| عمومی سائنس عمومی سائنس |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 27
کمائي: 463
شکریہ: 0
12 مراسلہ میں 30 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پیر بھی توجہ چاہتے ہیں
فطرپائی (Athletes Foot)ایک بہت عام فطری تعدیہ (Fungal Infection)ہے۔ جو پیروں کو اور عموماً ان کھلاڑیوں کو جو زیادہ تر وقت بند جوتے پہنے رہتے ہیں‘ متاثر کرتا ہے۔ یہ تعدیہ خصوصاً پیر کی انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ فطرپائی تین طرح کے حشرات سے پیدا ہوتی ہے اور بہت زیادہ متعدی ہے۔ یہ کسی بھی شخص کو لگ سکتی ہے خصوصاً ایسے لوگوں کو جو ایک ہی غسل خانہ استعمال کرتے ہیں۔ غسل خانوں کے پائے دانوں اور تولیوں سے بھی فطرپائی ایک دوسرے کو لگ سکتی ہے۔ فطرپائی حشرے (Fungal Bugs)ایک بار پیر میں سرایت کرجائیں تو وہ انگلیوں کے درمیان گرم اور نم جگہوں میں خوب پلتے بڑھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر جلد سوج کر اس میں کھجلی شروع ہوجاتی ہے۔ ساتھ ساتھ جلد چٹخنے لگتی ہے اور پپڑیاں چلنے کے دوران پیروں کی رگڑ لگنے سے جھڑتی اور فرش پر گرتی رہتی ہیں۔ پھر یہ پپڑیاں دوسروں کے پیروں میں چپک کر تعدیہ ان کے جسم میں منتقل کردیتی ہیں۔ فطرپائی سے ایک بار چھٹکار پالینے کے باوجود اس انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے اور یہ بار بار لگ سکتا ہے۔ اگر موزے اور جوتے پابندی سے تبدیل نہ کیے جائیں تو حشرے ان میں رہنے لگتے ہیں اور فطرپائی کا سلسلہ پھر شروع ہوسکتا ہے۔ فطرپائی کے آثار جو نہی ظاہر ہوں مثلاً پیر کی انگلیوں کے درمیان یا پیر میں کھجلی یا سوزش ہو تو فوراً اس کا علاج کرنا چاہیے۔ یہ حشرے اس قدر تیزی سے بڑھتے ہیں کہ ذراسی بے توجہی بھی شدید پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ فطرپائی کے حشروں یا جراثیم سے بچائو کے لیے چند باتیں اہم ہیں: ١۔ روزانہ ایک ہی جوتا نہ پہنیں۔ اس طرح جوتے میں پسینے کی وجہ سے نمی پیدا نہیں ہوگی جس میں فطرپائی کے حشرے پلتے بڑھتے ہیں۔ ٢۔ سوتی موزے اور چمڑے کے جوتے پہنئے اور ایسے موزے اور جوتے پہننے سے گریز کیجئے جو مصنوعی اشیا سے بنائے جاتے ہیں۔ ٣۔ ایک دوسرے کے جوتے‘ موزے اور تولیے استعمال نہ کیجئے۔ ٤۔ جس جگہ یا جس کمرے میں لباس تبدیل کرتے ہیں اس میں ننگے پیر نہ چلیں۔ ٥۔ پیر کی انگلیوں کی درمیانی جگہ کو اچھی طرح خشک کرلیں اور پیر کے ناخن کاٹتے رہیں۔ اس طرح حشروں کو پلنے بڑھنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ اگر فطرپائی کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو جلد چٹخنا شروع ہوجاتی ہے اور اس پر دوسرے جراثیم اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔ جب یہ جراثیمی حشرے پلتے بڑھتے ہیں تو عجیب سی بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں کے پیروں سے بدبو آنے لگتی ہے وہ اسے دبانے اور چھپانے کے لیے ہر وقت جوتے پہنے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فطرپائی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ فطرپائی اگر زیادہ عرصے تک رہے تو پھر پیر کی انگلیوں کی درمیانی جگہوں کے بعد پیر کے ناخن بھی اس سے متاثر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ پیروں کی باتیں پائوں کو خشک رکھیے۔ نہانے کے بعد انھیں بھی پائوڈر لگایئے۔ رات کو گرم پانی سے انھیں دھوکر ٹھنڈے پانی میں ڈبویئے۔ اس کے بعد انھیں خشک کرکے میتھیلیٹڈ اسپرٹ سے تیزی سے صاف کرلیجئے۔ پانچ منٹ کے لیے انھیں ورزش کرایئے‘ انگلیاں اور پیر موڑیے‘ اکڑایئے اور پھر ڈھیلا چھوڑ دیجئے۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا بھی بس محاورے کی حد تک اچھی بات ہے۔ ویسے پائوں بت کی طرح کھڑے رہنے کے لیے نہیں‘ چلنے پھرنے کے لیے بنائے گئے ہیں‘ اس لیے زیادہ دیر تک ایک جگہ نہ کھڑے رہیں۔ جب بھی موقع ملے‘ چلئے پھریے یا بیٹھ جایئے۔ کھڑے رہنے سے ٹانگوں اور پیروں میں خون کا دوران کم ہوجاتا ہے‘ پائوں سوج جاتے ہیں‘ ان میں درد ہونے لگتا ہے‘ رگیں پھول جاتی ہیں۔ آرام کے لیے روزمرہ کی مصروفیتوں میں سے وقفے نکالتے رہیے۔ دس منٹ کے لیے پیر کسی اونچی جگہ رکھ کر لیٹ جایئے‘ تاکہ خون کا دوران معمول پر آجائے۔ جوتے گھر کے اندر پہننے کے لیے عمدہ جوتے استعمال کیجئے‘ فیشن کے اعتبار سے عمدہ نہیں بلکہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ آپ کے پیروں کو زیادہ وقت انھی میں گزارنا ہے۔ کبھی یہ نہ کیجئے کہ باہر آنے جانے کے خوب صورت جوتے (جو عام طو رپر پرتکلف ہوتے ہیں) ذرا خراب ہونے پر گھر میں پہننے لگیں۔ یہ پرانا اصول ہے کہ دو جوڑے جوتے اگر آپ ایک ساتھ پہننا شروع کریں تو زیادہ عرصے تک چلیں گے بہ نسبت اس کے کہ آپ ایک جوڑا ٹوٹنے کے بعد دوسرا جوڑا پہنیں۔ آدمی کی طرح جوتے کی بھی یہ خصلت ہے کہ اگر اسے آرام ملتا رہے تو زیادہ دن تک کام دیتا ہے۔ گٹے اور چھالے گٹے موٹی کھال سے بنتے ہیں اور ان میں پانی بھرا رہتا ہے تاکہ آپ کی ایڑیاں اور انگلیاں تنگ جوتوں کی چیرہ دستی سے بچی رہیں۔ ان سے محفوظ رہنے کا طریقہ بس یہی ہے کہ آپ ان جوتوں کو پھینک کر مناسب ناپ کے جوتے لے لیں۔ آپ وہی جوتے پہنے رہیں گے تو سرجن ان گٹوں کو کاٹ بھی دے گا تو وہ دوبارہ نمودار ہوجائیں گے۔ گٹوں پر نرم روئی یا فیلٹ کے ٹکڑے باندھیے تاکہ دبائو سے محفوظ رہیں اور کم از کم ایک نمبر زیادہ کے جوتے فوراً خرید لیجئے۔ اپنے پیروں پر خود عمل جراحی نہ کرنے بیٹھئے۔ تیز پلٹس گٹوں پر نہ باندھیے‘ نہ اپنے شوہر کے زنگ آلود بلیڈ سے انھیں کاٹیے۔ پیروں کا علاج مہارت‘ علم اور تجربے کا طالب ہے‘ اس لیے اسے کسی پیروں کے ماہر کے لیے چھوڑ دیجئے۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
نیا آدمی جی آپ نے اچھی تحریر پیش کی ہے۔
تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف پیش کجیئے،جان کر خوشی ہوگی۔ شکریہ۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اچھا لگا ہے پہلا تو میں سمجھا تھا کہ پیر فقیر کے بارے میں بات کر رہیں ہیں
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 27
کمائي: 463
شکریہ: 0
12 مراسلہ میں 30 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسٹر جی بے حد و حساب شکریہ مہربانی کرم
فی الحال مجھے بے تعارف ہی رہنے دیں افسوس کہ خوشی کے لیے آپ کو انتظار کرنا پڑے گا |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 27
کمائي: 463
شکریہ: 0
12 مراسلہ میں 30 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خلیل جی آپ کی مہربانی کہ میری پوسٹ پسند آئی۔
پیروں فقیروں کے بارے میں لکھنا تو شاید ممنوع نہ ہو ۔ ۔ ۔ آپ فرمائیں تو ان پر بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی بہت اچھا مضمون لکھا ہے آپ نے
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 27
کمائي: 463
شکریہ: 0
12 مراسلہ میں 30 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عدنان بھائی یہ مضمون میں نے نہیں لکھا بلکہ کسی دوسری سائٹ سے لیا تھا کافی عرصہ پہلے۔ اب افادہ عام کی خاطر یہاں پوسٹ کر دیا- پسند کرنے کا بھت شکریہ۔
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 27
کمائي: 463
شکریہ: 0
12 مراسلہ میں 30 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چہرے کے داغ دھبے
نہایت آسان طریقے سے آپ ان سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے/ سکتی ہیں۔ نوجوان اور عمر رسیدہ ہر عمر کی خواتین میں متعدد خواتین چہرے پر داغ دھبوں کی کے مسئلے پر دوچار نظر آتی ہیں۔ یہ خواتین اس سے بالکل غافل ہوتی ہیں کہ یہ داغ دھبے کیسے ہیں اور پہلی بار یہ کیسے پیدا ہوئے۔ جمالیت پسند معاشرے میں خوب صورت نظر آنے کے دبائو میں خواتین کا سمیٹکس اور جلدی امراض سے متعلق ماہرین کے پاس جاکر خطیر رقمیں خرچ کرنا شروع کردیتی ہےں۔ یہ ماہرین انہیں انتہائی مہنگی کریمیں تجویز کرتے ہیں تاکہ ان کی حالت بہتر بنائی جاسکے۔ کیمیکل کریموں کے استعمال کا رواج حقیقت میں موثر علاج ثابت ہورہا ہے اور اپنی جلد کے لیے فکر مند افراد کے قائل ہورہے ہیں۔ داغ دھبوں کے یہ نشانات تین قسم کے ہوتے ہیں: سفیدی مائل یہ بالوں سے وابستہ جلد کے نیچے پیدا ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں جلد پر گوشت کے رنگ کا ابھار پیدا ہوجاتا ہے۔ سیاہی مائل اگر سفیدی مائل نشان جلد کے اوپری سطح پر نمودار ہوجائے اور کھل جائے تو یہ سیاہی مائل نشان کہلائے گا۔ یہ سیاہی بیرونی گندگی نہیں ہے بلکہ جلد کی رنگت سیاہ ہونا شروع ہوجاتی ہے جو جلد کے اندر کیمیائی عمل کا نتیجہ ہے۔ مہاسے اگر جلد میں سوزش پیدا ہوجائے اور یہ نشان سرخ یا گہری رنگت کے ہوجائیں تو یہ مہاسے کہلاتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے سرخ یا گلابی رنگت کے ابھار کی صورت میں ہوتے ہیں۔ اس طرح داغ دھبے کے نشانات مہاسوں سے متعلق ہوتے ہیں اکثر یہ سورج کی تپش‘ بے چینی‘ نیند کی کمی‘ مہاسوں‘ غذائیت میں کمی اور جلد کی خشکی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ داغ دھبوں سے نجات کے نسخے داغ دھبوں سے بچنے کے لیے بعض سادے طریقے ہیں جن پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مناسب نیند‘ متوازن غذا‘ ورزش‘ سورج کی تیز کرنوں سے بچائو اور وٹامن سپلیمنٹ کا باقاعدگی سے استعمال ہے۔ یہ تراکیب آزمودہ ہیں۔ داغ دھبے نشان اور مہاسوں جیسے جلدی مسائل کے حل میں انتہائی مفید ہیں۔ اسی طرح جلد بڑھاپا طاری ہونا اور جلد پر جھریاں سیاہ حلقوں اور رنگت میں خرابی پر قابو پانے میں بھی مفید ہیں۔ کینو کا چھلکا کینو کے چھلکوں کا آمیزہ تیار کرلیں چھلکے کی جلد کا اوپری دانہ دار حصہ جلد کی صفائی کے لیے بہترین ہے اس میں ایلوویرا اور عرقِ گلاب ملا کر آہستگی سے چہرے اور گردن پر ملیں اور خسک ہوجانے پر اسے صاف کردیں۔ ہفتہ میں دو بار یہ عمل دہرانے سے آپ چند ہفتوں میں اپنی جلد میں نمایاں تبدیلی محسوس کریں گی۔ یہ مسامات میں داخل ہوکر جلد کی گہری صفائی کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم بناتا ہے۔ چھلکے میں موجود اور اورنج آئل جلد کے مردہ خلیات‘ سیاہ دھبوں کو صاف کرکے ان کے مزید ظاہر ہونے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ اورنج آئل خشک یا چکنی جلد کا توازن بھی بحال کرتا ہے۔ موٹاپے اور فربہی کو کم کرکے جلد پر خشکی کی بنا پر پڑنے والی جھریوں کی روک تھام کرتا ہے۔ یہ مسامات سے بخارات بننے کے عمل کو تیز کرکے مردہ اور داغ دھبے والی جلد سے پسینہ کی شکل میں زہریلے مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ گھی کوار/ ایلوویرا ایلوویرا اپنی زخم مندمل کرنے کی خصوصیت کی بنا پر مشہور ہے۔ یہ داغ دھبوں کی وجہ سے جلد میں پیدا ہونے والی سوزش اور جلن میں کمی کرکے سکون پہنچاتا ہے۔ ایلوویرا کا تازہ گودا جراثیم کش ہے اور داغ دھبوں اور مہاسوں کے پھیلنے والے انفیکشن کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ جلد کو ترو تازہ‘ ملائم اور لوچ رکھنے اور جلد میں موجود قدرتی چکنائی کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ لیموں کا عرق اور کھیرے کا گودا لیموں کے عرق اور کھیرے کے گودے کے آمیزہ کو استعمال کریں یہ آمیزہ خشک جلد یا ایسی جلد جس پر خشکی اور چکنائی کے نشانات موجود ہیں دونوں صورتِ حال میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خشک جلد کے لیے بہتر ہے کہ آمیزہ میں نیم استعمال کیا جائے یہ آمیزہ آپ کی جلد کو خشکی سے محفوظ کر کے آپ کے چہرہ کی جلد کو نرم و ملائم اور داغ دھبوں سے پاک کردے گا۔ ایک اور طریقہ شہد کو کینو کے چھلکے اور عرق گلاب کے ساتھ استعمال ہے۔ آپ داغ دھبوں والی جلد پر برف کے ساتھ کینو کے چھلکے کا مساج بھی کرسکتی ہیں۔ احتیاط کریں خیال رہے کہ یہ ضروری ہے کہ آپ روزانہ دس سے بارہ گلاس پانی ضرور پئیں‘ بھرپور نیند لیں‘ مثبت سوچ اپنائیں اور ورزش کو اپنا شعار بنا لیں۔ مرغن غذائوں سے پرہیز کریں کیوں کہ انہیں ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے اور آپ کی نازک جلد پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اپنی جلد کو مضر اثرات سے بچانے کے لیے جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ قدرتی اجزاءاستعمال کریں اور اپنے ماہر جلد کے مشورے کے بغیر کا سمیٹکس استعمال نہ کریں۔ ایسی کریمیں استعمال کریں جس میں علاج کی صلاحیت رکھنے والے قدرتی اجزاءموجود ہیں۔ زیادہ دیر تک باہر رہنے کی صورت میں اچھی کوالٹی کا سن بلاک استعمال کریں کیوں کہ داغ دھبے والی جلد سخت موسم میں بہت حساس ہوجاتی ہے خواہ سرد ہوائیں ہوں یا سخت دھوپ۔ اپنے چہرے کو اچھے طریقے سے صاف کرکے باہر نکلیں۔ یاد رکھیں کہ آپ کو اپنی جلد کی حفاظت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے تاکہ کسی قسم کی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔ صحت مند شفاف جلد چند سیکنڈز میں اعتماد میں اضافہ کردیتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مارکیٹ میں ایسی جڑی بوٹیوں پر مشتمل آزمودہ نسخے موجود ہیں جو آپ کی جلد کا علاج مکمل طور پر قدرتی اجزاء سے کرتے ہیں۔ |
|
|
|
| نیا آدمی کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (18-06-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,859
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,793
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب۔
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
یار میں پہلے دن اس کا عنوان پڑھ کر متذبذب ہو گیا تھا۔ اس لیے ہمارے ہاں پِیر "توجہ" ڈالا کرتے ہیں۔ آج تجسس کے مارے دھاگہ کھول تو پتہ چلا یہ "پَیر" ہے "پِیر" نہیں۔
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,111
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا معلوماتی مضمون ہے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پھول, پوسٹ, پاک, پسند, ورزش, نیند, نظر, موقع, منتقل, مسائل, آج, آدمی, بھائی, تحریر, تعارف, جواب, جلد, خون, خواتین, شخص, علاج, عدنان, صاف, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مفت ایس ایم ایس بھیجیں، پاکستان بھیر مین کہیں بھی ، کسی بھی نیٹ ورک پر | proiub | ایس ایم ایس | 17 | 27-07-11 09:07 PM |
| اتوار کو بھی مصرکشیدگی کی لپیٹ میں | ALI-OAD | خبریں | 0 | 30-01-11 08:58 PM |
| کرپشن میں بھی مساوات ہونی چاہیے۔سب کو حصہ ملنا چاہیے ۔عبدالقیوم جتوئی | جاویداسد | خبریں | 18 | 27-09-10 07:37 AM |
| سورۃ توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں لکھی جاتی؟ | فیصل ناصر | متفرقات | 7 | 05-01-10 01:01 PM |