واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


ھُدیٰ۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-11-11, 02:53 PM  
ھُدیٰ۔۔۔
عروج عروج آف لائن ہے 15-11-11, 02:53 PM

ھُدیٰ ایک بہن اور بھائی سے بڑی تھی۔ باپ بڑا سرکاری آفیسر تھا۔ اللہ نے اپنے رستے کی ھدایت دی تو پنجگانہ نماز باجماعت کا عادی ھو گیا۔ کراچی میں ایک ھی مسجد میں جمعہ پڑھتے وہ اُن عالم صاحب کی شخصیت و ذھانت کے گرویدہ ھو گئے۔
وھاں کے مفتی صاحب کے گوش گزار اپنا مدعا بیان کیا '' مَیں اپنی سولہ سالہ آٹھ جماعت پاس اور ایک سالہ بنیادی عالمہ کے کورس کی حامل بیٹی کا رشتہ اِن عالم سے کرنا چاھتا ھوں''
بات آگے بڑھی اللہ کو یہ جوڑ پسند آیا جو کہ خالصتاً دینی بنیاد لیے ھوئے تھا۔ چند ماہ بعد ھی ھُدیٰ ان کے گھر کا حصّہ بن گئی اور اپنا آپ بھی بُھلا دیا۔ دوھی سالوں میں وہ دو بیٹوں کی ماں بن چکی تھی۔ وہ لوگ اب اس کی چھوٹی بہن کو بھی اپنے چھوٹے صابزادے کے لیے مانگ رھے تھے مسئلہ صرف وقت کا تھا ھُدیٰ کے والدین اپنی بڑی بیٹی کی کم عمری میں شادی کر کے گزرتے مسائل کے باعث اب دوسری بیٹی کی شادی ذرا سمجھدار عمر میں کرنا چاہ رھے تھے جب کہ یہی بات ان لوگوں نے اَنا کا مسئلہ بنا لیا اور عالم صاحب کی دوسری شادی کی ضدّ کی اب مخالفت چھوڑ ر تائید کر کے اجازت دے دی۔
ھُدیٰ کو وہ پہلے ھی منا رھا تھا اور ھُدیٰ کی بات کہ ''بنیادی اخراجات کی تنگی '' کو وہ ''چار شادیاں سنّت ھیں'' کہہ کر جھٹلا دیتا۔
وقت کا کام گزرنا ھے، ھُدٰی کو کڑے امتحان سے گزرنا تھا وہ سوکن کے ساتھ وقت کے بٹوارے کا صدمہ سہہ گئی موجودہ اور آنے والےبچے کی خاطر۔
وہ گِرتی صِحّت کے ساتھ یہ راز چھُپا نہ سکی اور والدین بھی اس راز کےصدمے کی لپیٹ میں آگئے۔
''آج کا مَرد کیسا ھی نیک اور دیانتدار ھو وہ برابری قائم نہیں رکھ سکتا'' یہ سچ سوچ اور سہہ سہہ کر وہ کئی امراض کا شکار بن گئی۔ والدین نے داماد کو سختی سے برابری قائم کرنے کو کہا۔ انہیں دنوں انکے ھاں بیٹی نے جنم لِیا۔۔
دو ھی بیویوں میں وقت اور اخراجات میں توازن نہ رکھ سکنے کے باوجود وہ چار شادیوں کی ضِدّ پر قائم تھا۔
دوسری بیوی ھر حالت میں'' پہلی ''سے شوھر کو'' دُور اور بدظن '' کرنے کی کوشش میں مصروف تھی جبکہ تین بچوں کے ساتھ ھُدیٰ اکیلی اور والدین کے خرچ پر گھر جوڑ کررکھنے کی کوشش میں، اس کم عمری کے باوجود، مصروف تھی مگر بُرا وقت آکر ھی رھتا ھے۔
مسلسل ھفتے میں ایک ھی دن کی حاضری کے بعد اب ناغے ھی ھونے لگے ،وہ بیچاری بیماری اور ضروری اشیا کے لیے والدین ھی کو کہتی جبکہ شوھر کے فون پر، گھر آنے کے وعدے فقط بہانے ثابت ھوتے رھے۔ ایک دن ساریرات اُس کا انتظار کرنے کے باوجود صبح ھوگئی جب وہ آیا ،ساری رات کی جاگی ھوئی، نازوں پَلی ،سخت ترین حالات کو مسلسل برداشت کرتی جوان بیوی آخر اُس سے ناراضگی کے باعث روٹھ گئی ، نہ بیٹھنے کو کہا نہ بات کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔اب کی بار تو'' واقعی شیر آیا تھا'' سو نیند سے بیزار عالم صاحب جاتے سمے دروازہ کھلا ھی رکھنے کی بحث میں ایک بار لفظ ''طلاق'' کہہ بیٹھے ۔ کچھ ھوش آئی تو فون پر رابطے کرنے کی کوشش کی مگر اب بہت دیر ھوچکی تھی، یہ بات سب کو ھُدیٰ مفتی سے ''شوھراب نامحرم ھو گیا''کنفرم کرنے کے بعد بَتا چکی تھی ۔
بڑھاپےاورریٹائرمنٹ کے قریب والد پریہ صدمہ کیاتھا،صرف ایک آٹھ سالہ بیٹے کاباپ ھی جانتا ھے۔بیس سالہ مطلقہ بیٹی کے ساتھ تین کم عمر بچوں کا بوجھ ؟؟؟ یہی سوچ آج کے سنگدل معاشرے کے اطوار دیکھتے ھوئے ایک باپ کو ان ھی کی خاطر جینے کا حوصلہ مجتمع کرنے کو کافی تھی۔
آخر قصور کس کا ؟
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔

عروج
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 700
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (16-11-11), فیصل ناصر (15-11-11), نبیل خان (17-11-11), مرزا عامر (15-11-11), wajee (16-11-11), تبتیلا انجم (16-11-11), حیدر (17-11-11), حیدر Rehan (15-11-11), راجہ اکرام (15-11-11), رضی (17-11-11), سحر (15-11-11), صبیحہ (17-11-11)
پرانا 17-11-11, 12:29 PM   #31
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نا یہ بات کررہی ہوں کہ عورت آئنڈیل ہوتی ہے آپ لوگ بلاوجی میں عورت کی برائیوں کو بیچ میں لارہے ہیں
میں تو صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ جب بیٹھ کر پانی پینے تک ہم سنت پر عمل کرنے
کو کہتے ہیں۔
تو الگ گھر میں سنت کے مقابلے میں معاشرے کی مثالیں کیوں
اگر معاشرہ سنت سے ٹکراتا ہے تو ہم معاشرہ بدلیں گے نا کہ سنت کو پس پشت ڈال
دیں  
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (21-11-11)
پرانا 17-11-11, 04:24 PM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
عروج ایسی بہت سی کہانیاں ہمارے معاشرے میں بکھری پڑی ہیں ۔ لیکن سب بس اتنا کہہ کر کہ اس نے غلط کیا کافی سمجھتے ہیں ۔
ایک سچا واقعہ میں بھی سناتی ہوں
ایک شخص نے دو شادیاں کی اور دونوں کو دو کمروں کے ایک ہی گھر میں رکھا ۔ پہلی بیوی ، اپنے شوہر کا دوسری بیوی کے ساتھ معاملات دیکھ دیکھ کر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ۔
کہنے کو وہ شخص تین وقت کا کھانا کھلاتا تھا اپنی بیویوں کو
ہمارے معاشرے میں مردوں کو اتنا تک سینس تو ہے نہیں وہ کیا عدل کریں گے ۔

ذہنی مریض تو خیر آج کل ہر کوئی کسی بھی وجہ سے بن سکتا ہے۔۔۔لیکن میرے سگے ماموں اور دونوں ممانیاں مثال ہیں۔۔۔ہم نے ساری عمر ان کو اور انکے تمام بچوں کو محبت اور اتفاق کے ساتھ دیکھا ہے۔۔۔اللہ ھمیشہ ایسا ہی رکھے۔۔۔آٹھ سال ہماری فیملی بھی ایک گھر میں رہے مگر ھم نے دونوں ممانیوں کو نہ ماموں جان سے لڑتے دیکھا نہ آپس میں۔۔۔الحمد للہ ماموں نے اپنی پانچ بیٹیاں سکون سے بیاہ دی۔۔۔اور ماموں ماشاءاللہ مثالی باپ، شوہر،سسر اور نانا بھی ہیں۔۔۔جسطرح میری ممانیاں گھر بنائے ہوئے ہیں اسکا آدھا کریڈیٹ ماموں کو بھی جاتا ہے۔۔۔
سب عورتیں ایک سی نہیں ہوتیں تو سارے مرد بھی ایک سے نہیں ہوتے۔۔۔گھر ہو یا معاشرہ خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب دونوں میں کمی آجائے۔۔۔کسی ایک نہیں دونوں مل کے معاشرے کی خرابی کا باعث بنتے ھیں۔۔۔میرے مامں بھی اسی معاشرے کا حصہ اور ایسی کہانیاں بھی موجود ہیں۔۔۔

اللہ سب کو ہدایت دے آمین۔۔
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!!
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-11-11), مرزا عامر (18-11-11), راجہ اکرام (17-11-11), رضی (17-11-11), عروج (21-11-11)
پرانا 17-11-11, 04:32 PM   #33
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے صرف اتنا پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ آپ سلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غربت کے باوجود اتنے گھر کہاں سے آ گئے؟؟
کیا اس وقت کے کفار اپنی بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھتے تھے ؟؟
کیا 2 بیویاں ایک گھر میں رکھنے سے اللہ کا عذاب نازل ہو جاتا ہے؟؟؟
کیا 2 بیویوں کو الگ الگ گھر فراہم کر دینے سے زندگی میں سکون آ جاتا ہے؟؟؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-11-11), راجہ اکرام (17-11-11), رضی (17-11-11), عروج (24-02-12)
پرانا 17-11-11, 04:59 PM   #34
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
اوہ پھر تو واقعی افسوس ہوا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اب اجتہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دوسری شادی پر پابندی لگا دینی چاہیئے
کیوں راجہ اکرام کے دشمن ہوئے ہیں
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (17-11-11), رضی (17-11-11), عروج (21-11-11)
پرانا 17-11-11, 09:47 PM   #35
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
میں نے صرف اتنا پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ آپ سلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غربت کے باوجود اتنے گھر کہاں سے آ گئے؟؟
کیا اس وقت کے کفار اپنی بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھتے تھے ؟؟
کیا 2 بیویاں ایک گھر میں رکھنے سے اللہ کا عذاب نازل ہو جاتا ہے؟؟؟
کیا 2 بیویوں کو الگ الگ گھر فراہم کر دینے سے زندگی میں سکون آ جاتا ہے؟؟؟
یہی اہم سوالات ہیں جن کے جواب ضروری ہیں
ہر بیوی کے لیے الگ گھر ، اور پھر اسے سنت کہنا، اور پھر اس سنت کے نفاذ کو دوسری شادی کی شرط بنانا ۔۔ یہ بات کس طرف جا رہی ہے؟؟
حالانکہ دین اسلام جس نے اتنی وضاحت سے خاندانی معاملات میں سارے احکامات دیئے ہیں۔ اس نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کی ۔ اور اس خاموشی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟؟
کہ اس معاملے میں اپنے طرز معاشرت کے پیش نظر ایسی صورتیں نکال لیں جو قابل عمل بھی ہوں اور بنیادی ضروریات کو پوری کرنے والی بھی ہوں
لیکن بات ہے ساری سمجھ کی ۔
پانی پینے کی سنتیں ہمیں واضح طور پر بتائی گئی ہیں، لیکن یہاں خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔ ان دونوں میں فرق کو جب تک نہیں سمجھا جائے گا تو پھر وہی بات ہو گی خود ہی سنتیں بناؤ اور خود ہی اس پر عمل اور اس کی خلاف ورزی کے پیمانے بھی بناؤ
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), عروج (24-02-12)
پرانا 17-11-11, 10:17 PM   #36
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کو الگ حجروں میں رکھا تھا
اور سنت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کہتے ہیں
اگر آپ لوگ اپنے خود ساخستہ دلائل کو ثابت کرنے کے لیے سنت سے انکار کرتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے ۔
میرے نزدیک سنت حضور اکرم کے ہر عمل کو کہتے ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللی علیہ وسلم کے عمل کے سامنے کسی اور کی بات اور عمل کی کوئئ حیثیت نہیں 
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (01-12-11)
پرانا 17-11-11, 10:30 PM   #37
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کو الگ حجروں میں رکھا تھا
اور سنت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کہتے ہیں
اگر آپ لوگ اپنے خود ساخستہ دلائل کو ثابت کرنے کے لیے سنت سے انکار کرتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے ۔
میرے نزدیک سنت حضور اکرم کے ہر عمل کو کہتے ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللی علیہ وسلم کے عمل کے سامنے کسی اور کی بات اور عمل کی کوئئ حیثیت نہیں 
حجرہ کمرے کو کہتے ہیں گھر کو نہیں ۔۔۔ پہلی بات
دوسری بات ہی سوال جو مرزا صاحب نے کیا
تیسری بات حضور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند باندھا کرتے تھے اور امہات المؤمنین بھی ہمارے جیسے کپڑے نہیں پہنتی تھیں ۔۔ تو پھر کیا خیال ہے اس سنت کے بارے میں اگر پانی بھی سنت کے مطابق پینا ہے؟؟

اس طرح اگر گنوانا شروع کیا تو فہرست طویل ہو جائے گی اور پھر آپ کے لیے عمل کرنا مشکل ہو جائے گا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (17-11-11)
پرانا 17-11-11, 10:45 PM   #38
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
میں نے صرف اتنا پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ آپ سلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غربت کے باوجود اتنے گھر کہاں سے آ گئے؟؟
حضور اکرم کوئی غریب نہیں تھے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد دو شادیاں کی حضرت عائشہ سے اور حضرت سودہ سے
ان کے حجروں کی تعمیر مسجد نبوی کے ساتھ ہی ہوئی ۔
پہر غزوہ بدر ہوگئی اس میں مال غنیمت جمع ہوا اور قیدیوں کی رہائی کے عوض مال ملا ۔اس میں حضور اکرم کا حصہ ہوتا تھا ۔
حضور اکرم صلی اللی علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کو اچھا مہر ادا کیا
اور تمام ازواج کو الگ حجرہ دیا
مشکل وقت صرف غزوہ احزاب کے دنوں میں ائے
پہر غزوہ خیبر کے بعد پہر مال غنیمت جمع ہوا اور مسلمانو ں میں خوشحالئ ہے ۔
حضور اکرم اضافی مال صدقہ کردیتے تھے لیکن اپنی ازواج کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), حیدر (18-11-11), رضی (17-11-11), عروج (01-12-11)
پرانا 17-11-11, 10:56 PM   #39
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
حجرہ کمرے کو کہتے ہیں گھر کو نہیں ۔۔۔ پہلی بات
دوسری بات ہی سوال جو مرزا صاحب نے کیا
تیسری بات حضور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند باندھا کرتے تھے اور امہات المؤمنین بھی ہمارے جیسے کپڑے نہیں پہنتی تھیں ۔۔ تو پھر کیا خیال ہے اس سنت کے بارے میں اگر پانی بھی سنت کے مطابق پینا ہے؟؟

اس طرح اگر گنوانا شروع کیا تو فہرست طویل ہو جائے گی اور پھر آپ
کے لیے عمل کرنا مشکل ہو جائے گا
گھر ایک یونٹ کو کہتے ہیں۔ گھر ایک کمرے کا بھی ہوتا ہے اور دس کمروں
کا بھی ۔
لیک ایک کمرے کے گھر میں اپنا کچن اور اپنئ اینٹریس ہوتی ہے
ازواج مطہرات کے حجرے میں ہی کچن بھی تھا ۔ اور تمام حجرے کی اینٹرینس مسجد نبوی کے صحن میں کھلتی تھی ۔
اور تمام ازواج اپنا کھانا الگ بنایا کرتی تھیں۔
سورہ تحریم میں جو واقعہ ہے کہ حضور اکرم نے اپنے اوپر شہد حرام کرلیا تھا وہ پورا واقعہ پڑھیں تو آپ کو علم ہو جائے گا کہ تمام ازواج کا کھانا الگ الگ اپنے حجروں میں ہوتا تھا

Last edited by سحر; 17-11-11 at 11:00 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), حیدر (18-11-11), رضی (17-11-11), عروج (01-12-11)
پرانا 18-11-11, 12:02 AM   #40
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کو الگ حجروں میں رکھا تھا
اور سنت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کہتے ہیں
اگر آپ لوگ اپنے خود ساخستہ دلائل کو ثابت کرنے کے لیے سنت سے انکار کرتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے ۔
میرے نزدیک سنت حضور اکرم کے ہر عمل کو کہتے ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللی علیہ وسلم کے عمل کے سامنے کسی اور کی بات اور عمل کی کوئئ حیثیت نہیں 
ایڈوانس میں معذرت چاہتا ہوں۔

سحر بہن آپ کے اٹھائے ہوئے نکتے بالکل درست ھوتے ہیں ۔ اور رہی بات سنت کی تو اس سے انکار نہیں۔ اسی کہانی میں سنت پوری کرنے کا انجام بھی دیکھ لیا۔ یہ سنت پوری کرنا نہین ضد اور ہٹ دھرمی ہے جو دونوں طرف سے سنت کے نام پر کی جاتی ہے۔ اس نے سنت کے نام پر چار شادیوں کی ضد لگائی اور عورت کے ساتھ عدل نہیں کیا زیادتی کی۔ اور اگر مرد افورڈ نہ کرسکتا ہو تو عورت سنت کے نام پر الگ گھر کی ضد لگائے تو یہ بھی وہی رویہ ھوگا جو اوپر اس کہانی میں دیکھایا گیا ہے۔

معاشرہ بھی ایک بلا کا نام ہے اور معاشرے کے اچھے اثرات بھی ھوتے ہیں اور برے اثرات بھی۔ سنت اور دین کے نام پر ہر کوئی اپنی ضد منوانے کے چکر میں ہے۔ معاشرتی معاملات اس ماحول اور معاشرے کے مطابق ھوتے ہیں۔

بہت سے ایسے دھاگے پہلے بھی لگائے گئے جیسا کہ جوائینٹ فیملی سسٹم، مرد ماں باپ کے کام کے لیئے الگ نوکر رکھے ۔ اس طرح کے بہت سے نکتے اٹھائے گئے اور سہارا سنت کا ہی لیا گیا۔ ان دھاگوں میں جو نکتے اٹھائے گئے میں ان سے متفق ہوں اور جو کمزوریاں بیان کی گئی میں ان سے اتفاق کرتا ہوں لیکن جو دلائل دیئے گئے یا جو حل پیش کیئے گئے میں ان سے متفق نہیں ھوں۔ کیونکہ مجھے یہ سنت کے نام پر اپنی ضد منوانا لگے ۔ اور انکی بنیاد سراسر ذاتی جذبات پر مبنی ہے۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), حیدر (18-11-11), سحر (18-11-11), عروج (01-12-11)
پرانا 18-11-11, 12:02 AM   #41
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کافی دیر اس تھریڈ کا رخ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی شخص کے چار مختلف خطوط لکنے میں مصروف تھا ۔ سوچ سوچ کر لکھ رہا تھا اس لیئے کافی دیر لگ گئی
میرے دو سوالوں‌کے جواب نہیں ملے
کیا دو بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنے سے اللہ کا عذاب آ جاتا ہے؟؟ چلیں سوال کو آسان بنا لیتے ہیں کہ کیا دو بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنا گناہ ہے
کیا دو بیویوں کو الگ الگ رکھنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (18-11-11), عروج (01-12-11)
پرانا 18-11-11, 01:26 PM   #42
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
میرے دو سوالوں‌کے جواب نہیں ملے
کیا دو بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنے سے اللہ کا عذاب آ جاتا ہے؟؟ چلیں سوال کو آسان بنا لیتے ہیں کہ کیا دو بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنا گناہ ہے
کیا دو بیویوں کو الگ الگ رکھنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟؟
کسی کے گناہ گار ہونے یا نا ہونے کا فیصلہ آپ اور میں کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ ہم صرف اصولی بات کرسکتے ہیں ۔
انسان کے تقوی پر منحصر ہے کہ وہ سنت سے کتنی محبت کرتا ہے
سنت ہم کو بنیادی اخلاقیات اور دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا سکھاتی ہے ۔
ایک واقعہ یہاں لکھ رہی ہوں تاکہ آپ کو بات سمجھانے میں اسانی ہو
حضرت عائشہ فرماتی ہیں
کہ ہمارے گھروں میں رات کے وقت اندھیرہ ہوتا تھا کیونکہ دیا جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا ۔
ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے میں داخل ہوئے ۔ اس وقت حضرت عائشہ سے ملاقعات کرنے حضرت ام سلمہ ان کے حجرے میں ائیں ہوئیں تھیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ام سلمہ اندھیرے میں نظر آئیں ۔تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف بڑھے تو حضرت عائشہ کچھ بولیں جس سے حضور کو علم ہوا کہ حجرے میں دو ازواج موجود ہیں ۔
حضور رک گئے اور اس وقت تک کسی زوجہ کے قریب نہیں بڑھے جب تک
حضرت ام سلمہ وہاں سے چلی نا گئیں

یہ بنیادی اخلاقیات ہیں کہ شوہر ایک بیوی کے سامنے دوسری بیوی کو ہاتھ نا لگائے ۔ حالانکہ دونوں بیویاں اس کے لیے حلال ہیں ۔ اس بات کا میرے خیال سے الگ حکم دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ۔

اب ہم غور کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کس نوعیت کے ہوتے ہیں ۔
ایک گھر جس میں دو تا تیں بیڈ رومز ہوتے ہوں ان بیڈ رومز کے درمیان ایک لاونچ ہوتا ہے جس میں تمام بیڈ رومز کے دروازے کھلتے ہیں ۔
وہ لاونچ سب کے کمبائن استعمال کے لیے ہوتا ہے اس لاونچ میں انے کے لیے کسی فیملی ممبر کو کسی دوسرے کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔
تمام فیملی ممبرز اس لاونچ میں ہی سارا دن گزراتے ہیں اور بیڈ رومز رات کو سونے کے لیے استعمال ہوتا ہے
اب اگر اس طرح کے گھر میں ایک شخص دو بیویوں کو رکھتا ہے ۔
تو اگرلاونچ میں بیٹھ کر اگر شوہر اپنی ایک بیوی سے ہنسی مذاق کرتا ہے اور اس کو ہاتھ لگاتا ہے تو دوسری بیوی چاہے کتنی بھی صابر ہو اس کو تکلیف ہوگی ۔
یا شوہر اپنے آپ کو پابند کرے کہ جب تک وہ اپنی کسی بیوی کے ساتھ بیڈ روم میں اکیلا نا ہو وہ اپنی بیوی سے ہنسی مذاق یا اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا
تو یہ شوہر کے ساتھ ذیادتی ہوگی ۔
الگ رہنا صروری نہیں کہ تمام بیویوں کو دو، دو کنال کا گھر دے ۔
بلکہ اگر اوپر نیچے کا گھر ہے اور اوپر الگ اینٹرینس اور کچن وغیرہ الگ ہے تو یہ دونوں الگ گھر ہی تصور کیے جائیں گے ۔
الگ گھر کا فائدہ یہ ہے کہ اگر شوہر ایک دن اور ایک رات ایک بیوی کے ساتھ گزارتا ہے اور دوسرا دن دوسری بیوی کے ساتھ
'تو وقت صرف اس کی اس بیوی کا ہوگا اور وہ آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں
ناکہ ہر وقت ایک دوسرے کے جذبات کا ہی خیال کرتے رہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-11-11), حیدر (18-11-11), رضی (29-11-11), سام (18-11-11), عروج (01-12-11)
جواب

Tags
کورس, کوشش, کراچی, پسند, لوگ, نیند, نماز, موجودہ, ماں, مسائل, مسجد, آج, اللہ, امتحان, بھائی, بچوں, ذرا, شادی, طلاق, عمری, عالم, عادی, صبح, صدمہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger