| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 753
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-04-11), skjatala (22-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), کنعان (14-04-11), نورالدین (13-04-11), منتظمین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), محمد عاصم (13-04-11), محمدخلیل (13-04-11), مرزا عامر (13-04-11), معظم (14-04-11), آبی ٹوکول (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), سیفی خان (13-04-11), شریف (14-04-11), عبدالقدوس (13-04-11), عبداللہ حیدر (15-04-11) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), نورالدین (13-04-11), بزم خیال (14-04-11), حیدر (13-04-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
زارا بہن آپ کی یہ تحریر دل میں اتر گئی
کچھ تلخ جد و جہد وں کی یاد تازہ ہوگئی ۔ مجھے بے روزگاری کے دنوں میں اتنے زیادہ مسائل کا سامنا تونہيں کرنا پڑا ۔ مگر وہ کیا ہےکہ ہر انسان کو اپنا غم اور دکھ دنیا مین سب سے زیادہ ہی لگتا ہے ۔ مگر اس دوڑ دھوپ نے مجھے بہت کچھ سکھایا ۔ ایک ایک روپے بچانے کے لیے دھول راستوں دھواں دار سڑکوں پر پیدل چلتا تھا ۔ ٹائی اور جوتے کسی سے ادھار مانگ کر جاتا ۔ سی وی فارمیٹ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا گویا کوئي گولا گنڈہ ۔ ہلکی پھلکی جاب تو مل ہی جاتی مگر طبعیت کی متلون مزاجی اس پر ٹکنے نہ دیتی ۔ اس گمان کے ساتھ جاب چھوڑ دیتا کہ مل جائے گی جاب ۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے ۔ ( یہ میری خام خیالی تھی ۔ ) جب ڈیفنس اور صدر کی سڑکوں پر گزرتی گاڑیوں کو دیکھتا توسوچتا کہ کب وہ دن آئے گا کہ میں بھی ایسی گاڑی میں بیٹھوں گا ۔ اور پھر دنیا کے تمام بے روزگاروں کو جاب نہيں دے سکا تو جتنے میرے اختیار میں ہوں گے ان کو تو ضرور جاب دوں گا ۔ جیسا فلموں میں ہوتا ہے کہ کوئی سیٹھ کسی غریب نوجوان کو روزگار دیتا ہے پھر وہ اس نوجوان کے کسی کردار سے متاثر ہو کر اپنا داماد بنا لیتا یا پھر روڈ پر چلتے چلتے کوئی بٹوا پڑا مل جاتا ہے پھر اس کو واپس کرنے کی کوشش میں کوئی ہماری قدر کرتا ہے ۔ اور آسمان پر پہنچا دیتا ہے ۔ یا پھر ایک دن گھر پر سرکاری لیٹر آئے گا ۔ کہ آپ فلاں محکمے کی نوکری کے لیے منتخب ہو چکے ہيں ۔ اب آپ سرکاری نواب ہیں ۔ تو اکثر چلتے پھرتے اور جاگتی آنکھوں سے خواب نظر آرہے ہوتے ہيں ۔ مگر یہ خواب بھی کب تک نظر آتے ۔ یہ میرے پیروں کو رواں تو رکھتے ہيں مگر مستقبل نہيں بنا سکتے ۔ ہر آنے والا مستقبل اگر برا نہيں ہوتا تو توقع اور امیدوں کے مطابق بھی نہيں ہوتا ۔ یہ چیزیں خوابوں کی طرف حد درجہ بد ظن کر دیتی ہیں۔ کہ نہيں ہونے چاہیئں خواب ۔ کیوں خوابوں کی دنیامیں رہ کر اپنی انرجی ضائع کریں ۔ دنیا میں جتنے لوگ کامیاب ہیں وہ خواب دیکھنے میں وقت ضائع نہیں کرتے ۔ بلکہ آنکھیں کھلی رکھتے ہيں اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہيں ۔ ہر جاب کی امید پر آنکھیں پتھرا جاتی ہيں ۔ چھوٹی موٹی ملتی ہے تو کہیں جا کر شرمندہ شرمندہ ہو کر انجام دیتے ہيں کہ اوقات سے زیادہ خواب دیکھنے والے اسی طرح ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو دل کرتا تھا کہ قدموں میں گر کر نوکری کی بھیک مانگ لیں ۔ مگر عزت نفس آڑے آجاتی ۔ \ مگر جہاں تھوڑے سے اچھے دن آئے میں مزید بہتر پرفارمنس اور بہتر تنخواہ کے لیے کوششوں میں مصروف ہو گیا ۔ کبھی کبھی جذبوں کو تازہ اور حوصلوں کو جوان رکھنے کے لیے مختلف فورم ( خاص کر پاک نیٹ ) پر اظہار خیال کرتا رہتا کہ کہيں تعمیر کی چنگاری سرد نہ پڑ جائے ۔ آج لائف میں تھوڑا قرار ہے تو سوچتا ہو ں کہ نوکری اور مالکی کے اس رسا کشی میں کون ٹھیک ہے اور کون ٹھیک نہیں ؟
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), منتظمین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), راجہ اکرام (13-04-11), سیفی خان (13-04-11), عبدالقدوس (13-04-11), عبداللہ حیدر (15-04-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
زارا سسٹر ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی سوچ بہت بڑی ہے ۔ ۔ ۔
ہمارے مذہب نے ہمارے دین نے ہمیں یہی سوچ دی ہے یہی بتایا ہے کہ اللہ کے ہاں رنگ ، ذات ، پات ، عہدہ کسی چیز سے کوئ فرق نہیں پڑتا اللہ کے ہاں اگر معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے مجھے خود بہت برا لگتا ہے یہ سب ۔ ۔ ۔ 1 دفعہ 1 واقعہ پڑا تھا غالبا مولانا رشید احمد گنگوہی رح کا تھا کہ 1 بار آپ طلباء کو حدیث کا درس دے رہے تھے کہ بارش آگئی سارے طلباء اندر چلے گئے اچانک 1 طالبعلم نے دیکھا کہ آپ طلباء کی جوتیوں کو اکھٹا کر کے 1 کپڑے میں ڈال رہے تھے تا کہ جوتیوں کو بارش سے بچایا جا سکے ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ کہاں وہ عظیم لوگ اور کہاں ہم ۔ ۔ ۔ کاش کہ آپ جیسی سوچ سب کی ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
__________________
![]() میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), نورالدین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), راجہ اکرام (13-04-11), عبدالقدوس (13-04-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
زارا ، سلام،
کیا یہ آپ بیتی ہے ؟ جو کہنا چاہتا ہوں، اس کے لئے اس سوال کے جواب کی مجھ کو ضرورت ہے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 13-04-11 at 04:55 PM. |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام
جی یہ ایک ماہ پہلے کی بات ہے جس آج بیان کیا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی یہی تو المیہ ہے ہمارے معاشرے کا کہ ابھی تک ہم زات پات، رنگ و نسل، اونچ نیچ سے نہیں نکل پائے۔ |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ زارا۔
آپ نے سوال کیا کہ کیا آپ "غلط ہیں"۔ بنیادی طور پر آپ یہ جاننا چاہتی ہیںکہ آیا کہ انٹرویو کے لئے آنے والے افراد کو "مساوی درجہ " دینا چاہئے تھا یا نہیں ۔ تو اس کا سادہ سا جواب ہے۔ وہ یہ کہ جی، ان افراد کو مساوی درجہ دینا چاہئیے تھا۔ آپ کی تعلیم، قرآن کا مطالعہ، قانون سے واقفیت آپ کی مددگار ہیںکہ آپ بہتر سوچ سکتی ہیں۔ آپ کے درست ہونے کی مذہبی، قانونی اور سماجی تمام وجوہات موجود ہیں۔ جو آپ ہم سب جانتے ہیں۔ عوام کی عدالت میں یہ فیصلہ آپ کے ہی حق میںجائے گا۔ یہاں سے میں جو کچھ لکھ رہا ہوںوہ صرف زارا لے لئے نہیںہے۔ بلکہ اس واقعے کو ایک مثال کے طور پر استعمال کررہا ہوں تاکہ وہ کہہ سکوںجو کہنا چاہتا ہوں۔ اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے وہ بہت اہم پہلو ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس کو زارا مناسب نام نہیںدے پارہی ہیں لیکن یہ پہلو زارا کو مسلسل تنگ کررہا ہے۔ یہ پہلو ہے "لیڈر شپ " کا۔۔ اس مراسلے میںکئی اہم نکات موجود ہیں ۔ 1۔ کسی شخص کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی روئے پر آپ کی حیرانگی۔ 2۔ ایک ایسے شخص کے فیصلے سے اختلاف جو کسی نا کسی طور آپ کو مالی یا سماجی طور پر تکلیف دے سکتا تھا یا اپنے عہدے کا فائیدہ اٹھا سکتا تھا۔ 3۔ اپنے فیصلے کے بارے میںیقین کہ یہ درست ہے۔ 4۔ اپنی بات منوانے کا مناسب طریقہ نا جاننے کی وجہ سے درست فیصلے کے حصول میں دشواری۔ 5۔ بعد میں ندامت اور مہینے بعد بھی اس سارے معاملے کی ذہن و ضمیر میںباز گشت۔ اس میں سے کچھ بھی آپ کے خلاف نہیںجاتا بلکہ یہ سب آپ(سب) کے حق میںہے اور ایک اچھی علامت ہے۔ ہم سب ایسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں جب ہم یہ جانتے ہیںکہ دوسرا شخص ، ایک غیر قانونی حرکت کررہا ہے۔ یا مذبب کے خلاف جارہا ہے یا پھر اخلاقیات کے خلاف جارہا ہے ۔ لیکن ہماری "سمجھ میںنہیںآتا کہ اپنی بات کیسے منوائی جائے"۔ خاصطور پر جب ایک سے زائید لوگ موجود ہو اور ی ہ نا پتہ ہو کہ دوسرے ساتھ دیںگے یا نہیں ؟ دوسرے لوگوں کے ساتھ کام کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ اور ان سے نرمی سے بات منوانا اس سے بھی مشکل کام۔ اپنی بات منوانے کے لئے جو گرُ اور صلاحتیں درکار ہیں وہ ہی "لیڈر شپ " کی صلاحیتیں کہلاتی ہیں۔ میںآپ کی توجہ ان صلاحتیوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ لیکن پہلے ہم زارا کی صورت حال کا حل دیکھتے ہیں۔ اگر میں اس صورت حال سے دوچار ہوتا تو 1۔ پہلے لوگوں کا دل اس طرف نرم کرتا 2۔ پھر سب کی باری باری رائے لیتا۔ 3۔ اور اس طرح "رائے عامہ "کی مدد سے اس عہدے میںبڑے شخص کو یا تو مجبور کردیتا کہ "وہ کرسی رکھوائے" یا پھر سب کی آنکھوںکا سامنا کرے۔۔۔ مقصد اس کی سبکی نہیں اپنی ہار یا جیت نہیں بلکہ ایک اصول کی جیت ہے۔ لیڈر شپ کی صلاحتیوںکو مزید ڈویلپ کرنے کےلئے آپ یو ٹیوب پر لیڈر شپ سیکھ سکتے ہیں۔ اور مناسب سوچ ، الفاظ کا نتخاب، اور بات منوانے کا طریقہ کار کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں اور اس کی پریکٹس کرسکتے ہیں۔ ایک لیڈر، یہ جانتا ہے کہ 1۔ بات شرع کرتے ہی ۔۔۔ سحر کیسے باندھا جائے۔ 2۔ لوگوں کو کس طرح ، کسی معاملے میں شامل کیا جائے کہ وہ توجہ دیں۔ اٹھ کر چلے نا جائیں۔ 3۔ کس طرح رائے عامہ کو "اپنے حق میںنہیں" بلکہ "عالمگیر سنہری اصولوں " کے حق میںہموار کیا جائے 4۔ کس طرح جذبات کو ابھارا جائے اور منطق کو کم استعمال کیا جائے 5۔ کس طرح فیصلہ "سنہری اصولوں" کے مطابق دوسروں سے کروایا جائے۔ لیڈر شپ کے یہ اسباق، آپ کے ہر شعبے میںمددگار ہوں گے۔ اور آپ کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت ہوں گے۔ کسی خاتون کا قد کاٹھ ، اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹنہیںہے۔ بلکہ لیڈر شپ کی صلاحیتوںکی کمی ترقی کی راہ میںرکاوٹبنتی ہے۔ مزید سیکھنے کے لئے آپ (سب) ٹوسٹماسٹرز انترنیشنل کی سائٹ سے مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ادارہ لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے مطبوعات فراہم کرتا ہے۔ یہ کتب بہت ہی ہلکی پھلکی ہوتی ہیں اگر کوئی صاحب ان کتب کا اردو میں ترجمہ کرنا پسند کریں تو میںیہ کتب فراہم کرسکتا ہوں۔ لیڈر شپ کی صلاحیتوں کا عام طور پر فقدان پایا جاتا ہے، یہ کتب اور ا ن کے ذریعے کی جانے والی گروپ پریکٹس آپ کی ان صلاحتیوں کو جلا بخشے گی اور کامیابیوںکی نئی راہ کھولے گی۔ والسلام |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), راجہ اکرام (13-04-11), زارا (13-04-11), طاھر (14-04-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپکی بات مکمل درست ہے۔ جسکے لئے شُکریہ قبول کیجئے۔
آپکو لگتا ہے میں نے اُنکوقائل نہیں کیا؟ یہ وہی گروپ کیپٹن تھا جسکو قائل کرکے میں نے کالج کے رُولزمیں ترمیم کی تھی، یہ وہی گروپ کیپٹن تھا جس سے بات کر کے میں نے سویئپرزکی سیلیری بڑھوائی تھی اوریہ وہی گروپ کیپٹن تھا جس نے میری کوئی بات رد نہیں کی کیونکہ وہ جانتا تھا میں نے جتنی بات کی کالج کو فائدہ ہی ہوا ہے۔۔ اوربھائی اس بار بھی میں نے باربار یہ بات سامنے رکھی جو مجھے بُری لگی اوروہ جانتاتھا کہ he's doing wrong لیکن آپ شاید ایئرفورس والوں کونہیں جانتے غلط بات کو صحیح کہہ کرپیش کرنا کوئی ان سے سیکھے مزید کسی کی بات ماننا انکے نزدیک اپنی سبکی ہے۔ اصل بات یہی تھی کہ اُنکی سوچ بھی ذات پات کا تعین کرنیوالوں جیسی نکلی۔ آپ حیران ہوں گے کہ وہ بذات خود چلتا پھرتااِسلام نافذ کرنیوالا قانون تھاکہ یہ چیزایسے ہے یہ چیزایسے ہے، اِسلام یہ کہتا ہے مجھے حیرانگی اُس کی بات سن کرہوئی جب اُس نے اوپن نیچ والی بات سامنے رکھی۔ حالانکہ اسلام میں سب انسان برابر ہیں ۔ نہ رنگ، نہ نسل، نہ پیشہ، نہ زبان کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو کسی انسان کی برتری اور کمتری کا باعث ہو۔ ہماری مشکل یہ ہے اللہ تعالی نے شکل و صورت، صلاحیت اور دولت میں فرق رکھا ہے۔ یہ فرق اصل میں شکر اور صبر کی آزمائش ہے۔ لیکن ہم نے ان چیزوں کو بڑائی اور چھوٹائی کی بنیاد بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالی کے نزدیک معزز وہ ہے جو تقوی میں بڑا ہے۔ لیکن اس بات کو جو مانتا ہے ، سمجھتاہے وہ عملی طور پر اسکا مظاہرہ بھی کرتا ہے لیکن کچھ سمجھ کربھی نہیں سمجھتے تو اس میں قصور اُنکی سوچ کا ہے۔ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), نورالدین (13-04-11), منتظمین (14-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), سیفی خان (14-04-11), طاھر (14-04-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
بات انٹرویو کی ہوئی تو سوچھا اس ویڈیو کو یہاں لگاؤں جو کہ ایک غریب بندے کی حالت کی عکاسی کرتی ہے کہ غریب جتنا بھی پڑھ لکھ جائے اس کو نوکری اس کی تعلیم کے معیار کی نہیں ملتی کیونکہ اس کے پاس نہ سفارش ہے اور نہ ہی رشوت کے لیے حرام کی کمائی۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمارے ہاں ایک عام ڈگر بن گئی ہے کہ فوجی کوئی اسپیشل مخلوق ہیں اور کسی دوسرے سیارے سے اتر کر آئے ہیں۔ فوجی کو ایسا ہونا چاہیئے ویسا ہونا چاہیئے - بلکہ آئیڈئل اور فرشتہ ہونا چاہیئے؟ کیوں؟ کیا فوجی میرے اور آپ کے گھرانے سے اٹھہ کر نہیں آئے؟ کسی ایک شخص کے رویے پر تمام ادارے کو قصوروار ٹہرانا کدھر کا انصاف ہے؟ کیا ایک گروپ کیپٹن صرف پاک فضائیہ کی ہی نمائندگی کررہا ہے یا کہ وہ ایک پاکستانی اور مسلمان کی نمائندگی بھی کررہا ہے - فوج کو تو آپ نے برا اور قصوروار ٹہرا ہی دیا، پاکستان اور اسلام کی باری کب آئے گی؟ معاف کیجیئے گا آپ کے تجربات شاید ایک ہی شخصیت کی گرد گھومتے ہیں اور آپ پوری فوج کو اس ایک شخص کی حرکات کے پیش منظر میں دیکھہ رہی ہیں۔ محترمہ پاکستان میں قسم قسم کے لوگ بستے ہیں جن کا تعلق فوج سے بھی ہوتا ہے اور ہمارے گھروں سے بھی۔ ان میں کبھی ایسے لوگ بھی ہوتے اور اور کبھی ویسے بھی جن پر قوم ناز کرتی ہے۔ کسی ایک کی مثال پورے گروپ پر لاگوکرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ غیر منطقی بھی - کیا خیال ہے؟ِ والسلام طاہر |
|
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (14-04-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ایک ہی اُلو کافی تھا بربادئ گلستان کے لئے ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہو گا |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, کالج, کتابوں, گئی, وقت, قرآن, لوگ, نماز, معلوم, اسلام, بے, تعلیم, جواب, خدا, دیکھا, دیں, دل, زندگی, سائنس, شخص, عربی, عزت, غلط, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں | حیدر | گپ شپ | 29 | 30-10-11 06:19 PM |
| ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے | عبدالہادی احمد | اپکے کالم | 13 | 02-02-11 08:32 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم | گوندل | اخلاق و آداب | 0 | 25-10-09 11:21 PM |
| اسوہ رسول (ص) کی عظمت و اہمیت | Real_Light | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 15-07-08 01:54 PM |