واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ہمارا انجام کیا ہوگا؟۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-10-09, 02:58 PM   #1
ہمارا انجام کیا ہوگا؟۔
sahj sahj آف لائن ہے 20-10-09, 02:58 PM

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جو صاحب استطاعت پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ فرض ہے۔ حج یا عمرہ کی ادائیگی ہر مسلمان کی اوّلین خواہش ہوتی ہے اور ایک عام مسلمان کی نظر میں ان سعادتوں کے پالینے والوں کا بھی بہت بلند مقام و مرتبہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عازمین حج و عمرہ کی خدمت کو اپنے لیے سعادت تصور کرتے ہیں اور ان کی ہر ممکن خدمت سر انجام دینے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ پاکستان سے سالانہ 15لاکھ سے زائد افراد حج و عمرہ یا صرف عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت مختلف ملکی، بین الاقوامی اور سعودی حکومت کے قوانین سے تقریباً لاعلم ہوتی ہے کیونکہ پاکستانی حاجیوں میں ایک بڑی تعداد ناخواندہ افراد کی ہوتی ہے۔ عازمین حج کے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد کے لیے چند سال قبل تک مختلف ادارے فی سبیل اللہ خدمات سرانجام دیتے تھے ان میں شامل لوگوں کی اکثریت خود صاحب ثروت تھی یا پھر صاحب ثروت افراد ان کی معاونت کرتے تھے۔ چند سال قبل تک حجاج اور عازمین عمرہ کی خدمت کا کام صرف اللہ کی رضا کے لیے سر انجام دیا جاتا تھا مگر اب آہستہ آہستہ اس عظیم دینی خدمت کو لالچ اور کرپشن نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے حجاج یا عازمین عمرہ کے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھ گئے۔ ان اللہ کے مہمانوں کے ذریعے دولت کمانے کا شوق، لالچ اور کرپشن نے اس وقت جڑیں پکڑیں جب چند سال قبل حکومت نے حجاج اور عازمین عمرہ کی خدمت کرنے والے افراد پر فلاحی اداروں کی بجائے ”پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی “کے طور پر کام کرنے کی پابندی عائد کردی۔ حکومت کے اس اقدام سے جہاں خادمین کی ایک بڑی تعداد کے دلوں میں خدمت کا جذبہ کم ہوا وہیں کالی بھیڑوں نے بھی موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کردی۔ گزرتے وقت کے ساتھ جہاں حجاج اور معتمرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا وہیں پرائیوٹ حج و عمرہ گروپ آرگنائزر کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ چند سال قبل تک حج کوٹے کی تقسیم میں کسی حد تک ان گروپ کی خدمات کو مدنظر رکھا جاتا تھا مگر باالعموم گزشتہ 4 اور باالخصوص 2سالوں سے حج کوٹے کی تقسیم میں کارکردگی کی بجائے ذاتی پسند یا ناپسند کو مد نظر رکھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حج 2008ءاور 2009ءکی کوٹے کی تقسیم کا معاملہ عدالتوں تک جاپہنچا۔ دوسری جانب پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزر کے حوالے سے حجاج کی جانب سے شکایات بھی بڑھنے لگیں۔ حالانکہ وفاقی وزارت مذہبی امور کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ حجاج اور معتمرین کو مشکلات سے بچانے کے لیے آرگنائزر گروپوں کو سختی سے پابند کرتے ہیں مگر حالات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وزارت کے یہ دعوے صرف اور صرف دعوﺅں تک ہی محدود ہیں اور ان کی توجہ بھی اب حجاج یا معتمرین کے مسائل اور مشکلات پر نظررکھنے کی بجائے شاید وزارت کو” خود کفیل“ بنانے پر مرکوز ہے۔ 2009ءکی حج پالیسی سے تو یہ بات اور واضح ہوگئی ہے کیونکہ ایسالگتا ہے کہ پالیسی بناتے وقت حجاج کی فلاح و بہبود کی بجائے وزارت یا بعض افراد کی فلاح و بہبود کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔ حالانکہ امکان یہ تھا کہ ایک عالم دین کے وفاقی وزیر مذہبی امور ہونے کی وجہ سے شاید یہ پالیسی ماضی کے مقابلے میں زیادہ نیک نیتی اور دیانتداری پر مبنی ہو مگر ایسا نہیں ہوا جس سے محسوس ہوتا ہے کہ وزارت پر وزیر سے زیادہ دیگر عناصر حاوی ہیں۔ حج گروپ آرگنائزر کے احتجاج کے باوجود حکومت نے حج کوٹے کی تقسیم سمیت پالیسی میں شامل تمام معاملات کو ضروری قرار دیا جس کے بعد مختلف حج گروپ آرگنائزر عدالت میں گئے اور سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں نقد زر ضمانت کو بینک کے زر ضمانت میں تبدیل کرکے حج آرگنائزر کے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کیا۔ حکومت کے دعوے کے مطابق زر ضمانت جمع کرنے کا بنیادی مقصد حجاج کو سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا اور ان کی مشکلات کو دور کرنا ہے۔ جو پرائیویٹ حج آرگنائزر حجاج سے کیے ہوئے وعدوں کو پورا نہیں کرپاتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کے لیے زر ضمانت کو استعمال کیا جاتا ہے اور آیندہ ان کے کوٹے کے حوالے سے فیصلہ بھی نئے سرے سے کیا جاتا ہے۔ مگر حالیہ چند سالوں کا تجربہ انتہائی تلخ رہا ہے۔ جن کے خلاف شکایات تھیں ان کے کوٹوں میں اضافہ ہوا اور جن کی خدمات کو حجاج اور سعودی وزارت حج نے سراہا ان کے کوٹوں میں کمی کی گئی۔ وزارت کی دیکھا دیکھی پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزروں کی ایک بڑی تعداد نے حجاج کی خدمت کو عبادت کی بجائے کاروبار کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا ہے اور بعض حاجیوں کے مطالبات اور خواہش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید وہ حج کرنے نہیں بلکہ تفریح کے لیے حجاز مقدس کا سفر کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے حج پالیسی 2009ءمیں سرکاری اسکیم کے تحت حج کرنے والے حجاج کے لیے کراچی اور کوئٹہ سے ایک لاکھ 85ہزار روپے کے پیکیجز جبکہ ملک کے دیگر شہروں کے لیے 2لاکھ روپے کا پیکیج مقرر کردیا جبکہ پرائیویٹ حج آرگنائزر کو حجاج کے مناسب اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیکج تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ڈپٹی ڈائریکٹر حج کراچی عبدالستار کے مطابق 3لاکھ 25ہزار روپے سے زائد کے پیکیجز کے لئے وفاقی وزارت مذہبی امور سے اجازت لینا ضروری ہے ۔جب ہم پرائیویٹ حج آرگنائزر کے پیکجز کا بغور جائزہ لیتے ہیںتو حیران ہوتے ہیں یہ پیکجز ایک لاکھ 70ہزار سے شروع ہوکر 16لاکھ روپے کی حد کو بھی کراس کرجاتے ہیں اکثر پیکجز 2لاکھ 40ہزار سے 4لاکھ کے درمیان ہےں جن میں ایک عام حاجی کے لیے مناسب اور ضروری سہولیات و ضروریات کا وعدہ کیاگیاہے مگر بڑے بڑے پیکجز میں درج سہولیات کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پیکجز حج جیسی عبادت کے لیے نہیں بلکہ تفریح کے لیے ہیں۔ کسی نے ان پیکجز کے نام کراﺅن، کسی نے ایگزیکٹو، کسی نے 5اسٹار، کسی نے 4 اسٹار، کسی نے 3اسٹار، کسی نے منٰی اور عرفات میں ”صوفہ کم بیڈ“ اور اسی طرح مختلف نام دیے گئے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ رقم کی وصولی بھی پاکستانی روپے کی بجائے ڈالروں میں کی جاتی ہے۔ ہمارے مطالعے کے مطابق کراچی میں اب تک سب سے بڑا پیکیج مکسم گروپ کے ”یونیورسل برادرز“کی جانب سے سامنے آیا ہے جو 18 ہزار 975 ڈالر(تقریباً16لاکھ روپے )کاہے۔ اس گروپ کے دیگر پیکجز بھی اسی طرح کے ہیں۔ سب سے کم پیکج القصویٰ ٹریول اینڈ ٹور پرائیویٹ لمیٹڈ کا ہے جو ایک لاکھ 70ہزار روپے کا ہے۔ بڑے پیکجز دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حج جیسی عبادت کا نہیں بلکہ تفریح کا انتظام ہورہا ہے مگر جب چھوٹے پیکج دیکھتے ہیں تو پھر یہ خیال آتا ہے کہ آخر اتنی کم رقم میں یہ گروپ حجاج کو ضروری سہولیات کی فراہمی کیسے ممکن بنائیں گے۔ اس ضمن میں ہم نے مختلف پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزرز سے رابطہ کیا۔ القصویٰ ٹریول اینڈ ٹور پرائیویٹ لمیٹڈ کے عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ سب سے کم پیکج رکھنے کا مقصد شاہی اخراجات کی بجائے کم سے کم اخراجات میں حاجیوں کو تمام مناسب حج سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام مناسب ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا پیکج تیار کیا ہے ہمارا مقصد کمانا نہیں بلکہ حجاج کی خدمت کرنا ہے۔جبکہ بڑے پیکیجز کے حوالے سے ہم نے جب ”یونیورسل برادرز“ سے رابطہ کیا تو آصف اور فرقان کیجانب سے جوابی فون کے ذریعے آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم جوابی رابطہ نہ ہوا۔دوسری جانب پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزرز کی ایک بڑی تعداد سوا دو لاکھ سے کم پیکجز کو بد نیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوا دو لاکھ سے کم کے پیکج میں حجاج کے لیے مناسب سہولیات اورحرم کے قریب رہائش کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔ جبکہ 4لاکھ سے زائد پیکجز اور ان میں متعارف کرائی گئی جدید سہولیات کے دعوﺅں نے حج کو عبادت کی بجائے تفریح کا ذریعہ بنانے کی ترغیب دی ہے۔ ایک پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزر کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگر نگرانی نہیں کی تو اس طرح کے پیکجز سے مسائل پیدا ہونگے۔ وفاقی وزارت مذہبی امور کے خورشید انور شاہ اور آفتاب الاسلام راجہ سے رابطہ کرکے اصل صورت حال معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان دفاتر میں موجود اہلکاروں نے میڈیا کو آگاہ کر نے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی اور مذکورہ افسران سے رابطہ بھی نہیں کرایا۔وزارت کے ذرائع کے مطابق اب تک وزارت کے پاس سب سے بڑا پیکج تقریباً7لاکھ روپے کا منظوری کے لئے آیا ہے۔

دوسری جانب بعض پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزر نے وزارت مذہبی امور کے احکام کو کلی یا جزوی طور پر نظر انداز کیا ہے۔ اخبارات اور بروشرز کے ذریعے حج گروپ آرگنائزرز اپنے بڑے بڑے پیکجز کی تشہیر کررہے ہیں مگر وزارت مذہبی امور صرف یہ کہنے پر اکتفا کررہی ہے کہ سب سے زائد پیکج کا ہمیں علم نہیں ہے نہ کسی نے اس کی منظوری حاصل کی ہے۔ شاید وزارت کی ساری توجہ وزارت کو” خود کفیل“ بنانے پر لگی ہوئی ہے۔ پرائیویٹ حج آرگنائزرز سے حج فارموں کے اجراءسے قبل سوات کے متاثرین کے لیے 10،10 ہزار جمع کرانے کی غیر اعلانیہ پابندی بھی اسی ”خودکفالت“ کی ایک بڑی وجہ ہو دلچسپ بات یہ ہے کہ پرائیویٹ حج آرگنائزر سے وزارت نے 10،10ہزار روپے وزیراعظم کے فنڈ برائے متاثرین سوات کے لیے وصول کیے۔ پاکستان رجسٹرڈ حج آرگنائزر کی تعداد 588 ہے۔ اس حساب سے 58لاکھ روپے جمع ہوئے مگر وفاقی وزیر مذہبی امور علامہ حامد سعید کاظمی اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور شگفتہ جمانی نے 35لاکھ روپے جمع کرائے اور اس موقع پر حج کے آرگنائزرز کے کسی نمایندے کو مدعو کرنا بھی پسند نہیں کیا اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وزیراعظم کو فنڈ کے حصول کا کیا ذریعہ بتایا گیا ہو۔ اس تمام صورت حال میں 5،10،15یا 20 لاکھ روپے میں حج کرنے والوں کو یہ غور کرنا چاہیے کہ ہمارا تعلق اس ملک سے ہے جس کے 6کروڑ سے زائد لوگوں کو 2وقت کی سادہ روٹی نصیب نہیں اس ملک کے صاحب ثروت لوگوں کی اتنے بڑے پیکجز کا استعما ل زیب دیتا ہے یا نہیں حالانکہ ان کا حج 3سے 4 لاکھ میں بھی مناسب سہولیات کے ساتھ ادا ہوسکتا ہے۔ حاجیوں کی خدمت کرنے والے حج آرگنائزرز کو بھی چاہیے کہ وہ عبادت کو لالچ اور مال کمانے کا ذریعہ نہ بنائےں بلکہ اس کو خدمت تک ہی رہنے دیں جہاں تک پاکستان کے مجموعی حالات کا تعلق ہے یہاں تو سیاست ہو یا خدمت، حکومت سازی ہو یا قانون سازی ہر معاملے کو لالچ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں مذہبی ایام میں اشیاءضرورت کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق رمضان کی آمد کے موقع پر دنیا کے مختلف اسلامی ممالک میں اشیاءضرورت کی قیمتوں میں 20 سے 60 فیصد کمی کی گئی جبکہ پاکستان میں 10سے 100فیصد تک اضافہ کیا گیا اور یہ اضافہ جاری ہے، لگتا ہے کہ حج ہو یا رمضان ہم نے اس کو آخرت کی بجائے دنیا کمانے کا ذریعہ بنادیا ہے۔ دیکھئے، ہمارا انجام کیا ہوگا؟۔

(عبدالجبار ناصر)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 89
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فرض, کوئٹہ, کورٹ, کراچی, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیر, وزیراعظم, نظر, ممکن, متعارف, مسائل, معلوم, اللہ, احتجاج, اسکیم, اسلام, اسلامی, حل, خلاف, رمضان, سیاست, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger