہلاک ،68 زخمی
ایف سی ۔۔۔۔۔۔88واقعات ،62 ہلاک ،168 زخمی
آباد کار۔۔۔۔۔58واقعات ،38 ہلاک ،56 زخمی
فرقہ وارانہ دہشت گردی ۔۔۔۔12واقعات ،15 ہلاک ،05 زخمی
دیگر ۔۔۔۔۔138واقعات ،168 ہلاک ،384 زخمی
ٹوٹل ۔۔۔۔۔355واقعات ،325ہلاک،681 زخمی
٭٭٭
2007ء
پولیس ۔ ۔۔۔۔۔29واقعات ، 31ہلاک ،26زخمی
ایف سی ۔۔۔۔۔۔35واقعات، 26ہلاک،63زخمی
آباد کار۔۔۔۔۔23واقعات،10ہلاک ،32زخمی
فرقہ وارانہ دہشت گردی۔۔۔۔۔۔۔۔دستیاب نہیں‌
دیگر ۔۔۔۔۔134واقعات ،101ہلاک،271زخمی
ٹوٹل ۔۔۔۔۔221واقعات ،168ہلاک،392 زخمی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(وقت کی کمی کے باعث اعداد و شمار کو صحیح ترتیب نہیں دے سکا ، اگر سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہے تو ضرور آگاہ کیجئے)
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (25-03-10), منتظمین (24-03-10), ام طلحہ (25-03-10), اخترحسین (09-05-10)
پرانا 25-03-10, 11:31 AM   #11
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی مراسلہ دیکھیں


بہن زمانہ بہت بدل چکا ہے ضروریات بھی بدل چکی ہیں، آپ نے ایک گھر کی مثال دی ہے، بہن آپ کے بات سے متفق ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو دریا دلی ہو گی اس بچے کی اگر وہ چھوٹوں کا خیال کرے اور یہ بات کبھی نہ کہے اور نہ کبھی سوچے۔ لیکن بہیں آپ پنجاب ،سندھ کو دیکھ لیں ایک قطرہ پانی کا بھی زیادہ ادھر ُادھر ہو جائے تو طوفان برپا کر دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان پر سارے بڑے چھوٹے والے اصول و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں کیا یہ بات اصولی طور پر ٹھیک ہے؟
دیکھیں بھائی!! دو بھائی ایک گھر میں رہتے ہیں تو اختلاف کی گنجائش تو وہاں بھی رہتی ہے۔اب دوسروں کیلئے تو واویلا مچائے اور اپنے لئے کچھ نہیں؟ بلوچستان پر کوئی بڑے چھوٹے والے اصول لاگو نہیں کئے گئے، بلکہ ہمیشہ خیال ہی رکھا گیا ہے۔ ہمیشہ بات چیت سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں بھی دوسرے صوبوں نے اپنے کئی حقوق سے دستبردار ہوتے ہوئے بلوچستان کو اضافی حصہ دیا ہے۔اسکے علاوہ حالانکہ پٹھان بھی اس صوبے کی برابر اکثریت والی قوم ہے، اسکے باوجود بلوچستان میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے عہدوں پر زیادہ تر بلوچ ہی فائز رہے ہیںاور ان میں وہ تمام بھی شامل ہیں جو آج اس نام نہاد تحریک کے محرک ہیں اور ملک سے باہر بیٹھ کر کٹھ پتلیاں خرید کر چلا رہے ہیں۔۔گزشتہ دنوں ان کے ایک مفرور لیڈر نے لندن سے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اب اتنی مشاورت کے بعد بلوچستان کی غریب عوام کو ریلیف دینے کیلئے ایک پیکیج دیا جا رہا ہے تو آپ کیوں اسے رد کرتے ہیں؟تو موصوف نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بھائی بات یہ ہے کہ اس پیکیج کا فائدہ صرف عوام کو ہو گا اور یہ لیڈر کوئی ایسا کام نہیں ہونے دیتے جس سے عوام کو ریلیف ملے۔ وہ انہیں سر ہی اٹھانے نہیں دیں گے۔اب 27 کو بی ایل اے کمانڈر کی موت پر احتجاج کیلئے ہڑتال ہونے والی ہے۔اسکا نقصان کسکو ہو گا؟؟؟ غریب ریڑھی بان ،مزدور، چھوٹے دوکاندارکو، لندن میں بیٹھے سردار کو نہیں۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی مراسلہ دیکھیں
بہن آپ کی بات سے متفق ہوں لیکن ایسے بچے کو سمجھانے کے لئے بولنے کی اجازت تو دینی چاہیے نہ؟ اگر ہم اسے سرے سے ہی غلط کہ دیں اور تو غلظ فہمیاں ختم ہونے کی بجائے اور بڑھتی جائیں گی، باقی نظام کی خرابی تو سارے پاکستان میں موجود ہے، جنوبی پنجاب میں تو آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بچوں کو سکول نہیں بھجتے۔[/COLOR]

میں بھی متفق ہوں آپ سے، لیکن بات چیت کا دروازہ تو کبھی بند نہیں کیا گیا، مسلسل مذاکرات جاری ہیںاور ان مذاکرات کے درمیان بھی خون بہانے کا سلسلہ روکا نہیں جاتا۔اب بھائی کہے کہ میرے ساتھ دوسرے بھائی نے زیادتی کی ہے اوربات کرنے کے بجائےسزا کے طور پر اسکے معصوم بچوں کو مارنا شروع کر دے تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔اب یہ بھائی بھی یقیناً اچھے گھر سے ہوگا، گھر والے ہاسٹل میں رکھ کر پڑھا رہے ہیں اخراجات اٹھا رہے ہیں۔ اسے کیا معلوم ہوگا کہ کلی اسمٰعیل، کلی فیروز آباد، کلی لوہر کاریز اور کلی کیچی بیگ کے لوگ کس طرح جی رہے ہیں۔یہ غریب بلوچ تو روزی روزگار کے غم سے ہی نہیں نبٹ پارہے،سرداروں کی جنگ کا ایندھن کیسے بنیں گے۔اور انکے جو بچے غربت سے بغاوت کے چکر میںان کے ہاتھ لگ جاتے ہیں، وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ پیسے کے چکر میں یہ انہی کے آلہ کار بن رہے ہیں جنہوں نے انہیں اس حال تک پہنچا رکھا ہے۔میں ان کے حالات بیان نہیں کر سکتی، مگر میرے بس میں نہیں ہے کہ میں انکے لئے کیا کروں۔اس غلط فہمی کو ختم کر دیں کہ یہ پوری بلوچ قوم کی آواز ہے۔
بلوچ قوم محب وطن پاکستانی ہےبلوچ بہت مذہبی عبادت گزار لوگ ہوتے ہیں۔ یہ مسلمان ہو کر مسلمان کا خون بہانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔بھائی!! زندگی گزری ہے یہاں اور باقی بھی گزر جائے گی۔ ان قوموں کے بیچ میں اور انکے لئے کام کر رہی ہوں۔ کون کیا ہے میں جانتی ہوں۔باقی جو آپ نے کہا میں نے بھی وہی کہا تھا کہ نظام کی خرابی تو پورے پاکستان میں موجود ہے یہ بلوچستان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ میں نے یہ دھاندلی کے حوالے سے کہا تھا اور آپ نے تعلیم کے حوالے سے لیکن اولاد کو تعلیم دلانے کا شعور نہ ہونے اور زبردستی مزارعوں کو تعلیم سے محروم کرنے میں فرق ہوتا ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی مراسلہ دیکھیں
اس بات سے متفق ہوں
شکریہ
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (09-05-10)
پرانا 25-03-10, 11:49 AM   #12
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ نام نہیں لوں گی لیکن بلوچستان والے سب جانتے ہیں کسکا ذکر ہے۔ بلوچستان کے ایک نواب کے علاقے میں تعلیم مزارعوں کیلئے شجر ممنوعہ ہے اور نسلیں بےدام غلام ہیں۔انہی میں سے ایک کسی طرح بغاوت کر گیا اور تعلیم حاصل کرنے کوئٹہ آگیاپڑھ لکھ کر سی ایس پی آفیسر بنا اور اپنے ہی علاقے میں پوسٹنگ کروالی۔ جوائن کرنے کے بعد نواب صاحب کو سلام کرنے گیا۔جب وہاں بیٹھنے لگا تو نواب صاحب نے جھڑک دیا کہ تمہاری یہ جرات کہ تم میرے برابر اوپر بیٹھو۔تم یہاں نیچے فرش پر بیٹھو۔ جو بھی بن جاؤ تم ہمیشہ مزارعے ہی رہو گے۔
یہ یہاں سرداروں کی جنرل ذہنیت ہے۔ انہوں نے1947کے سٹیٹس سے آگے اپنی قوم کو بڑھنے ہی نہیں دیا۔تو کیوں ہم انکے مفادات کی جنگ کے حصے دار بن کر اپنے پاکستان کو کمزور کریں۔ 
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
rabab (12-04-10), shafresha (25-03-10), ہادی (23-02-12), پاکستانی (25-03-10), ھارون اعظم (26-03-10), منتظمین (06-04-10), اخترحسین (09-05-10), بلال الراعی (22-02-12)
پرانا 06-04-10, 12:25 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلوچ تو میں بھی ہوں ۔ بلوچ تو تم بھی ہو۔ خیر پتا نہیں میں کیا کہنا چاہ رہا تھا۔ ہاں تو میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ بھائیو مترو تے سجنومعاملہ گھمبیر ہے۔ اور گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتا جا رہا ہے۔
بلوچستان کا بیشتر حصہ پاکستان کے کنٹرول سے باہر جا چُکا ہے۔ اور تو اور دستیاب معلومات کے مطابق کوئٹہ کا سریاب روڈ کا علاقہ آہستہ آہستہ شجر ممنوعہ بنتا جا رہا ہے۔
ہمارے "آزادی کے شوقین غیرت مند بلوچ بھائی" روزانہ ایک آدھ غریب آباد گار کو مار کر نفسیاتی جنگ جیتتے جا رہے ہیں کہ وہ جب اور جہاں چاہیں تم لوگوں کو مار سکتے ہیں۔
ایف سی والوں سے شلواریں کٹوا کر وہ یہ ثبوت حاصل کرتے جا رہے ہیں کہ دیکھو یہ ظالم لوگ ہمارے رسم و رواج کے بھی خلاف ہیں۔اس طرح رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر رہے ہیں۔
مانا کہ یہ لوگ افواج کی چند دن کی مار ہیں لیکن نفسیاتی جنگ یہ لوگ جیت چُکے ہیں۔
جہاں یہ بد معاش لوگ نہیں تھے مثلاً جعفر آباد وغیرہ اب وہاں بھی انکے آثار پائے جاتے ہیں۔مقامی آبادی ان لچوں لفنگوں سے نفرت کرتی ہے لیکن خوفزدہ ہے۔اگر کوئی انکے خلاف بولا تو اسکا حشر ان پولیس والوں کی طرح ہوگا جنکو انہوں نے رفتہ رفتہ مارا تھا۔

ارے بھائیو سب صوبوں کو انکے حقوق دلواؤ ۔ ۔ ۔ ورنہ پہلے سٹیپ میں بلوچستان تو گیا ہاتھ سے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (12-04-10), منتظمین (06-04-10), ام طلحہ (06-04-10), اخترحسین (09-05-10)
پرانا 05-05-10, 01:21 AM   #14
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلوچستان کے بجھتے چراغ
تحریر:ا خوندزادہ جلال نورزئی

jalal.noorzai@gmail.com
جامعہ بلوچستان کے شعبہ ابلاغیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ناظمہ طالب کی بہیمانہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد بلوچ مسلح انتہاءپسند تنظیموں کا انتہائی بھیانک چہرہ سامنے آچکا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد فکر و خیال اور ترجیحات کے لحاظ سے بلوچ جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان خط تقسیم کھنچ گئی ہے ، افسوسناک امر یہ ہے کہ پروفیسر ناظمہ کا قتل مسلح تنظیموں سمیت بلوچ نیشنل فرنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے لئے کامیابی کا لمحہ ہے مگر اس سنگدلانہ واردات کی مذمت واضح انداز میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے بھی نہیں کی، دونوں جماعتوں نے مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے ، یہ طرز عمل یہ پتہ دیتا ہے کہ مذکورہ دونوں جماعتیں اس قتل پر راضی اور شافی ہے ان واقعات کا جو المناک نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ صوبے میں علم کی شمع بجھنے کو ہے ، اگر یہ شمع بجھ گئی تو بی این پی کے مسٹر حبیب جالب کی سیاسی باتوں الزامات بے بجا تہمتوں پر کوئی کان نہیں دھرے گا کیونکہ کوئی سوچنے اور سمجھنے والا نہیں رہے گا اگر ان کا یہ خیال ہے کہ بلوچستان بس آزاد ہونے والا ہے تو انہیں صرف ان الفاظ میں جواب دیا جاکستا ہے کہ ”دلی ہنوز دور است“ ۔ لہٰذا احتجاج اور سیاست کا قابل قبول راستہ اختیار کیا جانا چاہیئے ۔کل کلاں اگر سیاست کا پہیہ کسی اور طرف گھومتا ہے تو پھر کسی کی ہمدردی حاصل نہیں کی جاسکے گی اور اسداتذہ کو قتل کرکے صوبے کی نوجوان نسل کو جس نقصان کا سامنا ہوگا اس کی تلافی بھی ممکن نہیں ہے ۔

کسی نے اساتذہ کے قتل کے حوالے سے کیا خوب کہا ہے کہ ” معاشرے سے علم کے چراغوں کا بجھانے کا جو عمل علم دشمنوں نے شروع کیا ہے اس پر اہل نظر انسان دوست ، جمہوریت دوست اور بلوچستان کی آئندہ نسلیں جامعہ بلوچستان کے در و دیوار سے لپٹ کر روئیں گی “ ۔میں یہ کہوں گا کہ صرف جامعہ بلوچستان ہی نہیں بلکہ صوبے کے ان علاقوں کے تعلیمی اداروں سے بھی لپٹ کر رویا جائےگا جہاں کوئی معلم جانے کو تیار نہیں ہے ۔ کسی نے آزادی اور حقوق کا جو راستہ اختیار کیا ہوا ہے اس کا منطقی نتیجہ بلوچستان کی بربادی ہے ناکہ خوشحالی ۔ نادیدہ عناصر پیش ازیں بلوچستان یونیورسٹی کے بزرگ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر صفدر کیانی ،شعبہ لائبریری سائنسز کے سربراہ پروفیسر خورشید انصاری کے خون ناحق سے ہاتھ رنگین کرچکے ہیں ۔ تعمیر نو ماڈل ہائی اسکول کے پرنسپل پروفیسر فضل باری کو پیوند خاک کیا گیا اور کئی سینئر معلمین کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے ۔ نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ نشان زد قتل کے واقعات کے پیش نظر جامعہ بلوچستان سے اب تک پچیس سینئر ترین پی ایچ ڈی اساتذہ ٹارگٹ کلنگ کے خوف کے باعث دوسرے صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ پروفیسر ناظمہ طالب کے قتل کے بعد ستر سے زائد اساتذہ نے مادر علمی کو چھوڑنے کی خاطر این او سی کے لئے درخواستیں جمع کروادی ہیں اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ یونیورسٹی کے پانچ سو کے قریب اساتذہ میں سے نصف کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے اور ان اساتذہ کو مسلسل سنگین نوعیت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔بلوچستان یونیورسٹی بہترین دن بدن بہترین دماغوں سے محروم ہوتی جارہی ہے ۔جن ستر اساتذہ نے ملک کی دیگر جامعات میں تبادلے کے لئے این او سی کے حصول کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں ان میں خواتین بھی شامل ہیں اور ان میں زیاد تعداد پی ایچ ڈی اساتذہ کی ہے ۔ اس بات کی تصدیق جامعہ بلوچستان کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر غلام رسول رئیسانی نے کردی ہے ۔چنانچہ لازمی بات ہے کہ اگر اساتذہ کو این او اسی نہیں بھی ملی تو وہ عدم تحفظ کے خوف سے یونیورسٹی نہیں جائیں گے ۔چونکہ یونیورسٹی سریاب روڈ پر واقع ہے اور یہ علاقہ اردو ، پنجابی اور ہزارہ قبیلے کے افراد کے لئے ممنوعہ علاقہ ہے اور بہت حساس بھی ہے ۔

مزید پڑھیے
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
wajee (09-05-10), حیدر (05-05-10)
پرانا 05-05-10, 06:57 AM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی میرے میں تو سمجتا ہوں کہ پولیس اور استاذہ کی ٹارگٹ کلنگ بنگلہ دیش ماڈل کے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔ وہاں پھیلنے والی بغاوت میں بھی ہندو اساتذہ کا اہم کردار تھا۔ جب یہاں سے اہل اساتذہ نکل جائیں گے تو پھر مجبوراً یہاں موجود نا اہل کو بھی بھرتی کرنا پڑے گا
اس میں کم از کم مجھے کوئی شک نہیں کہ بی ایل اے ٹائپ کی تھرڈ کلاس بد معاش تنظیموں میں سارے نا اہل افراد ہی بھرے ہوئے ہیں۔ چناچہ ممکنہ طور پر یہ لوگ اپنے لوگ داخل کروائیں گے (سیاسی اثر و رسوخ تو موجود ہے ہی)۔
پھر دیکھیے گا آپ اس آگ کو پھیلتے ہوئے۔
واقعی بلوچستان کی آزادی کا دلی بہت دور ہی لیکن جس خوفناک منصوبے پر دل جمعی سے عمل کیا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت جس پر گیدڑوں کی طرح رو بھی نہیں سک رہی ، اسکا انجام بہت خوفناک ہو سکتا ہے۔
دلی اتنا بھی دُور نہین
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
wajee (09-05-10), اخترحسین (09-05-10)
جواب

Tags
color, ہوتے, ہوتا, کرتے, گھر, گرد, پہلے, پنجابی, پاکستانی, نام, میڈیا, آبادی, اجازت, اسلام, بہترین, بھائی, بلوچستان الگ ریاست, حصہ, خلاف, دیکھا, ذرا, سردار, شور, عوام, غلط, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger