واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-09-08, 10:21 AM   #1
کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔
وجدان وجدان آف لائن ہے 22-09-08, 10:21 AM

میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ مکمل تحقیق،ثبوت اور اسلامی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے، کسی بھی قسم کی انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر بتائیں‌کہ کیا

فدائی یا خود کش حملہ اسلام میں جائز ہے؟

اگر ہے تو کن صورتوں‌میں؟

اور اگر نہیں تو کیوں‌نہیں؟

آپ کے جواب کا منتظر

آپکا کم علم بھائی "وجدان"

 
وجدان's Avatar
وجدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 382
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (23-09-08), خرم شہزاد خرم (23-09-08), عروج (14-10-10)
پرانا 23-09-08, 01:40 PM   #2
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,351
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

مجھے بھی انتظار رہے گا میاں صاحب آپ کہاں ہے شام بھائی آپ بھی کچھ تو بتائیں
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
وجدان (24-09-08), عروج (14-10-10)
پرانا 23-09-08, 01:42 PM   #3
J.S
Senior Member
 
J.S's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,136
کمائي: 193,108
شکریہ: 9,966
7,889 مراسلہ میں 16,033 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

J.S آف لائن ہے   Reply With Quote
J.S کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (14-10-10)
پرانا 23-09-08, 01:54 PM   #4
Senior Member
 
مزمل فاروق's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,354
شکریہ: 1,023
782 مراسلہ میں 1,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

بھائ میں اس پر بحث نہیں‌ کروں گا کے خود کش حملے جائز ہیں‌ یا نہیں ؟ لیکن آپ سے گزارش کروں‌ گا ایک مرتبہ اس کالم کو پڑھ لیں شاید آُپ کو کچھ اندارہ ہوجائے-
Attached Thumbnails
sailani.gif  
مزمل فاروق آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مزمل فاروق کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (23-09-08), وجدان (24-09-08)
پرانا 23-09-08, 04:56 PM   #5
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

جب حالات اس جیسے پیدا ہوجائے تو سب جائز ہے۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-09-08, 10:02 AM   #6
Senior Member
 
وجدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
کمائي: 25,151
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
وجدان کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں وجدان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

خلیل بھائی، میں اسلام کی رو سے دیکھنا یاسب کو دیکھانا چاہتا ہو، اس فورم پر بڑے اہل علم لوگ موجود ہیں۔ کوئی تو ایسی بات سامنے آئے گی، جس سے پتہ لگے گا کہ ہمیں‌کس سمت میں اتفاق کرکے چلنا چائے۔ میری بحث صرف بحث نہیں ایک نتجہ چاہتی ہے۔ اگر اس فورم پر 2000 لوگ بھی ایک بات پر متفق ہو جائیں‌تو یہ ایک بہت بڑی بات ہوگی۔ کیوں‌کہ آج کل نئی نسل کے لئے کوئی مستقبل نہیں ہے، اگر ہم فدائی حملوں کو جائز ثابت کرتے ہیں‌تو ایک بے روزگار نوجوان جو مالی حالات کا شکار ہے، اسکو تو سیدھا سیدھا زندگی کا مقصد نظر آجاتاہے جنت کا آسان رستہ بھی نظر آتا ہے۔ اگر ہم بیٹھ کر امریکہ پر بحث کر سکتےہیں‌ (جس کا کوئ سرا نظر نہیں‌آتا) تو ہم اس بات پر کیوں‌نہیں‌بول سکتے، کیا ہم پر کوئی پابندی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہے جیسا کہ balli87صاحب نے ایک کالم کا حوالہ دیا ہے، اگر دیکھا جائے تو، اسلام میں بدلہ لینے کی اجازت ہے لیکن جس نے ظلم کیا ہے اس سے، اگر ایک علاقے کا ناظم آپ پر ظلم کرتا ہے زیادتی کرتا ہے تو کیا ہم اس پورے علاقے پر بم پھینک دیں‌گے؟

آپ لوگ اس موضوع پر بحث بھلے نا کریں‌لیکن اپنی عقل اور دانش کے مطابق ان سوالوں کا جواب ضرور دیں۔ اور کوئی بھی بحث اگر تعمیری ہو تو وہ بحث نہیں ایک سنگ میل ہوتی ہے آنے والوں‌کے لئے۔

شکریہ
وجدان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-09-08, 10:33 AM   #7
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

سلام،

نوٹ: یہ میرا زاتی خیال ہے اور کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اقتباس:
فدائی یا خود کش حملہ اسلام میں جائز ہے؟
فدائی حملہ جائز مگر اسکی کچھ صورتیں ہوتی ہیں۔

اقتباس:
اگر ہے تو کن صورتوں‌میں؟
1۔ آپکے مملکت پر حملہ ہوجائے یعنی کسی دوسری ملک کی فوج آپکی ریاست پر حملہ کردے اور ریاست خطرے میں پڑجائے تو آخری حربہ کے طور پر اسکو استعمال کرسکتے ہیں جسطرح پاکستانی افواج نے بھی کیا انڈین ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر۔ یاپھر ہم اسکی مثال فلسطین میں دیکھتے ہیں۔
2۔اسکے علاوہ دوسری کوئی صورت نہیں ہے۔

اقتباس:
اور اگر نہیں تو کیوں‌نہیں؟
1۔ عام لوگوں کو چاہے حالت جنگ ہی کیوں نہ ہو مارنے کی اجازت نہیں لہذا ان پر کسی قسم کا فدائی حملہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
2۔ جنت میں جانے کا کوئی آسان طریقہ ہمیں خودکش بمبار بننے کو نہیں کہتا۔
3۔ اسلام نام ہے امن و سلامتی کا۔
4۔ اسلام تو عام حالت میں بھی اپنی جان کی حفاظت کی بھرپھور تربیت دیتا ہے اور اسی وجہ سے خودکشی حرام ہے۔
5۔ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، یہاں لفظ مسلمان میں تمام مکتبہ فکر آجاتے ہیں۔
6۔ اسلام دشمنوں سے لڑنے کی تیاری کا حکم تو ضرور دیتا ہے مگر کہیں یہ نہیں لکھا ہوا کہ اسلام کی طرف سے کبھی حملہ میں پہل ہو یا اسلام کی طرف سے کبھی کسی پر چڑائی ہو۔ لہذا جس نے بھی نائین الین والا واقعہ کیا ہے وہ مسلمان کے زمرے میں نہیں آتے۔
7۔ جن جن علاقوں کو ماضی میں فتح کیا گیا وہاں ہمیشہ جنگ کے بعد امن قائم ہوا جسکی وجہ سے آج اس خطہ میں مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔
8۔ مذید کی گنجائش نہیں۔

وسلام،
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (24-09-08), پیاسا (24-09-08), وجدان (24-09-08)
پرانا 24-09-08, 11:19 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: کیا فدائی یا خود کش حملے اسلام میں‌جائز ہیں۔

بھائی عرفان حیدر نے بہت ہی اچھے نکات پیش کیے، یہ نکات قرآن کی تعلیم کے عین مطابق ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ جناب کے پیش کردہ نکات کی آیات، اللہ تعالی کے احکامات کا حوالہ یہاں‌ فراہم کردوں تاکہ آسانی رہے۔

کیا (اپنے ملک، اپنی قوم، اپنی حکومت، اپنے بھائی عوام پر) فدائی حملہ جائز ہیں؟

جی نہیں؟
ایک حکومت وقت ، جس کو تمام پاکستانیوں نے چنا ہے۔ اپنے مسائیل کو عدالت میں یا منتخب نمائیندوں کے پاس لے جانے کے بجائے ، عام انسانوں کا قتل ، کسی طور پر جائز نہیں ہے۔ اس طرح کے فدائی حملے ناجائز ہیں۔ یہ عوام اور لوگوں کو قتل کے زمرے میں آتے ہیں ، اس طرح عوام کو بلاوجہ قتل کرنا فساد ہے۔ جس کی بیخ‌کنی ہر مسلمان پر فرض ہے۔

اپنے آپ کو اس طرح قتل کرنے کے بارے میں آیات دیکھئے:
4:29 اے لوگو! جو ایمان لائے ہو نہ کھاؤ ایک دوسرے کے مال باہم ناجائز طریقے سے، مگر یہ کہ ہو لین دین تمہاری آپس کی رضامندی سے۔ اور نہ قتل کرو اپنے آپ کو، بے شک اللہ ہے تم پر بے حد مہربان۔

قتل و خونریزی کی ممانعت:
5:32 اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

جہاد کے بارے میں قرآن کی بہت سی آیات پیش کی جاتی ہیں کہ جہاد فرض ہے۔ یہ درست ہے کہ جہاد مسلمان پر فرض ہے ۔ اس کے لئے مرکزی حکومت کے دفاعی نظام میں شمولیت حاصل کی جائے۔ جہاد کے لئے ایک مرکزی ہیڈ کوارٹر یا مرکزی کمان کا تصور بذات خود رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا۔ رسول اکرم نے بارہا ، کئی لوگوں کو جہاد میں حصہ لینے سے روک دیا۔ یعنی کمانڈر کا تصور فراہم کیا۔ لہذا جہاد کے لئے ایک مرکزی کمان کی نگرانی میں کام کرنا ضروری ہے۔ نا کہ آتے جاتے لوگوں کو قتل کیا جائے؟ ایسا قتل فدائی حملہ نہیں بلکہ فساد ہے۔ جس کی سزا قتل ہے۔ یہ کام مذہب کے نام پر شروع کیا جائے تو اور بھی بڑا جرم ہے۔ کہ دین کو تلوار سے پھیلانے کا حکم کسی جگہ نہیں آیا۔

جہاد کے بارے میں ایک اہم نکتہ جو عام طور پر بھلادیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ------------- جہاد کب شروع کیا جائے ----- اللہ تعالی اس ضمن میں حکم دیتے ہیں کہ

22:39 ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے

جب آپ کی نظریاتی ریاست پر جنگ مسلط کی جائے تو جہاد کی اجازت ہے۔ ورنہ یہ فساد ہے، اور انسانیت کا قتل ہے۔ اس جہاد کے دوران آپ جنگ مسلط کرنے والوں پر ہر ممکن حملہ کرسکتے ہیں۔ اس کا طریقہ بھی قرآن آپ کو بتاتا ہے کہ ان کے کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز پر حملہ کرکے ان کو تتر بتر کردو۔

2:190 وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللہِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ اِنَّ اللہَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

جہاں قرآن جنگ مسلط ہوجانے کی صورت میں جہاد فرض‌کرتا ہے ، وہاں اس جہاد کے اصول بھی بتاتا ہے۔ یہ جہاد نہیں کہ ہم نظریاتی اختلافات کی بناء پر قتل کردیں؟ قرآن اسلامی مملکت میں مختلف عقائد رکھنے والے لوگوں کو مار دینے کا حکم نہیں دیتا،

18:29 اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہے

109:6 لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
(سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے

2:256 دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

22:40 (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)

49:11 اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں

کہاں دوسری قوموں پر ہنسنے کی اجازت نہیں ، کہاں نظریاتی اختلافات پر موت کی سزا؟

یہ فسادی لوگ مسلمان عوام کو بناء جنگ کے مار رہے ہیں۔ جبکہ یہ دیکھئے کہ اللہ تعالی تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لئے کیا فرما رہے ہیں؟

2:62 بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے

کیا یہ لوگ جو آپ کو کافر قرآر دے کر آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں وہ جہاد کررہے ہیں؟ کیا آپ مسلمان نہیں‌؟ کیا آپ کا نظام مسلمانوں‌کا ترتیب دیا ہوا نظام نہیں؟ آپ کی حکومت کی پارلیمنٹ ایک مجلس شوری ہے۔ کیا ان فسادی حملوں کے کرنے والوں کی مجلس شوری ہے؟‌ کیا آپ ان فساد کرنے والوں کی کسی عدالت میں جاسکتے ہیں؟ یہ وہ اہم باتیں ہیں جو کہ فساد کرنے والوں کے پاس نہیں ہوتی ہیں۔ نہ مرکزی حکومت، نہ عدالت، نہ مجلس شوری۔

ان کا بس ایک قانون ہے --- وہ یہ کہ ---- نظریاتی اختلاف کی سزا موت ----
اس فساد کے پیچھے یہی خیال کار فرما ہے۔

Last edited by فاروق سرورخان; 24-09-08 at 11:26 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
وجدان (24-09-08), عرفان حیدر (24-09-08)
جواب

Tags
color, green, فورم, فرقہ واریت, پاکستانی, قرآن, لوگ, نظر, مکمل, آج, امریکہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بھائی, جواب, جرم, حکم, خودکش, خودکشی, زندگی, شام, عقل, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم گناہ گار بھی ہیں‌تیرے پرستاروں میں‌ ابوسعد شعر و شاعری 3 03-03-11 11:09 PM
مفت میں‌کالیں کریں۔۔ monee3s ویب سائٹس کا جائزہ 15 23-01-10 08:10 PM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger