واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا قبائل پاکستانی ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-10-09, 04:21 PM   #1
کیا قبائل پاکستانی ہیں؟
sahj sahj آف لائن ہے 31-10-09, 04:21 PM

”میرا نام احمد نور وزیری ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بی اے آنرز کا طالب علم ہوں۔ اس کے علاوہ میں کیا بتاؤں کہ میں کون ہوں او رکیا ہوں۔اس ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ کے دوران میں اپنی شناخت کھوچکا ہوں۔ ان ساٹھ سالوں میں مجھے کیا کیا نام نہیں ملے۔کبھی مجھے غیور قبائلی کے نام سے پکارا گیا۔ کبھی مجھے مجاہد بنا کر غیروں کے ہتھیاروں سے ، غیروں کے مقاصد کے لئے لڑوایا اور استعمال کیا گیا۔ کبھی مجھے سمگلر کہا گیا۔

کبھی مجھے غدار کے لقب ملے جبکہ کبھی مجھے دہشت گرد بنا کر میرے معصوم خون کو کسی اور کیلئے بہایا گیا۔ میں فاٹا کے ایک پسماندہ علاقہ جنوبی وزیرستان کے وانا نامی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، جسے بعض لوگ علاقہ غیرکہتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ نومین لینڈ ہے اور بعض کے نزدیک یہ ایک فیکٹری ہے جہاں کبھی مجاہد اور کبھی دہشت گرد تیار ہوتے ہیں ۔ قانون کی کتابوں میں وزیرستان اور پورا فاٹا پاکستان کا حصہ ہے لیکن وہاں کی فضاؤں میں امریکہ کے ڈرون طیاروں کاراج ہے ۔ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں میزائل فائر کردیتے ہیں ۔

میرے دوستو، آج میں اپنی شناخت کی تلاش میں یہاں آیا ہوں۔ آج میں ایف سی آر کی ستائی ہوئی، غربت کی چکی میں پسی ہوئی، وار آن ٹرر کی آگ میں لپٹی ہوئی، اپنے ہی ملک میں مہاجر بنی ہوئی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے سائے تلے زندگی گزارنے والی پانچ ملین انسانوں پر مشتمل قوم (قبائل) کی طرف سے پیار ، محبت اور عشق کا سوغات لے کر آیا ہوں ۔ اسے قبول کیجئے۔ میرے دوستوں اسے قبول کیجئے ۔“

یہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم احمد نور وزیری کے افتتاحی کلمات تھے جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ”یوتھ پارلیمنٹ“ کے افتتاحی اجلاس کے دوران اپنا تعارف کرتے ہوئے ملک بھر سے منتخب طلبہ اور اہم قومی شخصیات کی موجودگی میں ادا کئے ۔

احمد نور وزیری سے میں 2002ء‌ میں متعارف ہوا۔ اس وقت بھی آپریشن کی وجہ سے پورے وزیرستان کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ مجھے وانا سے ایک طالب علم کا ای میل موصول ہوا۔ وہ فریاد کررہے تھے کہ دو روز بعد ان کے ایف ایس سی کا امتحان شروع ہونے کوہے اور اگر انہیں جانے کی اجازت نہ ملی تو وہ اور ان کے درجنوں ساتھیوں کا سال ضائع ہوجائے گا۔ میں نے اس سے متعلق اگلے روز ایک کالم لکھ ڈالا۔

اس وقت جنرل (ر) افتخار حسین شاہ گورنر سرحد تھے ۔ انہوں نے اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا۔ پولیٹکل ایجنٹ کو ہدایت کی کہ وہ طلبہ کو امتحان کے لئے فوری طور پر ڈی آئی خان لے جانے کا انتظام کرلیں اور ایسا کرلیا گیا ۔ کچھ عرصہ بعد ان طلبہ کے لیڈر اور ای میل ارسال کرنے والے طالب علم نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اور جو اقتباس آپ نے ملاحظہ کیا یہ اسی طالب علم یعنی احمد نور وزیری کا ہے، جو اس وقت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بی اے آنرز کے نمایاں ترین طالب علم ہیں ۔ اپنی قابلیت اور محنت کی وجہ سے ان کے ادارے نے انہیں یوتھ پارلیمنٹ کیلئے منتخب کیا اور پھر وہ اپنی قابلیت اور پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کی مہربانی سے یوتھ اسمبلی سے دورہ برطانیہ کے لئے نامزد طلبہ کے گروپ میں شامل ہوگئے۔

بدقسمتی سے جنوبی وزیرستان کے وزیر، محسود اور برکی حالیہ برسوں میں دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسی لعنتوں کے حوالے سے پہچانے جانے لگے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ان کی شناخت مہمان نوازی، صلہ رحمی، فنون لطیفہ اور علم دوستی جیسی صفات رہی ۔ جنوبی وزیرستان کے اکثر باسی احمد نور وزیری کی طرح ذہین، علم دوست اور محب وطن تھے ۔کرم ایجنسی جہاں شرح خواندگی سرحد کے بندوبستی علاقوں سے بھی زیادہ ہے کے بعد جنوبی وزیرستان کے باسی علم و ہنر کے میدان میں آگے تھے ۔ آج بھی سینکڑوں وزیر، محسود اور برکی ملک میں اہم ترین سرکاری مناصب پر فائز ہیں ۔ بیوروکریسی اور پولیس سے وابستہ وزیر قبائلیوں کے تعاون سے ”وانا ویلفیرایسوسی ایشن“ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی ہے جس کے صدر مشتاق احمد وزیر نے ایک خط میں اپنے لوگوں کی حالت زار بیان کی ہے ۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئے :

”محترم سلیم صافی صاحب۔یہ خط وانا (جنوبی وزیرستان ایجنسی) سے لکھا جارہا ہے۔ وانا میں تقریبا ساڑھے سات سال سے خانہ جنگی جاری ہے اور یہاں زندگی بس صرف سانس کے آنے اور جانے کا نام ہے ۔ اہالیان سوات کے ساتھ جس طرح تمام اہل وطن ، ملکی و غیرملکی میڈیا ، حکومت پاکستان اور بین الاقوام نے جس ہمدردی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا، وہ مظاہرہ ہمارے ساتھ نظر نہیں آرہا اور یہ خط اس تضاد پر حیرت کا اظہار اور اپنی درماندگی کا بیان ہے۔

دسمبر 2001ء میں ایک طرف افغانستان سے جعلی طالبان کے اور دوسری طرف پاکستان سے افواج کے دستے وانا آنا شروع ہوگئے۔ 26 جون 2002ء کو وانا کے گاؤں کژہ پنگہ میں پہلا فوجی آپریشن ہوا۔ تب سے لے کر اب تک کشت و خون کا بازار گرم ہے ۔ ہمارے اوپر الزام تھا کہ ہم سب دہشت گرد ہیں چنانچہ سرکار نے پورے وانا سب ڈویژن میں اقتصادی پابندیاں لگادیں۔

اس دوران ہمارے قبائلی مشیران میں سے جس نے بھی زبان کھولی، اسے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ 2004ء میں ایک اور انتہائی بے رحم آپریشن کیا گیا جس میں ہوائی جہاز بھی استعمال ہوئے ۔ لوگوں نے وانا سے ہجرت کی لیکن کسی شہر کی جانب نہیں بلکہ قرب و جوار کے ویرانوں کی طرف۔ اس دوران گھر مسمار ہوئے ، بازار لٹ گئے ۔

واحد ذریعہ معاش یعنی سیبوں کے باغات برباد ہوگئے۔ اس وقت تک وانا کے لوگ اغواء برائے تاوان کے جرم سے ناآشنا تھے لیکن آئے ہوئے دیگر جابر مہمانوں نے نہ صرف انہیں اس سے آشنا کیا بلکہ قتل و غارت، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا بھی روز کا معمول بن گیا۔ اس کے بعد تاحال ہم اس کیفیت سے گزر رہے ہیں ۔ ڈرون حملے ہیں ۔

فوجی کانوائے کا تمام راستوں پر نہ صرف آنا جانا ہے بلکہ اس کے خیریت سے گزرنے کی خبر ہم بطور خوشخبری ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ وانا ڈی آئی خان سڑک بند ہے اور ہم 150روپے فی سواری کی بجائے 1500روپے فی سواری کرایہ دے کر ژوپ بلوچستان کے راستے وانا اور ڈی آئی خان کے مابین سفر کرتے ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول ہے لیکن آپ کے ہاں گھنٹوں کے حساب سے جبکہ ہمارے ہاں مہینوں کے حساب سے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چھ ماہ سے بجلی بند ہے ۔

ہم سوات اور وزیرستان کے لوگوں کے ساتھ مختلف سلوک پر بھی حیران ہیں ۔ سوات میں طالبان آئے تو وہاں کے بے گھر ہونے والوں کو مردان اور صوابی کے لوگ نے مہمان بنایا۔ سیاسی جماعتوں، غیرسرکاری تنظیموں ، بین الاقوامی برادری اور سب سے بڑھ کر میڈیا نے ان کے غم کوبھانٹا ۔ یہ سب کچھ قابل ستائش ہے (یہ مشتاق وزیر صاحب کی رائے ہیں حالانکہ سوات کے متاثرین اب بھی اپنی بحالی، حکومتی امداد کے حصول اور اپنے حکمرانوں کی دیدار کے لئے تڑپ رہے ہیں) لیکن دوسری طرف ہم نے تین مرتبہ ہجرت کی اور تینوں مرتبہ ہمیں سرچھپانے کے لئے خیمہ تک نہ ملا ۔

ہمیں دو وقت کی روٹی فراہم کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ لاہور کے ایک سکول کے قریب دھماکے کے بعد ڈاکٹرز کی ٹیم بچوں کی نفسیاتی بحالی کے لئے پہنچ جاتی ہے لیکن جنوبی وزیرستان کے ان ہزاروں طلبا کا کوئی پرسان حال نہیں جنہیں رات کے وقت دھماکے سونے نہیں دیتے ۔ شہباز شریف متاثرین سوات کے لئے تو ہسپتال بنائیں لیکن متاثرین وزیرستان کا نام تک نہ لیں۔

اہم الیکٹرانک چینل مردان کے کیمپوں میں تو خصوصی پروگراموں کا اہتمام کرے لیکن ہماری حالت زار کا تذکرہ کرنے سے بھی گریزاں ہیں ۔ صدر مملکت صوابی کے کیمپوں کا دورہ کریں لیکن ہماری فریاد پر کوئی توجہ نہ دے ۔ ہم وزیرستان کے باسی اس متضاد رویے پر سراپا حیرت ہیں ۔ہم اس خط کے ذریعے ہم آپ جیسے لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ پسے جانے والے وانا کے متاثرین کو یاد دلانا چاہتے ہیں ۔ ہم پہ جو گزری سو گزری ۔ اس آگ میں ہم جیتے جی جل رہے ہیں لیکن خدارا ہماری آنے والی نسل کو اس آگ سے بچالیجئے جس کا واحد راستہ تعلیم ہے۔

ہم بھوکے سہی، کھلے آسمان تلے پڑے سہی، ہمارے کپڑوں میں پیوند لگے سہی لیکن نسل نو کی جہالت ہمارے لئے بہت ڈراونا اور تکلیف دہ تصور ہے ۔ ہمارے دکھوں اور تکالیف کا مداوار صرف تب ہی ممکن ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں زیور تعلیم سے آراستہ ہوں اور ہم اس سلسلے میں آپ جیسے لوگوں کی مدد چاہتے ہیں ۔آپ کا

خیراندیش۔ مشتاق احمد وزیر۔ وانا جنوبی وزیرستان“


آپ نے وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر مشتاق احمد وزیری کا خط ملاحظہ کیا۔ آخر میں راقم کی طرف سے یہ ”خوشخبری“ بھی ملاحظہ کیجئے کہ قبائلی علاقہ جات میں چندسال قبل شروع لگائے گئے ایف ایم ریڈیو سٹیشنزفنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بند ہورہے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کرحیرانی ہوگی کہ جنوبی وزیرستان تک آج بھی پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے سگنل نہیں جارہے ہیں ۔ وہاں کے لوگوں کے پاس معلومات کا واحد ذریعہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ یا پھر طالبان کے مقامی ایف ایم ریڈیوز ہیں ۔

سابق گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے ایک سنجیدہ طبع آفیسر شاہ زمان کے ذریعہ تمام قبائلی علاقوں میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کئے تھے لیکن گذشتہ کئی ماہ سے ان کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں اور اب گورنر سیکرٹریٹ نے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے انہیں وزارت اطلاعات کے سپرد کرنے یا بصور دیگر بند کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔

اندازہ لگالیجئے کہ ان قبائلی علاقوں میں جاری جنگ کے نام پر گزشتہ سالوں میں کئی ارب ڈالرز فنڈز پاکستان آئے لیکن ہماری حکومتیں جنوبی وزیرستان تک پی ٹی وی یا ریڈیو پاکستان کے سگنلز تک نہیں پہنچاسکے ۔ پینے کا پانی فراہم کرسکے اور نہ قبائلیوں کے لئے عام سے تعلیمی ادارے تعمیر کرسکے ۔ ان حالات میں کیا خاک قبائلیوں کو مین سٹریم میں لایا جاسکے گا۔

بعض اوقات تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ جان بوجھ کر قبائلیوں کودہشت گرد بننے پر مجبور کیا جارہا ہے؟


تحریر: سلیم صافی
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 173
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (31-10-09)
پرانا 31-10-09, 10:22 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم سب پاکستانی ہیں، لیکن سب جگہ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئے۔ مسائل صرف آپریشن سے حل نہیں ہوتے۔ وزیرستان آپریشن سے نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (01-11-09)
پرانا 01-11-09, 07:05 AM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
ہم سب پاکستانی ہیں، لیکن سب جگہ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئے۔ مسائل صرف آپریشن سے حل نہیں ہوتے۔ وزیرستان آپریشن سے نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔


تبصرے کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کتابوں, پولیس, پاکستان, پاکستانی, لوگ, لطیفہ, چینل, نیند, نظر, موت, ممکن, محبت, آپریشن, آج, امریکہ, بچوں, تلاش, تعلیم, جرم, دھماکہ, ریڈیو پاکستان, راستہ, طالبان, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بگرام میں قید پاکستانی کون ہیں؟ کنعان خبریں 12 25-01-11 03:14 PM
کیا ہم پاکستان کو پھر آزاد کروایں؟ محمدخلیل 14اگست 2 14-08-10 10:36 PM
پاکستان پر حملہ: سرحدوں کے محافظ کہاں ہیں؟ حیدر خبریں 9 14-05-10 02:11 PM
کیا یہ پاکستانی نہیں؟ عبداللہ حیدر سیاست 3 03-01-10 03:53 PM
آپ کو پاکستان کے کونسے کونسے شہر پسند ہیں؟ Zullu230 عمومی بحث 27 22-04-08 06:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger