| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||
|
|||||
|
مناظر: 2234
|
|||||
| 8 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), ننھا بچہ (18-12-11), نبیل خان (19-12-11), مفتی (15-12-11), ملک اظہر (13-12-11), ملک زوالفقار (16-12-11), آبی ٹوکول (13-12-11), حیدر Rehan (17-12-11) |
|
|
#2 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے تو عبداللہ بھائی کے مراسلے میں کہیں بھی یزید کی تعریف نظر نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ یزید بہت برا تھا تو آج کے حکمران بہت بہت برے ہیں اور اس میں میرے خیال سے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ اور میرا نہیں خیال کہ اس میں جذباتی ہونے والی بات ہے ۔ یزید کے فوجیوں نے تو تین دن ظلم کیا تھا ہمارے حکمرانوں کی ایماء پر پچھلے 10 سالوں سے یہ ظلم ہورہا ہے کتنی ہی عورتیں غائب ہوگئی جن کا کچھ اتا پتا ہئ نہیں لاپتا افراد کی لسٹ ہی نہیں، ہزاروں پر مشتمل ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ پر ظلم ، کیا یہ ظلم یزیدیوں سے کم درجے پر ہے ؟ لال مسجد واقعہ کیا یزیدیوں کے مقابلے میں کم ظلم ہے ؟ اور بہت کچھ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (13-12-11), قاسمی (14-12-11), محمد عاصم (15-12-11), باغی (17-12-11), حیدر Rehan (17-12-11), رضی (11-12-11) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
نظامی صاحب !
میں ایک کم علم ادمی ہوں، جہاں پر جتنا علم ہوتا ہے، بات کرتا ہوں، جہاں نہیں پتہ ہوتا تو خاموش رہتا ہوں، کسی تھریڈ میں اگر اپ نے مجھ سے بڑی توقعات وابستہ کی ہیں تو یہ اپ کی ذرہ نوازی ہے، میں اس قابل قطعا نہیں ہوں. یزید کے بارے میں اشارتا جو اس کو معاف کرنے کی بات کی تھی اس کے پیچھے اہل سنت کا یہ سوچا سمجھا موقف ہے کہ اس کے لیے نہ تو قربان ہو جانے کی باتیں کی جائیں گی اور نہ ہی اسے لعن طعن ہی کیا جائے گا، ایک حکمران تھا، جیسے کہ مسلمانوں میں گزرے ہیں، یعنی سکوت اختیار کیا جائے. صحیح مسلم اور دوسری کتابوں میں ایک سے زیادہ الفاط کے ساتھ احادیث یہ بتاتی ہیں کہ حکمرانوں کے ظلم و جور پر صبر کرنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم ہے، جب تک وہ کھلے کھلے کفر میں مبتلا نہ ہو جائیں، اور یہی وہ صورت ہے جس میں خروج کی بحث کا آغآز ہوتا ہے. . . .! حجاج بن یوسف پر ہی کیا موقوف آپ تاریخ اٹھا لیں، جو سفاح تھا جس نے سلطنت عباسیہ کی بنیاد رکھی تھی، اس نے کس بے دردی سے وہی سب کچھ کیا تھا جس کا آپ اوپر یزید پر لعنت کرنے کے لیے تذکرہ فرما آئے ہیں، آل محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اس نے جس طرح علی الاعلان اور وعدہ خلافی کرتے ہوئے قتل عام کیا تھا وہ کس سے ڈھکا چھپا ہے؟؟؟ اسی طرح اور مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن آپ ، ہم یا اس دور کے ائمہ کرام ، جیسا کہ اسی دور میں ہمارے امام ابوحنیفہ اور شافعی اور مالک رحمھم اللہ ہوئے، انہوں نے ان حکمرانوں کی مجالس سے علیحدگی ضرور اختیار کی لیکن ان پر تبرا بازی اور لعن طعن بالکل نہیں کیا. برسبیل تذکرہ اب بات آ گئی ہے تو کہتا جاؤں کہ ابن کثیر اور معاصر علماء سے جو بات میں نے نقل کی ہے اس سے آپ نے کوئی تعرض نہیں فرمایا. کیوں؟؟ ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ جذباتی مسائل کو لے کر ہم بہت اگے تک جانے کوتیار رہتے ہیں لیکن توحید سے بڑا مسئلہ کیا ہو سکتا ہے؟؟ توحید عملی کا قیام. . . آج ہمارے دینی رہنماؤں سے لے کر میری اپ کی سطح تک سبھی اس سمت میں اول تو سوچنے کو ہی تیار ہں، اور اگر سوچیں گے بھی تو وہی مناھج جن کو ان کے 200 سال پرانے پیشواؤں نے متعین فرما دیا تھا، ماحول کو مخاطب کرنا اور اس میں توحید عملی کا شعور پھیلانا، ایک فروعی سی بات بن کر رہ گیا ہے، اور فروعی مسائل نے ہمارے اصل الاصول کا درجہ اختیار کر لیا ہے !!! اس لیے ہمیں اپنی حدود و قیود کا خیال رکھنا چاہیے. اللہ ہمیں راہ اعتدال عطا فرمائے. والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), skjatala (12-12-11), محمد عاصم (15-12-11), بلال الراعی (14-12-11), باغی (17-12-11), رضی (11-12-11), سحر (11-12-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس بات پر آپ بالکل بھی بحث نہ کریں کیونکہ امام حسین رضی اللہ عنہ صحابی رسول، جگر گوشہ بتول، راکب دوش نبی اور حسین منی وانا من حسین کے مصداق ٹھہرے۔ یزید کے بارے میں جمہور اہل سنت کا موقف یہی ہے کہ وہ ملعون ہے اور جہنمی ہے۔ اس جو مظالم آل رسول ، نواسہ رسول پر ڈھائے وہ بیان کرتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کا کوئی ایک گناہ ہو تو بتائوں اس نے مکہ و مدینہ کی بے حرمتی کی اپنی رضاعی بہنوں اور مائوں تک سے زنا کاری کا مرتکب ہوا۔ اس قسم کے کام دیکھیں تو بتائیں میں آپ کی پوسٹ پڑھ کر جارحانہ انداز میں بات نہ کروں تو کیا کروں؟ محترم عبد اللہ اٰدم صاحب! آپ یزید کے بارے میں خاموشی تو کم از کم اختیار کریں آپ کو کیا ضرورت پڑی ہے اس کی بخشش کی دعائیں کریں۔گو کہ میرا یزید کے بارے میںموقف دلائل کی بنیاد پر آپ کے موقف کے بالکل برعکس ہے۔ نمونے کے طور پر ایک واقعہ درج کرتا ہوں اگر کہیں تو یہاں ایسے دلائل بھی دیئے جا سکتے ہیں کہ آپ لوگ بھی اسے ملعون و خبیث کہنے پر مجبور ہو جائیں گے؟ یہ اقتباس مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت سے لیا گیا ہے: ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبد اللہ نے ان سے پوچھا: یزید پر لعنت کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں کیسے اس شخص پر لعنت نہ کروں جس پر خدا نے لعنت کی ہے" اور اس کے ثبوت میں انہوںنے یہ آیت پڑھی: فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطوا ارحامکم اوٰلئک الذین لعنھم اللہ۔ (القرآن، محمد( ترجمہ: "پھر تم سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم فرمانروا ہو گئے تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور قطع رحمی کرو گے؟ ایسے ہی لوگ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔" آپ سے مودبانہ گزارش کرتا ہوں کے برائے مہربانی اپنے تھریڈ سے اس قسم کے الفاظ حذف کر دیں۔ Last edited by شعبان نظامی; 11-12-11 at 06:23 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (18-12-11), مفتی (15-12-11), ملک اظہر (13-12-11), ملک زوالفقار (16-12-11), آبی ٹوکول (13-12-11), باغی (17-12-11), حیدر Rehan (17-12-11) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ نے ايك ہي ساتھ كئي مسائل شروع كر ديے۔۔ پہلا مسئلہ: آپ نے يزيد پر لعنت كي ہے۔ يزيد پر لعنت كرنے كے جواز كے بارے ميں، ميرا تھوڑا سا علم اس حوالے سے يہ ہے كہ اس باب حضرا ت اہل سنت والجماعت ميں اختلاف ہے۔ اس اختلافي بحث ميں الجھنے كي مجھے نہ ہي ضرورت ہے۔ اور نہ ہي شوق۔ دوسرا مسئلہ: آپ نے يزيد كے جہنمي ہونے كي ذكر كي ہے۔۔ ۔۔ ميں يہ ضرور جاننا چاہوں گا كہ يزيد كے جہنمي ہونے كے وہ قطعي ثبوت و دلائل آپ كے پاس كون سے ہيں۔ جن كي بنياد پر آپ نے يہ دعوي كيا ہے۔ تيسرا مسئلہ: آپ نے يزيد كے اہل بيت پر مظالم كا چھيڑا ہے۔۔ ميں يہ بھي جاننا چاہوں گا كہ آخر يزيد نے وہ كون سے مظالم كئے ہيں۔ چوتھا مسئلہ : آپ نے يزيد كا اپني رضائي بہنوں اور ماؤں سے زنا كا چھيڑا ہے۔۔ مجھے نہيں معلوم كہ يہ مسئلہ ہے يا الزام ہے۔ يا حقيقت ہے۔ اگر حقيقت ہے تو اس حقيقت كے شرعي دلائل كيا ہيں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), skjatala (12-12-11), مرزا عامر (12-12-11), باغی (17-12-11), سام (20-12-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج كي سچويشن ميں واقعي اگر دم خم ہے تو حضرت حسين رضي اللہ تعالي عنہ كا كردار ہمارے ليے ايك مثالي نمونہ ہے۔۔۔۔
ليكن مسئلہ يہ ہےكہ ہم ميں سے ہر شخص اپنےاپنے ليول كےمطابق سسٹم اور اس سےمتعلقہ افراد سےكمپرومائز كر بيٹھا ہے۔۔۔ہر فرد، جماعت اور تحريك اسي كوشش ميں ہےكہ دوسرےكو اپنے ليول ميں لے آئے۔۔۔أورپھر وہي رام كہاني شروع ہو جاتي ہے۔ |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ میری پوسٹ پڑھیں میں نے کہا یزید پر لعنت کے حوالے سے جمہور کا نکتہ نظر ہےتمام اہل سنت کا تو میں نے کہا ہی نہیں۔ لیکن کسی ایک نے بھی اس کے نام کے ساتھ رضی اللہ یا اس قسم کے کلمات نہیں لکھے کہ اللہ اس کو جنت عطا کرے یا اس کی بخشش کرے۔ نمونے کے طور پر ایک آیت نقل کر رہا ہوں۔ اس پر غور کریں اور پھر بتائیں کہ وہ عذاب مھین کا مستحق ہے یا نہیں۔ ان الذین یو ذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا و الآخرۃو اعدلھم عذابا مھینا۔ ترجمہ:بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو مبتلاء اذیت کرتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ لعنت کرتا ہے اور اللہ نے ان کے لیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ عن أبی هريرة رضي اﷲ عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من أحبهما فقد أحبني و من أبغضها فقد أبغضني يعني حسنا و حسيناً. حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے حسن اور حسین دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مسند احمد بن حنبل، 2 : 28 ![]() عن عمر يعني ابن الخطاب قال رأيت الحسن والحسين علي عاتقي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقلت نعم الفرس تحتکما فقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم ونعم الفارسان حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حسن اور حسین دونوں کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہیں میں نے کہا کتنی اچھی سواری تمہارے نیچے ہے پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاً فرمایا سوار کتنے اچھے ہیں۔ (مجمع الزوائد، 9 : 182) (رواه ابو يعلي في الکبير ورجاله رجال الصحيح) عن أنس قال کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يسجد فيحبئي الحسن و الحسين فيرکب ظهره فيطيل السجود فيقال يا نبي اﷲ أطلت السجود فيقول ارتحلني ابني فکر هت ان اعجله حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت نماز میں سجدے میں تھے کہ حسن اور حسین آئے اور پشت مبارک پر چڑھ گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کی خاطر) سجدہ طویل کردیا (نماز سے فراغت کے بعد) عرض کیا گیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا سجدہ طویل کرنے کا حکم آگیا۔ فرمایا نہیں میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما میری پشت پر چڑھ گئے تھے میں نے یہ ناپسند کیا کہ جلدی کروں۔ (مسند من حديث عبدالله بن شداد، 3 : 495) (مجمع الزواند، 9 : 181) اس اقتباس کو پھر پڑھیے: یہ اقتباس مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت سے لیا گیا ہے: ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبد اللہ نے ان سے پوچھا: یزید پر لعنت کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں کیسے اس شخص پر لعنت نہ کروں جس پر خدا نے لعنت کی ہے" اور اس کے ثبوت میں انہوںنے یہ آیت پڑھی: فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطوا ارحامکم اوٰلئک الذین لعنھم اللہ۔ (القرآن، محمد( ترجمہ: تم سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم فرمانروا ہو گئے تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور قطع رحمی کرو گے؟ ایسے ہی لوگ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔" لگتا ہے آپ نے تاریخ کی کتاب پڑھے بغیر ہی اس موضوع پر تبصرہ کیا ہے۔آپ تاریخ کی کوئی بھی کتاب اٹھا ئیں اور اسے پڑھیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس نے کون کون سے مظالم آل رسول ﷺ پر ڈھائے۔ کیا کربلا کے میدان میں خانوادہ رسول ﷺ کے جگر کے ٹکڑوں کو بے دردی سے شہید نہیں کیا گیا؟ امام حسین ؓ کے سر کو کاٹ کر نیزے پر لٹکایا گیا۔ آپ ؓ کے جسم اطہر پر گھوڑے دوڑائے گیے۔ کربلا کے شہیدوں کے سر نیزوں پر لٹکا کر کوفہ اور دمشق کے بازاروں میں پھرایا گیا۔ خانوادہ رسول ﷺ کی بی بیوں کو قیدیوں کی طرح دمشق کے بازاروں میں پھرایا گیا۔ پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ یزید نے کیا ظلم کیا؟؟؟؟؟؟؟ حیف صد حیف!!! اب میں اس تھریڈکے تمام قارئین کو ایک مخلصانہ مشورہ دوں گا کہ وہ مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت کا بغور مطالعہ کریں اور پھر یزید اور بنی امیہ کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کریں۔ آپ کے کئی مسائل اسی سے حل ہو جائیں گے اور آپ کو کئی سوالوں کا جواب مل جائے گا۔ مجھے ایک سمجھ بالکل نہیں آئی کہ میں تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان بیان کر رہا ہوں کیونکہ وہ خانوادہ رسول ﷺ کے چشم و چراغ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کی شان میں حضور ﷺ کے ارشادات کثرت سے ہیں چند ایک میں اوپر ذکر کر چکا اور یزید کے مظالم کو کنڈم کر رہا ہوں کیونکہ اس نے آل پاک پر مظالم ڈھائے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے آپ سب لوگ یزید کی سائڈ کس بنیاد پر لے رہے ہیں اور خوامخواہ اس ملعون شخص کا دفاع کر رہے ہیں؟ آخر کیوں؟؟؟؟؟؟ Last edited by شعبان نظامی; 12-12-11 at 03:30 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), ننھا بچہ (18-12-11), مفتی (15-12-11), ملک اظہر (13-12-11), ملک زوالفقار (16-12-11), آبی ٹوکول (13-12-11), حیدر Rehan (17-12-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کتاب کا نام: خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت مصنف: حافظ صلاح الدین یوسف ناشر: الکمتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ صفحات : 584 ڈاؤن لوڈ لنک باقی، بات یہ ہے محترم کہ ظلم کرنے والوں میںابو جہل بھی تھا، جو آل بیت سمیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایذا دیا کرتا تھا، لیکن کوئی اسے متعین کر کے کتابوں میں، مضامین اور انٹرنیٹ پر اور ہر سال ماتم کر کے لعن طعن نہیں کرتا۔ جبکہ یزید سمیت ہر وہ شخص جس کا معاملہ ہم پر مشکوک ہے، اس کے بارے سکوت کرنا ہی بہترین بات ہے۔ سیدھی سی بات ہے کسی کو لعن طعن کرنے کے لئے دلیل چاہئے، لیکن کسی کے بارے خاموش رہنے کے لئے کسی دلیل کی حاجت نہیں۔ یہ اہل تشیع حضرات کی پروپیگنڈا مہم کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم اہل سنت بھی اپنے مسلک اعتدال سے ہٹ کر تشدد کی راہ اختیار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ آپ جو احادیثبیان کر رہے ہیں، ان کی یہاںحاجت نہیںہے۔ دیکھئے، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا کیسا ہے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک جہنمی نہیںہوگا؟ لیکن اس عمومی بات کو بنیاد بنا کر اگر کوئی جاہل حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر ان کی آپسی جنگ، جس میں کئی مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوئیں، کی وجہ سے کفر کے فتاویٰلگانے لگ جائے تو آپ اسے کیا کہیںگے؟ بات یہ ہے کہ جس طرح ہم اہل سنت جنگ جمل و صفین پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، یزید کے معاملے میں یہی سکوت کیوںقابل قبول نہیں؟
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شعبان نظامي صاحب معذرت كے ساتھ ايك سوال پوچھ رہا ہوں۔۔ اور مقصد اس سوال كا صرف نقطہ نظر كو سمجھنے ميں آساني كے ليے ہے۔۔۔
كيا ميں پوچھ سكتا ہوں كہ دنيا ميںرائج مسلكوں ميں سے آپكا مسلك كيا ہے؟ آپ كے اس سوال كے جواب كے بعد ميں آپكي اوپر والي پوسٹ كا مطالعہ كروںگا۔ شكريہ |
|
|
| شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | dxbgraphics (13-12-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پہلے تو آپ بتائیے کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟
چلئے آپ کے جواب سے پہلے ہی میں جواب دے دیتا ہوں۔ میں اللہ کو ایک مانتا ہوں، قرآن مجید کو اللہ کی آخری کتاب، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتا ہوں، المختصر میںمسلمان ہوں۔ اٰمنت باللہ و ملائکتہ وکتبہ و رسلہ و الیوم الآخر والقدر خیرہ و شرہ من اللہ تعالیٰ و البعث بعد الموت۔ اٰمنت باللہ کما ھو باسمائہ وصفاتہ قبلت جمیع احکامہ اقرار بالسان و تصدیق بالقلب۔ میں بریلوی نہیں ہوں، دیوبندی بھی نہیں ہوں، وھابی نہیں ہوں۔ آپ کا مسلک سے کیا مراد ہے؟ |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), ننھا بچہ (18-12-11), ملک اظہر (13-12-11), ملک زوالفقار (16-12-11), حیدر Rehan (17-12-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,187
شکریہ: 439
140 مراسلہ میں 371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مگر یہ کتاب میرے پاس پہلے سے ہی موجود ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتائوں کہ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت اپنے پاس سے ہی نہیں جڑ دی۔ انہوں نے انتہائی محققانہ انداز اختیار کیا ہے اور بالکل غیر جانبدار ہو کر لکھا ہے اگر آپ ایک تحقیقی آدمی ہیں اور اسلامی ریسرچ سے آپ کا دور کا بھی واسطہ ہے تو آپ یہ بات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ مولانا نے واقعی غیر جانبدار ہو کر لکھا ہے۔ دوم:آپ نے جس کتاب کا ذکر کیا میں نے اس پر ایک سرسری نظر ڈالی ہے مگر مجھے کہیں بھی علمی اور محققانہ انداز میں یزید کی وکالت نظر نہیں آئی غالبا ایک جگہ پر یزید ملعون کے نام کے ساتھ نعوذ باللہ من ذالک "رح" لکھا ہوا ہے آپ کو کہیں یزید کا دفاع نظر آئے تو اس سلسلے میں ضرور بتائیے گا۔ شاید آپ کی معلومت کم ہیں یا آپ حقیقت سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔خلافت وملوکیت پر اعتراضات کا رد بھی کیا گیا ہے اسے بھی پڑھیئے۔ نام کتاب:"خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ" مصنف : ملک غلام علی اسلامک پبلیشرز لمیٹیڈ پہلی اشاعت: اکتوبر 1972ء آپ نے جو کتاب بتائی وہ 1970ء میں چھپی ہے۔ ذرا تجزیہ کیجئے گا!!!! Last edited by شعبان نظامی; 13-12-11 at 07:35 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), باغی (17-12-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کا مسلک سے کیا مراد ہے؟ Well done
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اہلبیت کی محبت تو ایمان والوں کو فائدہ دے گی یزید کی طرفداری کہیں اس کے ساتھ ہی نہ لے جائے احتیاط چاہیے
دعوٰی اسکے متعلق سکوت کا اور پھر دعائیہ کلمات بھی اس کے لیے عجب منطق ہے مخبر صادق علیہ الصلٰوۃ والسلام کیا فرماتے ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حدثناعمروبن يحيی بن سعيد بن عمروبن سعيد قال اخبرنی جدی قال کنت جالسا مع ابی هريرة فی مسجد النبی صلی الله عليه وسلم بالمدينة ومعنا مروان قال ابوهريرة سمعت الصادق المصدوق صلی الله عليه وسلم يقول هلکة امتی علی ايدی غلمة من قريش فقال مروان لعنة الله عليهم غلمة فقال ابوهريرة لوشئت ان اقول بنی فلان وبنی فلان لفعلت فکنت اخرج مع جدی الی بنی مروان حين ملکوابالشام فاذاراٰهم غلما نا احداثا قال لنا عسیٰ هؤلاء ان يکونوامنهم قلنا انت اعلم۔ ترجمہ: عمروبن یحی بن سعید بن عمروبن سعیداپنے دادا عمروبن سعیدرضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا:میں مدینہ طیبہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا اورمروان بھی ہمارے ساتھ تھا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے حضرت صادق مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کوارشادفرماتے ہوئے سنا:میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔مروان نے کہااللہ تعالی ایسے لڑکوں پر لعنت کرے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں کہنا چاہوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہیں توکہہ سکتا ہوں،حضرت عمروبن یحی کہتے ہیں میں اپنے داداکے ساتھ بنی مروان کے پاس گیا جب کہ وہ ملک شام کے حکمران تھے ،پس انہیں کم عمرلڑکے پائے تو ہم سے فرمایا عنقریب یہ لڑکے اُن ہی میں سے ہوں گے ،ہم نے کہاآپ بہتر جانتے ہیں ۔ شارح بخاری صاحب فتح الباری حافظ احمدبن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (مولود ۷۷۳ ھ متوفی۸۵۲ ھ) مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : وفی رواية ابن ابي شيبة ان اباهريرة کان يمشی فی السوق ويقول اللهم لاتدرکنی سنة ستين ولاامارة الصبيان وفي هذا اشارة الی ان اول الاغيلمة کان فی سنة ستين وهوکذلک فان يزيد بن معاوية استخلف فيها وبقی الی سنة اربع وستين فمات - مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے ہوئے بھی یہ دعاکرتے اے اللہ ! سن ساٹھ ہجری او رلڑکوں کی حکمرانی مجھ تک نہ پہنچے‘‘ اس روایت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلالڑکا جو حکمران بنے گا وہ 60ھ میں ہوگاچنانچہ ایسا ہی ہواکہ یزیدبن معاویہ اسی سال تخت حکومت پر مسلط ہوا او ر 64ھ تک رہ کر ہلاک ہوا ۔ سید الشہداء حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعۂ جانکاہ کی وجہ سے اہل مدینہ یزید کے سخت مخالف ہوگئے تو یزید نے ایک فوج مدینہ طیبہ پرچڑھائی کیلئے روانہ کی جس نے اہل مدینہ پر حملہ کیا اور اس کے تقدس کو پا مال کیا اس موقع پر حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہما نے اہل مدینہ سے روح پرور خطاب کیااور اس میں یزید کی خلافِ اسلام عادات واطوار کا ذکر کیا جیساکہ محدث وقت مؤرخ اسلام محمدبن سعدرحمۃ اللہ علیہ (مولود168ھ ۔متوفی230 ھ)کی طبقات کبری ج 5ص66میں اس کی تفصیل موجودہے اجمعواعلی عبدالله بن حنظلةفاسندواامرهم اليه فبايعهم علی الموت وقال ياقوم اتقوا الله وحده لاشريک له فوالله ماخرجنا علی يزيد حتی خفنا ان نرمی بالحجارة من السماء ان رجلا ينکح الامهات والبنات والاخوات ويشرب الخمر ويدع الصلوة والله لو لم يکن معی احد من الناس لابليت لله فيه بلاء حسنا۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہما نے اہل مدینہ سے تادم زیست مقابلہ کرنے کی بیعت لی او رفرمایا:اے میری قوم ! اللہ وحدہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں ،اللہ کی قسم ! ہم یزید کے خلاف اس وقت اُٹھ کھڑے ہوئے جبکہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے ،وہ ایسا شخص ہے جو ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح جائزقرار دیتا ہے ، شراب نوشی کرتا ہے ،نماز چھوڑتا ہے، اللہ کی قسم !اگر لوگوں میں سے کوئی میرے ساتھ نہ ہوتب بھی میں اللہ کی خاطر اس معاملہ میں شجاعت وبہادری کے جوہر دکھاؤں گا۔ علامہ ابن اثیر (مولود 555 ھ متوفی630 ھ )کی تاریخ کامل51ہجری کے بیان میں ہے وقال الحسن البصری ۔ ۔ ۔ سکير اخميرا يلبس الحرير ويضرب بالطنابير : حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ یزید کے بارے میں فرماتے ہیں وہ انتہادرجہ کا نشہ باز، شراب نوشی کا عادی تھا ریشم پہنتا اور طنبور ے بجاتا۔ علامہ ابن کثیر(مولود 700 ھ متوفی 774 ھ) نے البدایۃ والنہا یۃ ج6ص262میں لکھاہے: وکان سبب وقعة الحرةان وفدامن اهل المدينة قدمواعلی يزيد بن معاوية بدمشق ۔ ۔ ۔ فلمار جعوا ذکروا لاهليهم عن يزيد ماکان يقع منه القبائح فی شربه الخمرو مايتبع ذلک من الفواحش التی من اکبر ها ترک الصلوة عن وقتها بسبب السکر فاجتمعوا علی خلعه فخلعوه عند المنبرالنبوی فلما بلغه ذلک بعث اليهم سرية يقدمها رجل يقال له مسلم بن عقبة وانما يسميه السلف مسرف بن عقبة فلما وردالمدينة استباحها ثلاثة ايام فقتل فی غضون هذه الايام بشرا کثيرا ۔ ترجمہ:واقعۂ حرہ کی وجہ یہ ہوئی کہ اہل مدینہ کا وفد دمشق میں یزید کے پاس گیا ،جب وفد واپس ہواتواس نے اپنے گھر والوں سے یزید کی شراب نوشی اور دیگر بری عادتوں اور مذموم خصلتوں کا ذکر کیا جن میں سب سے مذموم ترین عادت یہ ہے کہ وہ نشہ کی وجہ سے نماز کو چھوڑدیتا تھا ،اس وجہ سے اہل مدینہ یزید کی بیعت توڑنے پر متفق ہوگئے اورانہوں نے منبر نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کے پاس یزید کی اطاعت نہ کرنے کا اعلان کیا ،جب یہ بات یزید کو معلوم ہوئی تو اس نے مدینہ طیبہ کی جانب ایک لشکر روانہ کیا جس کا امیر ایک شخص تھا جس کو مسلم بن عقبہ کہا جاتا ہے سلف صالحین نے اس کو مُسرِف بن عقبہ کہا ہے جب وہ مدینہ طیبہ میں داخل ہوا تو لشکر کے لئے تین دن تک اہل مدینہ کے جان و مال سب کچھ مباح قرار دیاچنانچہ اس نے ان تین روز کے دوران سینکڑوں حضرات کوشہید کروایا ۔ امام بیقہی(مولود384 ھ متوفی458 ھ) کی دلائل النبوۃ میں روایت ہے عن مغيرة قال أنهب مسرف بن عقبة المدينةثلاثة ايام فزعم المغيرة أنه افتض فيها الف عذراء ترجمہ: حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں مسرف بن عقبہ نے مدینہ ٔطیبہ میں تین دن تک لوٹ مار کی اورایک ہزارمقدس و پاکبازان بیاہی دخترانِ اسلام کی عصمت دری کی گئی۔العیاذ باللہ ! جبکہ اہل مدینہ کو خوف زدہ کرنے والے کیلئے حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے مسند احمد، مسند المدنيين میں حدیث مبارک ہے عن السائب بن خلاد ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال من اخاف اهل المدينة ظلماًاخافه الله وعليه لعنة الله والملائکة والناس اجمعين لايقبل الله منه يوم القيامةصرفاولاعدلا ۔ ترجمہ : سیدنا سائب بن خلادرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اہل مدینہ کو ظلم کرتے ہوئے خوف زدہ کیا اللہ تعالی اس کوخوف زدہ کرے گا او راس پر اللہ کی، فرشتوں کی اورتمام لوگوں کی لعنت ہے ، اللہ تعالی اس سے قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عمل قبول نہیں فرمائے گا - (حدیث نمبر :15962)اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس شخص کاکیا انجام ہوگا جو اہل مدینہ کو صرف خوفزدہ وہراساں ہی نہیں کیا بلکہ مدینہ طیبہ میں خونریزی قتل وغارتگری کیا اور ساری فوج کے لئے وحشیانہ اعمال کی اجازت دیدی۔ عن عائشة قالت قال رسول الله صلی عليه وسلم من وقرصاحب بدعة فقد اعان علی هدم الاسلام۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس نے کسی بدعتی کی تعظیم کی یقینا اس نے اسلام کو مہندم کرنے میں مدد کیا ۔(معجم اوسط للطبرانی(مولود260ھ متوفی360ھ باب المیم من اسمہ محمد ،حدیث نمبر:6263) امام بیہقی(مولود384ھ متوفی458 ھ) کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے عن انس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم اذامدح الفاسق غضب الرب واهتزله العرش۔ ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو پر وردگار کا جلال ظاہر ہوتا ہے او راس کی وجہ عرش لرزتاہے۔ (الرابع والثلاثون من شعب الایمان وھوباب فی حفظ اللسان (حدیث نمبر 4692) یزیدکی نسبت امیر المومنین کہنے والے کو بنی امیہ کے خلیفہ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ نے مستحق تعزیر قراردیاہے جیسا کہ فن رجال کی مستند کتاب تہذیب التہذیب ج11 حرف الیاء ص 316میں حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریرفرمایا: ثنانوفل بن ابی عقرب ثقة قال کنت عندعمر بن عبدالعزيز فذکر رجل يزيد بن معاوية فقال قال اميرالمؤمنين يزيد فقال عمرتقول اميرالمؤمنين يزيد وامربه فضرب عشرين سوطا - نوفل بن ابوعقرب فرماتے ہیں ، میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا ایک شخص نے یزید کا ذکر تے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین یزید نے یوں کہا ہے ،حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو یزید کوامیرالمؤمنین کہتا ہے پھر اس شخص کو کوڑے لگوانے کا حکم فرمایا چنانچہ اسے بیس کوڑے لگوائے گئے ۔ یزید کا معاملہ جنگ جمل و صفین سے الگ ہے کہاں ام المومنین رضی اللہ عنہا اور صحابی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہاں بد بخت یزید خدارا ہوش کرویواقعہ کربلا سے ہٹ کر یزید کے چند مزید خصائصِ رزیلہ کو دیکھیں اور پھر بھی شخص کو برا نہ کہیں بلکہ دعائیہ کلمات تک معاذ اللہ کہہ دیں۔ تو اس سے بڑا ظلم اور بغضِ اہلبیت اطہار کیا ہوگا کہ جنہیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتیء نوح کی مانند فرما کر انکی عظمت و اہمیت کو بیان فرمائی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس کی گستاخی یا انکار کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔ جیسا کہ سیدنا علی مرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے کئی ماہ تک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ فرمائی، مگر ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہ ہوا۔ جب غلط فہمی دور ہو گئی تو آپ نے بیعت فرما لی۔ بیعت نہ کرنے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ معاذ اللہ نہ کافر ہوئے اور نہ ہی ان کے خلاف قتال جائز ہوا۔ ادھر آپ کے یزیدہیں کہ ہر وہ شخص جو ان کی بیعت سے انکار کرے اسے زندہ رہنے کا حق ہی نہ دیں۔ قرآن مجید کے اس حکم کے بارے میں آّپ کا کیا خیال ہے جس میں ایک عام مسلمان کو قتل کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب اور لعنت کا ذکر فرمایا: وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء، 4 : 93) ترجمہ: اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے آیتِ کریمہ کی روشنی میں یزید کے بارے میں بآسانی ثابت ہوتا ہے کہ: • مسلمانوں کو عمداً قتل کرانے کی وجہ سے اس کا عذاب دوزخ ہے۔ • ایک مسلمان کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ اب ذرا اپنے اسی یزید کے مزید کرتوت سنیں کہ جس کے بارے میں آپ بہت آرام سے فرما دیتے ہیں کہ “خاموش رہنا بہتر ہے“ جب اس نے گورنرِ مدینہ کو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے بیعت لینے کا حکم دیا تو اس موقع پر ہونے والی شیطانی مشاورت میں کہا گیا کہ اگر وہ یزید کی بیعت پر راضی ہو جائیں تو درست ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ ملاحظہ ہو امام ابن اثیر کی کتاب الکامل: تدعوهم الساعة وتامرهم بالبيعة فان فعلوا قبلت منهم وکففت عنهم وان ابوا ضربت اغناقهم قبل ان يعلموا بموت معاويه. (الکامل لابن اثیر، 3 : 377) ترجمہ: انہیں اسی لمحے بلایا جائے اور انہیں حضرت امیر معاویہ کی موت کی خبر ملنے سے پہلے (یزید کی) بیعت کرنے کا حکم دیا جائے۔ پھر اگر وہ مان لیں تو اسے قبول کر لیا جائے اور انہیں چھوڑ دیا جائے اور اگر وہ انکار کریں تو ان کی گردنیں توڑ دی جائیں۔ اگر واقعہ کربلا (نعوذ باللہ) اتفاقی حادثہ تھا یا معرکہ حق و باطل نہ تھا تو اہل مدینہ نے تو یزید کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تھے، انہوں نے تو اہل بیعت کے قتل اور یزید کے کردار کے باعث محض بیعت سے انکار کیا تھا۔ ان سے قتال کیونکر جائز ہو گیا؟ وقال عبدالله بن وهب عن الامام مالک قتل يوم الحره سبعمائة رجل من حملة القرآن (البدايہ و النہايہ لابن کثیر، 6 : 234) ترجمہ: اور عبداللہ بن وھب امام مالک کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یوم الحرہ کو سات سو ایسے افراد قتل کئے گئے جو حافظ قرآن تھے۔ حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے جرم میں نہ سہی، کیا 700 حفاظ قرآن کے قتل کے جرم سے بھی اسے بری قرار دلوانے کے لیے دشمنانِ اہلبیت اطہار کے راویوں سے روایات نقل کریں گے؟ کیا خدا کا خوف بالکل ہی ختم ہوگیا ؟ • بدبختوں نے حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گھوڑے باندھے۔ • مسلمان صحابہ و تابعین کو شھید کیا۔ • مسلمان خواتین کی عزتیں لوٹیں۔ • تین دن تک مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اذان اور نماز معطل رہی۔ عن سعيد بن مسيب رايتني ليالي الحرة .... وما يتني وقت الصلاة الا سمعت الاذان من القبر. ترجمہ: سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حرہ کے شب و روز مسجد نبوی میں (چھپ کر) گزارے ۔۔۔۔۔ اس دوران میں مجھے صرف قبرِ انور میں سے آنے والی اذان کی آواز سے نماز کا وقت معلوم ہوتا۔ قارئین !یہ سب کچھ جان کر سکوت فرمانا بلکہ اسکے لیےمغفرت کی دعا کرنا سمجھ سے بالا تر نہیں؟
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش Last edited by ملک اظہر; 13-12-11 at 11:20 PM. وجہ: corection |
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (18-12-11), مفتی (15-12-11), موجو (20-12-11), ملک زوالفقار (16-12-11), باغی (17-12-11), حیدر Rehan (17-12-11), شعبان نظامی (14-12-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ارے بھيا صرف اس ليےپوچھا تا كہ بات كرنےاور سمجھنے ميں آساني ہو۔اگر آپ كے سامنے كسي عالم كا قول يا تحقيق پيش كروں تو كيا وہ آپ كے ليے قابل قبول بھي ہو گي يا نہيں۔۔۔ بريلوي، ديو بندي ا ور وہابي نہيں ہيں۔ اچھي بات ہے۔۔۔ كيا آپ شيعہ بھي نہيں ہيں۔؟؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یزید پر لعنت = اہل بیت کی محبت محترم، یزید کے بارے سکوت کوئی ہماری بات نہیں۔ جتنی کاپی پیسٹنگ آپ نے کی ہے اس سے دگنی کاپی پیسٹنگ میں اسلاف میں سے جلیل القدر ائمہ کے اقوال کی پیش کی جا سکتی ہے جنہوں نے یزید کے بارے میں خاموشی کا مشورہ دیا ہے۔ فی الحال صرف امام غزالی رحمہ اللہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں: جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ یزید نے قتل حسین کا حکم دیا تھا، یا اس پررضامندی کا اظہار کیا تھا، وہ شخص پرلے درجہ کا احمق ہے ۔اکابر ،وزراء اور سلاطین میں سے جو جو اپنے اپنے زمانہ میں قتل ہوئے اگر کوئی شخص ان کی یہ حقیقت معلوم کرنا چاہے کہ قتل کا حکم کس نے دیا تھا؟ کون اس پر راضی تھا ؟ اور کس نے اس کو ناپسند کیا ؟ تو وہ ا س پر قادر نہ ہو گا کہ اس کی تہہ تک پہنچ سکے اگرچہ یہ قتل اس کے پڑوس میں اس کے زمانہ میں، اور اس کی موجودگی میں ہی کیوں نہ ہوا ہو تو اس واقعہ تک کیونکر رسائی ہو سکتی ہے جو دور دراز شہروں ،اور قدیم میں گزرا ہو پس کیونکر اس واقعہ کی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے جس پر چار سو برس کی طویل مدت ،بعید مقام میں گزرہو چکی ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس بارے میں شدید تعصب کی راہ اختیار کی گئی اس وجہ سے اس واقعہ کے بارہ میں مختلف گروہوں کی طرف سے بکثرت روایتیں مروی ہیں پس یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی حقیقت کا ہرگز پتہ نہیں چل سکتا او رحقیقت تعصب کے پردوں میں روپوش ہے تو پھر ہر مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا واجب ہے جہاں حسن ظن کے قرائن ممکن ہوں …الخ (وفیات الاعیان لابن خلکان بذیل ترجمہ الکیا الہراسی ص ۴۶۰) آپ ابو حامد الغزالی (۵۰۵ء) کے آخری فقرہ فھذا الامر لایعلم حقیقتہ أصلا پر غور فرمائیں جو انہوں نے آج سے نو سوبرس پہلے سپرد ِقلم کیا تھا ، جب کہ اس وقت بھی واقعہ کی صورت ِکا ذبہ کی تصویر کشی کے لیے وضعی روایات کا انبار موجود تھا ۔ محترم، آپ نے جو ڈھیروں تاریخی روایات پیش کی ہیں۔ اگر ان کی سند کا ہم مطالبہ کر بیٹھیں تب ہی آپ کو معلوم ہوگا کہ اس سب میں سے درست باتیں کتنی ہیں اور غلط کتنی۔ لیکن میرے نزدیک یہ ایک انتہائی فضول بحث ہے ، کہ نہ تو یزید پر ایمان لانے ہی کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے، نہ اس پر لعنت کرنا، تبرا کرنا ہی اہل سنت کا مسلک ہے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد بھی ہے کہ (مفہوم) مومن لعنت ملامت کرنے والا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہم ایک مشکوک شخصیت پر لعنت ملامت کر کے اپنے کمزور سے ایمان پر مزید ایک بوجھ لادنے کے بجائے بہتر سمجھتے ہیں کہ نہ اس پر لعنت کریں، نہ اسے اچھا یا برا کہیں۔ اور قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرمائے گا باقی جس گناہ کو چاہے معاف کر سکتا ہے۔ یزید اگر مشرک تھا، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا تھا تو اس کے حق میں دعا کرنی ہرگز اور بالکل جائز نہیں۔ لیکن جیسے ہم نمازوں میں تمام مومنین کے لئے دعا کرتے ہیں، اگر یزید بھی ان تمام جرائم اور بدکرداریوں کے باوجود توحید پر قائم تھا، تو ہماری دعاؤں میں اس کا حصہ خودبخود اسے ملتا رہے گا، آپ کے یا میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ کسی شخص کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کر سکیں الا یہ کہ اس کے بارے میں اللہ یا اس کے رسول ﷺ نے صراحت کے ساتھ جہنمی یا جنتی ہونے کا فیصلہ کر دیا ہو، جیسے ابو لہب کے جہنمی ہونے کا قرآن نے فیصلہ سنا دیا یا عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کی بشارت اللہ کے رسول ﷺ نے دے دی۔ لہٰذا ہم اپنے اپنے ایمان کی فکر کریں اور بہتر ہے کہ کسی بھی دوسرے مسلمان پر قطعیت کے ساتھ کفر کا فتویٰ ، لعنت ملامت یا تبرا بازی سے پرہیز کریں ، کون جانتا ہے کہ کل کو اسے کیسی موت آنی ہے اور کس حال میں آنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور صراط مستقیم پر قائم رکھے اور جب بھی موت دے تو ایمان کی حالت میں دے۔ آمین یا رب العالمین۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (14-12-11), rana ammar mazhar (14-12-11), فیصل ناصر (14-12-11), ہادی (16-12-11), مرزا عامر (17-12-11), ابن آدم (14-12-11), احمد نذیر (14-12-11), شمشاد احمد (14-12-11), شعبان نظامی (18-12-11), عبداللہ آدم (14-12-11) |
![]() |
| Tags |
| ہوں،, کتاب،, پہلے, ھو, پوچھ, وآلہ, وسلم, قرآن, نبی, مانتا, مجید, محمد, مراد, مسلک, اقرار, اللہ, الرسول, بتائیے, بریلوی, تعالیٰ, تصدیق, جواب, دیوبندی, دیتا, دے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یزید ، ایک تحقیق ایک جائزہ | عارف اقبال | عمومی بحث | 10 | 17-12-11 01:51 AM |
| یزید بن عبدالملک | طارق راحیل | سیاست | 0 | 03-01-09 07:09 AM |
| ولید ثانی بن یزید | طارق راحیل | سیاست | 0 | 03-01-09 07:06 AM |
| یزید ثالث بن ولید | طارق راحیل | سیاست | 0 | 03-01-09 07:05 AM |