واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


یزید ، ایک تحقیق ایک جائزہ

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-12-11, 10:04 PM   #1
یزید ، ایک تحقیق ایک جائزہ
عارف اقبال عارف اقبال آف لائن ہے 12-12-11, 10:04 PM

مولانا محمد کاشف اقبال خان مدنی شاہ کوٹ

قرآن پاک:
ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرۃ الخ
جولوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں لعنت

احادیث مبارکہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری سنت کو بدلنے والا پہلا شخص بنو امیہ سے ہو گا جو یزید ہو گا ۔
تاریخ الخلفاء ص 149 ۔ البدایہ والنھایۃ ج8 ص231 ۔ صواعق المحرقہ 219 ۔
میری امت کا امر(حکومت)عدل سے قائم رہے گا ، جوشخص سب سے پہلے اسے تباہ کریگا وہ بنو امیہ میں سے یزید ہو گا ۔
البدایہ والنھایۃ ج8 ص 231۔ صواعق المحرقہ 219 ۔حجۃ اللہ علی العالمین 529۔تاریخ الخلفاء 142 ۔

یزید کا کردار

ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یزید راگ ورنگ کا متوالا تھا، شراب پیتا تھا ، خوبصورت لڑ کیوں اور لڑ کوں کو اپنے پاس رکھتا تھا ، گانے والی عورتیں اس کے دربار میں موجود ہوتیں ، شراب کے نشے میں مست ہوتا ، کتوں کا شکاری تھا ۔ بندروں کے سروں پرسونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا ، جب ان میں سے کوئی مرجاتا تو افسوس کرتا تھا ۔البدایہ والنھایۃ ج8 ص335
یزید شراب کے بارے میں شعر کہا کرتا تھا
ترجمہ : کہ اگرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں شراب حرام ہے ۔ تو عیسائی بن کر شراب پئے جا ۔صواعق المحرقہ ص134
حضرت حنظلہ غسل الملائکہ کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں کہ یزید پر ہم نے اس وقت حملہ کی تیاری کی اور اس کی بیعت توڑ ی جب ہم لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ اس کی بدکاریوں کے سبب ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی ، اس لئے کہ یزید کے فسق و فجور کا یہ عالم تھا کہ وہ ماؤں ، بہنوں بیٹیوں سے زنا کرتا تھا ، شراب پیتا تھا اور نماز چھوڑ دیتا ۔ تاریخ الخلفاء 209 ، طبقات الکبریٰ ص66ج5 ۔
یزید کی موت کے اسباب میں ایک سبب یہ تھا کہ وہ ایک بندر سے شرارتیں کر رہا تھا کہ بندر نے اسے کاٹ لیا ، البدایہ والنھایۃ ص231 ج8

یزید کا کردار اس کے بیٹے کی زبانی
یزید کے بیٹے نے چند دن حکومت میں رہ کر حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے باپ یزید نے حکومت سنبھالی حالانکہ وہ اس قابل نہ تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین سے اس نے جنگ کی اور اس کی عمر کم ہوگئی ، اور وہ اپنے گنا ہوں کو لیکر قبر میں جاپھنسا ، پھر یزید کا بیٹا روپڑ ا، کہا ہمارے لئے بڑ ا صدمہ یزید کے برے انجام کا ہے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قتل کیا ، شراب کو حلال کیا ، کعبہ کو تباہ کیا ۔صواعق المحرقہ 224
امام حسین کی شہادت اور ملعون یزید
یزید نے سید الشہدا امام حسین کے قتل کا حکم دیا اور شہادت پر رضامندی کا اظہارکیا ۔
ارشاد الساری ص104 ج5، تیسیر الباری ص128ج3، شرح عقائد ص113، فتاویٰ عزیزیہ ص253 ، تکمیل الایمان ص97، تفسیر مظہری ص21ج 5، سالبدایہ والنھایۃ ص230ج8، صواعق المحرقہ ص124۔
ابن زیاد نے کہ اکہ یزید نے مجھ سے کہا تھا کہ امام حسین کو قتل کر دیا جائے گا ۔
کامل ابن اثیر ص45ج4
یزید کے سامنے امام حسین کا سر انور لایا گیا تو یزید نے امام کے لبوں پر چھڑ ی مارنا شروع کی ۔
البدایہ والنھایہ ص194ج۸، اسعاف الراغبین ص207، شہید کربلا از مفتی شفیع دیوبندی ص94، شہید کربلا اور یزید ص127۔
جب یزید کے سامنے امام حسین کا سر انور لایا گیا تو یہ خوش ہوا اور شعر پڑ ھے ، کہنے لگا کہ آج میں نے اپنے باپ دادا کا بدلہ لے لیا ، جو بدر میں مارے گئے تھے اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ یہ دیکھ کر خوش ہوجاتے ، منہاج السنہ از ابن تیمیہ ص274ج2، مظہری ص21ج5، روح المعانی ص73ج26، البدایہ والنھایہ ص232ج8۔

یزید کا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی توہین کروانا اور قتل وغارت ، عام زنا کی اجازت
یزید کے حکم سے اس کے لشکر نے مدینہ منورہ پر چڑ ھائی کی ، قتل و غارت کی صحابہ تابعین تبع تابعین حفاظ کو شہید کیا گیا ، حضرت ابو سعید خدری کی داڑ ھی مبارک کو نوچا گیا ، مسجد نبوی میں تین دن اذان و اقامت نہ ہونے دی گئی ، زنا عام ہوا ، حتی کہ ہزار عورت نے ناجائز بچے جنے ، مسجد نبوی شریف میں گھوڑ ے باندھے گئے جہاں ان کی گندگی پیشاب وغیرہ مسجد کے اندرہوتے تھے بعد میں اسی یزیدی لشکر نے مکہ معظمہ پر چڑ ھائی قتل و غارت کا بازار گرم کیا ، پتھراؤ کیا ، کعبہ شریف کو آگ لگائی ، غلاف مبارک جل گیا ، کعبے کی چھت میں حضرت اسماعیل کی خاطر آنے والے دنبے کے سینگ محفوظ تھے وہ بھی جل گئے ، کعبہ کی چھت اور عمارت کو کافی نقصان پہنچا کعبہ کے جلانے کا ذکر مسلم ص430ج۱پر بھی موجود ہے ۔اس ساری جنگ میں تقریبا 1700مہاجرین انصار علماء تابعین ، عوام الناس 10000 حفاظ700قریش97افراد قتل کئے گئے ۔حضرت عبد اللہ بن زبیر کو شہید کیا گیا یہ واقعہ خلاصہ کے طور پر پیش کیا گیا باقی درج ذیل کتب میں تفصیل ملاحظہ ہو تاریخ الخلفاء ص209، البدایہ والنھایہ ص230ج8، جذب القلوب ص52تا57، دول الاسلام ص31، الاصابہ ص370ج3، فتح الباری ص70ج13، حاشیہ بخاری ص1053ج2، کمال اکمال المعلم ص427ج3، وفاء الوفاء ص126ج2، تیسیر الباری ص128ج3۔
لمحہ فکریہ
حضرت عمر بن عبد العزیز کے سامنے کسی نے یزید کو امیر المومنین کہا ، آپ نے بیس کوڑ ے لگوائے ، تاریخ الخلفاء ص209، 361

یزید کے حامیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ اللہ ان کو بھی ہدایت عطا فرمائے ۔

یزید پلید ایک تحقیق ایک جائزہ
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

 
عارف اقبال's Avatar
عارف اقبال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 310
8 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-12-11), مفتی (16-12-11), موجو (13-12-11), ملک زوالفقار (29-12-11), wajee (13-12-11), آبی ٹوکول (13-12-11), سائل (13-12-11), شعبان نظامی (14-12-11)
پرانا 13-12-11, 07:30 AM   #2
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یزید کے نسبی بیٹے نے تو اپنے باپ کے مخالف ووٹ دیکر امام حسین رضی اللہ عنہ کی جماعت کی پیروی کرلی اور یزید سے اپنی بےزاری کا اعلان کردیا مگر آج یزید کے کئی معنوی بیٹے ایسے بھی ہیں کہ جن کے پیٹ میں آج بھی یزید کی محبت کا اس قدر مروڑ ہے کہ انکو اوپن فورم پر یزید کے حقیقی کردار کی نقاب کشائی بھی قابل برداشت نہیں کردار کشی تو چیزے دگر ۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-12-11), مفتی (16-12-11), موجو (13-12-11), ملک زوالفقار (29-12-11), شمشاد احمد (13-12-11), شعبان نظامی (14-12-11), عارف اقبال (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 09:36 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بخاری حدیث کے مطابق امیر یزید ؒ جنتی ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
یزید کے نسبی بیٹے نے تو اپنے باپ کے مخالف ووٹ دیکر امام حسین رضی اللہ عنہ کی جماعت کی پیروی کرلی اور یزید سے اپنی بےزاری کا اعلان کردیا مگر آج یزید کے کئی معنوی بیٹے ایسے بھی ہیں کہ جن کے پیٹ میں آج بھی یزید کی محبت کا اس قدر مروڑ ہے کہ انکو اوپن فورم پر یزید کے حقیقی کردار کی نقاب کشائی بھی قابل برداشت نہیں کردار کشی تو چیزے دگر ۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
بخاری حدیث کے مطابق امیر یزید ؒ جنتی ہے !!!

مگر آج یزید کے کئی معنوی بیٹے ایسے بھی ہیں کہ جن کے پیٹ میں آج بھی یزید کی محبت کا اس قدر مروڑ ہے کہ انکو اوپن فورم پر یزید کے حقیقی کردار کی نقاب کشائی بھی قابل برداشت نہیں کردار کشی تو چیزے دگر ۔

Sahih Bukhari Hadith Praises That Yazeed Yazid Bin Muawiyah Muawiya Will Go to Heaven Paradise
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-12-11), نورالدین (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 11:11 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یزید کو لعنتی، جہنمی یا جنتی کہنے والے کسی گروہ کے پاس کوئی نص موجود نہیں ہے۔ تاریخی روایات کی بناء پر کسی شخص کی جنت جہنم کا فیصلہ کرنا اہل سنت کا طرز عمل نہیں۔ سب سے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ یزید کے بارے میں‌سکوت اختیار کیا جائے، جیسے امت میں‌دیگر کئی ظالموں، بدکرداروں‌کے بارے میں‌سکوت اختیار کیا جاتا ہے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-12-11), موجو (13-12-11), شمشاد احمد (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 11:53 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شکاری صاحب، کھل کر امام بخاری اور حدیث رسول کی تائید کریں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
یزید کو لعنتی، جہنمی یا جنتی کہنے والے کسی گروہ کے پاس کوئی نص موجود نہیں ہے۔ تاریخی روایات کی بناء پر کسی شخص کی جنت جہنم کا فیصلہ کرنا اہل سنت کا طرز عمل نہیں۔ سب سے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ یزید کے بارے میں‌سکوت اختیار کیا جائے، جیسے امت میں‌دیگر کئی ظالموں، بدکرداروں‌کے بارے میں‌سکوت اختیار کیا جاتا ہے۔
سب سے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ یزید کے بارے میں‌سکوت اختیار کیا جائے،

شکاری صاحب، کھل کر امام بخاری اور حدیث رسول کی تائید کریں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 12:08 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
سب سے بہترین طرز عمل یہی ہے کہ یزید کے بارے میں‌سکوت اختیار کیا جائے،

شکاری صاحب، کھل کر امام بخاری اور حدیث رسول کی تائید کریں !!!
جی محترم، امام بخاری اور حدیث‌کی ہم تو الحمدللہ کھل کر ہی تائید کرتے ہیں، اآپ کی طرح نہیں کہ مطلب کی چیزیں لی جائیں‌اور جہاں کوئی چیز عقل کے مخالف نظر آئے تو فوری انکار کی راہ پکڑی جائے۔

یہ حدیث بالکل صحیح‌ہے کہ قسطنطنیہ پر جو پہلا حملہ ہوگا اس لشکر کی جنت کی بشارت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ لیکن تاریخی روایات سے اس بارے میں‌الجھاؤ ہے کہ یزید جس لشکر کا سپہ سالار بن کر قسطنطنیہ حملے کے لئے گیا تھا کیا وہ پہلا لشکر تھا یا نہیں؟

کچھ غیر مستند تاریخی روایات کہتی ہیں‌کہ وہ پہلا لشکر ، جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا، اس کا سپہ سالار یزید تھا، ان روایات کو مانا جائے تو یزید کا جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے۔

دوسری طرف اسی طرح کی غیر مستند تاریخی روایات یہ بھی کہتی ہیں‌ کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ جب ہوا ، تب یزید ابھی بچہ تھا۔ اس کو مانیں‌تو یزید جنت کی بشارت والی حدیث‌کا مستحق نہیں‌رہتا۔

لہٰذا، حدیث‌تو بالکل صحیح ہے لیکن یزید اس کا مصداق ہے یا نہیں۔ اس میں‌ شدید اختلاف ہے۔ لہٰذا ہم تو حدیث‌رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام میں‌یزید جیسے بدکردار اور ظالم شخص کے بارے میں‌کچھ کہنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اور سکوت اختیار کرتے ہیں کہ بروز قیامت کسی لعن طعن کے بار سے ہم محفوظ رہ سکیں۔ ویسے بھی لعن طعن، تبرا بازی اہل تشیع کا فعل ہے، نہ کہ اہل سنت کا۔
وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے ہم سے ان کے بارے میں‌سوال ہی نہیں‌ہوگا، لہٰذا اس بحث میں‌پڑنا ہی غلط ہے۔ واللہ اعلم۔!
شکاری آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-12-11), فیصل ناصر (13-12-11), ہادی (13-12-11), عبداللہ آدم (15-12-11)
کمائي نے شکاری کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
15-12-11 عبداللہ آدم ویسے بھی لعن طعن، تبرا بازی اہل تشیع کا فعل ہے، نہ کہ اہل سنت کا۔ وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے ہم سے ان کے بارے میں‌سوال ہی نہیں‌ہوگا، لہٰذا اس 100
پرانا 13-12-11, 04:46 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی اور اس وقت روم میں فوج کے امیر امیر یزید بن امیر معاویہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
جی محترم، امام بخاری اور حدیث‌کی ہم تو الحمدللہ کھل کر ہی تائید کرتے ہیں، آپ کی طرح نہیں کہ مطلب کی چیزیں لی جائیں‌اور جہاں کوئی چیز عقل کے مخالف نظر آئے تو فوری انکار کی راہ پکڑی جائے۔
یہ حدیث بالکل صحیح‌ہے کہ قسطنطنیہ پر جو پہلا حملہ ہوگا اس لشکر کی جنت کی بشارت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ لیکن تاریخی روایات سے اس بارے میں‌الجھاؤ ہے کہ یزید جس لشکر کا سپہ سالار بن کر قسطنطنیہ حملے کے لئے گیا تھا کیا وہ پہلا لشکر تھا یا نہیں؟
کچھ غیر مستند تاریخی روایات کہتی ہیں‌کہ وہ پہلا لشکر ، جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا، اس کا سپہ سالار یزید تھا، ان روایات کو مانا جائے تو یزید کا جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے۔
دوسری طرف اسی طرح کی غیر مستند تاریخی روایات یہ بھی کہتی ہیں‌ کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ جب ہوا ، تب یزید ابھی بچہ تھا۔ اس کو مانیں‌تو یزید جنت کی بشارت والی حدیث‌کا مستحق نہیں‌رہتا۔
لہٰذا، حدیث‌تو بالکل صحیح ہے لیکن یزید اس کا مصداق ہے یا نہیں۔ اس میں‌ شدید اختلاف ہے۔ لہٰذا ہم تو حدیث‌رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام میں ‌یزید جیسے بدکردار اور ظالم شخص کے بارے میں ‌کچھ کہنے سے اجتناب کرتے ہیں۔

جی محترم شکاری صاحب، اب کیا خیال ہے ؟؟؟

ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی اور اس وقت روم میں فوج کے امیر امیر یزید بن امیر معاویہ ؓ تھے،


17 - نماز قصر کا بیان : (146)
نفل نمازیں جماعت سے پڑھنے کا بیان اس کو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا۔

حدثني إسحاق حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن شهاب قال أخبرني محمود بن الربيع الأنصاري أنه عقل رسول الله صلی الله عليه وسلم وعقل مجة مجها في وجهه من بئر کانت في دارهم فزعم محمود أنه سمع عتبان بن مالک الأنصاري رضي الله عنه وکان ممن شهد بدرا مع رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول کنت أصلي لقومي ببني سالم وکان يحول بيني وبينهم واد إذا جائت الأمطار فيشق علي اجتيازه قبل مسجدهم فجئت رسول الله صلی الله عليه وسلم فقلت له إني أنکرت بصري وإن الوادي الذي بيني وبين قومي يسيل إذا جائت الأمطار فيشق علي اجتيازه فوددت أنک تأتي فتصلي من بيتي مکانا أتخذه مصلی فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم سأفعل فغدا علي رسول الله صلی الله عليه وسلم وأبو بکر رضي الله عنه بعد ما اشتد النهار فاستأذن رسول الله صلی الله عليه وسلم فأذنت له فلم يجلس حتی قال أين تحب أن أصلي من بيتک فأشرت له إلی المکان الذي أحب أن أصلي فيه فقام رسول الله صلی الله عليه وسلم فکبر وصففنا ورائه فصلی رکعتين ثم سلم وسلمنا حين سلم فحبسته علی خزير يصنع له فسمع أهل الدار رسول الله صلی الله عليه وسلم في بيتي فثاب رجال منهم حتی کثر الرجال في البيت فقال رجل منهم ما فعل مالک لا أراه فقال رجل منهم ذاک منافق لا يحب الله ورسوله فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم لا تقل ذاک ألا تراه قال لا إله إلا الله يبتغي بذلک وجه الله فقال الله ورسوله أعلم أما نحن فوالله لا نری وده ولا حديثه إلا إلی المنافقين قال رسول الله صلی الله عليه وسلم فإن الله قد حرم علی النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلک وجه الله قال محمود بن الربيع فحدثتها قوما فيهم أبو أيوب صاحب رسول الله صلی الله عليه وسلم في غزوته التي توفي فيها ويزيد بن معاوية عليهم بأرض الروم فأنکرها علي أبو أيوب قال والله ما أظن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال ما قلت قط فکبر ذلک علي فجعلت لله علي إن سلمني حتی أقفل من غزوتي أن أسأل عنها عتبان بن مالک رضي الله عنه إن وجدته حيا في مسجد قومه فقفلت فأهللت بحجة أو بعمرة ثم سرت حتی قدمت المدينة فأتيت بني سالم فإذا عتبان شيخ أعمی يصلي لقومه فلما سلم من الصلاة سلمت عليه وأخبرته من أنا ثم سألته عن ذلک الحديث فحدثنيه کما حدثنيه أول مرة
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1123 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 20 متفق علیہ 14
اسحاق، یعقوب بن ابراہیم، ابراہیم، ابن شہاب، محمود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ربیع انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد ہیں اور وہ کلی بھی یاد ہے جو میرے چہرے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے گھر کو کنوئیں سے لے کر کی تھی، انہوں نے کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے تھے کہتے ہوئے سنا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھاتا تھا اور میرے درمیان اور ان کے درمیان ایک وادی حائل تھی اور جب بارش ہوتی تو میرے لئے ان کی مسجد کی طرف راستہ طے کرکے جانا دشوار ہوتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یا اور عرض کیا کہ میری نگاہ کمزور ہے اور وادی جو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حائل ہے جب بارش ہوتی ہے تو مجھ پر دشوار ہوتا ہے کہ راستہ طے کرکے وہاں پہنچوں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئیں اور میرے مکان میں ایک جگہ پر نماز پڑھ لیں کہ میں اس کو نماز کی جگہ بنالوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایسا کروں گا، چنانچہ صبح کے وقت میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچے جب کہ دھوپ تیز ہوچکی تھی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت چاہی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دے دی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا تم اپنے گھر میں کون سی جگہ پسند کرتے ہو جہاں میں نماز پڑھوں؟ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جس میں نماز پڑھنا پسند کرتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف قائم کی پھر دو رکعت نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم نے بھی سلام پھیرا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیر چکے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خزیرۃ (ایک قسم کا کھانا) پر روکا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے تیار کرلیا گیا تھا۔ جب دوسرے گھر والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میرے گھر میں سنی تو دوڑ پڑے یہاں تک کہ گھر میں لوگ بہت زیادہ ہوگئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ مالک نے کیا کیا، میں اسے نہیں دیکھتا ہوں تو ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ وہ منافق ہے اللہ کے رسول سے اسے محبت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے لا الہ اللہ کہا ہے اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے تو اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں لیکن ہم تو بخدا اس کی محبت اور اس کی گفتگو منافقین ہی سے دیکھتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جہنم پر اس شخص کو حرام کردیا ہے جو لا الہ اللہ کہے اور اس سے رضائے الٰہی چاہتا ہو۔ محمود نے بیان کیا کہ میں نے اس کو ایک جماعت سے بیان کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور اس جنگ میں بیان کیا جس میں انہوں نے وفات پائی اور اس وقت روم میں فوج کے امیر امیر یزید بن امیر معاویہ ؓ تھے، ابو ایوب نے ہماری اس حدیث کا انکار کیا اور کہا و اللہ جو تو نے کہا میرا خیال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا، یہ مجھے برا معلوم ہوا اور میں نے اللہ کیلئے نذر مانی کہا اگر وہ مجھے صحیح و سالم رکھے یہاں تک کہ میں اس غزوہ سے واپس ہوجاؤں تو میں اس حدیث کے متعلق عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے پوچھوں گا، اگر میں نے انہیں ان کی قوم کی مسجد میں زندہ پایا، چنانچہ میں غزوہ سے لوٹا میں نے حج یا عمرہ کا احرام باندھا پھر میں چلا یہاں تک کہ مدینہ پہنچا، میں بنی سالم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ عتبان بڈھے اور نابینا ہوگئے ہیں اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کو سلام کیا اور بتایا کہ میں کون ہوں، پھر میں نے ان سے حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی بار بیان کیا گیا تھا۔
Narrated Mahmud bin Ar-rabi' Al-Ansari,
that he remembered Allah's Apostle and he also remembered a mouthful of water which he had thrown on his face, after taking it from a well that was in their house. Mahmud said that he had heard Itban bin Malik, who was present with Allah's Apostle in the battle of Badr saying, "I used to lead my people at Bani Salim in the prayer and there was a valley between me and those people. Whenever it rained it used to be difficult for me to cross it to go to their mosque. So I went to Allah's Apostle and said, 'I have weak eye-sight and the valley between me and my people flows during the rainy season and it becomes difficult for me to cross it; I wish you would come to my house and pray at a place so that I could take that place as a praying place.' Allah's Apostle said, 'I will do so.' So Allah's Apostle and Abu Bakr came to my house in the (next) morning after the sun had risen high. Allah's Apostle asked my permission to let him in and I admitted him. He did not sit before saying, 'Where do you want us to offer the prayer in your house?' I pointed to the place where I wanted him to pray. So Allah's Apostle stood up for the prayer and started the prayer with Takbir and we aligned in rows behind him; and he offered two Rakat, and finished them with Taslim, and we also performed Taslim with him. I detained him for a meal called "Khazir" which I had prepared for him.--("Khazir" is a special type of dish prepared from barley flour and meat soup)--
When the neighbors got the news that Allah's Apostle was in my house, they poured it till there were a great number of men in the house. One of them said, 'What is wrong with Malik, for I do not see him?' One of them replied, 'He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle.' On that Allah's Apostle said, 'Don't say this. Haven't you seen that he said, 'None has the right to be worshipped but Allah for Allah's sake only.' The man replied, 'Allah and His Apostle know better; but by Allah, we never saw him but helping and talking with the hypocrites.' Allah's Apostle replied, 'No doubt, whoever says. None has the right to be worshipped but Allah, and by that he wants the pleasures of Allah, then Allah will save him from Hell." Mahmud added, "I told the above narration to some people, one of whom was Ab-u Aiyub, the companion of Allah's Apostle in the battle in which he (Ab-u Aiyub) died and Yazid bin Muawiya was their leader in Roman Territory. Abu Aiyub denounced the narration and said, 'I doubt that Allah's Apostle ever said what you have said.' I felt that too much, and I vowed to Allah that if I remained alive in that holy battle, I would (go to Medina and) ask Itban bin Malik if he was still living in the mosque of his people. So when he returned, I assumed Ihram for Hajj or 'Umra and then I proceeded on till I reached Medina. I went to Bani Salim and Itban bin Malik, who was by then an old blind man, was leading his people in the prayer. When he finished the prayer, I greeted him and introduced myself to him and then asked him about that narration. He told that narration again in the same manner as he had narrated it the first time."
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 05:45 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے کہ اس بحث کو مکمل کرنا چاہیے!
ایک مشورہ یہ ہے کہ یزید سے متعلقہ جنتے بھی تھریڈز ہیں ان کو ایک ہی جگہ یکجا کر دیا جائے اور پھر باری باری تمام مسائل کو ڈسکس کر لیا جائے۔

دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بھی ہو جائے گا۔
ویسے اس مسئلہ کے اندر دودھ نام کی کوئی چیز موجود نہیں پر پتا نہیں کیوں!!!!!!!!!

ایک چیز جس کی خیال رکھا جائے کہ جب ایک بات ثابت ہو جائے تو اس کو پھر تمام ممبران تسلیم کریں یا دلائل عقلیہ و نقلیہ کی بنیاد پر رد کریں۔ یہ اخلاقیات نہیں کہ جب جواب نہ آئے تو چپکے سے اس تھریڈ سے کسک جائیں۔ اس طرح کی بحث کا پھر کوئی فائدہ نہیں۔
شعبان نظامی آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-12-11), فیصل ناصر (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 06:55 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شعبان نظامی مراسلہ دیکھیں
میرا خیال ہے کہ اس بحث کو مکمل کرنا چاہیے!
ایک مشورہ یہ ہے کہ یزید سے متعلقہ جنتے بھی تھریڈز ہیں ان کو ایک ہی جگہ یکجا کر دیا جائے اور پھر باری باری تمام مسائل کو ڈسکس کر لیا جائے۔

دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بھی ہو جائے گا۔
ویسے اس مسئلہ کے اندر دودھ نام کی کوئی چیز موجود نہیں پر پتا نہیں کیوں!!!!!!!!!

ایک چیز جس کی خیال رکھا جائے کہ جب ایک بات ثابت ہو جائے تو اس کو پھر تمام ممبران تسلیم کریں یا دلائل عقلیہ و نقلیہ کی بنیاد پر رد کریں۔ یہ اخلاقیات نہیں کہ جب جواب نہ آئے تو چپکے سے اس تھریڈ سے کسک جائیں۔ اس طرح کی بحث کا پھر کوئی فائدہ نہیں۔
سوال تو یہ ہے محترم و عزیز بھائی، کہ آخر اس بحث‌کا کچھ فائدہ بھی ہے؟ آپ اپنی توانائیاں‌ایک شخص کو ملعون ثابت کرنے ہی پر کیوں‌لگانا چاہتے ہیں۔ کیا یہ کوئی ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے؟ یا روز محشر، ہمیں‌اس بارے میں‌خدا کو جواب دینا ہوگا؟ اگر ہم اپنے اہداف و مقاصد کا تعین کر سکیں کہ اس بحث سے ہمیں‌ فلاں‌فلاں دنیوی و اخروی فائدے کی توقع ہے تب تو ٹھیک۔ورنہ اس پر بحث سے کسی نتیجہ کی توقع عبث ہے۔
شکاری آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-12-11), فیصل ناصر (13-12-11), سحر (13-12-11), شھزادباجوہ (17-12-11), عبداللہ آدم (15-12-11)
پرانا 16-12-11, 09:34 PM   #10
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,068
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
یزید کے نسبی بیٹے نے تو اپنے باپ کے مخالف ووٹ دیکر امام حسین رضی اللہ عنہ کی جماعت کی پیروی کرلی اور یزید سے اپنی بےزاری کا اعلان کردیا مگر آج یزید کے کئی معنوی بیٹے ایسے بھی ہیں کہ جن کے پیٹ میں آج بھی یزید کی محبت کا اس قدر مروڑ ہے کہ انکو اوپن فورم پر یزید کے حقیقی کردار کی نقاب کشائی بھی قابل برداشت نہیں کردار کشی تو چیزے دگر ۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
بھیا جی آپ نے میرے دل کی بات کر دی
جزاک اللہ خیر
مفتی آف لائن ہے  
پرانا 17-12-11, 01:51 AM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہاں تشریف لائیں
ایک ہی طرح کے دوموضوع ہونے باعث‌ اس تھریڈ کو بند کیا جارہا ہے

یزید کا معاملہ
فیصل ناصر آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-12-11), مرزا عامر (17-12-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
php, کمال, کربلا, گانے, پاک, قرآن, نماز, مکہ, موت, مسجد, مسجد نبوی, آج, اللہ, امیر, حکم, خوش, خان, شخص, شعر, عزت, غلاف, غسل, صاحبزادے, صحابہ, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یزید اور حدیث قسطنطنیہ کی حقیقت طارق راحیل تاریخ و عبر 12 10-02-11 09:41 PM
امریکی خون ریزیاں ALI-OAD اپکے کالم 11 26-09-10 01:06 PM
یزید ثالث بن ولید طارق راحیل سیاست 0 03-01-09 07:05 AM
اردو زبان کی حیرت انگیزیاں champion_pakistani دلچسپ اور عجیب 8 02-11-08 01:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:38 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger