واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا میری سوچ غلط ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-04-11, 01:57 PM   #1
کیا میری سوچ غلط ہے؟
زارا زارا آف لائن ہے 13-04-11, 01:57 PM

یہ ایک مہینہ پہلے کی بات ہے۔

انٹرویو کا وقت تو 9 بجے تھا لیکن سبھی کینڈیڈیٹس 8:20 تک آچکے تھے۔ ان میں 2 لڑکیاں اور 6 لڑکے تھے۔ اس دوران فارمیلیٹی پوری کرنے کیلئے اُن سے رِٹن ٹیسٹ اورپھر ٹائپنگ ٹیسٹ لیاگیا۔ اُسکے بعد سب انٹرویو کا انتظارکرنے لگے۔ تقریباً 11:15 کے آس پاس گروپ کیپٹن آئے، چائے وغیرہ پی اوراِن کاموں میں بیس منٹ لگ گئے۔

انٹرویولینے کیلئے کل پانچ لوگ تھے یعنی میں، پرنسپل، دوٹیچرزاورگروپ کیپٹن اورسبھی سیٹوں پربراجمان ہو چکے تھے لیکن اچانک میرا دھیان گیا تو دیکھا کہ انٹرویو دینے والے کیلئے کوئی چیئرنہیں رکھی تو میں نے کہاکہ ایک چیئررکھوا دی جائے۔ پرنسپل نے بیک کی اورآیا کوکہاکہ ایک چیئر لے آؤ۔ گروپ کیپٹن نے کہا رہنے دیں کیاضرورت ہے چیئرکی وہ آپ کے کورڈینیٹرہوں گے اُنکا عہدہ آپ سے کم ہےایسے ہی کھڑے ہو کر دیں گے انٹرویو۔ ماریہ نے بھی اُنکی بات کی حامی بھری لیکن مجے یہ چیزاچھی نہیں لگی میں خاموش رہی لیکن انکی ذات کا جوبت بنا تھا وہ اُنکی اس سوچ کی وجہ سے پل میں چکنا چورہوگیا۔ بہرحال پہلا لڑکا آیا۔ اُس سے نام و تعلیم پوچھی، اُس نے کہا میں نے ماسٹرزکیا ہے پولٹیکل سائنس میں۔ اتنا سُنتے ہی گروپ کیپٹن نے کہا آپ جا سکتے ہیں۔ اُنکاکہنے کا اندازانتہائی بُرا تھا۔ اب کی بار پرنسپل نے مداخلت کی کہ پوچھ تو لیں ایک بار بھائی۔ اُنہوں نے کہا آپکی تعلیم اچھی ہے جبکہ آپ ایل ڈی سی کیلئے اپلائی کر رہے ہیں یہ جاب آپکی تعلیم کے لحاظ سے بہتر نہیں لہذٰا آپ جاسکتے ہیں۔ وہ لڑکا چپ چاپ باہرآگیا۔

پرنسپل نے بیل کرنے سے پہلے کہا کہ بھائی مناسب نہیں لگتا کہ کھڑے ہوکرانٹرویو دیا جائے۔ اُنکو بولتا دیکھ میں نے بھی ایک بارپھرکہا کہ سرواقعی اسطرح اچھا نہیں لگ رہا۔ آپ چیئررکھوادیں۔ مجھے لگا میری مثال اس شعرصادق آتی ہے،

شاید کوئی بندہءِ خدا آئے
صحرامیں اذان دے رہا ہوں

“دیکھوجوجیسا ہے ویسا ہی ٹریٹ کرو۔ اُنکا عہدہ کم ہی ہوگا بہترہے جیسا چلتا ہے چلنے دیں“۔ اُنکے جواب نے میرا منہ بند ہوگیا کہ ان پرکوئی اثرہونے والا نہیں کیونکہ وہ صحراکی مانند تھے جہاں سب تھا لیکن وہاں بھولے بھٹکے سے کسی “انسان“ کا گزر نہ و ہواتھا۔ اورمیں چپ کر کے بیٹھ گئی لیکن میرے دماغ میں سورۃ لقمٰن کی آیت آرہی تھی کہ، “اللہ کسی خودپسند اورفخرجتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا“۔ وہ بے شک خود پسند نہیں تھے لیکن مغرورتھے اپنے عہدے پر۔ اس کے بعد جتنے بھی کینڈیڈیٹس آئے میں نے غیردماغی سے سوال پوچھے یہاں تک کہ میں جو دن میں بارہ پندرہ بار چائے پیتی تھی، میرے سامنے چائے کا کپ ٹھنڈا ہو گیا لیکن میرا دل نہ کیاچائے پینے کو۔ مجھے افسوس ہورہا تھا کہ ان لوگوں کو معلوم بھی نہیں اورصاحبِ اقتدارنے انکے عہدوں کا تعین بھی کر لیا ہے۔ میرے دماغ میں اُنکی باتیں بیٹھی ہوئی تھیں اورمیں سوچ رہی تھی کہ عہدہ ورُتبہ کیا ہے؟ عزت کیا ہے؟ اِتنا پڑھ لکھ کر بھی وہ نہ سمجھ پائے جو آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا تواِنکی ایسی زندگی کا فائدہ؟ اِسی دوران پرنسپل نے کہا، زاراآپکی چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ میں نے کہا میں پی لیتی ہوں۔ گروپ کیپٹن نے طنزیہ کہا، “اسکو کرُسی نہ رکھنے کا دُکھ لگ گیا ہے“، اتنا کہہ کر خود ہی قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے اورمنہ نیچے کرکے بیٹھ گئی جیسے اب کی باروہ میری بات مان لیں گے۔ اِسی طرح انٹرویوختم ہو گیا لیکن میری چائے کا کپ جوں کا توں پڑارہا جو میری ذہنی کیفیت اورجذبے کی غمازی کر رہا تھا۔

اسی دوران ایل ڈی سی رکھنے کیلئے ہم نے اپنی اپنی رائے رکھی اورباہرآگئے۔ اب ہماری رائے کو دیکھتے ہوئے فیصلہ گروپ کیپٹن نے پرنسپل کیساتھ ملکر کرنا تھا۔ کسکو سیلیکٹ کیا وہ فیصلہ سُنے بغیر2 بجے میں کالج سے نکل آئی اور ساتھ ہی امی کا سکول تھااُنکولیااورہم لوگ گھرکی طرف چل پڑے۔ امی نے بار بار پوچھا کیاہواخاموش کیوں ہو لیکن میں ٹال گئی مگرگھرجاکرضبط نہ ہواتو امی کو پوری بات بتائی۔ اُنہوں نے کہا کہ ضروری نہیں جیسا تم سوچتی ہوویسا سب سوچیں ہرکوئی اپنی سوچوں کو لیکرآزاد ہے۔ میں چپ تھی لیکن میرا موقف اپنی جگہ قائم تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پرفوقیت حاصل نہیں جب یہ بات کہہ دی گئی ہے تو اسکو ہم لوگ اپلائی کیوں نہیں کرتے؟ کیا اچھی باتیں کتابوں کی زینت بنانے کیلئے کہی گئیں ہیں؟ کیاحدیث اور قرآن کی آیات صرف پڑھنے کیلئے ہیں عمل کرنے کیلئے نہیں؟ اُسی پریشانی کی حالت میں 3 بجے جاب پرچلی گئی لیکن عصرکی نماز کے وقت آنسوتھے کہ رُکتے نہیں تھے اوراُس وقت میرے ذہن میں وہ لڑکے لڑکیاں تھیں جو عزت کی روٹی کمانے گھرسے نکلے تھے لیکن اُنکو معلوم بھی نہ تھا کہ اُنکی “اوقات“ کا تعین ایک عہدے دار نے کرلیاہے۔ اسلام کی نظرمیں تو سب برابر ہیں لیکن ان لوگوں کی نظرمیں وہ برابرہے جواِنکا ہم پلہ ہے۔ زات پات، اُونچ نیچ کو لیکرایسا فرق کب تک ہوتا رہے گا؟

آپ مجھے بتائیں کیا آپ بھی اُن جیسا سوچتے ہیں؟ کیا میری سوچ کے ہمنواء ہیں یامیری سوچ ہی غلط ہے؟

والسلام
زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 753
Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), skjatala (22-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), کنعان (14-04-11), نورالدین (13-04-11), منتظمین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), محمد عاصم (13-04-11), محمدخلیل (13-04-11), مرزا عامر (13-04-11), معظم (14-04-11), آبی ٹوکول (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), سیفی خان (13-04-11), شریف (14-04-11), عبدالقدوس (13-04-11), عبداللہ حیدر (15-04-11)
پرانا 13-04-11, 03:16 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), نورالدین (13-04-11), بزم خیال (14-04-11), حیدر (13-04-11)
پرانا 13-04-11, 03:44 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زارا بہن آپ کی یہ تحریر دل میں اتر گئی
کچھ تلخ جد و جہد وں کی یاد تازہ ہوگئی ۔
مجھے بے روزگاری کے دنوں میں اتنے زیادہ مسائل کا سامنا تونہيں کرنا پڑا ۔
مگر وہ کیا ہےکہ ہر انسان کو اپنا غم اور دکھ دنیا مین سب سے زیادہ ہی لگتا ہے ۔

مگر اس دوڑ دھوپ نے مجھے بہت کچھ سکھایا ۔
ایک ایک روپے بچانے کے لیے دھول راستوں دھواں دار سڑکوں پر پیدل چلتا تھا ۔
ٹائی اور جوتے کسی سے ادھار مانگ کر جاتا ۔
سی وی فارمیٹ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا گویا کوئي گولا گنڈہ ۔
ہلکی پھلکی جاب تو مل ہی جاتی مگر طبعیت کی متلون مزاجی اس پر ٹکنے نہ دیتی ۔
اس گمان کے ساتھ جاب چھوڑ دیتا کہ مل جائے گی جاب ۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے ۔ ( یہ میری خام خیالی تھی ۔ )
جب ڈیفنس اور صدر کی سڑکوں پر گزرتی گاڑیوں کو دیکھتا توسوچتا کہ کب وہ دن آئے گا کہ
میں بھی ایسی گاڑی میں بیٹھوں گا ۔ اور پھر دنیا کے تمام بے روزگاروں کو جاب نہيں دے سکا تو جتنے میرے اختیار میں ہوں گے
ان کو تو ضرور جاب دوں گا ۔

جیسا فلموں میں ہوتا ہے کہ کوئی سیٹھ کسی غریب نوجوان کو روزگار دیتا ہے
پھر وہ اس نوجوان کے کسی کردار سے متاثر ہو کر اپنا داماد بنا لیتا
یا پھر روڈ پر چلتے چلتے کوئی بٹوا پڑا مل جاتا ہے
پھر اس کو واپس کرنے کی کوشش میں کوئی ہماری قدر کرتا ہے ۔ اور آسمان پر پہنچا دیتا ہے ۔
یا پھر ایک دن گھر پر سرکاری لیٹر آئے گا ۔ کہ آپ فلاں محکمے کی نوکری کے لیے منتخب ہو چکے ہيں ۔
اب آپ سرکاری نواب ہیں ۔
تو اکثر چلتے پھرتے اور جاگتی آنکھوں سے خواب نظر آرہے ہوتے ہيں ۔

مگر یہ خواب بھی کب تک نظر آتے ۔ یہ میرے پیروں کو رواں تو رکھتے ہيں مگر
مستقبل نہيں بنا سکتے ۔ ہر آنے والا مستقبل اگر برا نہيں ہوتا تو توقع اور امیدوں کے مطابق بھی نہيں ہوتا ۔
یہ چیزیں خوابوں کی طرف حد درجہ بد ظن کر دیتی ہیں۔
کہ نہيں ہونے چاہیئں خواب ۔ کیوں خوابوں کی دنیامیں رہ کر اپنی انرجی ضائع کریں ۔
دنیا میں جتنے لوگ کامیاب ہیں وہ خواب دیکھنے میں وقت ضائع نہیں کرتے ۔
بلکہ آنکھیں کھلی رکھتے ہيں اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہيں ۔

ہر جاب کی امید پر آنکھیں پتھرا جاتی ہيں ۔
چھوٹی موٹی ملتی ہے تو کہیں جا کر شرمندہ شرمندہ ہو کر انجام دیتے ہيں کہ
اوقات سے زیادہ خواب دیکھنے والے اسی طرح ہوتے ہیں ۔
کبھی کبھی تو دل کرتا تھا کہ قدموں میں گر کر نوکری کی بھیک مانگ لیں ۔
مگر عزت نفس آڑے آجاتی ۔
\
مگر جہاں تھوڑے سے اچھے دن آئے میں مزید بہتر پرفارمنس اور بہتر تنخواہ کے لیے کوششوں میں مصروف ہو گیا ۔
کبھی کبھی جذبوں کو تازہ اور حوصلوں کو جوان رکھنے کے لیے مختلف فورم ( خاص کر پاک نیٹ ) پر اظہار خیال کرتا رہتا
کہ کہيں تعمیر کی چنگاری سرد نہ پڑ جائے ۔

آج لائف میں تھوڑا قرار ہے تو سوچتا ہو ں
کہ نوکری اور مالکی کے اس رسا کشی میں کون ٹھیک ہے اور کون ٹھیک نہیں ؟


__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), منتظمین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), راجہ اکرام (13-04-11), سیفی خان (13-04-11), عبدالقدوس (13-04-11), عبداللہ حیدر (15-04-11)
پرانا 13-04-11, 04:24 PM   #4
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زارا سسٹر ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی سوچ بہت بڑی ہے ۔ ۔ ۔

ہمارے مذہب نے ہمارے دین نے ہمیں یہی سوچ دی ہے یہی بتایا ہے کہ اللہ کے ہاں رنگ ، ذات ، پات ، عہدہ کسی چیز سے کوئ فرق نہیں پڑتا اللہ کے ہاں اگر معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے
مجھے خود بہت برا لگتا ہے یہ سب ۔ ۔ ۔
1 دفعہ 1 واقعہ پڑا تھا غالبا مولانا رشید احمد گنگوہی رح کا تھا کہ 1 بار آپ طلباء کو حدیث کا درس دے رہے تھے کہ بارش آگئی سارے طلباء اندر چلے گئے اچانک 1 طالبعلم نے دیکھا کہ آپ طلباء کی جوتیوں کو اکھٹا کر کے 1 کپڑے میں ڈال رہے تھے تا کہ جوتیوں کو بارش سے بچایا جا سکے ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔
کہاں وہ عظیم لوگ اور کہاں ہم ۔ ۔ ۔

کاش کہ آپ جیسی سوچ سب کی ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), نورالدین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), راجہ اکرام (13-04-11), عبدالقدوس (13-04-11)
پرانا 13-04-11, 04:45 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زارا ، سلام،

کیا یہ آپ بیتی ہے ؟

جو کہنا چاہتا ہوں‌، اس کے لئے اس سوال کے جواب کی مجھ کو ضرورت ہے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 13-04-11 at 04:55 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), بزم خیال (14-04-11), عبدالقدوس (13-04-11)
پرانا 13-04-11, 04:49 PM   #6
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وعلیکم السلام

جی یہ ایک ماہ پہلے کی بات ہے جس آج بیان کیا ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), بزم خیال (14-04-11)
پرانا 13-04-11, 04:54 PM   #7
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
زارا بہن آپ کی یہ تحریر دل میں اتر گئی
کچھ تلخ جد و جہد وں کی یاد تازہ ہوگئی ۔
مجھے بے روزگاری کے دنوں میں اتنے زیادہ مسائل کا سامنا تونہيں کرنا پڑا ۔
مگر وہ کیا ہےکہ ہر انسان کو اپنا غم اور دکھ دنیا مین سب سے زیادہ ہی لگتا ہے ۔
کبھی کبھی تو دل کرتا تھا کہ قدموں میں گر کر نوکری کی بھیک مانگ لیں ۔
مگر عزت نفس آڑے آجاتی ۔

آج لائف میں تھوڑا قرار ہے تو سوچتا ہو ں
کہ نوکری اور مالکی کے اس رسا کشی میں کون ٹھیک ہے اور کون ٹھیک نہیں ؟


بالکل نُوربھائی اور اللہ کے کرم سے مجھے بھی دونوں نوکریاں مانوپلیٹ میں سجی ملی تھیں۔ صرف گئی باعزت طریقے سے انٹرویو دیا اوراُنہوں نے کہا کل سے آجانا۔ لیکن جسطرح کا رویہ میں نے اِنکا دیکھا،ایسا اپنی پوری زندگی میں ایساکہیں نہیں دیکھا تھایا شاید کبھی موقع نہیں ملا۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), بزم خیال (14-04-11)
پرانا 13-04-11, 04:57 PM   #8
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ہم تو ٹھہرے اجنبی مراسلہ دیکھیں
سرورق کے لیے اپلائی کریں
شُــکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), بزم خیال (14-04-11)
پرانا 13-04-11, 04:58 PM   #9
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
زارا سسٹر ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی سوچ بہت بڑی ہے ۔ ۔ ۔

ہمارے مذہب نے ہمارے دین نے ہمیں یہی سوچ دی ہے یہی بتایا ہے کہ اللہ کے ہاں رنگ ، ذات ، پات ، عہدہ کسی چیز سے کوئ فرق نہیں پڑتا اللہ کے ہاں اگر معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے
مجھے خود بہت برا لگتا ہے یہ سب ۔ ۔ ۔
1 دفعہ 1 واقعہ پڑا تھا غالبا مولانا رشید احمد گنگوہی رح کا تھا کہ 1 بار آپ طلباء کو حدیث کا درس دے رہے تھے کہ بارش آگئی سارے طلباء اندر چلے گئے اچانک 1 طالبعلم نے دیکھا کہ آپ طلباء کی جوتیوں کو اکھٹا کر کے 1 کپڑے میں ڈال رہے تھے تا کہ جوتیوں کو بارش سے بچایا جا سکے ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔
کہاں وہ عظیم لوگ اور کہاں ہم ۔ ۔ ۔
سپاس گزارہوں۔

بھائی یہی تو المیہ ہے ہمارے معاشرے کا کہ ابھی تک ہم زات پات، رنگ و نسل، اونچ نیچ سے نہیں نکل پائے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), سیفی خان (13-04-11)
پرانا 13-04-11, 05:46 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ زارا۔


آپ نے سوال کیا کہ کیا آپ "غلط ہیں"۔

بنیادی طور پر آپ یہ جاننا چاہتی ہیں‌کہ آیا کہ انٹرویو کے لئے آنے والے افراد کو "مساوی درجہ " دینا چاہئے تھا یا نہیں ۔

تو اس کا سادہ سا جواب ہے۔ وہ یہ کہ جی، ان افراد کو مساوی درجہ دینا چاہئیے تھا۔

آپ کی تعلیم، قرآن کا مطالعہ، قانون سے واقفیت آپ کی مددگار ہیں‌کہ آپ بہتر سوچ سکتی ہیں۔ آپ کے درست ہونے کی مذہبی، قانونی اور سماجی تمام وجوہات موجود ہیں۔ جو آپ ہم سب جانتے ہیں۔ عوام کی عدالت میں‌ یہ فیصلہ آپ کے ہی حق میں‌جائے گا۔

یہاں سے میں جو کچھ لکھ رہا ہوں‌وہ صرف زارا لے لئے نہیں‌ہے۔ بلکہ اس واقعے کو ایک مثال کے طور پر استعمال کررہا ہوں تاکہ وہ کہہ سکوں‌جو کہنا چاہتا ہوں۔

اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے وہ بہت اہم پہلو ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس کو زارا مناسب نام نہیں‌دے پارہی ہیں لیکن یہ پہلو زارا کو مسلسل تنگ کررہا ہے۔ یہ پہلو ہے "لیڈر شپ " کا۔۔

اس مراسلے میں‌کئی اہم نکات موجود ہیں ۔

1۔ کسی شخص کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی روئے پر آپ کی حیرانگی۔
2۔ ایک ایسے شخص کے فیصلے سے اختلاف جو کسی نا کسی طور آپ کو مالی یا سماجی طور پر تکلیف دے سکتا تھا یا اپنے عہدے کا فائیدہ اٹھا سکتا تھا۔
3۔ اپنے فیصلے کے بارے میں‌یقین کہ یہ درست ہے۔
4۔ اپنی بات منوانے کا مناسب طریقہ نا جاننے کی وجہ سے درست فیصلے کے حصول میں دشواری۔
5۔ بعد میں ندامت اور مہینے بعد بھی اس سارے معاملے کی ذہن و ضمیر میں‌باز گشت۔

اس میں سے کچھ بھی آپ کے خلاف نہیں‌جاتا بلکہ یہ سب آپ(سب) کے حق میں‌ہے اور ایک اچھی علامت ہے۔

ہم سب ایسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں‌ جب ہم یہ جانتے ہیں‌کہ دوسرا شخص‌ ، ایک غیر قانونی حرکت کررہا ہے۔ یا مذبب کے خلاف جارہا ہے یا پھر اخلاقیات کے خلاف جارہا ہے ۔ لیکن ہماری "سمجھ میں‌نہیں‌آتا کہ اپنی بات کیسے منوائی جائے"۔ خاص‌طور پر جب ایک سے زائید لوگ موجود ہو اور ی ہ نا پتہ ہو کہ دوسرے ساتھ دیں‌گے یا نہیں ؟

دوسرے لوگوں کے ساتھ کام کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ اور ان سے نرمی سے بات منوانا اس سے بھی مشکل کام۔

اپنی بات منوانے کے لئے جو گرُ اور صلاحتیں درکار ہیں وہ ہی "لیڈر شپ "‌ کی صلاحیتیں‌ کہلاتی ہیں۔

میں‌آپ کی توجہ ان صلاحتیوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ لیکن پہلے ہم زارا کی صورت حال کا حل دیکھتے ہیں۔

اگر میں‌ اس صورت حال سے دوچار ہوتا تو
1۔ پہلے لوگوں کا دل اس طرف نرم کرتا
2۔ پھر سب کی باری باری رائے لیتا۔
3۔ اور اس طرح "رائے عامہ "‌کی مدد سے اس عہدے میں‌بڑے شخص کو یا تو مجبور کردیتا کہ "وہ کرسی رکھوائے" یا پھر سب کی آنکھوں‌کا سامنا کرے۔۔۔ مقصد اس کی سبکی نہیں اپنی ہار یا جیت نہیں ‌بلکہ ایک اصول کی جیت ہے۔

لیڈر شپ کی صلاحتیوں‌کو مزید ڈویلپ کرنے کےلئے آپ یو ٹیوب پر لیڈر شپ سیکھ سکتے ہیں۔ اور مناسب سوچ ، الفاظ کا نتخاب، اور بات منوانے کا طریقہ کار کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں اور اس کی پریکٹس کرسکتے ہیں۔

ایک لیڈر، یہ جانتا ہے کہ
1۔ بات شرع کرتے ہی ۔۔۔ سحر کیسے باندھا جائے۔
2۔ لوگوں کو کس طرح‌ ، کسی معاملے میں شامل کیا جائے کہ وہ توجہ دیں‌۔ اٹھ کر چلے نا جائیں۔
3۔ کس طرح رائے عامہ کو "اپنے حق میں‌نہیں" بلکہ "عالمگیر سنہری اصولوں " کے حق میں‌ہموار کیا جائے
4۔ کس طرح‌ جذبات کو ابھارا جائے اور منطق کو کم استعمال کیا جائے
5۔ کس طرح‌ فیصلہ "سنہری اصولوں‌" کے مطابق دوسروں سے کروایا جائے۔


لیڈر شپ کے یہ اسباق، آپ کے ہر شعبے میں‌مددگار ہوں گے۔ اور آپ کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت ہوں گے۔

کسی خاتون کا قد کاٹھ ، اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ‌نہیں‌ہے۔ بلکہ لیڈر شپ کی صلاحیتوں‌کی کمی ترقی کی راہ میں‌رکاوٹ‌بنتی ہے۔

مزید سیکھنے کے لئے آپ (سب)‌ ٹوسٹ‌ماسٹرز انترنیشنل کی سائٹ سے مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ادارہ لیڈر شپ کی صلاحیتوں‌ کو بہتر بنانے کے لئے مطبوعات فراہم کرتا ہے۔ یہ کتب بہت ہی ہلکی پھلکی ہوتی ہیں

اگر کوئی صاحب ان کتب کا اردو میں‌ ترجمہ کرنا پسند کریں تو میں‌یہ کتب فراہم کرسکتا ہوں۔ لیڈر شپ کی صلاحیتوں کا ‌ عام طور پر فقدان پایا جاتا ہے، یہ کتب اور ا ن کے ذریعے کی جانے والی گروپ پریکٹس آپ کی ان صلاحتیوں‌ کو جلا بخشے گی اور کامیابیوں‌کی نئی راہ کھولے گی۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), نورالدین (13-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), راجہ اکرام (13-04-11), زارا (13-04-11), طاھر (14-04-11)
پرانا 13-04-11, 06:05 PM   #11
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپکی بات مکمل درست ہے۔ جسکے لئے شُکریہ قبول کیجئے۔

آپکو لگتا ہے میں نے اُنکوقائل نہیں کیا؟ یہ وہی گروپ کیپٹن تھا جسکو قائل کرکے میں نے کالج کے رُولزمیں ترمیم کی تھی، یہ وہی گروپ کیپٹن تھا جس سے بات کر کے میں نے سویئپرزکی سیلیری بڑھوائی تھی اوریہ وہی گروپ کیپٹن تھا جس نے میری کوئی بات رد نہیں کی کیونکہ وہ جانتا تھا میں نے جتنی بات کی کالج کو فائدہ ہی ہوا ہے۔۔ اوربھائی اس بار بھی میں نے باربار یہ بات سامنے رکھی جو مجھے بُری لگی اوروہ جانتاتھا کہ he's doing wrong لیکن آپ شاید ایئرفورس والوں کونہیں جانتے غلط بات کو صحیح کہہ کرپیش کرنا کوئی ان سے سیکھے مزید کسی کی بات ماننا انکے نزدیک اپنی سبکی ہے۔ اصل بات یہی تھی کہ اُنکی سوچ بھی ذات پات کا تعین کرنیوالوں جیسی نکلی۔

آپ حیران ہوں گے کہ وہ بذات خود چلتا پھرتااِسلام نافذ کرنیوالا قانون تھاکہ یہ چیزایسے ہے یہ چیزایسے ہے، اِسلام یہ کہتا ہے مجھے حیرانگی اُس کی بات سن کرہوئی جب اُس نے اوپن نیچ والی بات سامنے رکھی۔ حالانکہ اسلام میں سب انسان برابر ہیں ۔ نہ رنگ، نہ نسل، نہ پیشہ، نہ زبان کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو کسی انسان کی برتری اور کمتری کا باعث ہو۔

ہماری مشکل یہ ہے اللہ تعالی نے شکل و صورت، صلاحیت اور دولت میں فرق رکھا ہے۔ یہ فرق اصل میں شکر اور صبر کی آزمائش ہے۔ لیکن ہم نے ان چیزوں کو بڑائی اور چھوٹائی کی بنیاد بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالی کے نزدیک معزز وہ ہے جو تقوی میں بڑا ہے۔ لیکن اس بات کو جو مانتا ہے ، سمجھتاہے وہ عملی طور پر اسکا مظاہرہ بھی کرتا ہے لیکن کچھ سمجھ کربھی نہیں سمجھتے تو اس میں قصور اُنکی سوچ کا ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-04-11), فاروق سرورخان (13-04-11), نورالدین (13-04-11), منتظمین (14-04-11), محمد یاسرعلی (13-04-11), معظم (14-04-11), بزم خیال (14-04-11), سیفی خان (14-04-11), طاھر (14-04-11)
پرانا 13-04-11, 10:30 PM   #12
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
آپ مجھے بتائیں کیا آپ بھی اُن جیسا سوچتے ہیں؟ کیا میری سوچ کے ہمنواء ہیں یامیری سوچ ہی غلط ہے؟
آپ کی سوچ ۱۰۰ فیصد صحیح تھی۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (14-04-11)
پرانا 14-04-11, 12:03 AM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بات انٹرویو کی ہوئی تو سوچھا اس ویڈیو کو یہاں لگاؤں جو کہ ایک غریب بندے کی حالت کی عکاسی کرتی ہے کہ غریب جتنا بھی پڑھ لکھ جائے اس کو نوکری اس کی تعلیم کے معیار کی نہیں ملتی کیونکہ اس کے پاس نہ سفارش ہے اور نہ ہی رشوت کے لیے حرام کی کمائی۔

__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (14-04-11), منتظمین (14-04-11)
پرانا 14-04-11, 12:29 AM   #14
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
آپ شاید ایئرفورس والوں کونہیں جانتے غلط بات کو صحیح کہہ کرپیش کرنا کوئی ان سے سیکھے مزید کسی کی بات ماننا انکے نزدیک اپنی سبکی ہے۔
السلام علیکم،

ہمارے ہاں ایک عام ڈگر بن گئی ہے کہ فوجی کوئی اسپیشل مخلوق ہیں اور کسی دوسرے سیارے سے اتر کر آئے ہیں۔ فوجی کو ایسا ہونا چاہیئے ویسا ہونا چاہیئے - بلکہ آئیڈئل اور فرشتہ ہونا چاہیئے؟ کیوں؟ کیا فوجی میرے اور آپ کے گھرانے سے اٹھہ کر نہیں آئے؟

کسی ایک شخص کے رویے پر تمام ادارے کو قصوروار ٹہرانا کدھر کا انصاف ہے؟ کیا ایک گروپ کیپٹن صرف پاک فضائیہ کی ہی نمائندگی کررہا ہے یا کہ وہ ایک پاکستانی اور مسلمان کی نمائندگی بھی کررہا ہے - فوج کو تو آپ نے برا اور قصوروار ٹہرا ہی دیا، پاکستان اور اسلام کی باری کب آئے گی؟

معاف کیجیئے گا آپ کے تجربات شاید ایک ہی شخصیت کی گرد گھومتے ہیں اور آپ پوری فوج کو اس ایک شخص کی حرکات کے پیش منظر میں دیکھہ رہی ہیں۔

محترمہ پاکستان میں قسم قسم کے لوگ بستے ہیں جن کا تعلق فوج سے بھی ہوتا ہے اور ہمارے گھروں سے بھی۔ ان میں کبھی ایسے لوگ بھی ہوتے اور اور کبھی ویسے بھی جن پر قوم ناز کرتی ہے۔ کسی ایک کی مثال پورے گروپ پر لاگوکرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ غیر منطقی بھی - کیا خیال ہے؟ِ

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (14-04-11)
پرانا 14-04-11, 12:53 AM   #15
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
بات انٹرویو کی ہوئی تو سوچھا اس ویڈیو کو یہاں لگاؤں جو کہ ایک غریب بندے کی حالت کی عکاسی کرتی ہے کہ غریب جتنا بھی پڑھ لکھ جائے اس کو نوکری اس کی تعلیم کے معیار کی نہیں ملتی کیونکہ اس کے پاس نہ سفارش ہے اور نہ ہی رشوت کے لیے حرام کی کمائی۔

کیا کہوں اس پہ ۔ ۔ ۔ بس اتنے پہ ہی اکتفا کرتا ہوں

ایک ہی اُلو کافی تھا بربادئ گلستان کے لئے

ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہو گا
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (22-04-11), منتظمین (14-04-11), محمد عاصم (14-04-11)
جواب

Tags
color, ہے۔, کالج, کتابوں, گئی, وقت, قرآن, لوگ, نماز, معلوم, اسلام, بے, تعلیم, جواب, خدا, دیکھا, دیں, دل, زندگی, سائنس, شخص, عربی, عزت, غلط, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں حیدر گپ شپ 29 30-10-11 06:19 PM
ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے عبدالہادی احمد اپکے کالم 13 02-02-11 08:32 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گوندل اخلاق و آداب 0 25-10-09 11:21 PM
اسوہ رسول (ص) کی عظمت و اہمیت Real_Light پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 15-07-08 01:54 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger