واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-06-07, 06:00 PM   #1
’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 23-06-07, 06:00 PM

جب بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو آرمی چیف آف اسٹاف جنرل پرویز مشرف فوجی بغاوت کے راستے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر خود چیف ایگزیکیٹو بن کر بیٹھ گئے (یعنی وایا ٹرپل ون برگیڈ اور کراچي کور کے دستوں کی توسط سے، (پھر ہوا عزیز ہموطنو اسلام علیکم!) تب امریکی حکومت، امریکی میڈیا اور یہاں انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے اچھے خاصے حصے نے بھی پاکستان میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف دن دہاڑے فوجی بغاوت اور اس کے سرغنہ لیڈرکمانڈو جنرل پرویز مشرف کو ہرگز قبول نہیں کیا تھا۔
فوجی بغاوت کے دوسرے روز تیرہ اکتوبر کو اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کا اداریہ تھا: ’پاکستان میں خطرناک فوجی بغاوت‘۔

انتہائي باخبر امریکی صحافی بوب ووڈ وارڈ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نواز شریف حکومت اور کلنٹن انتظامیہ کے درمیان اسامہ بن لادن کی زندہ گرفتاری مردہ دستیابی کے لیے چھ سو پاکستانی کمانڈوز کی تربیت و تعیناتی ہو رہی تھی کہ جنرل مشرف کے ہاتھوں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں اگر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ نہ الٹا ہوتا تو شاید دنیا کافی حد تک رہنے کی جگہ ہوتی۔

ظاہر ہے یہ سب کچھ اچانک اور ایک ہی دن تو نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی نواز شریف کو کسی نجومی نے بتایا ہوگا کہ بارہ اکتوبر کو ان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے اور نجومی کی بات کو سچ ثابت کرنے کیلیے نواز شریف نے اسی دوپہر اپنے چيف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرکے ان کی جگہ اپنی برادری کے جنرل ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے قریبی سٹور سے پھول (پپز) منگوا کر انکے کاندھوں پر سجادیے تھے اور نہ ہی فقط اسی دن کولمبو سے واپسی پر اپنے چیف صاحب کو ہوا میں معلق پاکر کور کمانڈروں نے سول اقتدار پر ہلہ بول دیا۔ اس شب خون کا منصوبہ کئي مہینوں پر محیط ہوگا۔

نواز شریف حکومت کیخلاف نجومی ٹائپ صحافیوں نے تو فوجی بغاوت کیلیے پیش گوئیاں فروری انیس سو نناوے سے ہی شروع کردی تھیں۔ کہتے ہیں کور کمانڈرز تو پڑھے لکھے جنرل جہانگیر کرامت کے ہی دنوں سے ’کامران تیار‘ بیٹھے تھے۔

نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گيا تو جنرل پرویز مشرف کو اس کی حمایت امریکہ سمیت کسی بھی مغربی ملک سے نہیں مل سکی۔ نواز شریف کی اس وقت کی کابینہ کے اراکین میں سے مشاہد حسین، چودھری نثار علی، پرویز رشید اور صدیق الفاروق جیسوں کی لاپتہ رکھنے کی پالیسی پر امریکی انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش پائي جاتی تھی۔

فروری اور مارچ دو ہزار میں آزاد ہیومن رائٹس واچ اور امریکی محکمۂ خارجہ کی یکے بعد دیگرے آنے والی رپورٹوں میں بھی پاکستان میں مشرف حکومت کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔

چيف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو فوجی کرنل کے ہاتھوں اپنی سرکاری رہائشگاہ پر روکے رکھے جانے سے لے کر جنرل مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت ججوں کے حلف اٹھانے تک اور مسلم لیگ نواز شریف کے فیصل آباد سے منتخب رکن پنجاب اسمبلی رانا ثناء اللہ کو فوجی چھاؤنی میں بیس کوڑے مارنے سے لے کر ڈھرکی سندھ کے ہندو پنچایت کے صدر مکھی ناموں مل پر فوجیوں کے ہاتھوں تشدد اور گرفتاری تک اور عام لوگوں پر بجلی کے بلوں کی وصولی کے نام فوج اور رینجرز کے انسانیت سوز تشدد کے متعدد کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔


جب مارچ دو ہزار میں صدر بل کلنٹن نے جنوبی ایشیا کا دورہ کیا تو وہ پاکستان میں صرف چند گھنٹے تک رکے تھے لیکن بغاوت کے ذریعے بر سر اقتدار آنیوالے فوجی سربراہ پرویز مشرف نے مختصر ملاقات کی اور پھر پاکتسانی قوم کو جمہوریت کے بارے میں لیکچر دیا۔

انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون اور اکنامسٹ جیسے امریکی اور یورپی پرنٹ میڈیا کے ذرائع سمیت کئي اخبارات اور جرائد نے صدر پرویز مشرف پر اداریے و مضامین شائع کیے تھے جن میں پاکستان میں مشرف حکومت کا تصور ایک ٹن پاٹ ڈکٹیٹر کا ہی تھا۔

کوئی بھی ذہین و باضمیر آدمی مشرف حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں کا زیادہ دیر تک محمد علی درانی جیسا سفید پوش لاؤڈ سپیکر نہیں بن سکتا تھا تب تو جاوید جبار جیسے وزیر اطلاعات نے بھی استعفی دے دیا تھا۔

مشرف فوجی حکومت امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری میں اکیلی رہ گئي تھی۔ ایسے اکیلے پن کو قدرے دور کرنے اور بین الاقوامی تائيد حاصل کرنے کی کوشش میں مشرف حکومت نے، امریکی صحافی سٹیو کول کے مطابق، امریکی حکومت کو ایک خط لکھ کر سرد جنگ کے دنوں سے کمیونزم کیخلاف پاکستان کے ایک اہم امریکی حلیف ہونےاور پرانی دوستی کی یاد دہانی بھی کروائی۔

صدر بش امریکہ میں صدارت کا عہدہ سنبھال چکے تھے لیکن تب تک انکے لیے پرویز مشرف کے نام کے ہجے اور تلفظ اتنا مشکل تھا جتنا پاکستان کے مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں ٹریفک پولیس والوں کیلیے مستنصر حسین تارڑ کا، اور یہ پاکستانی ’گائے‘ ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے یا فوجی بغاوت کے ذریعے؟ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک کوئیز میں جارج بش یقین سے نہیں بتا سکے تھے۔

ابھی امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری میں صدر مشرف کے پاکستان میں سویلین اقتدار پر شب خون اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی بیخ کنی پر تنقید و تبّرے اور پاکستانی فوجی جنتا کی تنہائی جاری تھی کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ پر دہشت گردانہ حملے ہوگئے۔

گیارہ ستمبر جیسی امریکی اور انسانی ٹریجڈی کو جنرل مشرف اور اس کی فوجی جنتا نے اپنے اقتدار کے دوام اور مضبوطی کیلیے استعمال کیا۔ مجھے انکی کتاب میں ان کے لڑکپن کے زمانے میں ناظم آباد کراچی کی گلیوں کا دادا بننے اور ایف سی کالج لاہور کے دنوں میں انتخابات کوجوڑ توڑ کر کے اپنے حق میں کردینے والی باتیں یاد آتی ہیں۔ گویا کہ پورا ملک ناظم آباد کی گلی ہے اور یہ اسکے دادا بنے ہوئے ہیں۔

لیکن نو مارچ کو چیف جسٹس کی معطلی انجام دینے کے بعد وہ پھر امریکہ سمیت پاکستان سے باہر وہیں آکر کھڑے ہیں جہاں وہ بارہ اکتوبر انیس سو نناوے اور اسکے بعد کھڑے تھے۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر مشرف۔

عالمی برادری کی نظروں میں بیرون ملک مشرف کی ’اینلائٹنڈ موڈریشن‘ کا رنگ اترنے لگا ہے۔ اس فوجی جنرل کی لبرلزم وہی ہے جو بہت سے پاکستانی مردوں کی گھر سے باہر ہوتی ہے: گھر کے اندر وہ بیوی بچوں کیلیے ایس ایچ او (تھانیدار) اور باہر بڑے اینلائیٹنڈ موڈریٹس بنے ہوتے ہیں! یہی کچھ جنرل مشرف پاکستان کے اندر عوام و خواص کے ساتھ کررہے ہیں۔ چیف جسٹس کے اترنے سے فوجی جنرل کے سارے کپڑے بھی اتر گئے۔
جیسے منگل کو ’نیویارک ٹائمز‘ نے ’پاکستان کا ڈکٹیٹر‘ کے عنوان سے اپنے پہلے اداریے میں لکھا ’جنرل مشرف کے جمہوری ہونے کے دعووں کو کوئی بھی شخص اب سنجیدگی سے نہیں لے رہا سوائے بش انتظامیہ کے‘۔

اب امریکی میڈیا، سول سوسائٹی اور کچھ قانون سازوں کا ایک اچھا خاصہ لیکن انتہائی بااثر حصہ پاکستانی جمہوریت پسندوں اور وکلاء کے ساتھ کھڑا ہے۔ جو کہ انتہائي خوش آئند بات ہے اور یقیناً پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے لڑنے والوں کیلیے بہت حوصلہ افزا بھی۔

لیکن مشرف نو مارچ دو ہزار سات کو بھی اتنے ہی آمر تھے جتنے بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو تھے۔ کہتے ہیں: ’گھوڑے کے دن، جیسےابتدائی ویسے ہی آخری‘ اور یہی کہاوت ڈکٹیٹروں پر بھی راس آتی ہے۔


بی بی سی


 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 436
Reply With Quote
پرانا 23-06-07, 07:25 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,194
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘

بہت اچھے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-06-07, 02:31 AM   #3
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘

ویسے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ’گھوڑے کے دن، جیسےابتدائی ویسے ہی آخری‘
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-07-07, 05:48 PM   #4
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,194
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘

محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-07-07, 09:20 AM   #5
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,639
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ’آمریت اور گھوڑوں کا انجام‘

پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, کالج, کراچی, ٹریفک, پھول, پولیس, پاکستان, پاکستانی, وزیر, نواز شریف, نثار, منصوبہ, مزاحیہ, آدمی, اللہ, انتظامیہ, امریکہ, اسلام, بچوں, جواب, خون, خوش, خلاف, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزیراعظم کی طرف سے این آر او زدہ لوگوں کو سرکاری عہدے چھوڑنے کی ہدایت جاویداسد خبریں 1 26-09-10 12:17 PM
ملتان:پیر کے ہنگاموں کے بعد پولیس کے چھاپے، مالکان کی اکثر یت روپوش عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 09:17 AM
::: ڈنمارک کے کچھ سائسندانوں نے نیلے رنگ کی ایک تتلی (ایلکن بلو) کی چیونٹیوں کو دھوکہ دیکر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت کا بغور م ابو کاشان کھیل اور کھلاڑی 0 07-01-08 12:24 AM
ہنگاموں کے دوران قیدیوں کا فرار، جیلرز سمیت 157 پولیس افسران معطل، مقدمات درج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:00 AM
ڈرا کیلئے نہیں صرف جیت کیلئے میدان میں اتریں گے،یونس خان،کپتانی سے بھاگتا ہوں یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 08-12-07 08:13 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:40 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger