واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


یہودی ان کراچی!!!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-09, 10:47 AM   #1
یہودی ان کراچی!!!!
اخترحسین اخترحسین آف لائن ہے 25-10-09, 10:47 AM

یروشلم پوسٹ“ اسرائیل کا سب سے بڑا اخبار ہے جو دنیا کی 15 مختلف زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ یہ اخبار اتوار سے لے کر جمعہ تک روزانہ شائع ہوتا ہے .... جبکہ ہفتے کا دن چونکہ مذہبی طور پر چھٹی کا دن ہے، اسی لیے اس دن اسرائیل میں کوئی اخبار نہیں چھپتا۔ اس اخبار کی پہلی اشاعت یکم دسمبر 1932ءکے دن ہوئی۔ امریکا کے دوسرے بڑے اخبار ”وال اسٹریٹ جنرل“ کے ایڈیٹر ”ڈیوڈ ہورویٹز“ پہلے یروشلم پوسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ 27 فروری 2009ءکو یروشلم پوسٹ نے اپنے پہلے صفحے پرایک خبر کو نمایاں سرخی کے طور پر پیش کیا۔ ”تعجب! یہودی ابھی تک پاکستان میں“ اخبار نے یہ خبر کراچی سے بھیجی گئی ایک ای میل سے لی تھی۔ یہ میل کراچی میں رہنے والے ایک یہودی ڈاکٹر اسحاق موسیٰ اخیری نے بھیجی تھی۔ اسحاق نے اپنا تعلق یہود کے قبیلہ ”سپہردی“ (Sephardi) سے بتایا۔ سپہردی یہودیوں کا اصل تعلق شمال مغربی یورپ میں ”ایبریا“ نامی علاقے سے تھا جو آج کل اسپین اور پرتگال کے سرحد کے کنارے پر واقع ہے۔ ڈاکٹر اسحاق نے بتایا کہ ایک دن پہلے اس نے اپنے گھر پر ”بار میٹزواہ“ (Bar Mitzvah) کی تقریب ہوئی تھی جس میں اس کے 13 سالہ بیٹے نے تورات پڑھ کر مذہب سے وفاداری کا وعدہ کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ میں اور میرا خاندان کراچی میں بہت خوش ہے اور ہم یہاں بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ سوائے چند ایک کے بہت اچھے ہیں۔ ہم اور ہماری کمیونٹی گھر پر ہی عبادت کرتے ہیں اور کسی تہوار پر کسی ایک یہودی کے گھر اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ میرے تعلق کے یہاں دس سے زائد یہودی خاندان آباد ہیں جو کراچی کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں۔

اسحاق نے اسرائیل جاکر اپنے مذہبی مقامات دیکھنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا اور کہا :” ہم اپنی چھوٹی سی دنیا کو ہی فوقیت دیتے ہیں اور اجنبیت میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمارا سیاس استعمال کرے۔ ہم کراچی میں دو سو سال سے آباد ہیں اور کبھی اسے نہیں چھوڑیںگے۔

ڈاکٹر اسحاق اخیری کی یہ میل پڑھ کر مجھے بھی حیرت ہوئی اور جب میں نے کراچی میں یہودی کمیونٹی کی تاریخ کا مطالعہ شروع کیا تو بہت حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ سن 1881ءمیں صوبہ سندھ میں صرف 153 یہودی آباد تھے۔ 1919ءمیں یہ تعداد بڑھ کر 650 تک پہنچ گئی۔ 1947ءمیں تقسیم سے پہلے صرف کراچی میں 25 سو سے زائد یہودی خاندان آباد تھے ۔جن میں سے اکثر کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ....جو بھارتی صوبہ مہاراشٹر سے نقل مکانی کرکے کراچی آئے تھے۔ ان میں سے اکثر تاجر، شاعر، فلاسفر اور سول سرونٹ تھے جبکہ کچھ یہودیوں کا تعلق بغداد سے بھی تھا۔ دستیاب ریکارڈ اور مختلف ذرائع سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق یہ خاندان مراچی زبان بولتے تھے ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق اسرائیل کے علاقے بین (Bene) سے تھا۔ 1839ءمیں انہوں نے اپنا مذہبی مرکز ”میگن شیلوم“ تعمیر کیا جو 1980ءتک کراچی کے علاقے ”رنچھوڑلائن“ میں قائم رہا۔ 1903ءمیں ”یہودی نوجوان“ کے نام سے ایک تنظیم کا قیام عمل میں آیا ۔جس کا بظاہر مقصد کھیلوں کے علاوہ یہودیوں کی دیگر سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ 1918ءمیں بنی اسرائیل ریلیف فنڈ اور یہودی اسنڈیکیٹ (Karachi Jewish Syndicate) کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد غریب یہودیوں کو انتہائی کم کرائے پر گھر فراہم کرنا تھا۔ یہودیوں کے اس مرکز کی خدمات سے مستفید ہونے والے دو خاندانوں کا تعلق پشاور سے بھی بتایا جاتا ہے۔ کراچی میں یہودیوں کا عمل دخل اس قدر بڑھ گیا تھا کہ 1936ءمیں ان کا ایک لیڈر جس کا نام ابراہیم ریوبن بتایا جاتا ہے، کراچی کارپوریشن کا کونسلر بھی منتخب ہوگیا تھا۔

تقسیم ہند کے بعد 500 کے قریب یہودی خاندان ہندوستان نقل مکانی کرگئے۔ لیکن دو ہزار کے قریب نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ سال 1948ءمیں جب اسرائیل کا عمل میں آیا تو کراچی میں موجود یہودیوں کو مسلمانوں میں پائے جانے والے غم وغصے اور ردعمل کو سہنا پڑا اور کراچی کے باسیوں میں پائی جانے والی مذہبی حمیت کے باعث ان یہودی خاندانوں کا مرکز کراچی میں رہنا محال ہوگیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں یہودیوں کا عمل دخل کم ہونا شروع ہوگیاتھا اور جلتی پر تیل کا کام 1948ئ، 1956ءاور 1967ءکی عرب اسرائیل جنگوں نے کیا۔ ایوب خان کے دور میں بہت سے یہودی خاندانوں نے پاکستان کو چھوڑ دیا اور اسرائیل چلے گئے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی ایک بڑی اکثریت نے ”رملہ“ میں رہائش اختیار کی ہے اور وہاں اپنا مذہبی مرکز ”میگن شیلوم“ (Magen Shalom) کے نام سے تعمیر کیا جس کو باقاعدہ طور پر کراچی کی یاد سے منسوب کیا گیا۔ آج کراچی میں اس جگہ پر ایک تجارتی مرکز قائم ہے۔ یہودی دنیا کی وہ واحد ”غیرت مند“ قوم ہے جو نقل مکانی سے پہلے اپنی ہر چیز کی قیمت وصول کر لینا چاہتی ہے یہاں تک کہ اپنی عبادت گاہیں اور مقدس مذہبی مقامات کو بھی فروخت کردیتی ہے۔

اسرائیل کے قیام کے بعد دنیا بھر کے یہودیوں کو وہاں بسانے کا انتظام کیا گیا اور دنیا بھر میں موجود یہودیوں نے وہاں کا رخ کیا، لیکن اس کے باوجود یہودیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد دیگر اسلامی ممالک میں آباد ہے۔ اسلامی ممالک میں ان کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔ مراکش میں ساٹھ ہزار، ایران میں 25 ہزار، ترکی میں سترہ ہزار چار سو پندرہ، عراق میں ایک سو، شام میں تیس، افغانستان میں 4، تنزانیہ میں پندرہ سو، لبنان میں 40 ،مصر میں 100 جبکہ پاکستان میں دو سو کے قریب ہے۔ یہ اعداد یہودیوں کے سنسر بیورو سے حاصل کی گئی ہیں ۔جبکہ عین ممکن ہے کہ فراہم کردہ معلومات سے زائد تعداد میںیہودی ان ممالک میں مقیم ہوں۔ پاکستان میں ان کی تعداد میں کچھ حد تک اضافہ ہوا ہے اور ان کی یہ آمد 2005ءمیں آنے والے زلزلے کے بعد ہوئی ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے امریکی یہودی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے زلزلے میں ان کی مدد اور تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ یہ یہودی مختلف این جی اورز کے ہمراہ پاکستان آ ئے اور پھر یہیں مقیم ہوگئے۔ آج پاکستان میں سب سے زیادہ یہودی کراچی شہر میں آباد ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت ساحل سمندر کے پاس رہائش پذیر ہیں، جو اسرائیل کے پہلے وزیراعظم اور یہودی تحریک کے سرخیل ڈیوڈ بن گوریان کی نصیحت اور مشورے پر عمل پیرا ہے۔ اس نے 1967ءمیں کہا تھا: ”ہمیں ہمیشہ بھارت کو اپنا دوست رکھنا ہوگا کیوں کہ پاکستان کے خلاف کام کرنے کے لیے بھارت ہمیں ایک مرکز کا کام دے گا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ بھارت میں یہودیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہو اور ان کا پاکستان کے ساتھ رابطہ نہ ٹوٹے۔ اس کے لیے انہوں نے پاکستان سے بھارت جانے والے یہودیوں کو بھارت میں بسانا شروع کردیا اور اس مقصد کے لیے کراچی کا ساحل استعمال کیا گیا۔ یہ روٹ ان کے لیے گلف ریاستوں اور ایران تک رسائی کے علاوہ بھارت پہنچنے کا راستہ تھا۔

یہودیوں کے اس خفیہ راستے کو 2000ءمیں ایران نے دریافت کرلیا اور اس پر مکمل پہرہ بٹھا دیا۔ جس کے نتیجے میں وقتی طور پر ان کا یہ سمندری راستہ تو بند ہوگیا مگر بھارت کے ساتھ تعلقات کبھی سرد مہری کا شکار نہ ہوئے۔ آج ممبئی حملوں کو کئی مہینے گزر چکے ہیں مگر ساحل سمندر، بحیرہ عرب کے علاوہ ”سمندری روٹ“ کی بات ختم ہونے کو نہیں آرہی۔ مغربی میڈیا کی تان بار بار سمندری روٹ پر جا کر ٹوٹی ہے۔ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل جو بھارت کا قدرتی حلیف بن چکا ہے۔ اس وقت کوئی اور خطرناک کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ آج کراچی میں موجود زیادہ تر یہودی اپنے آپ کو پارسی ثابت کرتے ہیں تاکہ یہودیوں کی سازشوں کے خلاف مسلمانوں میں پائے جانے والے ردعمل سے بچ سکیں۔ زیادہ تر پارسی پراپرٹی اور بلڈرز ہیں۔ میوہ شاہ قبرستان (کراچی) میں موجود یہودی لیڈر ”سولیمن ڈیوڈ“ کی قبر پر ویرانی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاید اب یہودی اس شہر سے جاچکے ہیں ....لیکن دوسری طرف جب 82سالہ بوڑھی یہودی خاتون رچل جوزف کو سندھ ہائی کورٹ کی سیڑھیوں پر چلتے دیکھا جائے تو 1980ءمیں بیچے گئے ”میگنی شیلوم“ کو دوبارہ آباد کرانا چاہتی ہے تو اس شہر میں یہودیوں کا عمل دخل اور وجود پھر سے جنم لیتا محسوس ہوتا ہے۔ اسرائیل جیسا ملک ہونے کے باوجود جو بنا ہی ان یہودیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھا، اسے چھوڑ کر اپنے نظریاتی حریف پاکستان کے فنانشل کراچی میں رہنا اور اسی شہر میں آئے دن حالات کا بگڑنا، لسانی فسادات کی آڑ میں ان دیکھی قوتوں کا فائدہ اٹھا کر ملک کو کمزور کرنا، ان تمام باتوں کے تانے بانے کہیں نہ کہیں ضرور ملتے ہیں اور یہی کراچی کو درپیش اصل خطرہ ہے۔

 
اخترحسین's Avatar
اخترحسین
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
شکریہ: 4,903
809 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 391
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-11-09), shafresha (25-10-09), یاسر عمران مرزا (25-10-09), محمد یاسرعلی (07-08-11), مسافر (25-10-09), Wahid Mahmood (07-11-09), ابو عمار (21-11-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (25-10-09)
پرانا 25-10-09, 10:57 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اور ان کی یہ آمد 2005ءمیں آنے والے زلزلے کے بعد ہوئی ہے۔
بے شک۔ زلزلہ بھی تو انہی کی ٹیکنالوجی "ہارپ" کا کمال تھا۔
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا
مسافر (25-10-09)
پرانا 25-10-09, 06:18 PM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اخترحسین بھائی السلام علیکم،
بہترین مواد کی شئیرنگ پر شکریہ قبول فرمائیے!
میری درخواست ہے کے برائے اس تحریر کا ماخذ بھی بتا دیں!
ایک بار پھر شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-11-09), عبداللہ خراسانی (10-11-09)
پرانا 25-10-09, 08:14 PM   #4
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,309
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت سے چشم کشا معاملات سے پردہ اٹھایا گیا ہے
مسافر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مسافر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عبداللہ خراسانی (10-11-09)
پرانا 25-10-09, 08:48 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہترین مواد کی شئیرنگ پر شکریہ
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-09), راجہ اکرام (05-11-09)
پرانا 26-10-09, 08:53 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

افسوس ناک مواد ہے۔
پاکستانی دوسرے مذاہب کے لئے دل میں کوئی جگہ رکھتے ہیں؟

کیا پاکستانیوں کو دنیا بھر کے ممالک سے جمع کرکے واپس پاکستان بھیج دینا چاہئے؟ یا ان کی املاک چھین کر ، دہشت زدہ کرنا چاہئیے کہ وہ واپس پاکستان جانے پر مجبور ہوجائیں؟

کیا پاکستانی عیسائیوں اور یہودیوں کے دشمن نہیں، ان کے ساتھ مساوی سلوک کیوں‌نہ کیا جائے؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-10-09, 12:15 PM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
افسوس ناک مواد ہے۔
پاکستانی دوسرے مذاہب کے لئے دل میں کوئی جگہ رکھتے ہیں؟

کیا پاکستانیوں کو دنیا بھر کے ممالک سے جمع کرکے واپس پاکستان بھیج دینا چاہئے؟ یا ان کی املاک چھین کر ، دہشت زدہ کرنا چاہئیے کہ وہ واپس پاکستان جانے پر مجبور ہوجائیں؟

کیا پاکستانی عیسائیوں اور یہودیوں کے دشمن نہیں، ان کے ساتھ مساوی سلوک کیوں‌نہ کیا جائے؟

السلام علیکم،

نہیں جناب --- پاکستانیوں کو جمع کر کے نہیں بلکہ مسلمانوں کو

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-11-09), فاروق سرورخان (26-10-09), راجہ اکرام (05-11-09)
پرانا 27-10-09, 11:19 AM   #8
Senior Member
 
غلام مجتبی جان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: Islamabad
مراسلات: 330
کمائي: 5,524
شکریہ: 605
259 مراسلہ میں 659 بارشکریہ ادا کیا گیا
غلام مجتبی جان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،

نہیں جناب --- پاکستانیوں کو جمع کر کے نہیں بلکہ مسلمانوں کو

والسلام

طاہر

طاہر بھائی لکھ روپے کی بات کی ہے۔
غلام مجتبی جان آف لائن ہے   Reply With Quote
غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (05-11-09)
پرانا 27-10-09, 11:22 AM   #9
Senior Member
 
غلام مجتبی جان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: Islamabad
مراسلات: 330
کمائي: 5,524
شکریہ: 605
259 مراسلہ میں 659 بارشکریہ ادا کیا گیا
غلام مجتبی جان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہودی ہمارے کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ان کو جس قدر موقع ملے گا یہ ہمیں نقصان ہی پہنچائیں گے۔
غلام مجتبی جان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-11-09), فاروق سرورخان (27-10-09), راجہ اکرام (05-11-09)
پرانا 05-11-09, 08:51 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
افسوس ناک مواد ہے۔
پاکستانی دوسرے مذاہب کے لئے دل میں کوئی جگہ رکھتے ہیں؟

کیا پاکستانیوں کو دنیا بھر کے ممالک سے جمع کرکے واپس پاکستان بھیج دینا چاہئے؟ یا ان کی املاک چھین کر ، دہشت زدہ کرنا چاہئیے کہ وہ واپس پاکستان جانے پر مجبور ہوجائیں؟

کیا پاکستانی عیسائیوں اور یہودیوں کے دشمن نہیں، ان کے ساتھ مساوی سلوک کیوں‌نہ کیا جائے؟
میرے خیال میں‌ یہاں‌ یہودیوں کی بات ہو رہی ہے اور ان کا ملک اسرائیل ہے،
اگر وہاں پاکستانی اتنے مزے تو کیا صرف رہ بھی رہے ہیں تو آپ جا کر ان کو واپس پاکستان آنے پر مجبور کر دیجئے۔
امریکہ کی حمایت تو سمجھ میں آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اسرائیلی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمانی۔۔چہ معنی دارد
__________________
محتاج اصلاح و دعا


Last edited by راجہ اکرام; 05-11-09 at 09:00 PM.
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-11-09), Wahid Mahmood (21-11-09)
پرانا 05-11-09, 10:34 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خیالات کی اس بے ہنگم پرواز پر ایک عدد مبارک باد آپ کی نذر۔

پاکستانی یہودیوں کا اسرائیل سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ہندوستان کے مسلمانوں کا پاکستان سٹیٹ ڈپارٹمنٹ‌ سے۔۔۔۔

پاکستانی یہودیوں کے بارے میں یہاں دیکھئے۔

History of the Jews in Pakistan - Wikipedia, the free encyclopedia

بنیادی طور پر کسی بھی ریاست میں مذہبی بنیادوں پر استحصال ایک رکیک اور گری ہوئی حرکت ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-11-09, 11:20 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پاکستانی یہودیوں کا اسرائیل سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ہندوستان کے مسلمانوں کا پاکستان سٹیٹ ڈپارٹمنٹ‌ سے۔۔
وضاحت درکار ہے۔۔۔یہودیوں کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے تعلق کا ذکر تو کہیں نہیں ہوا۔۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-11-09, 09:00 AM   #13
Senior Member
 
Wahid Mahmood's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,990
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باخدا ایک اور محاذ مت کھولیے
Wahid Mahmood آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-11-09, 10:26 AM   #14
Senior Member
 
غلام مجتبی جان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: Islamabad
مراسلات: 330
کمائي: 5,524
شکریہ: 605
259 مراسلہ میں 659 بارشکریہ ادا کیا گیا
غلام مجتبی جان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Wahid Mahmood مراسلہ دیکھیں
باخدا ایک اور محاذ مت کھولیے
لگتا ہے یہودیوں سے بہت ڈرتے ہیں آپ؟
غلام مجتبی جان آف لائن ہے   Reply With Quote
غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا گیا
Wahid Mahmood (21-11-09)
پرانا 21-11-09, 09:15 AM   #15
Senior Member
 
Wahid Mahmood's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,990
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈرنا صر ف اللہ کی ذات سے جس کے ہاتھ ميں سب كي جان ہے اور موت برحق ہے ايك دن مقرر ہےليكن

فاروق سرورخان

کیا پاکستانیوں کو دنیا بھر کے ممالک سے جمع کرکے واپس پاکستان بھیج دینا چاہئے؟ یا ان کی املاک چھین کر ، دہشت زدہ کرنا چاہئیے کہ وہ واپس پاکستان جانے پر مجبور ہوجائیں؟
Wahid Mahmood آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کورٹ, کراچی, پاکستان, پسند, وزیراعظم, لوگ, مکمل, ممکن, معلوم, آج, ایران, اسلامی, خوش, خلاف, خبر, دریافت, راستہ, زندگی, شہر, شام, عبادت, غم, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger