)پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بڑی جنگیں لڑی گئیں اور ان جنگوں کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے قیدی بھی رہا کر دیئے مگر1965 کی جنگ کے 18 بدقسمت پاکستانی فوجی افسر اور جوان آج بھی بھارت کی مختلف جیلوں میں آزادی کے منتظر ہیں‘پاکستان اور بھارت دو پڑوسی جو کبھی ہوتے ہیں دوست اور کبھی خطرنا ک دشمن، کبھی تو ہوتے ہیں ثقافتی طائفوں کے تبادلے اور کبھی ہوتی ہیں خون ریز جنگیں۔ رپورٹ کے مطابق تقسیم ہند کے بعد جنگ کشمیرہو یا1965 کا بھارتی حملہ، 1971کی بھارتی مہم جوئی ہو یا جنگ کارگل، ہر موقعے پر ایسی جنگیں ہوئیں کہ جنہوں نے جنگ عظیم کے المیے کی یاد تازہ کردی۔پاکستانی فوجیوں نے بہادری کی وہ داستانیں رقم کیں کہ جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔مگر ان معرکوں میں بعض اوقات کچھ فوجی ہوجاتے ہیں دشمن کے ہاتھوں گرفتار اور اپنے ملک سے دور جیلوں اور خصوصی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبورجاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی پاکستانی فوجی جوان پینسٹھ کی جنگ میں بدقسمتی سے گرفتار ہوگئے، جنگ کے بعد تاشقند میں دونوں ملکوں کی قیادت بیٹھی اور فیصلہ ہوا کہ دونوں ملک گرفتار قیدیوں اور قبضہ کئے گئے علاقے چھوڑ دیں گے اور ایسا ہوا بھی مگردرجن بھر پاکستانی قیدیوں کی قسمت میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا معلوم نہیں جان بوجھ کر یا انجانے میں ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا وہ دن گنتے رہے کہ کب ان کی قسمت جاگے گی اور وہ اپنے گھر جاسکیں گے۔ دن، مہینوں اور سالوں میں بدلتے رہے مگرنہ بدلی تو ان کی قسمت اور ان کے گھروں میں ان کا انتظار کرنے والی آنکھیں بھی آخر تھک گئیں۔پینسٹھ ، اکہتراور کارگل کی جنگوں کے بعد دونوں ملکوں کے ماہرین کی ٹیموں نے دونوں جانب جیلوں کے سروے بھی کئے کہ کہیں کوئی جنگی قیدی تو اب تک قید نہیں لیکن بھارتی جیل میں قید ان اٹھارہ پاکستانی قیدیوں تک کسی کو رسائی نہ ملی اب سالوں بعد پاکستانی سیکورٹی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میجر، کیپٹن، لیفٹیننٹ، سیکنڈ لیفٹیننٹ اور حوالدار رینک کے درجن سے زائد فوجی جنگ 65 کے بعد سے اپنی رہائی کے منتظر ہیں۔ ان گزرے پینتالیس سالوں میں کتنی باروہ امید اور ناامیدی کی کیفیت سے دوچار ہوئے ہوں گے اور اب تو انہیں مایوس ہوئے بھی کئی عشرے گزرچکے ہیں پاکستان میں موجود ان کے کچھ رشتے دار کبھی کبھار اپنے طور پر معلومات کرلیتے ہیں۔ پچھلے دنوں بھی ایک جنگی قیدی کے رشتے داروں نے اس سلسلے میں دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے اپنے قیدی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اب ذمے داری آتی ہے دونوں جانب کی حکومتوں پرکہ وہ چوالیس سال سے بھارتی جیل میں موجود پاکستانی جنگی قیدیوں کو رہائی دلائیں تاکہ وہ جاسکیں اپنے والدین کی قبروں پر جو ان کا انتظارکرتے کرتے اس دنیا سے چلے گئے اور مل سکیں اپنے بچوں سے جو اب خود بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہوں گے۔
عنوان کی تصیح
اردو پواینٹ