| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 582
|
||||
| 18 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (02-12-10), فاروق سرورخان (03-12-10), ھارون اعظم (02-12-10), یاسر عمران مرزا (02-12-10), ڈاکٹرنور (02-12-10), نورالدین (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), احمدنواز (03-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (03-12-10), حیدر (02-12-10), رضی (02-12-10), شمشاد احمد (03-12-10), طاھر (04-12-10), عامرشہزاد (02-12-10), عبدالقدوس (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10), عروج (14-02-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"تو اس کی ماں نے اس کی بیوی سے کہا کہ اگر تم نوکری کرنا چاہتی ہو تو کرلو لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی صحیح عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔ یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔"
سحر بہن میں اوپر والا فقرہ پڑھ کر کچھ الجھ گیا ہوں۔۔ شاید میری ہی کو تا ہی ہو لیکن ذرا اس کی وضاحت کر دیں تاکہ مزید اس پر تبصرہ کیا جا سکے
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی) Visit My Blog http://www.homeopathypakistan.blogspot.com |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی سہی ۔ مگر ہمیشہ عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
چلیں شکر کہیں توکسی کوخیال آیا کہ ہم مرد حضرات بھی مظلوم ہيں ۔۔
اپنی فیملی کی فکر ہر سمجھ دار مرد کرتا ہے ۔۔ آج اگر ہلا گلا کرنے میں وقت ضائع کریں گے تو کل کے لیے اپنے گھر بار کے لیے کچھ نہيں بنا سکیں گے ۔۔ اور آج وہ بیوی بچے ہمارے کاہلی سے کمائے ہوئے تھوڑے پیسے میں گزارا کر تو ليں گے ۔ مگر جب ہم بوڑھے ہوں گے اور وہ جوان اور ہم سے زیادہ آمدنی کمائیں گے تو وہ ہمیں طعنے دیں گے کہ آپ نے ہمیں دیا کیا ۔۔ بس یہی وہ وہم ہے جو بعض مردوں کو ریس کے گھوڑے کی طرح زندگی کی دوڑ میں بھگاتا ہے کہ کل کے لیے زیادہ سے زیادہ کماؤ تا کہ اولاد کے لیے کچھ جمع ہو جائے ۔ مگر کیا آگے وہی کچھ ہوگا جو وہ بندہ سوچ رہا ہے ۔ ایسا بھی تو ہوتا ہےکہ مرد کم اور تنگی کے ساتھ کما کر بھی اپنی فیملی کو خوش رکھ سکتا ہے بڑھاپے تک ۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر آسائش اولاد اور بیوی کو دینے کے باوجود بھی اولاد نکمی نکلتی ہے اور بیوی بدمزاج رہتی ہے۔ تب یہاں آ کر انسان کو توکل کے معنی سمجھ میں اتے ہيں۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (02-12-10), ھارون اعظم (02-12-10), یاسر عمران مرزا (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10), سحر (02-12-10), عامرشہزاد (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10), عروج (14-02-11) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے یہاں صرف اپنے معاشرے کی ایک سوچ کی طرف اشارہ کیا ہے
کہ ہم نے کاموں کو مرد ، عورت میں تقسیم کردیا ہے کسی صورت بھی ہم اس میں ردو بدل برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔ اگر مرد اپنی استطاعت سے ذیادہ محنت کرتا ہے تب بھی اس کو کسی قسم کی ریلیف نہیں دی جاتی ہے ۔ اور عورت کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہے میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہر کام مل جل کر کرنا چاہیے ۔ جہاں جس کو آرام کی ضرورت ہو اس کو ریلیف دینا چاہیے ۔ اور اگر ایک تھک گیا ہے تو دوسرا اس کی ذمہ داریاں اٹھا سکتا ہے گھر کے کاموں میں مرد عورت کا ہاتھ بٹائے جب عورت تھک جائے اور معاش میں عورت مرد کا ہاتھ بٹائے جب مرد تھک جائے ۔ |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چناچہ اصل موضوع یہ نہیں کہ مردوں کا معاشرہ۔
اصل موضوع تو یہ بنتا ہے کہ کیا عورت کو معاشی سرگرمیوں میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے۔اُس پر سے معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے میدان کار میں آنا چاہیے یا نہیں وغیرہ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
سحر آپی بہت اچھی تحریر ہے
میرے خیال سے اگر عورت کے پاس کوئی ہُنر ہے تو اس کو ضرور اپنے خاوند کو یا گھر والوں کو سپورٹ کرنا چاہئیے
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سحربہت اچھا لکھاآپ نے۔ واقعی ملک کی ترقی میںعورتوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور اُنکو مل کر شانہ بشانہ کام کرنا چاہئے۔ شکریہ
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک گھرکا نظام چلانے کیلئے
مرد اور عورت دونو ں مل کرہی اس ذمہ داری کو پورا کر سکتے ہیں۔ ہاں ہر میاں بیوی آپس میں مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں اپنی سہولت کے مطابق طے کر تے ہیں۔۔ مندرجہ با لا تحریر میں جو پیغام دینے کی کو شش کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ مردوزن مل کر ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی سہولت کا ، تکلیف کا احسا س کرتے ہوئے گھر کا نظا م چلائیں لیکن بیان کردہ سیچوایشن ظاہر کررہی ہے کہ یہاں میاں بیوی سے زیا دہ میاں کی ماں کا کر دار ہے جو اپنے بیٹے کو بیوی کی کمائی کھانے سے روک رہی ہے --- یہ تو فیمیل ڈومینیٹد گھرانہ ہے۔۔ جہاں ایک عورت ہی عورت کو اپنے خاوند کو سپورٹ کرنے سے روک رہی ہے۔۔۔ بہرحال ۔۔ میرا یہی نقطہ نظر ہے کہ عورت اور مرد مل کر ہی ، ایک دوسرے کو سپورٹ کرکے ایک خاندان کو بہتر چلا سکتے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Totally agree with you حالانکہ میرے چھوٹے ماموں اس معاملے میں کافی سٹکٹ ہیں لیکن باوجود اُسکے میں دو جابس کر رہی ہوں اور اُنکو اعتراض بھی نہین ہے۔ ہمین اپنی سوچ مثبت بنانا ہو گی اس معاملے میں۔ |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہاں موضوع بحث عورت نہیں بلکہ مرد ہے ۔ پہلی بات دوسری بات میری اس تحریر کا مقصد لوگوں کی سوچ ہے عورت تو آج بھی مرد کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں ۔ لیکن ہم یہ سوچ نہیں سکتے کہ مرد گھر میں ہو اور عورت نوکری کرے ۔ میں ذرا تفصیل سے بات بیان کرتی ہوں ۔ ایک ہوتا ہے نورمل روٹین یا نورمن زندگی ، اس میں تو مرد کو ہی معاشی ذمہ داریاں اٹھانی چاہیے اور عورت کو گھر دیکھنا چاہیے ۔ لیکن کچھ ہوتے ہیں غیر معمولی واقعات ۔ جیسے میں نے بہت سے گھروں میں دیکھا ہے کہ مرد بیماری کی حالت میں کام کررہے ہیں کچھ بھی ہے ان کی ذمہ داری ہے 70 سال کی عمر میں باپ نوکری کررہا ہے ۔ بیٹی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود گھر میں رہتی ہے شوہر کو شوگر ہے ، بلڈ پریشر ہے وغیرہ وغیرہ لیکن بیویاں نوکری نہیں کرتی کہ معاش مرد کی ذمہ داریاں ہیں ۔ یا سالوں گھر سے باہر رہنے کے بعد اگر مرد چند ماہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہے تو یہ میرا خیال ہے اس کا حق ہے ۔ میں نے بہت سے گھروں میں بے حسی بھی دیکھی ہے اس معاملے میں عورتوں کی طرف سے جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو عورت کی زندگی کافی پرسکون ہوجاتی ہے تب وہ مرد کو ریلیفڈ دے سکتی ہے ۔ اسی طرح ہمارا معاشرہ عورت کے ساتھ بھی کرتا ہے ، عورت کی طبیعت خراب ہے ، بچے چھوٹے ہیں ، پوری رات اس نے جاگ کر گزاری ہے تب بھی گھر کی ساری ذمہ داری پورا دن اسی نے نبھانی ہے ۔ نوٹ : عورت کی بات میں نے صرف مثال دینے کے لیے کہی ہے ۔ Last edited by سحر; 02-12-10 at 12:32 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
حقیقتیں ہیں لیکن تلخ ہیں.............
ہضم کرنا مشکل ہے............... |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے عینک بدل کر بھی آپکا مضمون پڑھا مجھے وہی معانی نظر ائے (عینک سے مراد زاویہ نظر)۔
چونکہ آپکا موضوع مرد سے متعلق ہے کہ اسکو ریلیف ملنا چاہیے، تو نو کمنٹ۔ لیکن آپ نے کئیا اپنی بات پر غور کیا ہے تو اسکی وضاحت فرما دیجیے کہ کیوں کر ایک مرد سخت بیماری کے باوجود کام کرتا ہے اور اسکی خاتون گھر سے قدم باہر نہیں نکالتی۔ کیا وہ خاتون کام نہیں کرنا چاہتی یا معاشرہ کام کرنے نہیں دے رہا؟ کیا وجہ ہے کہ آپ کے بیان کردہ جملے کے مطابق 70 سال کا بوڑھا تو کام کرنے پر مجبور ہے لیکن اسکی بیٹی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود کام نہیں کر رہی؟ کیا اُس بیٹی کا موڈ نہیں ہوتا کام کرنے کا یا معاشرہ کام نہیں کرنے دے رہا؟ دیکھیے اس ملک کی خواتین کی اکثریت تو ہمیشہ سے کام کرتی آئی ہے۔ بے شک ظاہر نہیں ہوتا انکا کام۔ مثلاً پنجاب ملک کی آدھی سے زائد آبادی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ زرعی معاشرہ ہے۔ چناچہ دہیات سے تعلق رکھنے والی تمام خواتین کام پر جاتی ہیں۔ بعینہ اس سے ملتا جُلتا حال سندھ میں بھی ہے۔ شہروں کی بات کر لیں تو اس میں دو قسم کے طبقات ہیں۔ ایک طبقہ کی خواتین کام پر جاتی ہیں۔ لیکن دوسرے طبقہ کی خواتین گھر میں رہتی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا وہ خواتین کام کرنا ہی نہیں چاہتی اور گھر کے سخت معاشی حالات کے باوجود وہ مرد کا بوجھ نہیں بٹانا چاہتیں؟ یا معاشرہ/انکے گھر والے انکو اجازت نہیں دے رہے؟ اگر تو وہ خود کام نہیں کرنا چاہتیں ۔ تو معذرت کے ساتھ میں اختلاف کروں گا ۔ ایسی خواتین کی تعداد ببہت قلیل ہے جو معاشہ ابتری کے دور میں اپنے مرد کا ساتھ نہ دیں۔ یہ ایسی ہی خواتین ہی جیسا کہ مرد بھی پائے جاتے ہیں۔ یعنی کام چور۔ بہانے خور۔ ان پر تو بات کرنا ہی عبث ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو خواتین کام کرنا چاہتی ہیں ۔ ۔ ۔ پھر بھی وہ کام کیوں نہیں کرتیں؟ پھر بات وہی معاشرہ معاشرہ کام کرنے کیوں نہیں دے رہا؟ سوال تو یہ ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (02-12-10), نورالدین (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), سحر (02-12-10), عبداللہ آدم (03-12-10) |
![]() |
| Tags |
| ہوتے, ہوتا, گھر, وقت, واقعی, نوکری, ماں, معاشرہ, اجازت, بیوی, بڑا, بچوں, جانے, دے, رات, سال, شوہر, شام, شادی, شروع, عورت, علم, عرصہ, صبح, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا میں واقعی پاگل ہوں ؟ | سحر | گپ شپ | 33 | 07-04-11 01:20 AM |
| جڑواں بہنوں کے نکاح کی شرعی حیثیت۔کیا ہے۔ | شمشاد احمد | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 5 | 14-02-11 04:24 PM |
| خورشید شاہ کے آموں نے گلا خراب کیا، واقعی کوئی سننے والا نہیں | گلاب خان | خبریں | 0 | 20-06-10 04:02 AM |
| 700 جوڑوں کی شادی کی اجتماعی تقریب | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 10 | 07-02-09 03:52 PM |
| دفاعی ا شتر اک اور تعاون بڑھانے پر پاک چین اتفاق،دونوں ملک آزاد تجارت کیلئ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-04-08 08:18 AM |