واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


’بھولا اور پولا‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-09-07, 12:42 PM   #1
’بھولا اور پولا‘
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 17-09-07, 12:42 PM

بھولا دل کا برا نہیں لیکن شروع سے اس کی عادت ہے کہ کرتا پہلے ہے سوچتا بعد میں ہے اور سوچنے کے بعد بھی وہی کرتا ہے جو پہلے کرکے پچھتا چکا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ قسمت کی دیوی بھولے پر بری طرح عاشق ہے۔
مثلاً اب سے اٹھائیس برس قبل جب شہر کے لوگ بھولے کو محض ایک خوشحال کاروباری کے طور پر جانتے تھے۔ بھولے کو سیاست میں آنے کا شوق چرایا اور اس نے بلدیاتی انتخاب سے اپنی طویل اننگز کا آغاز کیا۔ بھولے نے خود کو ایک سیاسی شخصیت کے طور پر پہچنوانے کے لیے اخبارات میں اپنے بارے میں رنگین سپلیمنٹ شائع کروائے۔ بھولے کی خوش قسمتی کہ آمرِ وقت کو خود کو اخلاقی سیاسی جواز دینے کے لیے تازہ نئے چہرے درکار تھے اس لیے بھولے کے مقدر کے ساتوں دروازے یکے بعد دیگرے کھلتے چلے گئے اور پھر کونسلر بھولے نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔

بھولے کے جہاندیدہ ابا نے اپنے بچوں کے لیے مستقبل کا جو نقشہ تیار کیا تھا وہ اتنا بڑا تھا کہ بھولا تنِ تنہا اس میں رنگ نہ بھر سکتا تھا۔ چنانچہ ابا نے بھولے کے برادرِ خورد پولے کو بھی بڑے بھائی کی ہمہ وقت مدد پر مامور کردیا۔ کچھ ہی عرصے میں بھولے اور پولے کی جوڑی ہٹ ہوگئی۔ اسٹیبلشمنٹ کو اس جوڑی کی صورت میں دو تازہ دم نئے گھوڑے اور بھولے اور پولے کو دوڑنے اور چرنے کے لیے ایک نیا، وسیع اور سر سبز میدان مل گیا۔ دونوں نے بہت کم عرصے میں خود کو جغادری کھلاڑیوں سے نہ صرف منوا لیا بلکہ بہتوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔

بس یہی وہ گھڑی تھی جب بھولے اور پولے کو یقین ہونا شروع ہوا کہ میدان میں اب ان کے سوا کوئی نہیں ہے اور وہ جہاں تک اور جب تک چاہیں دوڑ سکتے ہیں۔

پھر وہی ہوا جو ضرور ہوتا ہے۔ بھولے اور پولے نے اپنا دربار بنا لیا جو درباری نہ بنا اسے جوتے پڑنے لگے اور تو اور ! انہوں نے ایسے لوگوں سے بھی پنگا لینا شروع کردیا جو بھولے اور پولے کی جڑوں سے پوری طرح واقف تھے۔ بھولے کو یہ بتایا گیا کہ خدا نے دراصل اسے قوم کی رہنمائی کے لیے اکبرِ اعظم یا شاہجہاں کے روپ میں پھر سے اتارا ہے۔

چنانچہ جب بھولے کا نشہ ٹوٹا تو اس نے خود کو پولے کے ہمراہ ایک ننگے ٹھنڈے فرش والے کمرے میں پایا جس کا ایک ہی دروازہ تھا اور وہ بھی لوہے کی موٹی موٹی سلاخوں والا۔ بھولا اور پولا گھبرا گئے اور اس کمرے سے چھٹکارا پانے کے لیے انہوں نے اپنے تعلقات کو آخری سطح تک استعمال کرلیا۔

چند روز بعد بھولے اور پولے کو جب تازہ ہوا لگی اور ان کے اوسان بحال ہوئے تو انہیں پھر سے پرانے سنہری دنوں کی یاد گدگدانے لگی۔ ان کا جی چاہنے لگا کہ جمہوری جدوجہد وہیں سے شروع کی جائے جہاں سے وہ یہ جدوجہد ٹھنڈے فرش والے کمرے میں چھوڑ آئے تھے۔

لیکن بھولے اور پولے کو یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ اس دوران پل کے نیچے سے بہت سا سیاسی اور بین الاقوامی پانی گزر چکا ہے۔ جو اپنے تھے وہ پرائے ہوچکے ہیں۔ اب کوئی کسی کے منہ میں نوالہ بنا کر نہیں ڈالتا۔اب تو اپنی روٹی اپنے ہی توے پر پکانی پڑے گی۔ سیاست کی تیز دھوپ میں میثاقِ جمہوریت کی نقل سے سر کو ڈھانپ کر، مفادات کے چپل پہنے بغیر غیر یقینی مستقبل کے صحرا میں جانے کب تک چلنا پڑے گا۔

منڈیلا کو منڈیلا بننے کے لیے ستائیس برس طویل قید خانہ پار کرنا پڑا تھا۔
بھولا اور پولا تو صرف سات برس میں ہی گھبرا گئے۔

بی بی سی
وسعت اللہ خان

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 265
Reply With Quote
جواب

Tags
قید, لوگ, اللہ, بھائی, بچوں, خدا, دل, سیاست, شہر, صحرا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تین پٹھانوں کے پولٹری فار م تھے انسپیکشن میں انسپکٹر نے پوچھا The Great قہقہے ہی قہقے 6 29-08-11 11:26 AM
قذافی کے اقتدار نہ چھوڑنے پر عوام مزید مشتعل، وزیرداخلہ اور کئی سفیر ساتھ چھوڑ گئے گلاب خان خبریں 7 24-02-11 09:20 PM
ایک بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا پولیس والے نے اسے روتے دیکھا تو پوچھا “تمھاری ماں کی پہچان کیا ہے“ بچے The Great قہقہے ہی قہقے 1 28-01-11 02:55 PM
پولیس، پولیٹیکل پارٹیز اور پارلیمنٹ کرپشن میں سرفہرست گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:40 AM
دھونی کیجانب سے کپتانی چھوڑنے کی پیشکش ، بھارتی کرکٹ بورڈ کی تردید تفسیر حیدر کرکٹ 0 22-11-08 07:52 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:40 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger