واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ہماری خارجہ پالیسی...اپروچز،حقیقت اور سراب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-10-11, 12:20 AM   #1
ہماری خارجہ پالیسی...اپروچز،حقیقت اور سراب
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 11-10-11, 12:20 AM

((فیاض انور صاحب ہماری پاک سٹدیز کے بڑے قابل استاد تھے، یہ عقدہ انہوں نے ایک دن کلاس میں واضح کیا تھا جو میں موجودہ حالات کے تناظر میں اب آپ پر کھولنے کی کوشش کروں گا((

ایک ایمانی اپرووچ ہوتی ہے اور ایک مادی سوچ، جس کی ترجمانی بین الاقوامی تعلقات میں مروجہ سفاری پیمانے کرتے ہیں کہ مفادات کے تابع پالیسی........... اور ظاہر ہے کہ ایمانی اپرووچ میں بندہ بھی اور ملکی پالیسی بھی ، سبھی ایمان کے پیمانوں کے تابع ہوتے ہیں، جیسا کہ قران میں واضح کیا گیا ہے کہ کون دوست ہے کون دشمن وغیرہ وغیرہ.یہ پالیسی شاید مزید وضاحت کی محتاج نہیں ہے.

جہاں تک آج کی دنیا کے سفارتی ((درحقیقت منافقانہ(( پیمانوں کی بات ہے تو وہ ہر معاملے میں موم کی ناک ٹائپ موقف تجویز کرتے ہیں جس سے اگے چل کر کسی بھی طرف جھکنا پڑے تو کم از کم شرم محسوس نہ ہو !!! اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عالمی تعلقات میں کوئی مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتا بلکہ مفادات کے ساتھ یہ سب بدلتا رہتا ہے !!!

ان دونوں کی بنیادوں پر نظر کرنے سے ہی یہ واضح بلکہ اوضح ہو جاتا ہے کہ ان اصولوں پر جو پالیسیاں بنیں گی ان میں واضح تضاد رہے گا.

بعض مقامات ایسے آئیں گے جہاں بظاہر دونوں طرح کی پالیسیز ایک ساتھ چلتی نظر ائیں گی، لیکن ان کی نہاد کی خبر رکھنے والا اور ان کی سرشت سے واقف آدمی کسی خوش فہمی کا شکارنہیں ہو گا اور یہی نتیجہ نکالے گا کہ زود یا بدیر یہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں بحال ہو جائیں گی !!!

ایمانی اور "مادی سفارتی" اپرووچ باری باری ملاحظہ کرتے ہیں، جس کے دوران ان کا تضاد خود بخود واضح ہوتا جائے گا::

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ


""اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا""
المائدہ::51


صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کو اسلام مسلمانوں اور ان دونوں کے کل لیے اپنا آج قربان کرنے والے سرفروشوں کے ساتھ کھرے ہونا چاہیے........ اسلامی نقطہ نطر سے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں. اس سلسلے میں میں مزید وضاحت اس لیے ضروری خیال نہیں کرتا کیوں کہ یہ متفقہ بات ہے، اگر کسی صاحب یا صاحبہ کو اس پر بھی اعتراض ہوگا تو ان شاء اللہ قران و سنت سے لاتعداد دلائل اس پر موجود اور معروف ہیں جو پیش کیے جائیں گے. وباللہ التوفیق.

سفارتی مادی اپروچ ہمیں اپنا مفاد دیکھنے کو کہتی ہے، اگر اپنا مفاد افغانستان کے ساتھ نظر ائے تو ہم اس کے ساتھ مل کر روس کو تھکانے لگاتے ہیں، اور یہی مفاد جب تبدیل ہوتا ہے تو ہم اپنے مفاد کے لیے (جسے ہم "قومی مفاد" کی اصطلاح کے نام سے یاد کرتے ہیں( افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں !!!

جب روس افغانستان میں تشریف لایا تو ہمیں اپنی بقا کی فکر لاحق ہوئی،ہم نے عافیت اسی میں دیکھی کہ جنگ کی جائے اور جس حد تک ممکن ہو سکتا ہے کروائی جائے !!!اس پر طرہ یہ کہ عالمی سطح پر امریکہ کو اس بات کی ضرورت پڑ گئئ اور آج ہر کوئی یہ کہتے نہیں تھکتا کہ درحقیقت اس نے دوسرے تمام فریقوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور اپنا مطلب نکال کرایک طرف ہو رہا !!!

اسی دوران یہ دیکھا گیا کہ مسلمانوں کا نظریہ جہاد اس جنگ کو اوج کمال تک پہنچا سکتا ہے سو اس کی بے دریغ ترویج کی گئی اور اور اور.....

پالیسی کا یہ فیز کم و بیش مشرف حکومت کے پہلے ایک سال تک جاری رہا، پھر پہلے انڈیا کے ساتھ مفادات کے نام پر نرم رویہ اپنانے کی مہم چلی اور معا بعد نائن الیون نے یوٹرن سے ہمارا رخ واپس موڑ دیا.... پھر جو جو ہوا ، میں اسے دہرانے میں اپنی انگلیاں نہیں تھکانا چاہتا، مقصود یہ سمجھانا ہے کہ آج اگر پاکستان کے ادارے کسی تناظر میں دوباررہ پرو طالبان ستانس لیتے نظر بھی آتے ہیں((جبکہ یہ مفروضہ بھی قائم کرنا احمقوں کی جنت کا باسی ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہے(( تو اس کی بنیاد قطعا بھی کسی مذہب، اسلام، لا الہ الا اللہ یا اخوت اسلامی کی زنجیر نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف یہ وجہ ہے کہ علاقے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور وہی جو معتوب اور مغضوب رہے ہیں ، دوبارہ تخت افغانستان پر بیٹھنے اور پاکستان پر گہرا اثر و رسوخ رکھنے کی طرف تیزی سے بڑھتے نظر آرہے ہیں جس کو اب شاید اندھا بھی نہیں جھٹلا سکتا !!!

چنانچہ اب کے مفادات کا تقا ضا یہ ہے کہ ......... !!!

جنرل ضیاء کے دور میں جو فیز ایا اس میں بھی ساہ لوحوں کو یہی ٹھوکر لگی کہ یہ پالیسی تو عین اسلام ہے اور میرے جیسے بہت سے لوگ صرف اسی بات میں اس کی حمایت کرتے بھی نظر اتے تھے اور ہیں، لیکن یہ نہ دیکھتے کہ یہ مادی سفارت اور اسلامی پالیسی میں نظر انے والا وہ وقتی رومانس ہے جو سناریو کے تبدیل ہوتے ہیں جھاگ کی طرح اڑ جائے گا، خوش فہمیوں کی جنتیں تعمیرہ ہوئیں اور اس میں رہنے والوں کو ایک لمبا عرصہ بھی خوش قسمتی سے مہیا ہواکہ وہ نوے کی پوری دھائی اس میں بسر کر سکیں !!!

اب پھر اسلامی سوچ رکھنے والے بہت سے حلقے اسی خوش فہمی کا شکار ہونے کو ہیں..... جب کہ خوش فہم ہونے کے لوازمات بھی ابھی پورے نہیں ہوئے جیسا کہ اسی کی دھائی میں سراب کافی حد تک حقیقت سے قریب تر تھا !!!

ان آخری پیرا گرافوں میں شاید اپ کچھ الجھے ہوں ،دراصل یہ تحریر کافی سے زیادہ طویل ہو چکی ہے.اس لیے آخر میں کچھ اشارات دیے ہیں، ائندہ کی تفصیل سے یہ اجمال حتی الامکان نکھارنے کی کوشش کروں گا .

ان شاء اللہ اگلی فرصت میں نظری اور فکری بحث سے ہٹ کر زمینی حقائق سے یہ واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ بہت سے اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے ان دونوں کو بیلنس کرنے کے چکر میں تصویر کا جو رخ ریکھ رہے ہیں وہ صرف ایک سراب ہے، حقیقت میں ایبٹ آباد اور ریمنڈ ڈیوس کے بعد بھی نہ تو کوئی پالیسی شفٹ آیا ہے اور نہ ہی حکومت یا خفیہ اداروں نے "اسلام کی سربلندی" اور "نشاۃ ثانیہ" کے لیے ""اندر کھاتے""سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا ہوا ہے جیسا کہ اکثر زید حامد ، حافظ سعید ((جماعۃ الدعوۃ(( وغیرہ نے باور کروانا شروع کیا ہوا ہے.... ہم کل بھی مفاد کے پجاری تھے اج بھی ہیں کل بھی رہیں گے !!!
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 296
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (11-10-11), محمد یاسرعلی (16-10-11), محمدعدنان (11-10-11), احمد نذیر (11-10-11), حیدر (16-10-11), راجہ اکرام (11-10-11), رضی (11-10-11), سحر (11-10-11), شمشاد احمد (11-10-11)
پرانا 11-10-11, 11:06 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ہم کل بھی مفاد کے پجاری تھے اج بھی ہیں کل بھی رہیں گے !!!
اس میں کوئی دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ واقعتا ہمارا یہی حال ہے ۔۔
دین اور اسلام کا بھرم تو بہت دور کی بات ہے یہاں تو جذبہ حب الوطنی بھی یکسر مفقود نظر آتا ہے۔

آپ کی جانب سے اگلی قسط کا انتظار ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-10-11), احمد نذیر (11-10-11), حیدر (16-10-11), عبداللہ آدم (14-10-11)
پرانا 11-10-11, 12:25 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبداللہ بھائی
آپ نے بات ایمانی اپروچ اور مادی اپروچ کی ۔
ایمانی اپروچ کی فی الحال بات نہیں کرتے کیونکہ سب کو علم ہے کہ ایمانی سوچ کے ساتھ خارجہ پالیسی پاکستان کی کیا ہوتی ۔ ایمانی سوچ ایمان والوں کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
اب اتے ہیں مادی سوچ پر ۔
پاکستان اگر اسلامی ملک نا بھی ہوتا یا کوئی بھی غیر مسلم ملک اپنا دفاع کرتا ہے ۔ یا پالیسیز بناتے وقت اپنا فائدہ دیکھتا ہے ۔ وہ بھی پالیسیز بناتے وقت دنیاوی سپر پاور کی دھمکیوں کو نہیں دیکھتا ہے ۔
جیسے ترکی ہے سیکولر ملک ہے امریکہ کا اتحادی ہے لیکن اسرائیل کے خلاف کسی بھی معاملے میں امریکہ کے دباو میں نہیں اتا ہے ۔
اب آتے ہیں آج سے دس سال پہلے کا پرویز مشرف کا فیصلہ امریکہ کی حمایت کا ۔ اس سے مادی طور پر بھی پاکستان کو کوئی فائدہ نا تھا ۔ یہ فیصلہ سراسر امریکہ کے خوف کی بنا پر کیا گیا تھا ۔
امریکہ جیسی دنیاوی سپر پاور کو اپنے پڑوس میں لاکر بٹھانا سراسر بے وقوفی ہی ہے اسلام کو رہنے دیں افغانی مسلمانوں کو رہنے دیں اگر کوئی پاکستان سے بھی سنسئر ہوتا تو وہ ایسا فیصلہ نا
دور اندیش لوگوں کو آج سے دس سال پہلے ہی اس بات کا علم تھا کہ امریکہ پاکستان کو ٹف ٹائم دے گا ۔
وسڈم یہی تھی کہ امریکہ کو اس کی اپنی جگہ پر روکا جاتا اور اس سے بات کی جاتی کہ طالبان سے بات ہم کریں گے اور پاکستان کو بچانے کا طریقہ یہی تھا کہ امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے نہیں دیا جاتا ۔
یہ سب باتیں میں اسلام اور ایمان کو ایک طرف رکھ کر ہی کررہی ہوں ۔
اور جہاں تک اب افغان طالبان کا ساتھ دینے کی بات ہے اس کا اعتراف خود پرویز مشرف نے کیا کہ میرے بعد ساتھ دیا جارہا ہے ۔ میں نے ساتھ نہیں دیا ۔
مادی طور پر بھی طالبان کا ساتھ دینا پاکستان کی مجبوری ہے ۔ اور اچھی خارجہ پالیسی یہی ہے کہ طالبان کا ساتھ دیا جائے ۔ کیونکہ امریکہ پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

اب آتے ہیں کہ مسلمانوں کی سوچ اس وقت کیا ہونی چاہیے ۔
اللہ مسلمانوں کے لیے ان مادہ پرست لوگوں کی منصوبہ بندیوں میں سے راستہ نکالتا ہے ۔
اس کی مثال سورۃ الروم ہے ۔
اللہ نے رومیوں کے غالب ہونے کی خوشخبری مسلمانون کو دی اس وقت جب رومی مغلوب ہوگئے تھے ۔
اور اس کے نتیجے میں میں کہا گیا کہ اہل ایمان خوش ہونگے ۔
روم اور ایران کی جنگ میں مسلمانون کا کیا کردار تھا جو مسلمان خوش ہوتے ۔
یا اس کا مقصد صرف یہ تھا کیا کہ مسلمانون کو عیسائیوں سے ہمدردی تھی اس لیے خوش ہوتے نہیں بلکہ دو طاقتوں کی جنگ سے دونوں کمزور ہوگئے تھے اور ان دونوں سے مقابلہ کرنا مسلمانوں کے لیے اسان تھا ۔
اگر اس وقت مسلمان اس حکمت کو سمجھنے اور کوشش کرنے کے بجائے یہ سوچتے کہ روم اورایران کی جنگوں سے ہمارا کیا تعلق ہم اپنی نمازیں دیکھیں ۔ یہ دونوں طاقتیں مادہ پرست ہیں اور اپنی مفاد کی جنگیں لڑ رہی ہین ۔ ہمیں خوش ہونی کی کیا ضرورت ہے ۔
اور اللہ کی یہ پیشن گوئی روم کے غالب ہونے کی، تقریباً دس سال بعد پوری ہوئی ۔ لیکن مسلمانوں نے اس سورۃ کے نزول کے وقت اللہ کی پیشن گوئی پر ایک دوسرے کو مبارک باد دی ۔
اور اپنی جنگی منصوبہ بندی اللہ کی پیشن گوئی کو پیش نظر رکھ کر ترتیب کی ۔
لیکن ہمارے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیاں موجود ہونے کے باوجود ہم نا ان پر یقین کرتے ہیں اور نا ان کے مطابق اپنی زندگی کی پلینگس کرتے ہیں ۔
بلکہ جو یقین کرتا ہے اس کو احمقوں کی جنت میں رینے والا کہتے ہیں ۔
یاد رہے اس وقت کے مسلمانوں کو بھی مدینے کے کافروں اور منافقوں نے ایسا ہی کچھ کہا تھا ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 11-10-11 at 12:50 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-10-11), احمد نذیر (11-10-11), حیدر (16-10-11), راجہ اکرام (11-10-11), عبداللہ آدم (14-10-11)
پرانا 14-10-11, 04:15 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
عبداللہ بھائی
آپ نے بات ایمانی اپروچ اور مادی اپروچ کی ۔
ایمانی اپروچ کی فی الحال بات نہیں کرتے کیونکہ سب کو علم ہے کہ ایمانی سوچ کے ساتھ خارجہ پالیسی پاکستان کی کیا ہوتی ۔ ایمانی سوچ ایمان والوں کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
اب اتے ہیں مادی سوچ پر ۔
پاکستان اگر اسلامی ملک نا بھی ہوتا یا کوئی بھی غیر مسلم ملک اپنا دفاع کرتا ہے ۔ یا پالیسیز بناتے وقت اپنا فائدہ دیکھتا ہے ۔ وہ بھی پالیسیز بناتے وقت دنیاوی سپر پاور کی دھمکیوں کو نہیں دیکھتا ہے ۔
جیسے ترکی ہے سیکولر ملک ہے امریکہ کا اتحادی ہے لیکن اسرائیل کے خلاف کسی بھی معاملے میں امریکہ کے دباو میں نہیں اتا ہے ۔
السلام علیکم::

یہاں میں اپ سے متفق ہوں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اب آتے ہیں آج سے دس سال پہلے کا پرویز مشرف کا فیصلہ امریکہ کی حمایت کا ۔ اس سے مادی طور پر بھی پاکستان کو کوئی فائدہ نا تھا ۔ یہ فیصلہ سراسر امریکہ کے خوف کی بنا پر کیا گیا تھا ۔
امریکہ جیسی دنیاوی سپر پاور کو اپنے پڑوس میں لاکر بٹھانا سراسر بے وقوفی ہی ہے اسلام کو رہنے دیں افغانی مسلمانوں کو رہنے دیں اگر کوئی پاکستان سے بھی سنسئر ہوتا تو وہ ایسا فیصلہ نا
دور اندیش لوگوں کو آج سے دس سال پہلے ہی اس بات کا علم تھا کہ امریکہ پاکستان کو ٹف ٹائم دے گا ۔
یہاں یہ سوچ رہا ہوں کہ ایک اپرووچ ان دونوں سے علیحدہ ہوتی ہے اور وہ ہے غلامی کی اپروچ، جس میں صرف آقا کا مفاد دیکھا جاتا ہے اپنا نہیں!!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-10-11), حیدر (16-10-11), سحر (14-10-11)
پرانا 14-10-11, 05:05 PM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اور جہاں تک اب افغان طالبان کا ساتھ دینے کی بات ہے اس کا اعتراف خود پرویز مشرف نے کیا کہ میرے بعد ساتھ دیا جارہا ہے ۔ میں نے ساتھ نہیں دیا ۔
حکومت پاکستان اور اس کی ساری مشینری جہاد افغانستان کے خلاف جس طرح استعمال ہو سکتی ہے وہ کر رہے ہیں، یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ پتھر کے دور میں جانے کا خوف اب بھی کہیں کہیں زبانوں پر آہی جاتا ہے، یہ خوف دلوں میں بھی ہے اور پالیسیز کا تسلسل بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے. اگر اس بارے میں بھی اپ کو کوئی اشکال ہے تو مطلع فرمائیں، مزید تشفی کی کوشش کی جائے گی، ان شاء اللہ.

اب باقی رہ جاتی ہیں اندرون خانہ امداد اور درپردہ ساتھ دینا وغیرہ تو اس کے لیے بھی شواہد کی ضرورت ہوتی ہے.......قرائن و شواہد تو 2001 کے بعد سے اب تک پاکستان کی ہر طرح سے امریکہ کا ساتھ دینا اور طالبان کو دھشت پسند ڈکلیر کر کے ان کے خلاف پر طرح سے سرگرم ہونا ہی دکھاتے ہیں.

2008 میں اتنی تبدیلی آئی کہ فرد واحد کی بجائے اب اسمبلی نے انہی اقدامات کو تحفظ فراہم کرنا شروع کر دیا جو پہلے سے جاری تھے.

ٹینکروں پر حملے یا ایسی کاروائیاں پاکستانی حدود میں ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کا علم پاکستانی آرمی یا اداروں کو تھا اور وہ یہ خود کرواتے ہیں ..... اس منطق سے تو جی ایچ کیو اور پی این ایس مہران کے حملے اور دوسری کاروائیوں میں بھی پاکستانی فوج ہی رضامند اور باعلم ٹھہرے گی.

دوسری طرف امریکی مدد کے واضح نشانات اج بھی پاکستانی حدود سے روزانہ سینکروں کنتینرز، آئے روز مجاھدین کی گرفتاریاں، قبائل میں موجود 80000 سے زیادہ فوج، امریکہ کے قبضے میں موجود ہوائی اڈے وغیرہ وغیرہ.

ایبٹ آباد اور ریمنڈ ڈیوس کے بعد پاکستانی اداروں نے اپنی ساکھ دوبارہ بحال کرنے کے لیے اور دوسری طرف ریٹ پڑھانے کے لیے امریکیوں کے سامنے کچھ "نخرے" ضرور کیے ہیں لیکن نخرہ اور علیحدگی میں فرق بتانے کی ضرورت شاید نہیں ہے.

اب ذرا ایک اور اینگل سے جائزہ لے لیتے ہیں::

اور یہ ہے جس فریق سے موانست اور محبت کے دعوے ہم کر رہے ہیں اس کا ہمارے بارے میں کیا رویہ ہے اور کیا باڈی لینگوئج ہے. یعنی افغان مزاحمتی گروہ.

سب سے پہلے طالبان کا نام اتا ہے ، ان کے ایک سے زیادہ سرکردہ افراد پاکستان سے بے زاری کا اظہار اور اعلان کر چکے ہیں جن میں سے ملا ضعیف کے بیانات تو کافی معروف ہیں اور ان کے علاوہ طالبان کے سرکاری ترجمان یوسف احمدی ، ملا عبداللہ اور دوسرے رہنما شامل ہیں. اور یہ بات میں تاکیدا کہتا ہوں کہ اس سارے دس سالہ عرصے میں ایک بھی بیان کسی طالبان کمانڈر سے منسوب موجود نہیں ہے کہ اس نے پاکستان کے بارے میں دو حرف ہی سہی، اچھے بولے ہوں !!!

اب دوسرے نمبر پر حزب اسلامی ہے جو گلبدین حکمتیار کی سربراہی میں لڑ رہی ہے. حکمتیار کا یہ بیاں اسی ہفتے ایا ہے ، سبھی اخبارات نے شائع کیا ہے::

کابل(ثناء نیوز ) حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ پاکستان تعاون اور مدد نہ کرتا تو آج امریکہ افغانستان میں نہ ہوتا اگر امریکہ افغانستان سے باعزت طورپر نکلنا چاہتا ہے تو اس کی مدد کر سکتے ہیں حزب اسلامی کے سربراہ نے یہ بات افغانستان پر امریکی حملے کے 10 سال پورے ہونے پر اپنے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موجودہ صورت حال میں دھکیلنے والا امریکہ ہے آج پاکستان پر امریکی مخالفین کی مدد کا الزام لگایا جا رہا ہے شمالی وزیرستان میں آپریشن نہ کرنے پر پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری جنگ سے امریکہ کوکوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ اگر امریکہ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے تو افغان عوام کے بھی حوصلے بلند ہیں گلبدین حکمت یارنے کہا کہ اس جنگ کا فائدہ صرف روس اور ایران کو ہو گا حکمت یار نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر سوات ، باجوڑ ، مہمند اور خیبر ایجنسی میں کارروائیاں کیں۔

یہ دلیل بھی میں ایک سے زیادہ دفعہ گوش گزار کر چکا ہوں کہ جس حقانی گروپ کو آج آئی ایس آئی کا دوسرا نام قرار دیا جا رہا ہے یہ وہی گروپ ہے جس نے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی سے لیکر القائدہ تک، سب کو پناہ دے رکھی ہے اور اب بھی پاکستان میں ہونے والی تمام کاروائیوں کا لاجستک سپورٹر ہے..... اس صورت میں ایجنسیز کا اس کے ساتھ یا اس کا ایجنسیز کے ساتھ بانڈ ہونا ایک مفروضے کے سوا کچھ اور نہیں !!!

مشرف نے یہ بیانات کچھ عرصے پہلے انتقاما دیے تھے اسی کے ساتھ اس نے کشمیر کے بارے میں بھی باتیں کی تھیں اور ان سب کا مقصد امریکہ کو کسی طرح حکومت موجودہ کے بارے میں بھڑکانا تھا.

اور آخر میں پھر وہی بات کہ بالفرض ایسا واقعتا ہے تو اس سے ہمارے دین سے محبت رکھنے والے لوگوں کو نہ تو دھوکہ کھانا چاہیے اور نہ ہی اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی سمت اہم قدم خیال کرنا چاہیے، یہ وہی سراب ہے جس کا ہم افغانستان اور حتٰی کہ کشمیر پالیسی کے باب میں بھی مشاہدہ کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں کہ جب مفاد ہو اور پالیسی ہو تو جہاد کشمیر جہاد ہے اور اس میں خون دینے والے حریت پسند اور مجاھدین، جب مفاد بدل جائے تو در اندازی اور دھشت گردی کے الزامات اور اس تحریک کا گلا گھونٹنے کا ہر ممکن اقدام اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اشرافیہ نے کیا اور عوام نے نظارہ کیا اور اب بھی کر رہے ہیں.

عسکری اور سیاسی اشرافیہ نے اس ملک کے عوام کی جذباتی حالت کا بخوبی مطالعہ کر رکھا ہے وہ اب بھی جو مرضی کرتے رہیں اور بعد میں بھی کریں، بس اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کی دیر ہے،عوام سپہ سالار کو صلاح الدین ایوبی اور وزیر اعظم یا صدر کو امیر المومنین بنانے میں دیر نہیں کریں گے!!!

Last edited by عبداللہ آدم; 14-10-11 at 05:16 PM.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-10-11), حیدر (16-10-11), سحر (14-10-11)
پرانا 16-10-11, 12:02 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
ور آخر میں پھر وہی بات کہ بالفرض ایسا واقعتا ہے تو اس سے ہمارے دین سے محبت رکھنے والے لوگوں کو نہ تو دھوکہ کھانا چاہیے اور نہ ہی اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی سمت اہم قدم خیال کرنا چاہیے، یہ وہی سراب ہے جس کا ہم افغانستان اور حتٰی کہ کشمیر پالیسی کے باب میں بھی مشاہدہ کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں کہ جب مفاد ہو اور پالیسی ہو تو جہاد کشمیر جہاد ہے اور اس میں خون دینے والے حریت پسند اور مجاھدین، جب مفاد بدل جائے تو در اندازی اور دھشت گردی کے الزامات اور اس تحریک کا گلا گھونٹنے کا ہر ممکن اقدام اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اشرافیہ نے کیا اور عوام نے نظارہ کیا اور اب بھی کر رہے ہیں.

عسکری اور سیاسی اشرافیہ نے اس ملک کے عوام کی جذباتی حالت کا بخوبی مطالعہ کر رکھا ہے وہ اب بھی جو مرضی کرتے رہیں اور بعد میں بھی کریں، بس اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کی دیر ہے،عوام سپہ سالار کو صلاح الدین ایوبی اور وزیر اعظم یا صدر کو امیر المومنین بنانے میں دیر نہیں کریں گے!!!
عبداللہ بھائی میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں ۔
لیکن یہاں میرا ایک سوال ہے ۔
ٹھیک ہم مانتے ہیں کہ پاکستان کی اشرافیئہ عوام کے جذبات کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔
لیکن آپ کی بات سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے جذبات میں کفار کے خلاف جہاد کرنا شامل ہے اور اگر پاکستانی قوم کو مخلص لیڈر مل جائے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے پہلو تہی نہیں کرے گی ۔
میرا سوال یہ ہے کیا آپ افغان طالبان کو صحیح مجاہد سمجھتے ہیں ۔
اور اگر پاکستانی قوم کو افغان طالبان کی قیادت نصیب ہوجائے تو پہر پاکستانی قوم کا رد عمل کیا ہوگا اور آپ کے خیال میں یہ ٹھیک ہوگا کہ نہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-10-11), حیدر (16-10-11), عبداللہ آدم (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 12:33 AM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ نے سوال ہی ایسا عجیب کر دیا ہے کہ بندہ اب کیا جواب دے. شاید اس کا جواب تو میری طرف سے کلمہ حق اور اجل کنول وغیرہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا ہو گا !!!

تو سنئیے::

میں افغان طالبان کو اس روئے زمین پر موجود افضل ترین جماعتوں میں شمار کرتا ہوں اور ان کے جہاد کے فی سبیل اللہ ہونے میں کیا شک وہ سکتا ہے. یہ لوگ لسان رسالت ماب صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کے مصداق اور صحیح معنوں میں طائفہ منصورہ اور" ما انا علیہ و اصحابی" میں آتے ہیں، اور بالخصوصجن راہوں پر یہ ثابت قدم ہیں، یعنی جہاد کے میدانوں میں تو اس چھلنی سے تو بڑے بڑے نام "پھوک" کی طرح سائیڈ پر ہو جاتے ہیں!!!

عوام پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ ""یہ اسلام سے بلا کی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں"" لیکن.............((اور یہ لیکن بہت بڑا لیکن ہے(( لیکن ان کی غالب اکثریت اسلام سے یکسر نابلد اور جنہیں کچھ "علم" ہے ان میں سے بھی اکثر کا حال جو ہے وہ عبدالہادی احمد صاحب نے یہاں بیان فرما دیا ہے!!!


طالبان کی قیادت میسر انے پر ہماری قوم کا بڑا طبقہ ان کا موید ہو گا، اور یہ اکثریت دو تہائی سے کہیں زیادہ میں تبدیل ہوسکتی ہے جب پاکستانی قوم ایک دفعہ طالبان کا سنہری دور دوبارہ دیکھ لے کیوں کہ اس طرح بہت سوں کا ایمان بالغیب ایمان بالشہادۃ میں بدل جائے گا، اور وہ اسی نظام کو یہاں بھی قائم کرنے کے لیے تن من دھن سے تیار ہو جائیں گے..........اور دہشت گردی و نام نہاد "دھشت گردی کے خلاف جنگ" کے نام پر جو فساد گزشتہ 10سال سےچہار سو پھیلایا گیا ہے ، اس سارے کا غبار خراسان میں اسلامی حکومت کے دو سے تین سال دھو دیں گے. ان شاء اللہ.

باقی اس سوال کا موضوع سے ربط مجھے سمجھ نہیں آسکا.......... اگرچہ جواب دینا میرے لیے جہاں صد فخر ہے کہ ان جاں سپاروں کے لیے کچھ دیر میر انگلیاں بھی رقص کرتی رہیں....وہیں باعث شرم بھی کہ کن کے بارے میں کس سے رائے مانگی جا رہی ہے !!!

احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-12-11), یاسر عمران مرزا (22-12-11), راجہ اکرام (18-10-11), سحر (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 04:24 AM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
آپ نے سوال ہی ایسا عجیب کر دیا ہے کہ بندہ اب کیا جواب دے. شاید اس کا جواب تو میری طرف سے کلمہ حق اور اجل کنول وغیرہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا ہو گا !!!

تو سنئیے::

میں افغان طالبان کو اس روئے زمین پر موجود افضل ترین جماعتوں میں شمار کرتا ہوں اور ان کے جہاد کے فی سبیل اللہ ہونے میں کیا شک وہ سکتا ہے. یہ لوگ لسان رسالت ماب صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کے مصداق اور صحیح معنوں میں طائفہ منصورہ اور" ما انا علیہ و اصحابی" میں آتے ہیں، اور بالخصوصجن راہوں پر یہ ثابت قدم ہیں، یعنی جہاد کے میدانوں میں تو اس چھلنی سے تو بڑے بڑے نام "پھوک" کی طرح سائیڈ پر ہو جاتے ہیں!!!

عوام پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ ""یہ اسلام سے بلا کی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں"" لیکن.............((اور یہ لیکن بہت بڑا لیکن ہے(( لیکن ان کی غالب اکثریت اسلام سے یکسر نابلد اور جنہیں کچھ "علم" ہے ان میں سے بھی اکثر کا حال جو ہے وہ عبدالہادی احمد صاحب نے یہاں بیان فرما دیا ہے!!!


طالبان کی قیادت میسر انے پر ہماری قوم کا بڑا طبقہ ان کا موید ہو گا، اور یہ اکثریت دو تہائی سے کہیں زیادہ میں تبدیل ہوسکتی ہے جب پاکستانی قوم ایک دفعہ طالبان کا سنہری دور دوبارہ دیکھ لے کیوں کہ اس طرح بہت سوں کا ایمان بالغیب ایمان بالشہادۃ میں بدل جائے گا، اور وہ اسی نظام کو یہاں بھی قائم کرنے کے لیے تن من دھن سے تیار ہو جائیں گے..........اور دہشت گردی و نام نہاد "دھشت گردی کے خلاف جنگ" کے نام پر جو فساد گزشتہ 10سال سےچہار سو پھیلایا گیا ہے ، اس سارے کا غبار خراسان میں اسلامی حکومت کے دو سے تین سال دھو دیں گے. ان شاء اللہ.

باقی اس سوال کا موضوع سے ربط مجھے سمجھ نہیں آسکا.......... اگرچہ جواب دینا میرے لیے جہاں صد فخر ہے کہ ان جاں سپاروں کے لیے کچھ دیر میر انگلیاں بھی رقص کرتی رہیں....وہیں باعث شرم بھی کہ کن کے بارے میں کس سے رائے مانگی جا رہی ہے !!!

احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا

والسلام
جزاک اللہ عبداللہ بھائی
بس یوں سمجھیں کہ میں جو پاکستان کے لیے پر امید رہتی ہوں اس کی اصل وجہ آپ کا یہ جواب ہے ۔
انشاء اللہ۔ خراسان سے جو لشکر حضرت مہدی کے لیے جائے گا ۔ وہ افغانستان کے ان مجاہدین اور پاکستانیوں پر مشتمل ہوگا انشاءاللہ ۔
یہ میں نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ یہ بات ڈاکٹر اسرار احمد نے کہی تھی ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-12-11), یاسر عمران مرزا (22-12-11), عبداللہ آدم (18-10-11)
پرانا 18-10-11, 10:06 PM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے................ ہم دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل پہ روشن ہے !!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-12-11), سحر (18-10-11)
جواب

Tags
کمال, پاک, پاکستان, قران, لوگ, نظر, موم, موجودہ, ممکن, محبت, آج, آدمی, اللہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, استاد, تصویر, خوش, خلاف, خبر, دوست, طالبان, ظالم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں ایسی محبت کرتا ہوں - تم کیسی محبت کرتی ہو wajee شعر و شاعری 10 24-02-11 12:08 PM
کیریْ لوگر بل آغاز،دیگر بل مزید بری خبریں لارہے ہیں wajee خبریں 0 27-10-09 11:35 AM
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے The Great شعر و شاعری 0 14-08-09 09:28 PM
آئی سی سی ایوارڈ ز،شارٹ لسٹ کھلاڑیوں کا اعلان آج ہوگا champion_pakistani کرکٹ 3 10-09-08 05:21 AM
سانحہ کار ساز،بینظیر کے گر د متعین رضاکاروں کو چیک نہیں کر نے دیا گیا تھا،تحقیقاتی ٹر یبونل میں ایس ایس پی اسپشل بر انچ کا بیان ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger