| 12 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (16-11-11), فیصل ناصر (15-11-11), نبیل خان (17-11-11), مرزا عامر (15-11-11), wajee (16-11-11), تبتیلا انجم (16-11-11), حیدر (17-11-11), حیدر Rehan (15-11-11), راجہ اکرام (15-11-11), رضی (17-11-11), سحر (15-11-11), صبیحہ (17-11-11) |
|
|
#31 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نا یہ بات کررہی ہوں کہ عورت آئنڈیل ہوتی ہے آپ لوگ بلاوجی میں عورت کی برائیوں کو بیچ میں لارہے ہیں
میں تو صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ جب بیٹھ کر پانی پینے تک ہم سنت پر عمل کرنے کو کہتے ہیں۔ تو الگ گھر میں سنت کے مقابلے میں معاشرے کی مثالیں کیوں اگر معاشرہ سنت سے ٹکراتا ہے تو ہم معاشرہ بدلیں گے نا کہ سنت کو پس پشت ڈال دیں
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (21-11-11) |
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ذہنی مریض تو خیر آج کل ہر کوئی کسی بھی وجہ سے بن سکتا ہے۔۔۔لیکن میرے سگے ماموں اور دونوں ممانیاں مثال ہیں۔۔۔ہم نے ساری عمر ان کو اور انکے تمام بچوں کو محبت اور اتفاق کے ساتھ دیکھا ہے۔۔۔اللہ ھمیشہ ایسا ہی رکھے۔۔۔آٹھ سال ہماری فیملی بھی ایک گھر میں رہے مگر ھم نے دونوں ممانیوں کو نہ ماموں جان سے لڑتے دیکھا نہ آپس میں۔۔۔الحمد للہ ماموں نے اپنی پانچ بیٹیاں سکون سے بیاہ دی۔۔۔اور ماموں ماشاءاللہ مثالی باپ، شوہر،سسر اور نانا بھی ہیں۔۔۔جسطرح میری ممانیاں گھر بنائے ہوئے ہیں اسکا آدھا کریڈیٹ ماموں کو بھی جاتا ہے۔۔۔ سب عورتیں ایک سی نہیں ہوتیں تو سارے مرد بھی ایک سے نہیں ہوتے۔۔۔گھر ہو یا معاشرہ خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب دونوں میں کمی آجائے۔۔۔کسی ایک نہیں دونوں مل کے معاشرے کی خرابی کا باعث بنتے ھیں۔۔۔میرے مامں بھی اسی معاشرے کا حصہ اور ایسی کہانیاں بھی موجود ہیں۔۔۔ اللہ سب کو ہدایت دے آمین۔۔
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!! |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے صرف اتنا پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ آپ سلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غربت کے باوجود اتنے گھر کہاں سے آ گئے؟؟
کیا اس وقت کے کفار اپنی بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھتے تھے ؟؟ کیا 2 بیویاں ایک گھر میں رکھنے سے اللہ کا عذاب نازل ہو جاتا ہے؟؟؟ کیا 2 بیویوں کو الگ الگ گھر فراہم کر دینے سے زندگی میں سکون آ جاتا ہے؟؟؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#34 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہر بیوی کے لیے الگ گھر ، اور پھر اسے سنت کہنا، اور پھر اس سنت کے نفاذ کو دوسری شادی کی شرط بنانا ۔۔ یہ بات کس طرف جا رہی ہے؟؟ حالانکہ دین اسلام جس نے اتنی وضاحت سے خاندانی معاملات میں سارے احکامات دیئے ہیں۔ اس نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کی ۔ اور اس خاموشی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟؟ کہ اس معاملے میں اپنے طرز معاشرت کے پیش نظر ایسی صورتیں نکال لیں جو قابل عمل بھی ہوں اور بنیادی ضروریات کو پوری کرنے والی بھی ہوں لیکن بات ہے ساری سمجھ کی ۔ پانی پینے کی سنتیں ہمیں واضح طور پر بتائی گئی ہیں، لیکن یہاں خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔ ان دونوں میں فرق کو جب تک نہیں سمجھا جائے گا تو پھر وہی بات ہو گی خود ہی سنتیں بناؤ اور خود ہی اس پر عمل اور اس کی خلاف ورزی کے پیمانے بھی بناؤ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
|
#36 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا کوئی اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کو الگ حجروں میں رکھا تھا
اور سنت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کہتے ہیں اگر آپ لوگ اپنے خود ساخستہ دلائل کو ثابت کرنے کے لیے سنت سے انکار کرتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے ۔ میرے نزدیک سنت حضور اکرم کے ہر عمل کو کہتے ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللی علیہ وسلم کے عمل کے سامنے کسی اور کی بات اور عمل کی کوئئ حیثیت نہیں |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (01-12-11) |
|
|
#37 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات ہی سوال جو مرزا صاحب نے کیا تیسری بات حضور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند باندھا کرتے تھے اور امہات المؤمنین بھی ہمارے جیسے کپڑے نہیں پہنتی تھیں ۔۔ تو پھر کیا خیال ہے اس سنت کے بارے میں اگر پانی بھی سنت کے مطابق پینا ہے؟؟ اس طرح اگر گنوانا شروع کیا تو فہرست طویل ہو جائے گی اور پھر آپ کے لیے عمل کرنا مشکل ہو جائے گا |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (17-11-11) |
|
|
#38 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد دو شادیاں کی حضرت عائشہ سے اور حضرت سودہ سے ان کے حجروں کی تعمیر مسجد نبوی کے ساتھ ہی ہوئی ۔ پہر غزوہ بدر ہوگئی اس میں مال غنیمت جمع ہوا اور قیدیوں کی رہائی کے عوض مال ملا ۔اس میں حضور اکرم کا حصہ ہوتا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللی علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کو اچھا مہر ادا کیا اور تمام ازواج کو الگ حجرہ دیا مشکل وقت صرف غزوہ احزاب کے دنوں میں ائے پہر غزوہ خیبر کے بعد پہر مال غنیمت جمع ہوا اور مسلمانو ں میں خوشحالئ ہے ۔ حضور اکرم اضافی مال صدقہ کردیتے تھے لیکن اپنی ازواج کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے |
|
|
|
|
|
|
#39 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کا بھی ۔ لیک ایک کمرے کے گھر میں اپنا کچن اور اپنئ اینٹریس ہوتی ہے ازواج مطہرات کے حجرے میں ہی کچن بھی تھا ۔ اور تمام حجرے کی اینٹرینس مسجد نبوی کے صحن میں کھلتی تھی ۔ اور تمام ازواج اپنا کھانا الگ بنایا کرتی تھیں۔ سورہ تحریم میں جو واقعہ ہے کہ حضور اکرم نے اپنے اوپر شہد حرام کرلیا تھا وہ پورا واقعہ پڑھیں تو آپ کو علم ہو جائے گا کہ تمام ازواج کا کھانا الگ الگ اپنے حجروں میں ہوتا تھا Last edited by سحر; 17-11-11 at 11:00 PM. |
|
|
|
|
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سحر بہن آپ کے اٹھائے ہوئے نکتے بالکل درست ھوتے ہیں ۔ اور رہی بات سنت کی تو اس سے انکار نہیں۔ اسی کہانی میں سنت پوری کرنے کا انجام بھی دیکھ لیا۔ یہ سنت پوری کرنا نہین ضد اور ہٹ دھرمی ہے جو دونوں طرف سے سنت کے نام پر کی جاتی ہے۔ اس نے سنت کے نام پر چار شادیوں کی ضد لگائی اور عورت کے ساتھ عدل نہیں کیا زیادتی کی۔ اور اگر مرد افورڈ نہ کرسکتا ہو تو عورت سنت کے نام پر الگ گھر کی ضد لگائے تو یہ بھی وہی رویہ ھوگا جو اوپر اس کہانی میں دیکھایا گیا ہے۔ معاشرہ بھی ایک بلا کا نام ہے اور معاشرے کے اچھے اثرات بھی ھوتے ہیں اور برے اثرات بھی۔ سنت اور دین کے نام پر ہر کوئی اپنی ضد منوانے کے چکر میں ہے۔ معاشرتی معاملات اس ماحول اور معاشرے کے مطابق ھوتے ہیں۔ بہت سے ایسے دھاگے پہلے بھی لگائے گئے جیسا کہ جوائینٹ فیملی سسٹم، مرد ماں باپ کے کام کے لیئے الگ نوکر رکھے ۔ اس طرح کے بہت سے نکتے اٹھائے گئے اور سہارا سنت کا ہی لیا گیا۔ ان دھاگوں میں جو نکتے اٹھائے گئے میں ان سے متفق ہوں اور جو کمزوریاں بیان کی گئی میں ان سے اتفاق کرتا ہوں لیکن جو دلائل دیئے گئے یا جو حل پیش کیئے گئے میں ان سے متفق نہیں ھوں۔ کیونکہ مجھے یہ سنت کے نام پر اپنی ضد منوانا لگے ۔ اور انکی بنیاد سراسر ذاتی جذبات پر مبنی ہے۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
|
|
|
#41 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کافی دیر اس تھریڈ کا رخ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی شخص کے چار مختلف خطوط لکنے میں مصروف تھا ۔ سوچ سوچ کر لکھ رہا تھا اس لیئے کافی دیر لگ گئی
میرے دو سوالوںکے جواب نہیں ملے کیا دو بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنے سے اللہ کا عذاب آ جاتا ہے؟؟ چلیں سوال کو آسان بنا لیتے ہیں کہ کیا دو بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنا گناہ ہے کیا دو بیویوں کو الگ الگ رکھنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟؟ |
|
|
|
|
|
#42 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
انسان کے تقوی پر منحصر ہے کہ وہ سنت سے کتنی محبت کرتا ہے سنت ہم کو بنیادی اخلاقیات اور دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا سکھاتی ہے ۔ ایک واقعہ یہاں لکھ رہی ہوں تاکہ آپ کو بات سمجھانے میں اسانی ہو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمارے گھروں میں رات کے وقت اندھیرہ ہوتا تھا کیونکہ دیا جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا ۔ ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے میں داخل ہوئے ۔ اس وقت حضرت عائشہ سے ملاقعات کرنے حضرت ام سلمہ ان کے حجرے میں ائیں ہوئیں تھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ام سلمہ اندھیرے میں نظر آئیں ۔تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف بڑھے تو حضرت عائشہ کچھ بولیں جس سے حضور کو علم ہوا کہ حجرے میں دو ازواج موجود ہیں ۔ حضور رک گئے اور اس وقت تک کسی زوجہ کے قریب نہیں بڑھے جب تک حضرت ام سلمہ وہاں سے چلی نا گئیں یہ بنیادی اخلاقیات ہیں کہ شوہر ایک بیوی کے سامنے دوسری بیوی کو ہاتھ نا لگائے ۔ حالانکہ دونوں بیویاں اس کے لیے حلال ہیں ۔ اس بات کا میرے خیال سے الگ حکم دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ۔ اب ہم غور کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کس نوعیت کے ہوتے ہیں ۔ ایک گھر جس میں دو تا تیں بیڈ رومز ہوتے ہوں ان بیڈ رومز کے درمیان ایک لاونچ ہوتا ہے جس میں تمام بیڈ رومز کے دروازے کھلتے ہیں ۔ وہ لاونچ سب کے کمبائن استعمال کے لیے ہوتا ہے اس لاونچ میں انے کے لیے کسی فیملی ممبر کو کسی دوسرے کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ تمام فیملی ممبرز اس لاونچ میں ہی سارا دن گزراتے ہیں اور بیڈ رومز رات کو سونے کے لیے استعمال ہوتا ہے اب اگر اس طرح کے گھر میں ایک شخص دو بیویوں کو رکھتا ہے ۔ تو اگرلاونچ میں بیٹھ کر اگر شوہر اپنی ایک بیوی سے ہنسی مذاق کرتا ہے اور اس کو ہاتھ لگاتا ہے تو دوسری بیوی چاہے کتنی بھی صابر ہو اس کو تکلیف ہوگی ۔ یا شوہر اپنے آپ کو پابند کرے کہ جب تک وہ اپنی کسی بیوی کے ساتھ بیڈ روم میں اکیلا نا ہو وہ اپنی بیوی سے ہنسی مذاق یا اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا تو یہ شوہر کے ساتھ ذیادتی ہوگی ۔ الگ رہنا صروری نہیں کہ تمام بیویوں کو دو، دو کنال کا گھر دے ۔ بلکہ اگر اوپر نیچے کا گھر ہے اور اوپر الگ اینٹرینس اور کچن وغیرہ الگ ہے تو یہ دونوں الگ گھر ہی تصور کیے جائیں گے ۔ الگ گھر کا فائدہ یہ ہے کہ اگر شوہر ایک دن اور ایک رات ایک بیوی کے ساتھ گزارتا ہے اور دوسرا دن دوسری بیوی کے ساتھ 'تو وقت صرف اس کی اس بیوی کا ہوگا اور وہ آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں ناکہ ہر وقت ایک دوسرے کے جذبات کا ہی خیال کرتے رہیں ۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورس, کوشش, کراچی, پسند, لوگ, نیند, نماز, موجودہ, ماں, مسائل, مسجد, آج, اللہ, امتحان, بھائی, بچوں, ذرا, شادی, طلاق, عمری, عالم, عادی, صبح, صدمہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|