واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


The Month, again

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-07, 11:36 PM   #1
The Month, again
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 05-12-07, 11:36 PM

“دو باتوں کی وجہ سے احساس ہوتا ہے کہ آج کل رمضان ہے،” عمران کہہ رہا تھا، “ایک تو یہ کہ پیاس لگتی ہے۔ دوسری یہ کہ گھر والے ہر روز گھر سے باہر نکال دیتے ہیں کہ جا، نماز پڑھ کے آ۔”

وصی کے لئے البتہ صرف پیاس کا احساس رمضان کی موجودگی کی علامت ہے۔ پانچ وقت کا نمازی تو وہ پہلے سے ہی ہے۔ بلکہ اُس کا تو مسئلہ ہی شاید یہ ہے کہ وہ پانچ وقت کا نمازی ہے۔ اکثر ہمیں ہانک کر مسجد لے جانے کا سہرا بھی اُسی کے سر ہے۔

پیچھے رہ جاتا ہوں میں۔ اور اپنے بارے میں اب کیا بتاؤں، آپ خود سمجھدار ہیں۔

رحمتوں کے اِس مہینے میں میرا سب سے بڑا مسئلہ مَیں خود ہوتا ہوں۔ جب کبھی مَیں کوئی ایسا کام کرنے لگتا ہوں جس سے ذرا بھی ثواب ملنے کی امید ہو تو نجانے کہاں سے سعادت صاحب میرے سامنے ظاہر ہوتے ہیں اور میری طرف اشارہ کر کے ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر بے نیازی کا عالم یہ کہ لاکھ استفسار کرو، اُن کے منہ سے ہنسی کے علاوہ کچھ نکلتا ہی نہیں۔ کچھ دیر کھڑے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہیں، پھر میرے اوپر لعنت بھیج کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ مَیں بیچارہ سر کھجاتا رہ جاتا ہوں کہ آخر یہ ہوا کیا؟ رہا معاملہ اُس ذرا سے ثواب والے کام کا، تو مَیں بس نیت ہی کے ثواب پر صبر شکر کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔ اللہ نے توفیق دی تو کسی دن نیت پر عمل بھی ہو جائے گا۔

میرا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت ڈرپوک ہوں۔ مجھے اس بات سے نہایت خوف آتا ہے کہ میرے باطن کی وحشتیں اگر منظرِ عام پر آ گئیں تو میرا کیا بنے گا۔ باقی عالم کی بات تو بعد میں، سب سے پہلے تو سعادت صاحب ہی اپنے ہاتھ میں جوتا لے کر میرے اوپر چڑھ دوڑیں گے۔ لیکن آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں، رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے مجھے کبھی شرم نہیں آئی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ میری کوئی بھی بات، میرا کوئی بھی عمل اور میری کوئی بھی وحشت رب سے پوشیدہ نہیں۔ اور پھر اگر اُس کے سامنے سجدہ نہ کروں تو کیا سعادت صاحب کے سامنے کروں؟

لیکن سب سے بڑی وجہ اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ جی ہاں۔ رمضان۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ اتنے پیار سے مجھے اپنے طرف بلاتا ہے کہ مجھے اُس کے سامنے نہ جانے کے خیال سے شرم آ جاتی ہے۔ سعادت صاحب پہلے تو میرے اِس خیال پر قہقہے لگا تے ہیں، لیکن خلافِ توقع جب میں اُن پر لعنت بھیج کر آگے بڑھتا ہوں تو صدمے سے گونگے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اِس مہینے میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ کی زبان سے جاری ہونے والے ہر لفظ کی reception اللہ کے terminal پر without any error ہو رہی ہے؟ مَیں اپنی تمامتر وحشتوں کو بالائے طاق رکھتا ہوا جب اُس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ سُن رہا ہوگا۔ وہ تو ہمیشہ سُن رہا ہوتا ہے، مَیں ہی اپنی انا کے خول سے باہر نکلنے کی زحمت نہیں کرتا۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ خالق اور مخلوق میں تو محبت کا رشتہ ہوتا ہے اور محبت کے رشتوں میں انا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایک اینڈ پر رحمت ہوتی ہے، دوسرے اینڈ پر عاجزی، اور درمیان میں محبت کا میڈیم۔ A perfect communication model ۔ اِس ماڈل کی کارکردگی کو اگر کوئی چیز متاثر کرتی ہے تو وہ ہے ہمارے اپنے اینڈ پر پیدا ہونے والا noise، ہماری اپنی وحشتیں۔

مَیں، اور مجھ جیسے نجانے کتنے اور، اپنی اپنی وحشتوں کے عذاب میں گِھر کر یہ بُھلا بیٹھتے ہیں کہ ہر اسلامی سال میں ایک رمضان بھی ہوتا ہے۔ اپنی وحشتوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک dedicated مہینہ۔ ہم اپنے اپنے سعادت صاحبوں کے قہقہوں کی گونج سے بچنے کے لئے اپنے کانوں کو بند کر لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اِس طرح ہم رحمت کی سرگوشیوں کو بھی بلاک کر دیتے ہیں۔ وہ رحمت ہمارے پاس آتی ہے اور “access denied” کا کرخت پیغام پڑھ کر ہماری بے عقلی پر مسکراتی ہے۔ پورے تِیس دنوں تک وہ ہماری ذات کی firewall کو کریک کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے اور ہم اُسے ایک intruder سمجھ کر روکتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جب ہم اپنے گِرد کھڑی دیواروں کو نیچے کرتے ہیں تو سِسکنے کی آوازیں سنتے ہیں۔ سعادت صاحبوں کے سِسکنے کی آوازیں۔ وہی سِسکیاں جو آہستہ آہستہ طنزیہ اور وحشت ناک قہقہوں کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر یہ قہقہے سارا سال ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔ ہم آگے آگے بھاگتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے آپ کے گِرد وہ دیواریں دوبارہ کھڑی کر لیتے ہیں۔ اِس بات کا احساس کیے بغیر کہ رمضان پھر سے آ چکا ہوتا ہے، جس میں دیواریں کھڑی نہیں، گِرائی جاتی ہیں۔

ہم کتنے نا شُکرے ہیں۔

میں کتنا نا شُکرا ہوں۔

سورس الٹرا سیدھا

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 323
Reply With Quote
جواب

Tags
communication, firewall, نماز, محبت, مسجد, آج, اللہ, اسلامی, رمضان, سال, عمران, عالم, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Phone n Net 199/Month Unlimited Real_Light کمپیوٹر کی باتیں 31 23-06-09 12:37 PM
ماہ مقدس رمضان المبارک کارڈز Month Raman Cards Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 10 03-09-08 11:20 PM
The Month چاچا کمال اردو ادب سے اقتباسات 0 05-12-07 11:52 PM
Ramadhan- The Best Month of the year Ashfaq Ahmed گپ شپ 0 11-09-07 04:36 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger