| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 452
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,969
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم الله الرحمٰن الرحیم۔
محترم قارئین پچھلے کالم میں ہپنا ٹزم کا مختصر سا تعارف پیش کیا جو قارئین نے بہت پسند کیا۔ اُسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ہپنا ٹزم کا یہ کالم پیشِ خدمت ہے۔ محترم قارئین کرام بہت سے دوست احباب اور لوگوں کو گلہ کرتے دیکھا اور سنا ہے کہ ہپنا ٹزم سیکھنے کے لئے نظر بینی، دائرہ بینی، اور شمع بینی کی فلاں فلاں مشقیں کیں مگر کامیابی نہیں ہوئی محترم قارئین اور ہپنا ٹزم کا شوق رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ نظر بینی، دائرہ بینی یا شمع بینی کی مشقیں کسی بھی صورت ہپنا ٹزم کی ابتدائی مشقیں نہیں ہیں اس طرح کی کتابی مشقوں سے کوئی ہپنا ٹزم تو نہیں سیکھ سکتا ہاں البتہ آپ مختلف مسائل کا شکار ضرور ہو جائیں گے۔ مثلاً ذہنی اور آنکھوں کے بہت سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے اگر کوئی شخص بلندی تک جانے کے لئے آخری سیڑھی پر قدم رکھنے کی کوشش کرے گا تو لازمی طور پر ناکامی ہوگی۔ آخری سیڑھی تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا جائے اسی طرح اسٹپ بائی اسٹپ سیڑھیاں طے کریں۔ یہی منزل تک پہنچنے کا بہتر اور آسان طریقہ ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ صرف یہ تحریر پڑھ کر ہپناٹسٹ بن جائے تو ایسا بھی نہیں ہے۔ تیراکی سیکھنے کے لئے پانی میں اترنا ضروری ہوتا ہے، جیسے پانی میں غوطہ زن ہوئے بغیر تیراکی نہیں سیکھی جا سکتی اسی طرح ہپنا ٹزم کی عملی مشقوں کی ریاضت کے بغیر کوئی ہپناٹسٹ نہیں بن سکتا ہپناٹسٹ بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس تحریر کو صرٍف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی مشقیں کر کے اپنے شوق کی تشنگی کو دور کیجیئے اور ایک کامیاب انسان کی سی زندگی گزاریے۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کیسے ہپناٹسٹ بن سکتے ہیں؟ اس تحریر میں بتائی ہوئی مشقوں میں کسی بھی طرح کے نقصان کا اندیشہ نہیں اور کامیابی بھی آپ کے قدم چومے گی۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ مشقیں ہپنا ٹزم کی ابتدائی مشقیں ہیں ہپنا ٹزم ایک وسیع علم ہے آپ جیسے جیسے مرحلہ وار مشقوں کی ریاضت کرتے جایئں گے ہپنا ٹزم میں ماہر ہوتے جائیں گے۔ پچھلے کالم میں بتایا جا چکا ہے کہ کوئی بھی ماورائی یا روحانی علوم حاصل کرنے کے لئے تین چیزوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہپنا ٹزم سیکھنے کے لئے یہ تین چیزیں ضروری ہیں یعنی (١)قوتِ اارادی(٢) قوتِ خیال(٣) قوتِ تصور آج ہم بات کریں گے قوتِ ارادی پر کہ یہ کیا چیز ہے؟ اور یہ کہ قوتِ ارادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اور یہ کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ آپ کی قوتِ ارادی مضبوط ہے یا کمزور، قوتِ ارادی کا مطلب ہے ارادے کی طاقت، یعنی انسان اپنے اعصاب دل و دماغ اور توجہ کو کسی خاص کام اور مقصد کے لئے اس طرح تیار کرے کہ اس کی راہ میں جتنی بھی مشکلات، مصیبتیں، اور رکاوٹیں آئیں اُسے آسان سمجھے ہر طرح کے کام کے شروع میں کئی طرح کی تکلیفیں اور رکاوٹیں آتی ہیں مگر کامیابی اسی انسان کے قدم چومتی ہے جو ان تکلیفوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مقصد کے لئے کمر بستہ رہے اطمینان، صبر، تحمل، استقامت اور مسلسل ہمت سے کامیابی کی جدوجہد میں لگا رہے۔ اکثر لوگ یکسوئی اور استغراق حاصل کرنے کے باوجود اپنے خیالات کو دوسروں کے دل و دماغ تک پہنچانے میں ناکام رہتے ہیں اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ کمزور اور متزلزل قوتِ ارادی ہے۔ کمزور قوتِ ارادی والا انسان کبھی بھی اپنے خیالات کو عملی شکل میں نہیں دیکھ سکتا بلکہ دوسروں کے خیالات کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ کامل یقین، مستقل مزاجی، اور استقلال آپ کو ناقابلِ شکست بنا دیتی ہےاور لوگ آپ کی مضبوط اور باوقار شخصیت کو قبول کرنے لگتے ہیں۔ مضبوط اور پروقار شخصیت یہ نہیں کہ آدمی بہت بڑے عہدے پر فائز ہو، دولت مند ہو، یا کوئی وزیر ہو بلکہ مضبوط شخصیت کا مالک شخص وہ ہے جو ان چیزوں کے بغیر بھی اپنے آپ کو منوانے کی طاقت رکھتا ہو، کسی بھی ہستی یا شخصیت سے کلام کرے تو مخالف دل ہی دل میں آپ کی خود اعتمادی کی داد دے اور آپ کے خیالات کے زیرِ اثر رہے۔ زبردست قوتِ ارادی والے انسان کے سامنےسخت پتھر بھی موم ہو کر بہہ جاتے ہیں۔ دیکھیے تاریخی واقعہ فرہاد نے کیسے تن تنہا پہاڑوں کو کاٹ کر رکھ دیا کسی بھی کام کو انجام دینے کے لئے دلی اور سچا شوق ہونا چاہئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ کامیاب نا ہوں۔ جاننا چاہیے کہ قوتِ ارادی یکسوئی قلب اور استقلال سے بڑھتی ہے، یکسوئی اور استقلال بڑھتے ہیں تصور سے، اور تصور بڑھتا ہے اجتماعِ خیالات سے، اور اجتماعِ خیالات بڑھتے ہیں دلی شوق سے، جب تک کسی کام کا شوق نہ ہو کچھ بھی نہیں ہو سکتا، ہپنا ٹزم سیکھنے کا اصل ذریعہ اور بنیاد مضبوط قوتِ ارادی پر ہے۔ اگر طبیعیت کا ضدی، تند مزاج ، غصہ میں بے قابو ہو جانے والا انسان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میری قوتِ ارادی مستحکم ہے تو ایسا نہیں ہے، کیونکہ قوتِ ارادی سے انہی چیزوں پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے کہ جب انسان غصے میں ہو تو اپنے ارادے کی طاقت سے اپنے غصے پر قابو پائے یہی مضبوط قوتِ ارادی کی علامت ہے۔ اپنی تحریر کو مختصر کرتا ہوں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ہماری قوتِ ارادی کتنی مضبوط ہے کیونکہ مضبوط قوتِ ارادی ہی ہپنا ٹزم اور دیگر روحانی علوم کی پہلی سیڑھی ہے، اگر آپ خدانخواستہ کسی بھی نشہ کے عادی ہیں، سگریٹ نوشی کی عادت ہے، جھوٹ بولتے ہیں، مکاری کرتے ہیں، کام چور ہیں یا غیبت کرتے ہیں تو اب آپ اٹل ارادہ کر لیں کہ فلاں برائی میں نے تمہیں چھوڑ دیا اور اس ارادے پر قائم رہیں اگر آپ اپنے ارادے میں مضبوط ہیں تو چھوڑی ہوئی بری عادت کو دوبارہ نہ اپنانا ہی مضبوط قوتِ ارادی کی علامت ہے۔ اگر اسی طرح کسی شخص میں کوئی برائی یا خامی نہیں ہے تو مزید کسی اچھی عادت کو اپنانے کا ارادہ باندھ لیں جیس سے آپ کی قوتِ ارادی مضبوط ہو جائے گی مثلاً آپ ارادہ کریں کہ کوئی نماز نہیں چھوڑوں گا، قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کروں گا، صبح سویرے جاگا کروں گا، وغیرہ وغیرہ، اگر کوئی بھی شخص یکدم کوئی برائی چھوڑنے میں یا کسی بھی نیکی کو اپنانے میں کامیاب ہو گیا تو آگے چل کر ایسا شخص قوتِ ارادی کا بادشاہ ہوگا۔ قوتِ ارادی کا ہونا ہر انسان میں پایا جاتا ہے اور کسی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی بعض لوگ دنیاوی معاملات اور تعلقات کو سنجیدگی سے جان لیتے ہیں ایسے لوگ خود بخود مستقل مزاج ہو جاتے ہیں اس عمل سے ان کی قوتِ ارادی بڑھ جاتی ہے مگر ہپنا ٹزم میں جس درجے کی قوتِ ارادی درکار ہوتی ہے وہ ہر کسی میں نہیں ہوتی بلکہ اسے مشق و عمل کے ذریعے حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی فن کو حاصل کرنے کے لئے ریاض و سعی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قوتِ ارادی بڑھانے کے لئے مشقیں اور طریقے مقرر ہیں۔ ایسے حضرات مشکل سے ملا کرتے ہیں جو قوتِ ارادی بڑھاتے ہیں یا بڑھانے کا طریقہ تعلیم کرتے ہیں۔ قوتِ ارادی کو بڑھانے کی مشق۔ رات سونے سے پہلے جملہ امور سے فارغ ہو جائیں جس وقت صرف سونا ہو اور کوئی کام کاج نہ ہو وضو کریں آرام دہ حآلت میں بیٹھ کر آہستگی سے تین چار لمبے لمبے سانس لے کر خود کو ریلکس کر لیں بلکل سیدھے بیٹھ کر کہ کمر میں اکڑاؤ یا خم نہ ہو چہرہ شمال کی طرف کر کے مخصوص اسماء الحسنیٰ کا ورد مخصوص طریقے سے کریں۔ اسماء الحسنیٰ میں سے کون سے اسم کا ورد کس طریقے سے کرنا ہے وہ آپ اپنا نام اور عمر بتا کر پوچھ سکتے ہیں۔ اسماء الحسنیٰ کے ورد کی برکت سے دلی اطمینان وسکون ملتا ہے اور یکسوئی حاصل ہوتی ہے اور مہینوں کا کام ہفتوں بلکہ دنوں انجام پا جاتا ہے۔ ورد کے بعد بستر پر لیٹ کر پندرہ سے بیس منٹ تک دل ہی دل میں آہستہ آہستہ سانس کو اندر لے جاتے ہوئے یہ فقرے دہرائیں، پانچ فقرے ہیں ایک سانس میں ایک فقرہ۔ اور اسی طرح پانچ سانسوں میں پانچ فقرے اداکریں۔ (١) میں اپنے ارادے میں مضبوط ہوں (٢) میری زندگی میں ناکامی ہے ہی نہیں (٣) مجھے ہر کام میں کامیابی ملتی ہے (٤) میں لوگوں کے دل و دماغ پر حکومت کر سکتا ہوں (٥) میں ارادے کا پہاڑ ہوں ان فقروں کی مشق کو کم از کم تین سے چار ہفتے لازمی کریں زیادہ عرصہ کریں گے تو بہت اچھا ہے ساتھ ساتھ اسماءالحسنیٰ کا ورد بھی لازمی جاری رکھنا ہے تین سے چار ہفتے تک آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی شخصیت کے اندر کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں مزید راہنمائی کے لئے اس ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ htm_92@yahoo.com قارئین کرام اپنی آراء سے ضرور مستفیض فرمائیے گا۔ Last edited by ایکسٹو; 09-12-10 at 09:06 AM. |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,969
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ محترم قارئین کرام اسلام علیکم
محترم قارئین پچھلے کالم میں ہم نے قوتِ ارادی پر بات کی تھی۔ آج ہم بات کریں گے قوتِ خیال پر کہ قوتِ خیال کیا ہے۔ خیال ایک ایسی طاقت ہے کہ اس کے محیط کا پتا چلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ خیالات کی طاقت کا کوئی حد و حساب نہیں۔ ہپناٹزم میں جو سب سے اہم قوت ہے وہ قوتِ خیال ہی ہے۔ جس کسی نے قوتِ خیال کو حاصل کر لیا سمجھو کہ اس کو گوہرِ مقصود مل گیا۔ انسانی زندگی خیالات ہی کے تابع ہے۔ اگر آپ اچھے خیالات کے مالک ہیں تو آپ ایک اچھے انسان کہلائیں گے، ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اچھے خیالات کا مالک ہو۔ اسی طرح برے خیالات کے مالک شخص کو ہر کوئی برا ہی کہے گا۔ برے خیالات سے ناصرف انسان کی اپنی ذات متاثر ہوتی ہے بلکہ برے خیالات کے اثرات تمام عالم میں پھیل کر نقصان کا مؤجب بنتے ہیں۔ خیالات سے آدمی اپنے آپ کو بدل سکتا ہے۔ اگر کوئی بدکار آدمی اپنے آپ میں اچھے خیالات پیدا کرنے شروع کر دے تو بہت کم عرصے میں اُس کو برے خیالات سے نفرت ہو جائے گی۔ اور آخر کار وہ نیک انسان بن جائے گا۔ خیالات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اندرونی خیالات اور بیرونی خیالات۔ اندرونی خیالات یہ ہیں کہ آپ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں اچانک آپ کے دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے کہ آج فلاں دوست کو ملا جائے یا اُس سے ملاقات کی جائے۔ فوراً آپ اس خیال کے زیرِ اثر اپنے موبائل سے اس دوست کا نمبر ڈائل کریں گے یا پھر اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سب کچھ آپ اندرونی خیالات کے زیرِاثر کریں گے۔ کیونکہ یہ خیال خودبخود آپ کے دل و دماغ میں پیدا ہوا اس لئے ہم اس کو اندرونی خیال کہیں گے۔ اس طرح کی بیشمار مثالیں آپ اپنی روز مرہ کی زندگی میں دیکھ سکتے ہیں۔ بیرونی خیالات۔ بیرونی خیالات یہ ہیں کہ آپ آرام سے بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں یا پھر آپ اپنے گھر والوں سے محوِ گفتگو ہیں۔ آپ کو کسی دوست کا فون آتا ہے یا پھر آپ کا کوئی دوست آپ کے پاس آتا ہے اور آپ سے کہتا ہے چلو آج لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں۔ یا پھر آپ کا دوست آپ سے کہتا ہے کے فلاں ہوٹل کا کھانا بہت لذیذ اور معیاری ہے کیوں نہ وہاں ڈنر یا لنچ کیا جائے۔ اس کو ہم بیرونی خیالات کہیں گے۔ کیونکہ یہ خیالات کسی دوسرے شخص کی طرف سے آپ کے دل و دماغ پر مسلط ہوئے اور آپ ان خیالات کے تابع ہو کر اپنے دوست کے ساتھ چل پڑیں گے۔ خیالات کی دوسری قسم ظاہری خیالات اور مخفی خیالات کی ہے۔ کسی کو ہم اپنی بات یا زبان کے ذریعے خیالات منتقل کرنے کو ہم ظاہری خیالات کہیں گے۔ جس کے متعلق ہم پچھلی سطور میں ذکر کر چکے ہیں۔ مخفی خیالات یہ ہیں کہ ہم کسی کو بغیر زبان ہلائے، بغیر بات کیے اپنی قوتِ ارادی اور قوتِ خیال کی مدد سے اپنے خیالات کسی دوسرے شخص کے دل و دماغ پر مسلط کر دیں۔ اور دوسرا شخص بالکل بھی نہ جان سکے گا کہ یہ خیالات آپ نے مخفی طور پر اس کے دل و دماغ پر مسلط کیے ہیں بلکہ دوسرا شخص یہی سمجھے گا کہ یہ خیالات اس کے اپنے ہیں۔ اور وہ شخص ان خیالات کے زیرِ تابع ہو کر بلکل آپ کی منشاء کے عین مطابق کام کرے گا۔ مخفی طور پر مسلط کئے گئے خیالات اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ دوسرا شخص ان خیالات کے آگے بے بس و مجبور ہو جاتا ہے۔ ہر انسان میں خیالات کی طاقت مختلف ہوتی ہے، مثال کے طور پر اکثر لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ آپ کسی دوست سے کسی موضع پر محوِ گفتگو ہیں۔ آپ کوئی بات کرتے ہیں تو آپ کا دوست فوراً آپ سے کہتا ہے کہ آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی۔ اسی طرح بعض اوقات آپ کے ذہن میں کوئی بات ہوتی ہے اور وہی بات آپ کے دوست کے منہ سے ادا ہو جاتی ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ جب کبھی آپ کے خیالات طاقتور ہوتے ہیں تو آپ کے دل و دماغ میں گردش کرتی ہوئی بات خیالات کے ذریعے آپ کے دوست کے دل و دماغ تک پہنچ جاتی ہے اور وہی بات آپ کا دوست اپنی زبان سے ادا کر دیتا ہے۔ یہ سب غیر ارادی طور پر ہوتا ہے اس میں آپ کا کوئی ارادہ شامل نہیں ہوتا ہے کہ آپ اپنے خیلات دوسرے شخص تک منتقل کر رہے ہیں۔ مگر ہپناٹزم میں آپ اپنے خیالات اپنی قوتِ ارادی سے کسی بھی شخص کے دل و دماغ تک پہنچا سکتے ہیں جس پر وہ شخص ہر صورت آپ کے خیالات کے مطابق عمل کرے گا۔ عام آدمی کے خیالات کی مثال ایسے ہے کہ جیسے پانی کا ایک تالاب ہو اور اُس تالاب میں کوئی چھوٹا سا کنکر پھینکا جائے تو تالاب کے پانی سے لہریں پیدا ہوں گی مگر یہ لہریں کنارے تک پہنچنے سے پہلے پہلے دم توڑ دیں گی۔ لیکن طاقتور خیالات کے مالک شخص کی مثال ایسے ہے کہ جیسے کوئی بڑا سا پتھر تالاب کے پانی میں پھینکا جائے تو تالاب میں بہت زور کی لہریں اٹھیں گی اور تالاب میں ہلچل مچا دیں گی۔ خیالات میں اس طرح کی طاقت ہر کسی میں نہیں ہوتی خیالات میں یہ طاقت لانے کے لئے محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ ساتھ مخصوص قسم کی مشقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشقوں کے ذریعے بکھرے ہوئے خیالات یکجا ہو کر ایک طاقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ سورج کی روشنی سے کسی چیز کو جلایا نہیں جا سکتا مگر عدسہ کے ذریعے سورج کی روشنی کو یکجا کر کے ایک نقطے میں مرکوز کر کے کسی بھی چیز کو آسانی سے جلایا جا سکتا ہے۔ یہی مثال خییالات کی ہے کہ مشقوں کے ذریعے خیالات کو یکجا کر کے خیالات کو ایک قوت بنا دیا جاتا ہے۔ اس قوت کے آگے دوسروں کے خیالات کی قوت ہیچ ہوتی ہے۔ خیالات کی اس قوت سے انسان بہت سے کام لے سکتا ہے مثلاً آپ کسی جاب کے لئے انٹرویو دینے جاتے ہیں تو خیالات کی طاقت سے آپ انٹر ویو میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کسی روٹھے ہوئے عزیز کو خیالات کی طاقت سے منایا جا سکتا ہے۔ دو خون کے پیاسے دشمنوں میں صلح کروائی جا سکتی ہے۔ کسی بری صحبت میں مبتلا شخص کو بری صحبت سے بچایا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ خیالات کی طاقت سے بیشمار اصلاحی کام لئے جا سکتے ہیں قوتِ خیال حاصل کر کے انسان خود بخود جان جاتا ہے کہ اس سے کیا کیا کام لئے جا سکتے ہیں۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ خیالات کی طاقت صرف انسانوں پر ہی اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اس کا اثر نباتات، جمادات اور حیوانات پر بھی یکساں ہوتا ہے۔ خیالات کی طاقت کے ایک دو تجربے پیش کرتا ہوں۔ جو کہ قوتِ خیال کی مشقوں کے بغیر عام خیالات کا مالک شخص بھی کر سکتا ہے۔ کیونکہ ان تجربات میں خیالات ظاہری طور پر مسلط کیے جاتے ہیں۔ اور مشقوں کے ذریعے خیالات کی حاصل کردہ طاقت کے ذریعے خیالات کو مخفی طور پر دوسروں کے دل و دماغ تک پہنچایا جاتا ہے۔ بہرحال تجربہ کر کے دیکھیں یقیناً آپ خیالات کی طاقت کے گرویدہ ہو جائیں گے۔ ایک پانی کی بوتل سے دو گلاس پانی کے بھر لیں ایک گلاس کو اپنے سامنے رکھ لیں اور دوسرے پانی کے گلاس کو اتنا دور رکھیں کے آپ کی آواز اس گلاس تک نہ پہنچنے پائے۔ اب آپ سامنے رکھے ہوئے پانی کے گلاس کو پوری توجہ اور یکسوئی سے برے برے القابات سے نوازیں۔ مثلاً تم بہت کڑوے ہو، تم بہت برے ہو، مجھے تم سے شدید نفرت ہے، تم بہت گندے ہو، اسی طرح کے برے برے الفاظ پانی کو اس یقین سے کہیں کہ وہ آپ کی بات سن رہا ہے۔ مسلسل پانچ منٹ تک ایسا کریں۔ اس کے بعد پانی کے دوسرے گلاس کے پاس جا کر اس کی تعریف کچھ اس طرح کریں کہ تم بہت اچھے ہو، تمہارا ذائقہ بہت میٹھا ہے، مجھے تم بہت پیارے لگتے ہو، اس طرح کے مختلف الفاظ سے پانی کی تعریف پانچ منٹ تک کریں۔ یہ کام کر چکنے کے بعد آپ دونوں گلاسوں کے پانی کا ذائقہ چکھیں جس گلاس کے پانی کی آپ نے تعریف کی ہوگی اس کا ذائقہ دوسرے گلاس کے پانی سے اچھا اور مختلف ہوگا۔ حالانکہ دونوں گلاسوں کا پانی ایک ہی بوتل سے لیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ اپنے کسی دوست سے کہیں کہ بھئی آج تو آپ بہت پیارے لگ رہے ہیں۔ آپ کی رنگت بھی صاف اور کھلی کھلی ہے کون سی کریم استعمال کرتے ہو آپ کا دوست اپنے بارے میں آپ کے خیالات جان کر یقیناً خوش ہوگا۔ دوسرے دن جب آپ پھر ایسا ہی کہیں گے تو ضرور آپ کا دوست گھر جا کر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے گا۔ اور حیرت انگیز طور پر آپ کے خیالات کے زیرِ اثر ہونے کی وجہ سے اس کو اپنی رنگت صاف اور کھلی کھلی نظر آئے گی۔ خیالات کی طاقت سے کوئی بھی ذی روح انکار نہیں کر سکتا۔ خیالات کی طاقت سے آپ اپنے مخالفین کو جھکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اپنے دشمن کے دل سے نفرت اور دشمنی کا خاتمہ کر کے محبت کا بیج بو سکتے ہیں۔ خیالات کی طاقت سے روتے ہوؤں کو ہنسایا جا سکتا ہے روٹھے ہوؤں کو منایا جا سکتا ہے۔ خیالات کی طاقت سے جسمانی کمزوری دور کی جا سکتی ہے۔ بغیر دوائی کے موٹاپا ختم کیا جا سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کو نارمل کیا جا سکتا ہے۔ قوتِ خیال سے آنکھوں کا رنگ قدرتی طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بالوں کی سفیدی اور چہرے کی جھریوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خیالات کی طاقت سے دوسروں کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ یہ کوئی دروغ گوئی نہیں بلکہ قوتِ خیال کے ادنیٰ سے کرشمے ہیں۔ مشقوں کے ذریعے خیالات کی طاقت کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟ اور اپنے خیالات کی طاقت کو بڑھا کر کسی دوسرے شخص کے دل و دماغ تک مخفی طور پر اپنے خیالات کیسے ملسط کیے جا سکتے ہیں۔ کس طرح دوسرے شخص کو اپنے خیالات کے تابع کیا جا سکتا ہے اور خیالات کی طاقت کو بڑھانے کے لئے کونسی مشق کیسے اور کب کرنی ہے؟ یہ جاننے کے لئے آپ ای میل کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کالم میں اس لئے تحریر نہیں کر رہا کہ کچھ لوگ اس قوت کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔ اور دوسروں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اپنا پورا نام اور عمر بتا کر قوتِ خیال کی مشق پوچھی جا سکتی ہے۔ قارئین کرام اپنی آراء سے نوازیئے گا۔ آپ کی دعاؤں کا طالب۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 43
کمائي: 667
شکریہ: 65
27 مراسلہ میں 43 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس علم کا موجد حسن بن صباح ہے۔ وہ اپنے فدائیوں پر یہی عمل کرتا تھا اور انہیں خیالی جنت میں بھیج دیتا تھا۔ اور پھر اپنے انہیں فدائیوں سے جس کو چاہتا قتل کروادیتا۔ |
|
|
|
| ابو زین کا شکریہ ادا کیا گیا | ایکسٹو (16-11-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایکسٹو بھائی کہاں ہو اسکو مکمل تو کرو ایک سال ہونے کو آ رہا ہے کہاں ہو جناب جولیا کےغم سے اب باہر بھی آ جاو
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | ایکسٹو (16-11-11) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | ایکسٹو (16-11-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,969
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آ گیا ہوں بھائی جی .......... پر یہ بتاو میں اس کو مکمل کیسے کروں ؟ کیونکہ میں نے تو خود اس کو کاپی ،پیسٹ کیا تھا ![]() جس نے یہ آرٹیکلز لکھے ہیں وہ اللہ کا بند پتا نہیں کہاں گم ہو چکا ہے . مزید اس پر کوئی آرٹیکل لکھا ہی نہیں ان صاحب نے . جونہی کچھ لکھیں گے کاپی پیسٹ کر دوں گا ![]() دو نٹ فکر |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہے۔, کوشش, واقعات, ورزش, لب, نیند, مقابلہ, ممکن, اللہ, انسان, اسلام, اسلامی, بے, تاج, تحریر, جیسی, دوست, دل, زندگی, شخص, علوم, علم, علاج, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہپناٹزم/ عمل تنویم | ایکسٹو | عمومی بحث | 1 | 01-12-10 09:57 PM |
| ہپنا ٹزم؛ ترغیب سے زندگی تبدیل کریں | گوہر | اپکے کالم | 7 | 07-02-10 01:21 AM |
| ہپناٹزم ؛ ترغیب ایک انسانی چور دروازہ | گوہر | اپکے کالم | 13 | 27-11-09 08:45 PM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |