|
یوسف کذاب کی صحابیت اور باطنیت:1

30-04-10, 02:10 AM
درجہ بندی:
(1 votes - 4.00 average)
اصل جواب تو اُس مسئلہ کا چاہیے تھا جس پر عدالت میں بے شمار حلفیہ شہادتیں سامنے آئیں (اور جوکہ آج بھی ریکارڈ پر ہیں) کہ یوسف کذاب نے لوگوں کو محمد ﷺ کے دیدار کی تاریخ اور وقت دیا اور بالآخر ”اپنا“ دیدار کرایا، اور کسی ’بے یقین‘ نے متجسسانہ سوال کیا تو اس پر کہا کہ ’ہم ہی تو محمد‘ ہیں۔ (ملاحظہ ہوں عدالت میں پیش ہونے والی وہ گواہیاں جو یوسف کذاب کے قریب رہنے والے لوگوں نے حلفیہ بیان کیں، اور جن کا ریکارڈ آج بھی دستیاب ہیں) کیا یوسف کذاب کے اِس دعوائے ’مظہر محمد ہونے‘ کی بابت بھی اِن صاحب کی طرف سے کوئی وضاحت آئی؟ کوئی ’لعنت‘ اِس حوالے سے بھی ریکارڈ پر ہو؟
نہیں، وہ تو نہایت ”واضح“ کر کے یہی کہے جاتے ہیں کہ وہ ہر جھوٹے نبی پر اور ہر اُس شخص پر جو محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، لعنت بھیجتے ہیں!
اور جو محمد ﷺ ہونے ہی کا دعویٰ کرے....؟؟؟
ہاں، اس بارے میں تو وہ کچھ نہیں کہتے!!!!
یعنی سوال کچھ اور جواب کچھ!
لوگ اور کچھ نہیں کریں گے، ’ذہانت‘ کی داد تو دیں گے!
بخدا ہم بار بار حیران ہوئے۔ لوگوں نے سوال کو اچھا خاصا ”واضح“ کرنے کی کوشش کی۔ ہزارہا انداز میں پوچھنے کے جتن کر ڈالے۔ ہر بار ہم نے سوچا، اب تو سوال اتنا ”واضح“ ہے، آخر کچھ تو جواب آئے گا۔ کبھی خیال آیا، صاحب ”اونچا“ سنتے ہیں، مگر یہ دیکھ کر ڈھارس بندھتی کہ کچھ لوگ تو اب گلا پھاڑ کر ہی پوچھنے لگے ہیں: ’صاحب! یوسف کذاب کے ”محمد ﷺ ہونے کے دعویٰ“ کی بابت آپ کیا فرماتے ہیں، اور اُس کا صحابی یا جانشین ہونے کا کیا ماجرا ہے؟‘ ہر بار امید ہوتی، اب تو ”سوال“ ضرور ہی سمجھ آ گیا ہو گا۔ مگر ادھر شانِ استقامت دیکھتے تو ہر بار حیران رہ جاتے: ’جی ہاں، میں نے بہت واضح انداز میں بیان کر دیا ہے کہ میں ہر جھوٹے نبی پر اور محمد ﷺ کے بعد دعوائے نبوت کرنے والے ہر شخص پر لعنت بھیجتا ہوں۔ یہ وضاحت میں اتنی بار کر چکا ہوں، معلوم نہیں یہ لوگ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘
خدایا! کیا واقعی معلوم نہیں، یہ لوگ ’کیا‘ پوچھنا چاہتے ہیں؟!!
زچ ہو کر آخر تو بولنے اور ’پوچھنے‘ سے چپ ہوں گے ہی!
اور پھر اصل سوال تو ابھی باقی ہے۔ پوچھنے والوں کو اِس بات سے تو کچھ بہت زیادہ غرض نہیں کہ یہ صاحب یوسف کذاب کی بابت اپنا کیا ’عقیدہ‘ بیان کرتے ہیں۔ اِس ٹولے کے زیر استعمال رہنے والی سب تعبیرات اور اصطلاحات دیکھی جائیں تو ”گمراہ فرقوں“ کی تاریخ سے واقف کوئی ادنیٰ درجے کا طالب علم بھی یہ جاننے میں دیر نہ لگائے گا کہ یوسف کذاب اور اُس کے ٹولے کا کیس ”باطنیت“ کا ایک نہایت typical کیس ہے، جو کہ ہر کسی پر اتنا ہی ’راز‘ اِفشا کرتی ہے جتنا ’ہضم‘ کر لینا کسی کے بس میں ہو (پھر بھی کسی کسی وقت ’غلطی‘ ہو جاتی ہے اور ایک ’راز کے ناقابل شخص‘ اُس راز کو بیچ چوراہے کے لا دھرتا ہے اور یوں ’کھیل‘ خراب ہو جاتا ہے! جی ہاں ’کھیل‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت کم لوگوں کی توجہ اِس جانب جا سکی ہو گی کہ یہ باطنیت کا ایک نہایت ’مانوس‘ known قسم کا کیس ہے، جو کہ اِس سے پہلے قرامطہ، نصیریہ اور اسماعیلیہ وغیرہ ایسے ناموں سے ہو گزرے ہیں۔ ”باطنیت“ تو ”باطنیت“ ہے، جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ ”ظاہر“ کچھ ہے تو ”باطن“ کچھ۔ ”ظاہر“ کے پردے میں ”باطن“۔ یعنی سامنے کچھ تو پس پردہ کچھ اور، جو کچھ ’دیدہ وروں‘ سے بہرحال نہیں چھپ سکتا، اور خدا اُن کو معاذ اللہ ہر ’روپ‘ میں نظر آ جاتا ہے! ایک نہایت دلچسپ کھیل جسے باطنیت کے داعی ’آنکھ مچولی‘ کے سے انداز میں جاہلوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ معاذ اللہ، گویا ’صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں‘۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، رب العالمین کے ’روپ‘! زنادقہ کا وہی پرانا موضوع، خدا کو اِسی دنیا میں دیکھنے اور دکھانے کے کاروبار اور دھندے۔ رب العالمین کو یہیں پر دیکھنے اور دکھانے اور ’پہنچنے اور پہنچانے‘ کے وہ سب تاریخی ہتھکنڈے۔ باطنیت کا یہی معروف زندقہ ہمیں اِس ٹولے کے ہاں بھی نظر آتا ہے۔
ہم نے اِس ٹولے کو کسی خصوصی توجہ کے ساتھ موضوعِ مطالعہ نہیں بنایا، پھر بھی چونکہ ”باطنیت“ اور ”گمراہ فرقے“ بطورِ طالبعلم ہمارا ایک موضوع ہے، یہاں پائی جانے والی ایک تصنیف ”فتنۂ یوسف کذاب“ مؤلفہ ارشد قریشی کی بعض عبارتیں ہماری توجہ لئے بغیر نہ رہ سکیں، جن میں سے چند ایک ہم یہاں پر بھی نقل کریں گے:
”اب ذرا یوسف علی کے جانشین (چیلے) مسعود رضا کی تصنیف ”علی نامہ“ ملاحظہ فرمائیں جو اس نے اپنے مرشد (گورو) یوسف علی سے منسوب کی ہے، ”علی نامہ“ کے صفحہ 25 پر سر جاناں کے عنوان سے ایک طویل نظم ہے، اس کے پہلے چار شعر درج ذیل ہیں:
سر موجودات، فخر دو جہاں، یوسف علی
قطب عالم، کرسی عرش و مکاں، یوسف علی
ہے زلیخا وجد میں، ماہ کنعاں بے ہوش ہیں
دیکھ کر جانِ جہاں، جانِ قرآں، یوسف علی
ہیں وریٰ، ثم الوریٰ، ظن بشر سے ماوریٰ
نقطہ ب کا بیاں، رازِ عیاں، یوسف علی
حاصل مے خانہ مستی و ناز و خستگی
اک بشر کے روپ میں رب جہاں، یوسف علی
یہاں یوسف علی مقام نبوت پر ہی نہیں، مقام الوہیت پر بھی براجمان ہے۔ ”نقطہ ب کا بیاں“ سے مراد ”بندے
میں اللہ“ ہے، جسے یوسف علی سر الٰہی کہتا ہے، اور ”سیکرٹ“ رکھتا ہے“
(دیکھئے: ارشد قریشی صاحب کی مذکورہ بالا تصنیف، صفحہ 29، 30)
یوسف علی کی یہ عبارت بھی ”باطنی“ مذہب کا مطالعہ کر رکھنے والے کسی بھی طالب علم کے کان کھڑے کر دینے کیلئے بہت کافی ہے۔
تو حضرات! غور کیا آپ نے؟: ’اِک بشر کے روپ میں ربِ جہاں، یوسف علی‘!
لعنۃ اللہ علی الکافرین
یہاں دعوائے نبوت کی کیا ضرورت ہے؟ ’نبوت‘ تو اب بہت پیچھے رہ جاتی ہے! یہاں تو، معاذ اللہ، عرش پر کمند پھینکی جا رہی ہے! باطنی مذہب اصل میں یہی ہے۔ مسئلہ سارے کا سارا ’پردوں‘ کا ہے، ورنہ تو سب ایک ہی جل تھل ہے؛ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، وہی عرش کے اوپر ہے وہی عرش کے نیچے ہے، وہی ساجد وہی مسجود، وہی عابد وہی معبود، وہی خالق وہی مخلوق، وہی آدمؑ، وہی مسیح بن مریمؑ، اور وہی محمد .... اور معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، آخر میں وہی یوسف علی!!!
كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا
بہت ہی بڑی بات ہے جو اِن کے مونہوں سے نکل آتی ہے، نہیں بکتے یہ مگر ایک بہت بڑا جھوٹ۔
”باطنیت“ کا مطالعہ کر رکھنے والے طالب علم جانتے ہیں، یوسف کذاب کے محولہ بالا افکار عین وہی ہیں، جن سے کام لے کر عیسائیت کی تاریخ میں پال نے دو کام کئے تھے: ایک، مسیح بن مریمؑ کو ”خدا کا مظہر“ اور خدا کا ”جائے حلول“ ٹھہرانا۔ اور دوسرا، دین کو انسان کا خادم ٹھہرا کر ”شریعت“ کی تنسیخ۔ ایسے شخص کے کافر ہونے کیلئے یہ بحث کیا ضروری ہے کہ اُس نے ’دعوائے نبوت‘ کے لئے کونسے لفظ بولے تھے اور کونسے لفظ بولنے سے ’احتراز‘ کیا تھا؟
”باطنیت“ کی کئی ایک سنتیں بھی اِس ٹولے کے ہاں لازماً ملحوظِ خاطر رکھی جاتی ہوں گی، جن میں سے ایک نہایت اہم سنت، کہ جس سے کوئی باطنی تحریک مستغنی نہیں رہ سکتی،
1۔”اِخفاء“ : یعنی اپنی حقیقت کو چھپا کر رکھنا، جس کو باطنیہ کی بعض شاخیں ’تقیہ‘ کے نام سے بھی جانتی ہیں۔ ”اِخفاء“ یعنی اپنی حقیقت پر پردہ ڈال کر رکھنا (اور اس ’پردہ‘ کو صرف ایسے ہی شخص کے آگے اٹھانا جو ’راز‘ کو ’اٹھا‘ سکے) باطنیہ کے دین کا ایک اہم ترین رکن باور ہوتا ہے اور
2۔”اِفشاء“ (اپنی حقیقت اُن ’نا اہلوں‘ پر کھول دینا جو اِس ’قابل‘ ہی نہیں) ایک بدترین گناہ! باطنی کچھ بھی کر لیں گے ”اِفشاء“ کی نوبت نہیں آنے دیں گے۔ یوں یہ اپنے ساتھ لگنے والے لوگوں کو درجہ بدرجہ ’منازل‘ چڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ اِس سارے عمل میں ”اِخفاء“ ہی ان کا اصل طریقۂ واردات ہوتا ہے، جس سے یہ کبھی بھی دستبردار نہ ہوں گے، کیونکہ اِسی سے ہی اِن کی سب کامیابی وابستہ ہوتی ہے۔ مغرب میں ’خفیہ تنظیموں‘ کی صورت میں پایا جانے والا فنامنا، چاہے وہ ’فری میسن‘ ہو یا ’روٹری کلب‘ یا کچھ اور، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے عالم اسلام میں قدیم سے پائے جانے والے ’باطنی‘ فنامنا کے سامنے طفل مکتب بھی نہیں۔ حق یہ ہے کہ مغرب کسی ایک چیز میں بھی خود کفیل نہیں، سب کچھ اُس نے ’ہمارے ہاں‘ سے ہی سیکھ رکھا ہے!
مضمون کافی لمبا ہے جس میں سے وہ لگا دیا ہے جو ابھی شیر نہیں کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے حصے میں صاحب مضمون نے اپنے دوستوں کے حوالے سے زید حامد کی شخصیت کو کم و بیش اسی طرح بے نقاب کیا ہے جسطرح کہ پہلے مولانا جلالپوری شہید کر چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
|
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|