واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali Khan

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-07-07, 03:18 AM   #1
FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali Khan
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 15-07-07, 03:18 AM

دوستو جس کتاب کا تذکرہ میں نے کچھ عرصہ قبل فورم کے ممبران سے کیا تھا اس کا Preface یا تمہید میں نے ترجمہ کرلیا ہے۔ امید ہے آپ پڑھ کر مسرور ہونگے۔ گو کہ کتاب ایک بہترین دوست ہوتی ہے اور یہ کتاب بھی سچائی کو عیاں کرتی ہے لیکن میں نے اس کتاب میں بیان کیے گئے ثبوت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھے اس لئے اس بُک میں‌ موجود مواد کو میری ذاتی سوچ نہ سمجھا جائے۔

شکریہ
جوزف بروسٹر
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تمہید
یہ کتاب مخصوص حالات کے دوران لکھی گئی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دو بار جیل میں قید کے دوران میرے پاس وقت تو تھا لیکن مطالعاتی مواد تک رسائی نہیں تھی جو کہ ایک کتاب لکھنے کے لیے ضروری تھی۔ بھٹو کے دوران میں قیدِ تنہائی کے دوران مجھے اپنے خیالات لکھنے کے لیے قلم نہ مل سکا۔ تاہم، چند ایک کتب کی مدد سے میں نے تصویر کا وہ رخ دکھانے کی کوشش کی جو کہ اب تک نظرانداز کردیا گیا تھا۔ یہ ایک قابل رحم صورتحال ہے کہ حکومتِ وقت دانستہ طور پر لوگوں کو تصویر کا ایک رخ دکھا رہی ہے جبکہ دوسرے کو لوگوں کی پہنچ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان تاریخ میں چھیڑ چھاڑ اور تبدیلی کرنے کے عزم اور عوام کو صرف تصویر کا ایک پہلو دکھانے کے عزم پر قائم ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی فیصلوں کے لیے مذہبی جواز پیدا کر سکے۔ ان سب باتوں کا مقصد تھا کہ عوام کو ایک ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کردیا جائے جہاں وہ ہر چیز کو باآسانی نظر انداز کرسکے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ حقیقی واقعات کی بجائے من گھڑت قصوں کو تاریخ بنایا جا رہا تھا۔کبھی کبھار میرے ذہن میں یہ خیال آتا تھا کہ یہ سارا نظارہ ایک ایسی عدالت کا ہے جہاں بولنے اور ثبوت پیش کرنے کی اجازت صرف سرکاری وکیل کو ہی دی گئی ہے جبکہ مدعا علیہ کو بولنے اور اپنا دفاع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ مدعا علیہ کے ہاتھ اور پائوں کاٹ دیے گئے ہوں اور اس کے ہونٹ سی دیئے گئے ہوں اور اس کا قلم چھین لیا گیا ہو۔ کیا اسے انصاف کا گھر کہا جاسکتا ہے؟

ان حالات نے مجھے تاریخ کے حقائق ریکارڈ کرنے، چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو دستاویزی شکل دینے پر مجبور کردیا تاکہ، کم از کم، ہمیں نہیں تو ہماری آنے والی نسلوں سے سچائی دور نہ رہے۔ میں، ہمارے سیاسی نظریات کی سچائی کو بیان کرنا چاہتا تھا۔ سیاسی کارواں کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے، اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر، میں نے یہ ضروری سمجھا کہ میں اپنے ملک کے لوگوں کو بادشاہ خان کی خدائی خدمتگار تحریک کی سچائی اور اس کی تحریک آزادی سے آگاہ کروں۔ میں نے اس سلسلے میں دستاویزی ثبوتوں کے طور پر کئی کتب اور یادداشتوں کا سہارا لیا ہے تاکہ میں اپنے بیانات کو صحیح ثابت کرسکوں۔ اور، اپنے ذہن اور سیاسی بیک گرائونڈ کی بناء پر، میں امید کرتا ہوں کہ، میں نے پشتو کہاوت کی حقیقت کو صحیح ثابت کردیا ہے جس کے تحت اگر آپ کوئی ایسی چیز دیکھیں جو گول ہو، پیلے رنگ کی ہو اور ذائقہ میں ترش یا کھٹی ہو تو وہ یقیناً گریپ فروٹ ہوگا۔

ذوالفقار بھٹو کے دور میں ایک عرصے تک جیل میں رہنے کے بعد میں لندن پہنچا۔ پہلے تو میرے ساتھ جو طبی مسائل تھے ان کے حل کے لئے میں نے برطانوی ہسپتال میں علاج کرایا۔ وقت ملا تو کتب کی چاہ نے مجھے لائبریریوں کی طرف کھینچا۔ جلد ہی مجھے کچھ ٹاپ سیکریٹ اور انتہائی خفیہ دستاویز لندن کے انڈیا آفس لائبریری میں مل گئیں۔ برطانوی قوانین کے مطابق، تیس سال گزرنے کے بعد ہر خفیہ دستاویز عوام کی پراپرٹی بن جاتی ہے لہٰذا عوام کے انہیں پڑھنے یا فوٹو کاپی / زیراکس بنوانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اس کتاب کو لکھنے کے لیے میں کافی عرصے تک ٹھوس شہادتوں کی تلاش میں تھا اور مذکورہ بالا دستاویز ملنے پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہر شخص اس بات سے اتفاق کرے گا کہ بادشاہ خان کی سیاست اور خدائی خدمتگار تحریک برطانیہ کے گوشت میں کانٹا چبھنے کے مترادف تھی۔ برطانیہ اپنی سلطنت بچانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھا اور اس مقصد کے لیے یہ ضروری تھا کہ اندرونی طور پر جاری تحاریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔

برطانیہ پر یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ انڈین نیشنل کانگریس اندرونی تحاریک آزادی کی حمایت کر رہی تھی۔ کانگریس ملک کے تمام مذاہب، جن میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور پارسی شامل تھے، کی نمائندہ جماعت تھی، ہر کوئی اس کی رکنیت باآسانی حاصل کرسکتا تھا۔ برطانیہ کی پالیسی یہ تھی کہ کانگریس کا اثر توڑنے کے لیے برصغیر میں موجود دوسری تحاریک کو مضبوط کیا جائے۔دوسری طرف اہم چیز بھارت کا قدرتی طور پر اسٹریٹجک جگہ پر واقعہ ہونا تھا جس کے تین اطراف میں بڑے سمندر تھے جبکہ ایک طرف سے ہمالین رینج کے پہاڑ۔ ملک میں زمین کے راستے داخل ہونے کے لیے قدرتی طور پر بنے ہوئے چند ہی راستے تھے۔ یہ راستے ملک کو سویت یونین سے جوڑ دیتے تھے جو کہ اصل خطرہ تھا۔ اس وقت سب سے زیادہ تنقید خدائی خدمتگار تحریک پر کی جا رہی تھی کیونکہ تحریک چلانے والوں نے برطانیہ اور اس کی حکمت عملی کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تھا۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہمیں اینگلو رشین (برطانیہ اور روس) کے تعلقات کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے میں نے اپنی ریسرچ محکمہ خارجہ امور کی دستاویز کا جائزہ لینے کے ساتھ شروع کی۔
1917میں جب روسی انقلاب کی شروعات ہوئی تو دنیا ایک نظریاتی ریاست کا مشاہدہ کر رہی تھی، برطانوی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی تھی کہ روس کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو کم کیا جائے۔ معمول کے مطابق انڈیا میں برطانوی وائسرائے ہر ہفتے ایک رپورٹ بنا کر بھارتی امور کے برطانوی وزیر خارجہ کو لندن بھیجا کرتا تھا۔ جس کے جواب میں مذکورہ وزیر خارجہ بھارت سے متعلق برطانوی پالیسی ایک مخصوص کوریئر سروس کے ذریعے وائسرائے کو بھیجتا تھا۔ اس حوالے سے میری شدید خواہش تھی کہ کاش مجھے اس خط و کتابت کے سلسلے کی کاپیاں مل جائیں تو میرا مسئلہ حل ہوجائے۔ یہ وہ خط و کتابت تھی جو کہ روسی رہنما لینن کے مرنے کے بعد بھارت میں متعین وائسرائے اور برطانوی وزیر خارجہ کے درمیان ہوئی تھی۔ اس خط و کتاب میں برطانیہ روس اور انڈیا سے متعلق اپنی پالیسیاں ایک براعظم سے دوسرے براعظم منتقل کرتا تھا۔

بالآخر مجھے اس سلسلے کی کاپیاں مل گئیں اور ان دستاویز میں مجھے جو کچھ بھی ملا وہ میرے لیے انتہائی حیران کن تھا۔ مجھے ان دستاویز میں برطانیہ کی خارجہ پالیسی کی ساتھ ساتھ بھارت کے اندرونی معاملات کا وہ جائزہ بھی ملا جو برطانیہ نے لیا تھا۔ میں نے اپنے آبا و اجداد کے ان الزامات کو کبھی درست نہیں مانا تھا کہ برطانیہ اپنی پالیسیوں کے فروغ کے لیے کیا کیا طریقے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا ہے۔ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ بادشاہ خان کی انگریزوں کی جانب نفرت ایک حاسدانہ جذبے کے تحت ہے لیکن بعد میں یہ نظریہ تبدیل ہوگیا۔ بھارت برطانیہ پر الزام عائد کرتا تھا کہ اس نے اپنی پالیسیوں کے فروغ اور علاقائی تسلط برقرار رکھنے کے لیے نسلی نفرت پھیلائی ہے۔ میں اکثر و بیشتر یہ سنتا رہتا تھا کہ انگریز ایسے حرامزادے کتے ہیں جنہوں نے ان کو 100 سال تک کھلانے والے کے ہاتھ پر کاٹا ہے۔ ایسی اور کئی باتیں تھیں جو کہ میں اپنے آبائو اجداد سے سنتا رہا ہوں۔

مجھے یہ تو پتا تھا کہ بادشاہ خان اور کانگریس کی باتوں میں کم سے کم تھوڑی بہت سچائی تو ضرور ہوگی لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ ان کی باتیں مکمل سچ تھیں اور ایسا سچ جو بہت ہی بھیانک اور کڑوا تھا۔ انگریزوں کی حرکات و اقدامات ہماری سوچ سے بھی کہیں بھیانک تھے۔ جسے میں تھوڑا بہت سچ سمجھتا تھا وہ برطانیہ پہنچ کر اور ان خفیہ دستاویزات کو دیکھ کر میرے دماغ کا پردہ ہٹ گیا کیونکہ ان دستاویزات پر یقین کرنے کے سب سے اہم ترین وجہ یہ تھی کہ ان پر برطانوی حکومت کی مہر لگی ہوئی تھی۔ دنیا کی عظیم ترین لائبریری میں موجود ان دستاویزات پر بھارت میں متعین وائسرائے اور بھارتی امور کے لیے برطانوی وزیر خارجہ کے دستخط بھی موجود تھے۔ ان دستاویزات کے سچے اور صحیح ہونے کے لیے اور کیا ثبوت پیش کیے جا سکتے ہیں؟

میں ان دستاویزات کو ایسے دیکھنے لگا جیسے مجھے ان پر یقین ہی نہیں۔ میں ان حقائق پر یقین نہیں کر پا رہا تھا جو میری آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ ان کاغذات کو پڑھتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ میں ان کو نہ پڑھنے پر مجبور ہو جاتا اور کافی پینے اور اپنا دھیان بٹانے کے لیے کہیں چلا جاتا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مجھ میں سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ خیر شیطان نے جس طرح یہ کام انجام دیا اس پر اسے داد تو دینی ہی پڑے گی، برطانوی لوگوں میں وفاداری کا جذبہ اتنا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے مفاد پر ہی آکر ختم ہوجاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان دستاویزات میں ہر وہ بات ظاہر کردی گئی جو کبھی راز ہوا کرتی تھی۔ انہیں اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کہ اگر یہ دستاویزات کبھی انڈین عوام کے ہاتھ لگ گئیں تو کیا ہوگا اور ان کے نام نہاد لیڈروں کے چہروں سے نقاب ہٹ جائے گا اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن لوگوں کو وہ مذہبی رہنما یا سچا رہنما سمجھتے ہیں دراصل وہی ملک کی سالمیت کا سودا کرنے پر تلے ہوئے تھے اور ملک کے حقیقی دشمن، برطانوی ایجنٹ اور غدار تھے۔ برطانیہ کی ایمانداری نے ان تمام چیزوں کو نہیں چھپایا۔

1922سے لے کر 1942ء تک بھارتی امور کے برطانوی وزیر خارجہ اور بھارت میں متعین وائسرائے کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا جائزہ لینے کے بعد مجھے یہ پتا چلا کہ جو اس حوالے میری اپنی ذاتی تحقیق تھی وہ لا حاصل تھی۔ جو دستاویزات میں اب پڑھ رہا تھا ان میں انڈیا سے متعلق برطانوی پالیسی کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ موجود تھا اور ہر طرح کے شکوک و شبہات ختم ہوچکے تھے۔

جس بات سے مجھے شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا وہ تھا ملک کے لیڈروں کا اصل کردار۔ سب سے زیادہ بدعنوانی کے مرتکب مسلم لیگی رہنما تھے۔ بادشاہ خان اور کانگریس نے ان کے اوپر جو الزامات عائد کئے تھے وہ تو اصل الزامات کا معمولی حصہ تھے۔

ان دستاویزات کے مطالعے کے بعد میں نے آخر فیصلہ کرلیا۔ میری اس کتاب کا مقصد بادشاہ خان اور ان کے پیرو کاروں کی تحریک کا ایماندارانہ جائزہ پیش کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جو دستاویزات مجھے ملی ہیں وہ انمول ہیں۔ دستاویزات میں موجود حقائق دشمنوں، خصوصاً ان کے چہروں سے نقاب ہٹانے کے لیے کافی ہیں جنہوں نے اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کو فروغ دیا۔ میرا مقصد کسی کی تضحیک نہیں بلکہ ہماری تحریک کی سچائی بیان کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کو سچ تک کبھی رسائی نہیں دی گئی۔ میں اس گندی سیاست کو روکنا چاہتا ہوں۔ سچ کو چھپانے کے لیے چاہے کوئی بھی ہتھکنڈے استعمال کر لیے جائیں لیکن سچائی تاریخ کی شکل میں سامنے آ ہی جاتی ہے اور وقت نے اس بات کو صحیح ثابت کر دکھایا ہے۔

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ دستاویزات دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ آخر لوگ کس طرح جھوٹ بول کر کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی کہ اگر ایسے بدعنوان لوگوں کو برطانیہ کی ہی حمایت کرنی تھی تو وہ کھل کر کرتے، آخر انہوں نے اسلام کو کیوں استعمال کیا۔ میری کتاب میں بیان کیے گئے واقعات کئی ایسے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کرے گی جنہیں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ جیسا کہ برطانوی ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ "دس از جسٹ ٹو پُٹ دی ریکارڈ اسٹریٹ" میں یہ ضروری نہیں سمجھتا کہ میں قارئین کو اپنے سیاسی نکتہ نظر سے آگاہ کروں لیکن میں یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ جن دستاویزات کو بنیاد بنا کر میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں وہ لندن کی انڈیا آفس لائبریری کا حصہ ہیں۔ جس شخص کو بھی میری کتاب جھوٹی لگے یا ان میں موجود حقائق بے بنیاد معلوم ہوں تو وہ مذکورہ لائبریری کا دورہ کرکے تصدیق کرسکتا ہے۔ اس دوران میں اپنے بیانات کو سچا اور صحیح ثابت کرنے کی کوشش کروں گا۔

"تبصرہ آزادی سے کیا جاسکتا ہے لیکن حقائق، حقائق ہوتے ہیں"

میں نے اصل میں یہ کتاب پشتو میں لکھی ہے جس کا ترجمہ میری اہلیہ نسیم نے اردو میں کیا ہے اور اب یہ کتاب انگریزی شکل میں آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس حوالے سے مجھے ڈاکٹر سیدہ سیاالدین حمید کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے میری تحریر کا بڑی خوبصورتی سے ترجمہ کیا ہے۔


ولی خان
جولائی 12، 1987
ولی باغ، چارسدہ
ضلع پشاور

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 950
Reply With Quote
پرانا 15-07-07, 02:52 PM   #2
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali Khan

اسلام علیکم ،
جوزف بھائی آپ کو دوبارہ دیکھ کربہت اچھا لگا ۔ سب سے پہلے تو میں آپ کو آپکی گزری ہوئی سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں میں آپ کو آپ کی سالگرہ کے دن پر مبارکباد دینا چاہتا تھا لیکن آپ آیئے نہیں اس دن ۔ خیر اب کتاب کی طرف واپس آتا ہوں۔

پہلی قسط پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ مجھے اس کی دوسری قسط کا شدت سے انتظار رہے گا۔
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC]
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-07-07, 03:14 PM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,193
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali Khan

واہ جوزف بھائی بہت اچھے۔ آپکو میری طرف سے بھی گذری ہوئی سالگرہ بیت بیت مبارک ہو۔


پہلی قسط بہت اچھی ہے اب دوسری کا انتظار رہے گا
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-07-07, 05:57 PM   #4
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,361
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali

اور جوزف بھائی کافی زبردست ترجمہ کیا ہے آپ کی اہلیہ نے میں آپ سے درخواست کروں گا کہ ان کو بھی ہمارے اس فورم پر لائیں
اور اس کتاب کی دوسری قسط کا شدت سے انتظار رہے گا
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-07-07, 11:46 PM   #5
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,639
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali

جوزف بھائی میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے پہلی قسط ہمارے ساتھ شئیر کی .اپنی طبعیت کے بارے میں بھی بتائے گا کہ کیا حال ہے آپ کا؟؟؟؟؟؟؟؟
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-07-07, 11:48 PM   #6
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali Khan

قدوس بھائی میرے

یہ ترجمہ جوزف بھائی کی اہلیہ نے نہیں‌کیا
اگر آپ غور سے پڑھے تو مصنف کہ رہے ہیں کہ ان کی اہلیہ نے ترجمہ کیا تھا۔ جیسا کہ جوزف بھائی نے پہلے ہی بتایا ہے کہ اس کتاب پر پابندی ہے پاکستان میں اس لیے وہ انگلش ورژن کا اردو میں‌ترجمہ کر رہے ہیں‌پھر سے
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-07-07, 02:11 PM   #7
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,361
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali

اچھا معزرت چاہوں گا پڑھنے میں پریشانی ہوئی تھی کیوں کہ بنا چشمہ کے پڑھا تھا
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-07-07, 04:00 AM   #8
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,368
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali Khan

بھائیو اور بہنو!!! کتاب کا پہلا باب بہت ہی بڑا ہے۔ مصروفیات کے باوجود میں تھوڑا بہت وقت نکال کر ترجمہ کرتا جا رہا ہوں۔ امید ہے جلد ہی دوسری قسط پیش کرونگا۔ مزید برآں کہ اس بات کی تصدیق کردوں کہ کتاب کا ترجمہ ولی خان صاحب کی اہلیہ نسیم نے کیا ہے میں تو ابھی آزاد ہوں۔ مجھے مقید / شادی شدہ نہ سمجھا جائے۔ کنوارے کو شادی شدہ سمجھنا کنوارے شخص پر ظلم کے مترادف ہے۔ امید ہے میری بات سے آپ متفق ہونگے۔ جلد ہی دوسری قسط کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ

مخلص،
جوزف بروسٹر
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-07-07, 07:47 AM   #9
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,361
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : جوزف بروسٹر
بھائیو اور بہنو!!! کتاب کا پہلا باب بہت ہی بڑا ہے۔ مصروفیات کے باوجود میں تھوڑا بہت وقت نکال کر ترجمہ کرتا جا رہا ہوں۔ امید ہے جلد ہی دوسری قسط پیش کرونگا۔ مزید برآں کہ اس بات کی تصدیق کردوں کہ کتاب کا ترجمہ ولی خان صاحب کی اہلیہ نسیم نے کیا ہے میں تو ابھی آزاد ہوں۔ مجھے مقید / شادی شدہ نہ سمجھا جائے۔ کنوارے کو شادی شدہ سمجھنا کنوارے شخص پر ظلم کے مترادف ہے۔ امید ہے میری بات سے آپ متفق ہونگے۔ جلد ہی دوسری قسط کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ

مخلص،
جوزف بروسٹر
جی بہت شکریہ اور دوسری بات جو آپ نے کہی کہ کنوارے کو شادی شدہ کہنا ظلم ہے تو میں‌آپ سے متفق پوں‌اس سلسلے میں
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-07-07, 06:09 PM   #10
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul Wali

میں نے تو پہلے ہی واضع کر دیا تھا جوزف بھائی
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-08-07, 08:40 PM   #11
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,368
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائیو اور بہنو!
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جس کتاب کا ترجمہ میں آپ کی خدمت میں پیش کرنے والا تھا اس کا پہلا باب مکمل ہوچکا تھا لیکن کمپیوٹر کے وائرس کی وجہ سے میری تمام کی تمام فائلیں بمعہ نہایت اہم دستاویزات ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔ میں انتہائی شرمندہ ہوں کہ اپنا کام بوقت مکمل نہ کرسکا۔ امید ہے جلد ہے دوبارہ آپ کی خدمت میں‌ حاضر ہوجائوں گا۔ تب تک میری چھوٹی موٹی کنٹری بیوشنز جاری رہیں گی۔

اللہ حافظ
جوزف بروسٹر
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-08-07, 08:48 PM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جوزف بھائی اگر اپ مناسب سمجھیں تو فائلز کی رپیر کے لیے اپ ایک ادھ فائلز کو زپ کر کے مجھے بھیج دیں‌میں‌دیکھتا ہوں اگر کچھ کیا جا سکا تو۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-04-08, 05:47 AM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: FACTS ARE FACTS - The Untold Story of India's Partition By Khan Abdul

شیخ ہمدان اسی بارے میں ایک لمبی مدت کے بعد دوبارہ خیال آیا ہے کیا اپ ابھی بھی اس کام کو مکمل کرنا چاہ رہے ہیں؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
birthday, facts, india, فورم, پاکستان, وزیر, قید, مکمل, اللہ, انگلش, اردو, اسلام, بھائی, تلاش, جھوٹ, جیل, جواب, جلد, حال, خان, درخواست, ذوالفقار علی بھٹو, سودا, سالگرہ, شخص


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
facts Mohsin Nawaz گپ شپ 0 15-11-08 01:57 PM
khan sahib کامی007 قہقہے ہی قہقے 3 16-05-08 01:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger