| عورت کہانی عورت کہانی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
| 7 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا | TapalDanaDar (10-05-09), فیصل ناصر (11-05-09), فاروق سرورخان (29-05-09), yashaka (11-05-09), ایس اے نقوی (29-05-09), راجہ اکرام (11-05-09), سحر (29-05-09) |
|
|
#31 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-05-09), راجہ اکرام (12-05-09) |
|
|
#32 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (12-05-09), سحر (12-05-09) |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب میری باتوں کا برا مت مناؤ بعض دفعہ مردوں سے زیادہ عورتوں نے بہت عقلمند کام کیے ہیں اپنی علقمندی سے انہوں نے جنگ جیتی جیسے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں ایک عورت نے شکست دی تھی اور جنگ کبھی بھی ہیتھار سے نہیں جیتی جاتی ہمیشہ عقل سے جیتی جاتی ہے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-05-09), فاروق سرورخان (13-05-09) |
|
|
#34 |
|
Senior Member
![]() |
سب کو سلام، میرا یہ آرٹیکل کسی ایک شخص کے لئے نہیںہے۔
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ رسول اکرم صلعم قرآن کی تعلیمیات سے یکسر انحراف کریں؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ناقص العقل عورت اور عقل مند مرد ایک ہی کام کو ایک جیسا کریںگے؟ اگر ناقص العقل عورت کا کیا ہوا کام باعقل مرد جیسا اعلی نہیںہے تو پھر ان کو ایک جیسا معاوضہ کیسے ملے گا؟ ان کا کام اور ان کا انعام کیا برابر ہو سکتا ہے؟ یقیناً نہیں ۔۔۔۔ تو پھر اللہ تعالی کے الفاظ جو وحی کی صورت میں نبی اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ، کیوں کہ رہے ہیںکہ مرد و عورت ہر کام میںبرابر ہیں؟ ان کے کئے ہوئے کام میں برابر کا انعام اور اجرت ملے گی، رتی بھر بھی فرق نہیںکیا جائیگا۔ ایسے مبارک اور بزرگ نبی اس وحی کے نزول کے بعد کس طرح ایسا کہہ سکتے ہیںکہ عورت ناقص العقل ہے۔ کیا منسوب کرنے والوںکی شرارت ہے یا پھر روایت لکھنے والوں سے بعد والوںنے منسوب کریا۔ میرا ایمان نہ کسی البانی پر ہے اور نہ ہی کسی بخاری یا ترمذی پر کہ نہ تو یہ اللہ تعالی کے نبی ہوئے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی مناسب ریفرنس تھا۔ لہذا ایمان لانے کا تو سوال ہی نہیںپیدا ہوتا، اس سب تاریخکو ہم صرف تاریخکہیںگے اور ہمیشہ اس کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھتے رہیںگے۔ من و عن اگر ایمان لائیںگے بنا کسی سوال کے تو وہ صاحبو صرف اور صرف قرآن ہے۔ ذرا ان آیا ت کو دیکھئے : ایک کہتی ہے کہ مردو وعرت برابر ہیں اور دوسری کہتی ہے کہ ان کے کام کی اجرت و انعام مساوی ملے گا اور تیسری کہتی ہے کہ ایمان والے اور ایمان والیاں ساتھ ساتھ چل رہے ہونگے کہ ان کا نور ان کے دائیںجانب چل رہا ہوگا۔ پھر ایسی برابری میںناقص العقل کیسے ہوگئیںہمرای محترم خواتین؟ یہ قرآن مخالف روایات کس طور قرآن کے بنیادی پیغام کے مخالف ہوگئیں؟ دیکھئے کہ اجر عظیم اللہ نے مردوںاور عورتوں کے لئے برابر رکھا ہے، شرائط ایک کی دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔ 33:35 إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے اللہ تعالی نے ایمان لانے والی عورتوں اور مردوں کا انعام برابر رکھا ہے ۔ ان ناقص العقل عورتوں کو نچلے درجہ میں نہیںرکھا تو پھر ہم ان کو ناقص العقل قرار دے کر اس دنیا میں کیوںنچلے درجے کا شہری بنائیں؟ 9:72 وَعَدَ اللّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہے مردو و عورت کے لئے عذاب بھی برابر رکھا ہے۔ عورتوں کو ناقصالعقل کہہ کر کوئی چھوٹنہیںدی کہ بھئی چلو ناقص العقل تھی بھول چوک ہو جاتی ہے۔ جی؟ 33:73 لِّيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (یہ) اس لئے کہ اللہ منافق مَردوں اورمنافق عورتوں اور مشرِک مَردوں اور مشرِک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے مرد و عورت کی محنت کا صلہ مساوی ہے، ایک اگر ناقص العقل ہوتا تو یہ کس طور ممکن تھا کہ ایک ناقص العقل کو ایک بہتر عقل والے کے برابر محنت کا صلہ ملے؟ کیا اللہ تعالی غیر منصف ہیں؟ 31:95 فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخْرِجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُواْ وَقُتِلُواْ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّن عِندِ اللّهِ وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو، پس جن لوگوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور (اسی کے باعث) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میری خاطر) لڑے اور مارے گئے تو میں ضرور ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دوں گا اور انہیں یقیناً ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے حضور سے اجر ہے، اور اللہ ہی کے پاس (اس سے بھی) بہتر اجر ہےاگر آپ اب بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ عورت ناقص العقل ہے اور اس کے لئے مسخشدہ کتب تاریخ سے دلیل لاتے ہیں تو بھائی اب وقت ہے کہ آپ قرآن سے استفادہ فرمائیں اور دیکھئے کہ ہمارے رب نے کیا کہا اور ہمارے رسول اللہ نے کیا ہم کو اللہ کی طرف سے دیا۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنا نور و ہدایت عقل و دانش عطا فرمائیں۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
"مسلمان پرواجب اورضروری ہے کہ وہ سب احادیث صحیحہ پرایمان لاۓ اوران میں سے کسی ایک کا بھی رد نہ کرے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اورسنت اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہیں ، توجو بھی احادیث کارد کرتا ہے حقیقت میں وہ اللہ تعالی کی وحی کورد کررہا ہے ۔ اس کے وحی ہونے کی دلیل اللہ تبارک وتعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے : { قسم ہے ستارے کی جب وہ نیچے گرے ، کہ تمہارے ساتھی نے نہ تو راہ گم کی اورنہ ہی وہ ٹیڑھی راہ پر ہے ، اورنہ ہی وہ اپنی خواہش سے کوئ بات کہتے ہیں ، وہ توصرف ایک وحی ہے جو اتاری جاتي ہے ، اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے ، جوزورآور ہے پھرسیدھا کھڑاہوگیا } النجم ( 1 - 6 )۔ اللہ تعالی نے لوگوں پراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب قرار دی ہے جس کا بہت ساری آیات میں حکم دیا گیا ہے ان میں سے چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے : اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا : { کہہ دیجیے ! کہ اللہ تعالی اوراس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگروہ منہ پھیر لیں توبلاشبہ اللہ تعالی کافروں سے محبت نہیں کرتا } آل عمران ( 32 ) ۔ اوراللہ جل شانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے : { جس نے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کی وہ حقیقت میں اللہ تعالی کی اطاعت کرتا ہے ، اورجومنہ پھیر لے تو ہم نے آپ کوان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا } النساء ( 80 ) ۔ اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { اے ایمان والو ! اللہ تعالی اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراپنے میں سے اختیار والوں کی اطاعت کرو ، توپھر اگر تم کسی چیزمیں اختلاف کروتواگر تم اللہ تعالی اورآخرت کے دن پرایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ تعالی اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاؤ ، یہ بہت ہی بہتر اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت ہی اچھا ہے } النساء ( 59 ) ۔ اوراللہ رب العزت کا ارشاد ہے : { نماز کی پابندی کرو اور زکا ۃ ادا کرو اور اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جاۓ } النور ( 56 ) ۔ ان آیات کے علاوہ بھی بہت ساری آيات ہیں ۔ سنت نبویہ کا منکر کافر اور مرتد ہے : امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے رسالۃ " مفتاح الجنۃ فی الحتجاج بالسنۃ " میں کہا ہے کہ : اللہ تعالی آپ پر رحم کرے آپ کے علم میں یہ ہونا چاہيے کہ جس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی یا فعلی حدیث جو کہ اصول حدیث کی شروط پرہو کا انکارکیا وہ کافر اوردائرہ اسلام سے خارج ہے ، وہ یھودونصاری اوریا پھر اللہ تعالی کفار میں سے جن کے ساتھ چاہے اٹھایا جاۓ گا ۔ ا ھـ یہ لوگ جو صرف قرآن مجید پرہی اکتفا کرتے اور اپنے آپ کواہل قرآن کا نام دیتے ہیں ان کا یہ مذھب کوئ نیا نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئ ایک احادیث میں ان سے بچنے کاکہا ہے ان احادیث کا ذکرآگے چل کر شیخ الاسلام ابن تیمیۃ کی کلام میں ہوگا ( ان شاء اللہ ) ۔ اس مذھب کے باطل ہونے کی سب سے واضح اوربین دلائل جو کہ اس کے قائلین بھی نہیں جانتے ! ! ! توپھر یہ لوگ نماز کیسے پڑھتے ہیں ؟ اوردن رات میں کتنی نمازیں پڑھتے ہیں ؟ اور کن کن حالتوں میں زکاۃ واجب ہوتی اوراس کا نصاب کیا ہے ؟ اوراس میں سے زکاۃ نکالنے کی مقدار کیا ہے ؟ اور یہ لوگ حج اورعمرہ کیسے کرتے ہیں ؟ کعبہ کا طواف کتنی بارکیا جاتا ہے ؟ اورصفامروۃ کے درمیان کتنے چکر لگاتے ہيں ؟ ۔۔۔۔ اوراس کے علاوہ بہت سے ایسے احکام ہیں جن کوقرآن مجید اجمالا بیان کرتا ہے اس کی تفصیل بیان نہیں کرتا ، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بیان فرمایا ہے ۔ توکیا یہ لوگ ان احکامات پرعمل کرنا چھوڑ دیں کہ یہ قرآن مجید میں نہیں ہیں ؟ ۔ تواگر ان کا جواب ہاں میں ہوا تو انہوں نے اپنے اوپرخود ہی کفر کا حکم لگالیا ، کیونکہ انہوں اس چیزکا انکارکیا ہے جس پرمسلمانوں کا اجماع قطعی ہے اوروہ چیز دین کی ایک ضروری چیز ہے ۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی اطاعت واتباع رسول والی آیات کوذکرکرنے کے بعد کہتے ہيں : تویہ نصوص اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوواجب کرتی ہيں اگرچہ جوکچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ بعینہ کتاب اللہ میں بالنص نہ ہو ، اور اسی طرح یا آیات کتاب اللہ کی اتباع کوبھی واجب کرتی ہيں ۔ اگرچہ کتاب اللہ کی نصوص کا احادیث میں ذکر نہ بھی ہو بلکہ صرف کتاب اللہ میں ہی پایا جاۓ ، توہم پرضروری اورواجب ہے کہ ہم کتاب اللہ کی بھی اتباع کریں اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی اتباع واطاعت واجب اورضروری ہے ۔ توان دونوں میں سے ایک کی اتباع ہی دوسرے کی بھی اتباع ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی تبلیغ فرمائ اورکتاب اللہ نے ہی اطاعت رسول کا حکم دیا ہے ، توکتاب اللہ اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھبی بھی مختلف نہیں ہوسکتے جس طرح کہ کتاب اللہ کی آیات میں بھی اختلاف نہیں ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : { اوراگر ( یہ کتاب ) اللہ تعالی کےعلاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتی تووہ اس میں بہت زيادہ اختلاف پاتے } ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری ایسی احادیث وارد ہيں جن میں اتباع کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے وجوب کا بیان ہے : فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ( میں تم میں سے کسی ایک کواپنی مسند پرٹیک لگاۓ ہوۓ نہ پاؤں کہ اس کے پاس کوئ ایسا معاملہ جس کا میں نے حکم دیا یا جس سے روکا ہو وہ اس کے پاس آۓ تو وہ یہ کہے کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے اس میں جوچیزحلال کی گئ ہم اسے حلال اورجوچيزحرام کی گئ ہے اسے ہم حرام کرتے ہیں ، خبردار آگاہ رہو مجھے کتاب اللہ اوراس کےساتھ اس طرح کی ایک اورچیز دی گئ ہے ، آگاہ رہو وہ قرآن کی مثل یا بڑھ کر ہے ) ۔ یہ حدیث کتب سنن میں کئ ایک طریق کے ساتھ ابوثعلبہ اور ابورافع اور ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہم وغیرہ سے مروی ہے ۔ اورصحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : ( میں تم میں ایک ایسی چيزچھوڑ رہا ہوں جسے اگرتم مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوسکتے وہ اللہ تعالی کی کتاب ہے ) ۔ اور حاکم کی روایت میں ( کتاب اللہ و سنتی ) وہ کتاب اللہ اور میری سنت ہے ، کے الفاظ وارد ہیں ۔ اسے علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع حدیث نمبر( 2937 ) میں صحیح کہا ہے ۔ صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابوعوفی رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہیں کسی نے کہا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائ تھی ؟ توانہوں نے جواب دیا نہیں ، توانہیں کہا گیا کہ تو لوگوں پر وصیت فرض کردی گئ ؟ وہ کہنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی وصیت کی ( کہ اس پرعمل کیا جاۓ ) ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1634 ) ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرآن کریم کی تفسیر ہے جیسا کہ نمازکی تعداد اس میں سری اورجھری قرات کرنے کی تفسیربیان ہوئ ہے اور اسی طرح زکاۃ کے فرائض اوراس کے نصاب کی بھی تفسیر اور مناسک حج اوربیت اللہ کے طواف کی مقداراور صفا مروہ کی سعی اور رمی جماروغیرہ کا بیان حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہے ۔ توجب یہ سنت ثابت ہے تومسلمان اس پرمتفق ہیں کہ سنت نبویہ کی اتباع واجب ہے ، اور بعض اوقات یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ کچھ احادیث ظاہری قرآن کریم کے خلاف ہيں یا پھر قرآن کریم پرزيادہ ہیں جیسا کہ چوری کا نصاب اور شادی شدہ زانی کی سزا رجم والی احاديث تویہ احادیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں توصحابہ کرام اورتابعین عظام اورسب مسلمان فرقوں کے ہاں ان پربھی عمل کرنا واجب ہے ۔ دیکھیں مجموع الفتاوی ( 19 / 84 - 86 ) عبارت میں کچھ کمی بیشی کی گئ ہے ۔ توجس طرح قرآن کریم حق ہے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی حق اورسچ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم الشیخ محمد صالح المنجد" |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#36 |
|
Senior Member
![]() |
آپ خود لکھئیے ، یہ کیا صالح المنجد کا کٹ پیسٹکردیا۔ اور خود بری ہوگئے
![]() شکریہ قرآن کے علاواہ مزید کتب پر ایمان رکھنے کی تلقین کرنے کا۔ بخاری ازم کو فروغدینے کا ۔ نبی اکرم کا عمل و قول حق ہے۔ یہ نکتہ ہے ہی نہیں۔ رسول پر ایمان نہ لاتے تو قرآن پر ایمان کیوںلاتے؟ سوال یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ میں جو کتاب ہے اس کی صحت کی کیا ضمانت ہےِ؟ لوگوںنے توارۃ کو نہیںچھوڑا، انجیل کو نہیں چھوڑا تو کیا سنت کی کتب محفوظ رہی ہیں۔ بات ہورہی ہے ان کتب کی صحت کی۔ بخاری کی 4 سو سال پرانی کتاب میں جتنی روایات ہیں ، اس کے دو گنی جدید جلدوں میں ہیں۔ کونسی رکھیں گے اور کونسی نکالیں گے۔ پھر کیا آپ کوئی لسٹ فراہم کرسکتے ہیں جس میں صحیح اور ضعیف روایات کے نمبر لکھے ہوں؟ جو جب چاہتا ہے اپنی مرضی سے روایت کو ضعیف قرآر دے دیتا ہے ۔ میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ قرآن سے واضح دلیل ہوتے ہوئے آپ قرآن کی آیات کو روایات سے غلط ثابت کرنا کیوںچاہتے ہیں؟ کیا یہ آیات ربانی کی تکفیر نہیں ہے ؟ آیات ربانی یعنی قرآن کی تکفیر ہی بخاری ازم ہے۔ کہ آیات قرآنی بھی مانو اور ااس کے مخالف روایات کو بھی مانو؟ اللہ اور اس کے رسول نے کہاںکہا ہے کہ میرے بعد بخاری و مسلم و ماجہ و مسلم نبی بن کر آئیں گے ان پر اور ان کی پیش کردہ کتب پر بھی ایمان رکھنا۔ پڑھئیے ان کتب کو بس تاریخ سمجھ کر پڑھئیے۔ قرآن کی روشنی میں پڑھئیے۔ لیکن ایمان رکھئیے تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے پیش کردہ قرآن پر ۔ اس کے معانی کیا ہوئے؟ کہ سنت کی کتب پڑھئیے ، سمجھ کے لئے اور مدد کے لئے ۔ اگر موافق القرآن ہے تو قبول کیجئے اور اگر خلاف قرآن ہے تو رسول اللہ کی ہدایت پر عمل کیجئے کہ اس کو ضائع کردیجئے۔ آپ کو اس حدیث کا حوالہ درکار ہے؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 13-05-09 at 12:53 PM. |
|
|
|
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اسلام کی وسیع جامع اور کامل نظر
از سید علی خامنہ ای |
|
|
|
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 406
کمائي: 3,690
شکریہ: 59
164 مراسلہ میں 375 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=سحر;167369]
اقتباس:
آپ صنف نازک ہونے کے باوجود واہ وا کرنے کی بجائے بہت اعلی جواب دیا ہے اللہ آپ کو اجر دے، کیا حق بات کی ہے جزاک اللہ
__________________
http://vistatricky.blogspot.com/ http://wirelogs.blogspot.com/ http://shazel.wordpress.pk/ |
|
|
|
|
| شازل کا شکریہ ادا کیا گیا | سام (27-05-09) |
|
|
#39 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=شازل;171920]
اقتباس:
لیکن ایک بات بتا دوں جب بات قرآن وسنت کی ہو تو ہم اور ہماری خواہشات کچھ حیثیت نہیں رکھتی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں ہماری ہی بھلائی ہوتی ہے بس ہماری سمجھ اس تک پہنچ نہیں پاتی۔ جزاک اللہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#40 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ آپکو اجر عظیم عطا فرمائے
اور تمام مسلمان مرد و عورت کو یہی سوچ عطا کرے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#41 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کا شکریہ
مجھے عورت کو ناقص العقل کہنے کی ایک سادہ سی وجہ سمجھ آتی ہے ۔ کہ عورت کے اوپر یہ مرد یا معاشرہ اس کی بساط سے ذیادہ بوجھ نہ ڈالیں ۔ واللہ عالم جیسے ہندوں سے متاثر ہوکر گھر کی تمام ذمہ داریاں ، بچوں کی تربیت کی تمام ذمہ داری اور شادی کو کامیاب بنانے کی تمام ذمہ داری عورت پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جا تے ہیں اور عورت پوری زندگی اپنے آپ کو عقلمند ثابت کرنے میں گزاردیتی ہے ۔ لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ Last edited by سحر; 28-05-09 at 06:29 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#42 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو پھر ہم کس برتے پر اسلام میںعورت کو بلند مقام دینے کی بات کرتے ہیں؟ کیا ہم منافقت کرتے ہیں یا پھر حقیقت کیا ہے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (28-05-09), راجہ اکرام (29-05-09) |
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمین کا سوال اور سحر جی کی بات دونوں الگ پیرائے میں ہیں
دیکھتے ہیں کیا جواب آتا ہے |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (29-05-09) |
|
|
#44 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عزت اور عقل میں فرق ہوتا ہے ۔ ضروری نہیں جس کے پاس عقل کم ہو اس کے پاس عزت بھی کم ہو ۔ ایک ماں کا مرتبہ باپ سے ذیادہ رکھا گیا تو اس کی وجہ عقل کا فرق نہیں بلکہ اس لیے کہ ماں ، باپ سے ذیادہ اپنی اولاد کے لیے تکلیفیں برداشت کرتی ہے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (29-05-09), راجہ اکرام (29-05-09) |
|
|
#45 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے جنگ میں ایک عورت ملکہ ہی کہانی پڑھی تھی اس میں اس نے عقل کے معاملے میں سب کو پیچھے چوڑ دیا تھا مجھے جیسی ہی ملا تو میں ادھر پوسٹ کر دوں گا کہ عورت عقل مند ہے یا مرد
ویسے میں ایک بات پر ہی رکوں گا کہ اللہ نے جس کو جتنی عقل دی ہے وہ اُسی کے مطابق کرئے گا چاہے مرد ہو یا عورت اللہ نے کسی مرد کو کسی عورت سے زیادہ عقل دی ہے تو کسی مرد کو بس |
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (29-05-09) |
![]() |
| Tags |
| color, قرآن, نماز, نظر, موقع, ماں, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, اسلام, بھائی, بچوں, جواب, حکم, حال, خواتین, دوست, دل, طاقتور, عورت, عقل, عزت, صاف, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 08:12 PM |
| الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ | جاویداسد | خبریں | 1 | 24-08-10 11:23 PM |
| عوامی حکومت کا اک اور کارنامہ | naeemuddin | خبریں | 3 | 01-12-09 10:05 AM |
| عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ | عرفان حیدر | آئیے ذہانت آزمائیے | 24 | 14-04-09 02:40 PM |
| ’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ | چاچا کمال | خبریں | 1 | 07-04-08 06:31 AM |