| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 747
|
||||
| 15 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-03-10), ہادی (23-02-12), فرحان دانش (24-03-10), ھارون اعظم (26-03-10), یاسر عمران مرزا (05-05-10), منتظمین (23-03-10), محمدعدنان (23-02-12), ام طلحہ (24-03-10), اخترحسین (24-03-10), حیدر (06-04-10), راجہ اکرام (23-03-10), سحر (22-02-12), شمشاد احمد (23-02-12), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی بھائی بہت بہت شکریہ، ماشاء اللہ بہت اچھا سلسلہ ہے
تیرا پاکستان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا پاکستان ہے اس پہ دل بھی قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پہ جان بھی قربان ہے
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات |
|
|
|
| عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا | اخترحسین (24-03-10) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کچھ پاکستانی بلوچ فوج اور ظالم سرداروں کے مظالم کے جواب میں خواہ مخواہ پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ان کو سمجھ دیوے اور راہ راست پر لائے آمین |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ سے میں یہی امید رکھتی ہوں۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین Last edited by ام طلحہ; 24-03-10 at 02:08 PM. |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | ہادی (23-02-12), پاکستانی (24-03-10), یاسر عمران مرزا (05-05-10), ابرارحسین (24-03-10), اخترحسین (24-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترمہ ام طلحہ آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستے پر چلائے ، آزمائشوں سے بچائےاور استقامت دے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
مانا کہ کچھ پاکستانی بلوچ فوج اور ظالم سرداروں کے مظالم کے جواب میں خواہ مخواہ پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سیاست دان بھی تو خواہ مخواہ بلوچستان کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا | اخترحسین (09-05-10), عارف اقبال (24-03-10) |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
پاکستانی بھائی!!آپکے یوزر نیم سے وطن کی محبت جھلکتی ہے۔ میرے بھائی!! ایک گھر میں چار بچے ہوں اورایک بچہ نافرمان ہو جائے اور گھر توڑنے کی ضد کر بیٹھے تو اسکا ساتھ نہیں دیتے، اسے سمجھاتے ہیں۔ پیار سے نہ مانے تو کبھی کبھی سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔اسے کاٹ کر الگ نہیں کر دیتے۔چار بچے کماتے ہوں اور مل کر گھر چلاتے ہوں اور ان میں سے ایک بیٹا یہ کمائی میری ہے اس پر صرف میرا حق ہے، میرا میرا میرا، تو کیا ہو گا؟؟
بہن زمانہ بہت بدل چکا ہے ضروریات بھی بدل چکی ہیں، آپ نے ایک گھر کی مثال دی ہے، بہن آپ کے بات سے متفق ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو دریا دلی ہو گی اس بچے کی اگر وہ چھوٹوں کا خیال کرے اور یہ بات کبھی نہ کہے اور نہ کبھی سوچے۔ لیکن بہیں آپ پنجاب ،سندھ کو دیکھ لیں ایک قطرہ پانی کا بھی زیادہ ادھر ُادھر ہو جائے تو طوفان برپا کر دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان پر سارے بڑے چھوٹے والے اصول و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں کیا یہ بات اصولی طور پر ٹھیک ہے؟ نفرتیں جنم لیں گی۔پھر وہ اپنے بھائی کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر پھینکتا جائے کہ یہ میرا حق مار رہا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟؟بھائی!! ایسے لوگوں کی سوچ میں ساتھی نہیں بنتے، انہیں سمجھاتے ہیں۔انہیں بتائیں کہ پاکستان انکے لئے کیا ہے اور پاکستان کے بغیر یہ کیا ہونگے۔یہ ہم سب کا گھر ہے۔ اسے ہم سب کو ملکر چلانا ہے۔جن مفاد پرستوں کے چھوڑے گئے شوشے ہیں انہوں نے اپنی اولادوں کو تو لندن امریکہ تعلیم دلوائی ہے اور سیٹ کیا ہوا ہے اور اپنے علاقوں میں سکول تک نہیں بننے دئیے۔ان کے بچوں کی جان جان ہے اور باقی بلوچوں کی جان کی کوئی قیمت نہیںجنہیں آگ میں جھونک رہے ہیں؟؟ بہن آپ کی بات سے متفق ہوں لیکن ایسے بچے کو سمجھانے کے لئے بولنے کی اجازت تو دینی چاہیے نہ؟ اگر ہم اسے سرے سے ہی غلط کہ دیں اور تو غلظ فہمیاں ختم ہونے کی بجائے اور بڑھتی جائیں گی، باقی نظام کی خرابی تو سارے پاکستان میں موجود ہے، جنوبی پنجاب میں تو آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بچوں کو سکول نہیں بھجتے۔ اقتباس:
اس بات سے متفق ہوں
|
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرے پاس وقت نہیں ورنہ تفصیل سے لکھتا ۔ تاہم کچھ اعداد و شمار پیش کرنا چاہوں گا جو آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ وزارت داخلہ بلوچستان سے حاصل کئے گئے یہ اعداد و شمار میری ایک رپورٹ کا حصہ ہے جو انشاء اللہ ایک دو دنوں میںمیڈیا پر آجائے گی۔ 2010ء میں جنوری سے لیکر 10 مارچ تک 09واقعات میں05 ہلاک اور 150 زخمی ہوئے ۔ 11واقعات میں فرنٹیئر کور کے 07 اہلکار ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ۔ آباد کاروں پر 26 حملوںمیں 21 آباد کار ہلاک ہلاک اور19 زخمی ہوئے ۔فرقہ وارانہ دہشت گردی کے 03واقعات میں05 ہلاک اور07 زخمی ہوئے جبکہ دیگر 28واقعات ،14 افراد ہلاک اور112 زخمی ہوئے ۔ یعنی 77واقعات میں52افراد ہلاک اور170 زخمی ہوئے۔ جبکہ 10 مارچ سے اب تک (24 مارچ) 25 سے زائد افراد ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں سمیت دہشت گردی کے دوسرے واقعات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ گیارہ سے پندرہ مارچ کے اعداد وشمار ابھی تک دستیاب نہیں ہوسکے ۔ تاہم سولہ مارچ سے اب تک کے واقعات کا مختصر ذکر کرنا چاہوںگا۔ 17 مارچ کو کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں پر فائرنگ کے تبادلے میں بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اشتہاری ملزم مجید لانگو کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ۔ اسی روز ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور ایک سابق ڈی ایس پی عثمان ٹکا خان قتل کیا گیا۔ 18 مارچ کو کوئٹہ کے سمنگلی روڈ اور ہزار گنجی میںپر پولیس کی گشتی ٹیم اور ایک دکان پر پر فائرنگ سے اہلکار اور ایک دکاندار ہلاک ہوا۔ ڈیرہ بگٹی میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔مستونگ میں فائرنگ اور دستی بم حملوں میں پولیس اہلکار اور آباد کار نشانہ بنا ، 19 مارچ کو ضلع مستونگ میں کیڈٹکالج کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک طالب علم سمیت تین افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ 20 مارچ کو کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر فرقہ وارانہ ٹارگٹکلنگ میں تین افراد قتل ہوئے ۔ امروز ضلع کیچ کے علاقے تربت میں آباد کار کی برگر کی دکان پر فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔ 21 مارچ کو کوئٹہ کے کواری روڈ پر ڈی پی او خضدار کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملے میں دو اہلکار اور ایک دکاندار ہلاک ہوا۔ واقعہ میں سولہ راہ گیر خمی بھی ہوئے ۔ 22 مارچ کو کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس پر گاڑی پر فائرنگ کرکے ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر فضل باری قتل اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوا۔ اسی روز گولیمار چوک پر ریموٹ کنٹرول دھماکے میں گدھا گاڑی چلانےوالا مزدور ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ 23 مارچ کو پنجگور میں فائرنگ سے دو آباد کار ہلاک ہوئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ 2007ء سے لیکر 2009ء کے اعداد و شمار کچھ اس طرحہے ۔ 2009ء پولیس ۔ ۔۔۔۔۔75واقعات ،73 ہلاک ،97 زخمی ایف سی ۔۔۔۔۔۔56واقعات ،30 ہلاک ،150 زخمی آباد کار۔۔۔۔۔110واقعات ،75 ہلاک ،124 زخمی فرقہ وارانہ دہشت گردی۔۔۔۔26واقعات ،39 ہلاک ،17 زخمی دیگر ۔۔۔۔۔196واقعات ،112 ہلاک ،618 زخمی ٹوٹل ۔۔۔۔۔463واقعات ،329ہلاک،1006 زخمی ٭٭٭٭ 2008ء پولیس ۔ ۔۔۔۔۔59 واقعات ،42 ہلاک ،68 زخمی ایف سی ۔۔۔۔۔۔88واقعات ،62 ہلاک ،168 زخمی آباد کار۔۔۔۔۔58واقعات ،38 ہلاک ،56 زخمی فرقہ وارانہ دہشت گردی ۔۔۔۔12واقعات ،15 ہلاک ،05 زخمی دیگر ۔۔۔۔۔138واقعات ،168 ہلاک ،384 زخمی ٹوٹل ۔۔۔۔۔355واقعات ،325ہلاک،681 زخمی ٭٭٭ 2007ء پولیس ۔ ۔۔۔۔۔29واقعات ، 31ہلاک ،26زخمی ایف سی ۔۔۔۔۔۔35واقعات، 26ہلاک،63زخمی آباد کار۔۔۔۔۔23واقعات،10ہلاک ،32زخمی فرقہ وارانہ دہشت گردی۔۔۔۔۔۔۔۔دستیاب نہیں دیگر ۔۔۔۔۔134واقعات ،101ہلاک،271زخمی ٹوٹل ۔۔۔۔۔221واقعات ،168ہلاک،392 زخمی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ (وقت کی کمی کے باعث اعداد و شمار کو صحیح ترتیب نہیں دے سکا ، اگر سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہے تو ضرور آگاہ کیجئے) |
|
|
|
|
|
|
#11 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی بات یہ ہے کہ اس پیکیج کا فائدہ صرف عوام کو ہو گا اور یہ لیڈر کوئی ایسا کام نہیں ہونے دیتے جس سے عوام کو ریلیف ملے۔ وہ انہیں سر ہی اٹھانے نہیں دیں گے۔اب 27 کو بی ایل اے کمانڈر کی موت پر احتجاج کیلئے ہڑتال ہونے والی ہے۔اسکا نقصان کسکو ہو گا؟؟؟ غریب ریڑھی بان ،مزدور، چھوٹے دوکاندارکو، لندن میں بیٹھے سردار کو نہیں۔ اقتباس:
بلوچ قوم محب وطن پاکستانی ہےبلوچ بہت مذہبی عبادت گزار لوگ ہوتے ہیں۔ یہ مسلمان ہو کر مسلمان کا خون بہانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔بھائی!! زندگی گزری ہے یہاں اور باقی بھی گزر جائے گی۔ ان قوموں کے بیچ میں اور انکے لئے کام کر رہی ہوں۔ کون کیا ہے میں جانتی ہوں۔باقی جو آپ نے کہا میں نے بھی وہی کہا تھا کہ نظام کی خرابی تو پورے پاکستان میں موجود ہے یہ بلوچستان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ میں نے یہ دھاندلی کے حوالے سے کہا تھا اور آپ نے تعلیم کے حوالے سے لیکن اولاد کو تعلیم دلانے کا شعور نہ ہونے اور زبردستی مزارعوں کو تعلیم سے محروم کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ شکریہ |
||
|
|
|
| ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | اخترحسین (09-05-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ نام نہیں لوں گی لیکن بلوچستان والے سب جانتے ہیں کسکا ذکر ہے۔ بلوچستان کے ایک نواب کے علاقے میں تعلیم مزارعوں کیلئے شجر ممنوعہ ہے اور نسلیں بےدام غلام ہیں۔انہی میں سے ایک کسی طرح بغاوت کر گیا اور تعلیم حاصل کرنے کوئٹہ آگیاپڑھ لکھ کر سی ایس پی آفیسر بنا اور اپنے ہی علاقے میں پوسٹنگ کروالی۔ جوائن کرنے کے بعد نواب صاحب کو سلام کرنے گیا۔جب وہاں بیٹھنے لگا تو نواب صاحب نے جھڑک دیا کہ تمہاری یہ جرات کہ تم میرے برابر اوپر بیٹھو۔تم یہاں نیچے فرش پر بیٹھو۔ جو بھی بن جاؤ تم ہمیشہ مزارعے ہی رہو گے۔
یہ یہاں سرداروں کی جنرل ذہنیت ہے۔ انہوں نے1947کے سٹیٹس سے آگے اپنی قوم کو بڑھنے ہی نہیں دیا۔تو کیوں ہم انکے مفادات کی جنگ کے حصے دار بن کر اپنے پاکستان کو کمزور کریں۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | rabab (12-04-10), shafresha (25-03-10), ہادی (23-02-12), پاکستانی (25-03-10), ھارون اعظم (26-03-10), منتظمین (06-04-10), اخترحسین (09-05-10), بلال الراعی (22-02-12) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچ تو میں بھی ہوں ۔ بلوچ تو تم بھی ہو۔ خیر پتا نہیں میں کیا کہنا چاہ رہا تھا۔ ہاں تو میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ بھائیو مترو تے سجنومعاملہ گھمبیر ہے۔ اور گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتا جا رہا ہے۔
بلوچستان کا بیشتر حصہ پاکستان کے کنٹرول سے باہر جا چُکا ہے۔ اور تو اور دستیاب معلومات کے مطابق کوئٹہ کا سریاب روڈ کا علاقہ آہستہ آہستہ شجر ممنوعہ بنتا جا رہا ہے۔ ہمارے "آزادی کے شوقین غیرت مند بلوچ بھائی" روزانہ ایک آدھ غریب آباد گار کو مار کر نفسیاتی جنگ جیتتے جا رہے ہیں کہ وہ جب اور جہاں چاہیں تم لوگوں کو مار سکتے ہیں۔ ایف سی والوں سے شلواریں کٹوا کر وہ یہ ثبوت حاصل کرتے جا رہے ہیں کہ دیکھو یہ ظالم لوگ ہمارے رسم و رواج کے بھی خلاف ہیں۔اس طرح رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر رہے ہیں۔ مانا کہ یہ لوگ افواج کی چند دن کی مار ہیں لیکن نفسیاتی جنگ یہ لوگ جیت چُکے ہیں۔ جہاں یہ بد معاش لوگ نہیں تھے مثلاً جعفر آباد وغیرہ اب وہاں بھی انکے آثار پائے جاتے ہیں۔مقامی آبادی ان لچوں لفنگوں سے نفرت کرتی ہے لیکن خوفزدہ ہے۔اگر کوئی انکے خلاف بولا تو اسکا حشر ان پولیس والوں کی طرح ہوگا جنکو انہوں نے رفتہ رفتہ مارا تھا۔ ارے بھائیو سب صوبوں کو انکے حقوق دلواؤ ۔ ۔ ۔ ورنہ پہلے سٹیپ میں بلوچستان تو گیا ہاتھ سے |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان کے بجھتے چراغ
تحریر:ا خوندزادہ جلال نورزئی jalal.noorzai@gmail.com جامعہ بلوچستان کے شعبہ ابلاغیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ناظمہ طالب کی بہیمانہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد بلوچ مسلح انتہاءپسند تنظیموں کا انتہائی بھیانک چہرہ سامنے آچکا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد فکر و خیال اور ترجیحات کے لحاظ سے بلوچ جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان خط تقسیم کھنچ گئی ہے ، افسوسناک امر یہ ہے کہ پروفیسر ناظمہ کا قتل مسلح تنظیموں سمیت بلوچ نیشنل فرنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے لئے کامیابی کا لمحہ ہے مگر اس سنگدلانہ واردات کی مذمت واضح انداز میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے بھی نہیں کی، دونوں جماعتوں نے مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے ، یہ طرز عمل یہ پتہ دیتا ہے کہ مذکورہ دونوں جماعتیں اس قتل پر راضی اور شافی ہے ان واقعات کا جو المناک نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ صوبے میں علم کی شمع بجھنے کو ہے ، اگر یہ شمع بجھ گئی تو بی این پی کے مسٹر حبیب جالب کی سیاسی باتوں الزامات بے بجا تہمتوں پر کوئی کان نہیں دھرے گا کیونکہ کوئی سوچنے اور سمجھنے والا نہیں رہے گا اگر ان کا یہ خیال ہے کہ بلوچستان بس آزاد ہونے والا ہے تو انہیں صرف ان الفاظ میں جواب دیا جاکستا ہے کہ ”دلی ہنوز دور است“ ۔ لہٰذا احتجاج اور سیاست کا قابل قبول راستہ اختیار کیا جانا چاہیئے ۔کل کلاں اگر سیاست کا پہیہ کسی اور طرف گھومتا ہے تو پھر کسی کی ہمدردی حاصل نہیں کی جاسکے گی اور اسداتذہ کو قتل کرکے صوبے کی نوجوان نسل کو جس نقصان کا سامنا ہوگا اس کی تلافی بھی ممکن نہیں ہے ۔ کسی نے اساتذہ کے قتل کے حوالے سے کیا خوب کہا ہے کہ ” معاشرے سے علم کے چراغوں کا بجھانے کا جو عمل علم دشمنوں نے شروع کیا ہے اس پر اہل نظر انسان دوست ، جمہوریت دوست اور بلوچستان کی آئندہ نسلیں جامعہ بلوچستان کے در و دیوار سے لپٹ کر روئیں گی “ ۔میں یہ کہوں گا کہ صرف جامعہ بلوچستان ہی نہیں بلکہ صوبے کے ان علاقوں کے تعلیمی اداروں سے بھی لپٹ کر رویا جائےگا جہاں کوئی معلم جانے کو تیار نہیں ہے ۔ کسی نے آزادی اور حقوق کا جو راستہ اختیار کیا ہوا ہے اس کا منطقی نتیجہ بلوچستان کی بربادی ہے ناکہ خوشحالی ۔ نادیدہ عناصر پیش ازیں بلوچستان یونیورسٹی کے بزرگ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر صفدر کیانی ،شعبہ لائبریری سائنسز کے سربراہ پروفیسر خورشید انصاری کے خون ناحق سے ہاتھ رنگین کرچکے ہیں ۔ تعمیر نو ماڈل ہائی اسکول کے پرنسپل پروفیسر فضل باری کو پیوند خاک کیا گیا اور کئی سینئر معلمین کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے ۔ نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ نشان زد قتل کے واقعات کے پیش نظر جامعہ بلوچستان سے اب تک پچیس سینئر ترین پی ایچ ڈی اساتذہ ٹارگٹ کلنگ کے خوف کے باعث دوسرے صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ پروفیسر ناظمہ طالب کے قتل کے بعد ستر سے زائد اساتذہ نے مادر علمی کو چھوڑنے کی خاطر این او سی کے لئے درخواستیں جمع کروادی ہیں اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ یونیورسٹی کے پانچ سو کے قریب اساتذہ میں سے نصف کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے اور ان اساتذہ کو مسلسل سنگین نوعیت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔بلوچستان یونیورسٹی بہترین دن بدن بہترین دماغوں سے محروم ہوتی جارہی ہے ۔جن ستر اساتذہ نے ملک کی دیگر جامعات میں تبادلے کے لئے این او سی کے حصول کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں ان میں خواتین بھی شامل ہیں اور ان میں زیاد تعداد پی ایچ ڈی اساتذہ کی ہے ۔ اس بات کی تصدیق جامعہ بلوچستان کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر غلام رسول رئیسانی نے کردی ہے ۔چنانچہ لازمی بات ہے کہ اگر اساتذہ کو این او اسی نہیں بھی ملی تو وہ عدم تحفظ کے خوف سے یونیورسٹی نہیں جائیں گے ۔چونکہ یونیورسٹی سریاب روڈ پر واقع ہے اور یہ علاقہ اردو ، پنجابی اور ہزارہ قبیلے کے افراد کے لئے ممنوعہ علاقہ ہے اور بہت حساس بھی ہے ۔ مزید پڑھیے |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی میرے میں تو سمجتا ہوں کہ پولیس اور استاذہ کی ٹارگٹ کلنگ بنگلہ دیش ماڈل کے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔ وہاں پھیلنے والی بغاوت میں بھی ہندو اساتذہ کا اہم کردار تھا۔ جب یہاں سے اہل اساتذہ نکل جائیں گے تو پھر مجبوراً یہاں موجود نا اہل کو بھی بھرتی کرنا پڑے گا
اس میں کم از کم مجھے کوئی شک نہیں کہ بی ایل اے ٹائپ کی تھرڈ کلاس بد معاش تنظیموں میں سارے نا اہل افراد ہی بھرے ہوئے ہیں۔ چناچہ ممکنہ طور پر یہ لوگ اپنے لوگ داخل کروائیں گے (سیاسی اثر و رسوخ تو موجود ہے ہی)۔ پھر دیکھیے گا آپ اس آگ کو پھیلتے ہوئے۔ واقعی بلوچستان کی آزادی کا دلی بہت دور ہی لیکن جس خوفناک منصوبے پر دل جمعی سے عمل کیا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت جس پر گیدڑوں کی طرح رو بھی نہیں سک رہی ، اسکا انجام بہت خوفناک ہو سکتا ہے۔ دلی اتنا بھی دُور نہین |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہوتے, ہوتا, کرتے, گھر, گرد, پہلے, پنجابی, پاکستانی, نام, میڈیا, آبادی, اجازت, اسلام, بہترین, بھائی, بلوچستان الگ ریاست, حصہ, خلاف, دیکھا, ذرا, سردار, شور, عوام, غلط, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|