واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


کیا یہ واقعی مَردوں کا معاشرہ ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 02-12-10, 10:09 AM   #1
کیا یہ واقعی مَردوں کا معاشرہ ہے
سحر سحر آن لائن ہے 02-12-10, 10:09 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

وہ پچھلے بیس سال سے صبح صبح اٹھتا ، تیار ہوتا اور نوکری پر چلا جاتا ۔ شام بلکہ رات کو واپسی ہوتی ۔ اتنا تھک چکا ہوتا کہ کسی سے بات تک کرنے کی ہمت نا ہوتی ۔ کھانا کھاتا اور سوجاتا ، اسی طرح دن ، پفتے ، مہینے اور سال گزرتے ۔
وہ اپنے گھر میں تمام بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا ۔ گریجویشن کے بعد نوکری شروع کردی ، جب وہ روزگار سے لگا اس وقت اس کی عمر 22 سال تھی ۔ اس عمر میں گھر کی ذمہ داریاں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی پڑھائی کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر آگئی ۔
جب چھوٹے بہن بھائی پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے تو گھر والوں نے اس کی شادی کردی ۔اب بیوی بچوں کی ذمہ داری اس کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتی ۔ اسی شب و روز میں بیس سال گزر گئے ۔ بچے اتنے بڑے ہوگئے کہ اسکول جانے لگے ۔
ایک دن صبح اٹھ کر تیار ہوتے ہوئے اس نے اپنی بیوی سے کہا ۔ کہ میں بہت تھک گیا ، کچھ دن آرام کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کی بیوی کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا ، وہ بھی ایک پڑھی لکھی عورت تھی ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ چند ماہ اپنے شوہر کو آرام دے ۔اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ اب میں نوکری کروں گی اور آپ کچھ عرصہ آرام کرلیں ۔ اس پر وہ ہنس دیا ، اور کہا ہمارا معاشرہ ہم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن اس کی بیوی بضد رہی ۔
جب اس کے ماں باپ کو اس بات کا علم ہوا ، تو اس کی ماں نے اس کی بیوی سے کہا کہ اگر تم نوکری کرنا چاہتی ہو تو کرلو لیکن ہمارا بیٹا چند دن بھی عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔
یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 02-12-10 at 11:51 AM..

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 582
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-12-10), فاروق سرورخان (03-12-10), ھارون اعظم (02-12-10), یاسر عمران مرزا (02-12-10), ڈاکٹرنور (02-12-10), نورالدین (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), احمدنواز (03-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (03-12-10), حیدر (02-12-10), رضی (02-12-10), شمشاد احمد (03-12-10), طاھر (04-12-10), عامرشہزاد (02-12-10), عبدالقدوس (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10), عروج (14-02-11)
پرانا 02-12-10, 10:16 AM   #2
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

"تو اس کی ماں نے اس کی بیوی سے کہا کہ اگر تم نوکری کرنا چاہتی ہو تو کرلو لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی صحیح عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔ یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔"

سحر بہن
میں اوپر والا فقرہ پڑھ کر کچھ الجھ گیا ہوں۔۔
شاید میری ہی کو تا ہی ہو لیکن ذرا اس کی وضاحت کر دیں تاکہ مزید
اس پر تبصرہ کیا جا سکے
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی)
Visit My Blog
http://www.homeopathypakistan.blogspot.com
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), محمد عاصم (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), رضی (02-12-10), عامرشہزاد (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:01 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی صحیح عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔ یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
یہ جملے تو مجھے بھی سمجھ نہیں آئے۔ یہ دوسرا جملہ بھی ماں کا ادا کردہ جملہ ہے یا یہ محض اضافی وضاحتی جملہ ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), رضی (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:17 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی صحیح عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔ یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
غالباً یہ جملہ کچھ اسطرح ہوناچاہیے تھا ۔
لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی سہی ۔ مگر ہمیشہ عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:24 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چلیں شکر کہیں توکسی کوخیال آیا کہ ہم مرد حضرات بھی مظلوم ہيں ۔۔

اپنی فیملی کی فکر ہر سمجھ دار مرد کرتا ہے ۔۔
آج اگر ہلا گلا کرنے میں وقت ضائع کریں گے تو کل کے لیے اپنے گھر بار کے لیے کچھ نہيں بنا سکیں گے ۔۔
اور آج وہ بیوی بچے ہمارے کاہلی سے کمائے ہوئے تھوڑے پیسے میں گزارا کر تو ليں گے ۔ مگر جب ہم بوڑھے ہوں گے اور وہ جوان اور ہم سے زیادہ آمدنی کمائیں گے تو وہ ہمیں طعنے دیں گے کہ آپ نے ہمیں دیا کیا ۔۔
بس یہی وہ وہم ہے جو بعض مردوں کو ریس کے گھوڑے کی طرح زندگی کی دوڑ میں بھگاتا ہے کہ کل کے لیے زیادہ سے زیادہ کماؤ تا کہ اولاد کے لیے کچھ جمع ہو جائے ۔
مگر کیا آگے وہی کچھ ہوگا جو وہ بندہ سوچ رہا ہے ۔
ایسا بھی تو ہوتا ہےکہ مرد کم اور تنگی کے ساتھ کما کر بھی اپنی فیملی کو خوش رکھ سکتا ہے بڑھاپے تک ۔
اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر آسائش اولاد اور بیوی کو دینے کے باوجود بھی اولاد نکمی نکلتی ہے اور بیوی بدمزاج رہتی ہے۔

تب یہاں آ کر انسان کو توکل کے معنی سمجھ میں اتے ہيں۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-12-10), ھارون اعظم (02-12-10), یاسر عمران مرزا (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10), سحر (02-12-10), عامرشہزاد (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10), عروج (14-02-11)
پرانا 02-12-10, 11:36 AM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے یہاں صرف اپنے معاشرے کی ایک سوچ کی طرف اشارہ کیا ہے
کہ ہم نے کاموں کو مرد ، عورت میں تقسیم کردیا ہے کسی صورت بھی ہم اس میں ردو بدل برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔
اگر مرد اپنی استطاعت سے ذیادہ محنت کرتا ہے تب بھی اس کو کسی قسم کی ریلیف نہیں دی جاتی ہے ۔ اور عورت کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہے


میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہر کام مل جل کر کرنا چاہیے ۔ جہاں جس کو آرام کی ضرورت ہو اس کو ریلیف دینا چاہیے ۔ اور اگر ایک تھک گیا ہے تو دوسرا اس کی ذمہ داریاں اٹھا سکتا ہے

گھر کے کاموں میں مرد عورت کا ہاتھ بٹائے جب عورت تھک جائے اور معاش میں عورت مرد کا ہاتھ بٹائے جب مرد تھک جائے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-12-10), نورالدین (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), احمدنواز (03-12-10), حیدر (02-12-10), رضی (02-12-10), طاھر (04-12-10), عامرشہزاد (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 11:53 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
"تو اس کی ماں نے اس کی بیوی سے کہا کہ اگر تم نوکری کرنا چاہتی ہو تو کرلو لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی صحیح عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔ یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔"

سحر بہن
میں اوپر والا فقرہ پڑھ کر کچھ الجھ گیا ہوں۔۔
شاید میری ہی کو تا ہی ہو لیکن ذرا اس کی وضاحت کر دیں تاکہ مزید
اس پر تبصرہ کیا جا سکے
میں نے اپنی تحریر میں اس جملے میں ترمیم کردی ہے ۔ امید ہے کہ آپ کو میری بات سمجھ آگیئ ہوگی ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (02-12-10), نورالدین (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:00 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چناچہ اصل موضوع یہ نہیں کہ مردوں کا معاشرہ۔
اصل موضوع تو یہ بنتا ہے کہ کیا عورت کو معاشی سرگرمیوں میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے۔اُس پر سے معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے میدان کار میں آنا چاہیے یا نہیں وغیرہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), رضی (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:05 PM   #9
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,194
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر آپی بہت اچھی تحریر ہے
میرے خیال سے اگر عورت کے پاس کوئی ہُنر ہے تو اس کو ضرور اپنے خاوند کو یا گھر والوں کو سپورٹ کرنا چاہئیے
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), رضی (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:05 PM   #10
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
"تو اس کی ماں نے اس کی بیوی سے کہا کہ اگر تم نوکری کرنا چاہتی ہو تو کرلو لیکن ہمارا بیٹا چند دن ہی صحیح عورت کی کمائی نہیں کھائے گا ۔۔ یعنی اس کو چند دن بھی آرام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔"

سحر بہن
میں اوپر والا فقرہ پڑھ کر کچھ الجھ گیا ہوں۔۔
شاید میری ہی کو تا ہی ہو لیکن ذرا اس کی وضاحت کر دیں تاکہ مزید
اس پر تبصرہ کیا جا سکے
اِسکا مطلب ہی ہی نلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں(کچھ جگہوں ہر) عورت اگر مرد کے شانہ بشانہ کام بھی کرنا چاہے خواہ اُسی کے خیال کیلئے تو بھی اُسکو اِجازت نہین ہے۔

سحربہت اچھا لکھاآپ نے۔ واقعی ملک کی ترقی میںعورتوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور اُنکو مل کر شانہ بشانہ کام کرنا چاہئے۔

شکریہ
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), رضی (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:17 PM   #11
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک گھرکا نظام چلانے کیلئے
مرد اور عورت دونو ں مل کرہی
اس ذمہ داری کو پورا کر سکتے ہیں۔
ہاں
ہر میاں بیوی
آپس میں مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں
اپنی سہولت کے مطابق طے کر تے ہیں۔۔
مندرجہ با لا تحریر میں
جو پیغام دینے کی کو شش کی گئی ہے وہ یہی ہے
کہ مردوزن مل کر ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہوئے
ایک دوسرے کی سہولت کا ، تکلیف کا احسا س کرتے ہوئے
گھر کا نظا م چلائیں
لیکن بیان کردہ سیچوایشن ظاہر کررہی ہے
کہ یہاں میاں بیوی سے زیا دہ میاں کی ماں کا کر دار ہے
جو اپنے بیٹے کو بیوی کی کمائی کھانے سے روک رہی ہے
---
یہ تو فیمیل ڈومینیٹد گھرانہ ہے۔۔
جہاں ایک عورت ہی عورت کو اپنے خاوند کو سپورٹ کرنے سے روک رہی ہے۔۔۔
بہرحال ۔۔
میرا یہی نقطہ نظر ہے
کہ
عورت اور مرد
مل کر ہی ، ایک دوسرے کو سپورٹ کرکے
ایک خاندان کو بہتر چلا سکتے ہیں۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10), رضی (02-12-10), سحر (02-12-10), عامرشہزاد (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:24 PM   #12
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
ایک گھرکا نظام چلانے کیلئے
مرد اور عورت دونو ں مل کرہی
اس ذمہ داری کو پورا کر سکتے ہیں۔

میرا یہی نقطہ نظر ہے
کہ
عورت اور مرد
مل کر ہی ، ایک دوسرے کو سپورٹ کرکے
ایک خاندان کو بہتر چلا سکتے ہیں۔
جی بھائی صحیح کہا۔۔

Totally agree with you

حالانکہ میرے چھوٹے ماموں اس معاملے میں کافی سٹکٹ ہیں لیکن باوجود اُسکے میں دو جابس کر رہی ہوں اور اُنکو اعتراض بھی نہین ہے۔
ہمین اپنی سوچ مثبت بنانا ہو گی اس معاملے میں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 12:29 PM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
چناچہ اصل موضوع یہ نہیں کہ مردوں کا معاشرہ۔
اصل موضوع تو یہ بنتا ہے کہ کیا عورت کو معاشی سرگرمیوں میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے۔اُس پر سے معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے میدان کار میں آنا چاہیے یا نہیں وغیرہ
آپ میری بات کا مطلب نہیں سمجھے ۔
یہاں موضوع بحث عورت نہیں بلکہ مرد ہے ۔ پہلی بات
دوسری بات میری اس تحریر کا مقصد لوگوں کی سوچ ہے
عورت تو آج بھی مرد کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں ۔
لیکن ہم یہ سوچ نہیں سکتے کہ مرد گھر میں ہو اور عورت نوکری کرے ۔

میں ذرا تفصیل سے بات بیان کرتی ہوں ۔
ایک ہوتا ہے نورمل روٹین یا نورمن زندگی ، اس میں تو مرد کو ہی معاشی ذمہ داریاں اٹھانی چاہیے اور عورت کو گھر دیکھنا چاہیے ۔

لیکن کچھ ہوتے ہیں غیر معمولی واقعات ۔
جیسے میں نے بہت سے گھروں میں دیکھا ہے کہ مرد بیماری کی حالت میں کام کررہے ہیں کچھ بھی ہے ان کی ذمہ داری ہے 70 سال کی عمر میں باپ نوکری کررہا ہے ۔ بیٹی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود گھر میں رہتی ہے
شوہر کو شوگر ہے ، بلڈ پریشر ہے وغیرہ وغیرہ لیکن بیویاں نوکری نہیں کرتی کہ معاش مرد کی ذمہ داریاں ہیں ۔
یا سالوں گھر سے باہر رہنے کے بعد اگر مرد چند ماہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہے تو یہ میرا خیال ہے اس کا حق ہے ۔
میں نے بہت سے گھروں میں بے حسی بھی دیکھی ہے اس معاملے میں عورتوں کی طرف سے
جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو عورت کی زندگی کافی پرسکون ہوجاتی ہے تب وہ مرد کو ریلیفڈ دے سکتی ہے ۔
اسی طرح ہمارا معاشرہ عورت کے ساتھ بھی کرتا ہے ، عورت کی طبیعت خراب ہے ، بچے چھوٹے ہیں ، پوری رات اس نے جاگ کر گزاری ہے تب بھی گھر کی ساری ذمہ داری پورا دن اسی نے نبھانی ہے ۔

نوٹ : عورت کی بات میں نے صرف مثال دینے کے لیے کہی ہے ۔

Last edited by سحر; 02-12-10 at 12:32 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10), عبداللہ آدم (02-12-10), عروج (14-02-11)
پرانا 02-12-10, 01:54 PM   #14
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حقیقتیں ہیں لیکن تلخ ہیں.............

ہضم کرنا مشکل ہے...............
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (02-12-10), حیدر (02-12-10)
پرانا 02-12-10, 02:42 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے عینک بدل کر بھی آپکا مضمون پڑھا مجھے وہی معانی نظر ائے (عینک سے مراد زاویہ نظر)۔

چونکہ آپکا موضوع مرد سے متعلق ہے کہ اسکو ریلیف ملنا چاہیے، تو نو کمنٹ۔

لیکن آپ نے کئیا اپنی بات پر غور کیا ہے تو اسکی وضاحت فرما دیجیے کہ کیوں کر ایک مرد سخت بیماری کے باوجود کام کرتا ہے اور اسکی خاتون گھر سے قدم باہر نہیں نکالتی۔ کیا وہ خاتون کام نہیں کرنا چاہتی یا معاشرہ کام کرنے نہیں دے رہا؟
کیا وجہ ہے کہ آپ کے بیان کردہ جملے کے مطابق 70 سال کا بوڑھا تو کام کرنے پر مجبور ہے لیکن اسکی بیٹی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود کام نہیں کر رہی؟ کیا اُس بیٹی کا موڈ نہیں ہوتا کام کرنے کا یا معاشرہ کام نہیں کرنے دے رہا؟

دیکھیے اس ملک کی خواتین کی اکثریت تو ہمیشہ سے کام کرتی آئی ہے۔ بے شک ظاہر نہیں ہوتا انکا کام۔ مثلاً پنجاب ملک کی آدھی سے زائد آبادی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ زرعی معاشرہ ہے۔ چناچہ دہیات سے تعلق رکھنے والی تمام خواتین کام پر جاتی ہیں۔
بعینہ اس سے ملتا جُلتا حال سندھ میں بھی ہے۔
شہروں کی بات کر لیں تو اس میں دو قسم کے طبقات ہیں۔ ایک طبقہ کی خواتین کام پر جاتی ہیں۔
لیکن دوسرے طبقہ کی خواتین گھر میں رہتی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا وہ خواتین کام کرنا ہی نہیں چاہتی اور گھر کے سخت معاشی حالات کے باوجود وہ مرد کا بوجھ نہیں بٹانا چاہتیں؟ یا معاشرہ/انکے گھر والے انکو اجازت نہیں دے رہے؟

اگر تو وہ خود کام نہیں کرنا چاہتیں ۔ تو معذرت کے ساتھ میں اختلاف کروں گا ۔ ایسی خواتین کی تعداد ببہت قلیل ہے جو معاشہ ابتری کے دور میں اپنے مرد کا ساتھ نہ دیں۔ یہ ایسی ہی خواتین ہی جیسا کہ مرد بھی پائے جاتے ہیں۔ یعنی کام چور۔ بہانے خور۔ ان پر تو بات کرنا ہی عبث ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جو خواتین کام کرنا چاہتی ہیں ۔ ۔ ۔ پھر بھی وہ کام کیوں نہیں کرتیں؟
پھر بات وہی معاشرہ
معاشرہ کام کرنے کیوں نہیں دے رہا؟
سوال تو یہ ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-12-10), نورالدین (02-12-10), مرزا عامر (02-12-10), سحر (02-12-10), عبداللہ آدم (03-12-10)
جواب

Tags
ہوتے, ہوتا, گھر, وقت, واقعی, نوکری, ماں, معاشرہ, اجازت, بیوی, بڑا, بچوں, جانے, دے, رات, سال, شوہر, شام, شادی, شروع, عورت, علم, عرصہ, صبح, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا میں واقعی پاگل ہوں ؟ سحر گپ شپ 33 07-04-11 01:20 AM
جڑواں بہنوں کے نکاح کی شرعی حیثیت۔کیا ہے۔ شمشاد احمد مذہبی مسائل اور ان کا حل 5 14-02-11 04:24 PM
خورشید شاہ کے آموں نے گلا خراب کیا، واقعی کوئی سننے والا نہیں گلاب خان خبریں 0 20-06-10 04:02 AM
700 جوڑوں کی شادی کی اجتماعی تقریب nsa47 دلچسپ اور عجیب 10 07-02-09 03:52 PM
دفاعی ا شتر اک اور تعاون بڑھانے پر پاک چین اتفاق،دونوں ملک آزاد تجارت کیلئ عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 08:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger