واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


ایک سچی کہانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-06-09, 12:33 PM   #1
ایک سچی کہانی
ام طلحہ ام طلحہ آف لائن ہے 22-06-09, 12:33 PM

حسب وعدہ میں ایک سچی کہانی آپ سے شئیر کر رہی ہوں۔ میں نے انجم بھائی سے کہا تھا کہ میرا بھی دل چاہ رہا ہے کہ اپنے شعبے کے باعث سامنے آنے والے تجربات شئیر کروں
چونکہ میں نے بیان کردہ خاتون سے یہ اجازت نہیں لی ہے کہ میں انکی زندگی کا احوال لکھوں اسلئے میں نام بدل دوں گی لیکن لکھنے کا مقصد بیان کرنا ہے کہ آج بھی تعلیم اور شعور کے باوجود عورت کے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے۔
اس لڑکی نے جس کا نام ہم ربیعہ فرض کر لیتے ہیں ایک سخت گیر والد کے سائے میں آنکھ کھولی۔بہن بھائیوں میں تیسرا نمبر تھا۔ والدہ جو تعلیم یافتہ تھیں مگر شوہر کے رعب کے باعث بچوں کو گھر میں چھپا کر رکھا کرتی تھیں۔ والد کے گھر موجودگی کے درمیان کسی کی مجال نہ تھی کہ آواز بھی نکال سکے۔ والدہ نے شادی کے بعد بی اے کیا تھا اسکے بعد بھی پڑھنا چاہتی تھیں مگر اجازت نہ ملی۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم پر خوب توجہ دی۔ خوش قسمتی سے والد بھی بچوں کی تعلیم کے لئے بہت سنجیدہ تھے لیکن بس انکا سخت گیر مزاج سب کو ہر وقت ڈرا سہما رہنے پر مجبور رکھتا تھا۔ ربیعہ بھی پڑھائی میں ذہین تھی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن بی اے کے فوراً بعد اسکی شادی ہو گئی۔ شادی ہوئی تو اس نے سوچا کہ شاید اب سانس لینا نصیب ہوگا جیسا کہ اسکے گھر کا ماحول میں بیان کر ہی چکی ہوں۔ مگر معاملہ اس کے برعکس پایا۔ جب 7 نندوں اور دو دیوروں کے درمیان اس نے بڑی بہو کی حیثیت سے قدم رکھا تو اسے وہ چاؤ مفقود نظر آیا جو پہلے پہلے بھائی کی شادی پر ہوتا ہے۔ اس نے اسے اپنا وہم سمجھا لیکن یہ شدت سے محسوس کرگئی کہ رخصتی کے بعد سسر نہ تو اسے دیکھنے آئے نہ ہی اسے ان کے پاس لے جایا گیا۔ جب شوہر سے پہلی بات ہوئی تو وہ بھی انہی ہدایات پر مبنی تھی کہ میری شادی شدہ بہنیں جب بھی گھر آئیں کھانا کھلائے بغیر مت جانے دینا، دیوروں کے کسی کام میں کمی مت کرنا، غیر شادی شدہ بہن کو کسی کام کو ہاتھ مت لگانے دینا، سسر کی اجازت کے بغیر اپنے کمرے میں بھی مت آنا، انکی خدمت اپنے والد سے زیادہ کرنااور بہت کچھ ۔ خیر اس سب کو اس نے اپنا ایمان سمجھ لیا۔ اگلے دن ولیمے کی تیار دلہن جب ولیمے کے بعد گھر آئی تو پتہ چلا کہ ایک محاذ اسکے خلاف کھل چکا تھا۔ شوہر نے اسے خوب سنائیں کہ اسنے اب تک سسر کو سلام کیوں نہیں کیا۔ اس بیچاری نے شرم میں ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ کوئی لیکر ہی نہیں گیا۔وہ بیچاری خود کیسے کہتی، مگر یہ توجیہ قابل قبول نہ تھی۔ شوہر نے فرمایا کہ سب اس بات پر تم سے ناراض ہیں بڑی نند سے کہو کہ وہ تمہیں لیکر جائیں میں باہر جارہا ہوں۔ غرض یہ مرحلہ طے ہوا، سسر کی ہدایات بھی سنیں اور شادی کے دس دن میں ہی جھاڑو لیکر کھڑی ہوگئی۔ روز نند کی واپسی پر جو کہ ملازمت پیشہ تھی خوب برا بھلا سنتی کہ کوئی کام نہیں آتا، کھانے کی برائی صفائی میں نقص، کپڑوں کی دھلائی استری میں نقص اور بہت کچھ۔ اسے لگا کہ اس سے اچھی تو وہ میکے میں ہی تھی۔ کم از کم ماں اور بہن بھائیوں سے دکھ سکھ تو کہ لیتی تھی۔ ماں کے سکھ کی خاطر انہیں بھی کچھ نہیں بتایا اور نند کی رپورٹوں پر شوہر کے ہاتھوں بھی بے عزت ہوتی رہی اور روز آنے والی شادی شدہ نندوں کی باتیں بھی اپنی ماں کے نام سنتی رہی جس نے اسے کچھ نہیں سکھایا۔ اس عرصے میں شادی کے فوری بعد اللہ نے خوش خبری بھی دے دی لیکن وہ بھی خوش خبری نہ رہی۔ اسے ڈاکٹر کے پاس جانے سے منع کردیا گیا یہ یہ کہ کر کہ وہ بھی تو عورتیں ہیں جو اسی حالت میں کھیتوں میں کام کرتی ہیں وہ کونسے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں۔ اس موقع پر اس کے شوہر کا کردار کچھ تبدیل ہوا اور انہوں کام کی رعایت کے سلسلے میں نہ صحیح کم از کم اسکی صحت کے معاملے میں اسکا خیال رکھنا شروع کردیا۔ چھپ چھپ کر اسکے لئے پھل لاتے اور اپنے نام پر کمرے میں دودھ لاتے اور اسے پلاتے۔ یوں اولاد کیخاطر ایک محبت کا آغاز ہوا اور رعب کا نفسیاتی دباؤ کچھ کم ہوا۔ لیکن چونکہ جسمانی دباؤ جوں کا توں رہا لہٰذا صحت گرتی گئی۔آخر نتیجہ یہ نکلا کہ قبل ازوقت انتہائی کمزور بچی کی ولادت ہو گئی۔ بچی کو دیکھ کر سسرال والوں نے کہا ایک تو بیٹی وہ بھی ایسی، جس کی سانس کا بھی پتہ نہ چلتا تھا مگر زندگی اللہ کی دینھ ہے سو اس نے اس میں جان ڈالی۔ اس نے کبھی میکے کچھ نہ بتایا تھا مگر اس موقع پر سب قلعی کھل گئی جب سسر نے سب کے سامنے کہا کہ اتنی جلدی بھی کیا تھی۔ کچھ عرصہ ہماری خدمت تو کرتی پھر خدمت کراتی۔خیر جلد ہی پھر کام پر لگ گئی۔ بچی سارا دن سسر کے پاس جھولے میں پڑی رہتی اور وہ صررف اسکی ضروریات پوری کرکے پھر کام میں جت جاتی۔ ایم اے کرنے کا نام لیا تو چپ کرا دیا گیا کہ ہماری بہوئیں نوکری نہیں کرتیں(بیٹیاں تمام ملازمت پیشہ تھیں جنکی شادی پر سٹامپ لکھوائے گئے کہ نوکری نہیں چھڑائی جائے گی)اسی طرح تین برس کا عرصہ گزر گیا سسر کا انتقال ہو گیا اور نند کی شادی ہو گئی مگر کیونکہ شادی شدہ بہنوں کا عمل دخل بند نہ ہوا اسلئے شوہر نے اولاد کی خاطر گھر الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو وہ انکا سب سے بڑا احسان مانتی ہے کیونکہ اس میں تو اتنی جرات ہی نہیں تھی۔ بظاہر لگتا ہے کہ کہانی کا (سب ہنسی خوشی رہنے لگے" والا اختتام ہو گیا لیکن آگے کیا ہوا ربیعہ الگ گھر میں تو آگئی مگر شوہر اپنے حاکم مزاج پر قابو نہ پاسکے۔ مگر وہ شاید عادی ہو چکی تھی۔ نئے گھر میں ایک اور بیٹی کی ولادت ہوئی اور خوب طعنے سنے۔ بچی کی ولادت پر شوہر کی بہنوں کو چیخ چیخ کر روتے دیکھا۔ پھر اللہ نے بیٹا بھی دے دیا اور اس نے اللہ کا شکر کیا۔چونکہ مقروض ہو کر گھر لیا تھا اسلئے نوکری بھی کر لی ٹیوشنیں بھی پڑھائیں اور میرے سمجھانے پر پرائیوٹ ایم اے بھی کر لیا۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایک بہترین نوکری بھی مل گئی اور گھر کے حالات بہترین ہو گئے۔ لیکن اب ایک عجیب سا مسئلہ درپیش ہے۔ شوہر کو بہنوں کی باتیں سن کر ہاتھ اٹھانے کی عادت ہو چکی ہے۔ وہ عادت سے مجبور ہو کر اسے بات بے بات مارتے اور گالی گلوچ کرتے ہیں۔ وہ صبح سے شام تک نوکری کرتی ہے گھر آتے ہی ڈھیروں گالیاں سنتی ہے کہ آج تمہارے بچوں نے یہ کیا اور یہ کھلونایہاں کیوں پڑا ہے اور وغیرہ وغیرہ۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک دن آفس ڈراپ کرتے ہوئے شوہر صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے کئی مرد و خواتین سٹاف ممبرز اور حتیٰ کہ چوکیدار اور آفس بوائے کے سامنے زوردار گالی دے کر ہاتھ رسید کر دیا۔ اس واقعے کی میں خود گواہ ہوں۔ اس فورم پر جو لوگ مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ خواتین کے احترام کے معاملات میں میرا پارہ کتنا ہائی ہو جاتا ہے۔میرا اس واقعے پر بہت خون کھولا ہوا ہے لیکن جب تک کوئی بندہ اپنے لئے کچھ نہ کرنا چاہے تو کوئی اسکے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ اس نے اس دن پہلی بار اپنا دل میرے سامنے کھولا۔باقی باتیں تو میں اس سے پرانے گھریلو تعلقات اور اسکی نندوں کی خبر رسانی کی عادت کی وجہ سے پہلے ہی جانتی ہوں لیکن اسکے شوہر کا کردار میری سمجھ میں نہیں آرہا۔ کاش کوئی اس بارے میں مجھے بتا سکے۔ ایک آئیڈیل گھر جس میں بیٹیاں بیٹا مالی آسودگی پرائیویسی سب کچھ ہے۔ کچھ مقروض صحیح مگر اپنے گھر کے مالک ہیں وہاں اتنے بے قابو غصے کا کیا سبب ہو سکتا ہے۔ کیامرد کیلئے ایسا غصہ لازم ہے؟
وہ عورت جو شوہر سے زیادہ پڑھی لکھی ہے، زیادہ کماتی ہے وہ وجہ بے وجہ کیوں مار کھاتی ہے اور اسکے پٹنے کی داستان اسکا محلہ بھی سناتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عورتوں میں شعور نہیں ہے۔ اپنے حقوق سے آگاہی نہیں ہے۔ اس عورت کے بارے میں کیا کہا جائے جو پڑھی لکھی بھی ہے اور اپنے حقوق بھی جانتی ہے لیکن انکا مطالبہ نہیں کرتی۔ اس نے جب اپنا حال بیان کیا جس واقعے کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے تو اس نے کہا کہ میں کیا کروں۔ میرے شوہر کے میرے اوپر بہت احسانات ہیں۔مارتے ہیں اور پھر پندرہ منٹ بعد ہنستے ہوئے آجاتے ہیں۔ گلہ کرو تو کہتے ہیں گالی تو میں مذاق میں دیتا ہوں۔ انکا غصہ منٹوں میں اڑجاتا ہے۔میں انہیں کیا کہوں۔ زیادہ سمجھانے کی کوشش کروں گی تو گھر ٹوٹ جائے گا۔ میں ان حقوق کا کیا کروں۔ جیسی گزر رہی ہے گزرنے دو۔ مجھے سمجھ نہیں آتا ایسی عورت کا کیا کرنا چاہئے جو مار کھانے کی عادی ہو چکی ہو۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین

Last edited by ام طلحہ; 22-06-09 at 03:21 PM..

 
ام طلحہ's Avatar
ام طلحہ
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2620
Reply With Quote
22 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ALIA (04-08-09), ibrahimraza (05-08-09), shafresha (22-06-09), فیصل ناصر (04-08-09), وجدان (10-08-09), میاں شاہد (25-06-09), منتظمین (22-06-09), محمدمبشرعلی (14-02-10), محمدعدنان (26-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), ابو عمار (23-06-09), ابن جلال (22-06-09), ابرارحسین (22-06-09), احمد بلال (08-01-10), باسط (24-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (05-08-09), سائرہ علی (25-11-09), سحر (22-06-09), شاہ جی 90 (28-06-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
پرانا 22-06-09, 01:16 PM   #2
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس بیان کا حوصلہ ختم ہو چکا ہے۔ مجھے کچھ بریک دیں۔

Last edited by ام طلحہ; 22-06-09 at 03:21 PM.
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), باسط (24-09-09), سحر (22-06-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 01:20 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق پر اپلائی کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), سحر (22-06-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 01:23 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ام طلحہ آپ اپنی بات مکلمل کرلیں
پھر بات کرتے ہیں ۔ اس موضوع پر۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-06-09), ایس اے نقوی (28-11-09), ام غزل (28-06-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 02:04 PM   #5
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس بات تو یہی ہے۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ یہ کس قسم کا کردار ہے۔ مرد کا کردار جو ایک طرف اس عورت کی خاطر اتنا بڑا فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسکیلئے مقروض ہو کر اسے اپنی چھت لے دیتا ہے۔ اسکا تعلیم کا خواب پورا کرتا ہے اس سے قطع نظر کہ بیوی کی تعلیم اس سے زیادہ ہو جائے گی اور دنیا کے طعنوں کا سامنا ہو گا۔ خاندان کی مخالفت مول کر نوکری کی اجازت دیتا ہے دوسری طرف اسکا غصہ کیسا ہے کہ وہ ہاتھ اٹھانے اور گالی گلوچ کو مذاق سمجھتا ہے۔وہ جو اس کی عزت ہے اسے دنیا کی ہنسی کا نشانہ بنانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ وہ واقعہ جو سٹاف کے سامنے اسکے ساتھ ہوا اگر میرے ساتھ ہوتا تو میں شاید خودکشی کر لیتی۔پتہ نہیں اسے کیا کرنا چاہئے تھا۔
پھر اس عورت کا کردار جو اتنے سالوں سے مار کھائے جا رہی ہے جبکہ اسکے بچے بھی اب بڑے ہو رہے ہیں اور بڑی بیٹی ماں کے سامنے ڈھال بن کر مار کھاجاتی ہے۔کیا وہ جو قربانی بچوں کی خاطر دے رہی ہے وہ ٹھیک ہے؟جبکہ اس میں معاشی پہلو بھی نہیں ہے۔ وہ اتنی مضبوط تو ہے کہ اکیلے بھی اپنے بچوں کو پال سکے۔لیکن کیا اسے اپنا گھر توڑ دینا چاہئے یا اس شخص کو کم ازکم ایک جھٹکا دینے کا رسک لینا چاہئے؟میں کچھ نہیں تو کم ازکم مشورہ تو دینا چاہتی ہوں مگر میری خود سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔آپ لوگ ہی کچھ بتائیں!

Last edited by ام طلحہ; 22-06-09 at 02:06 PM.
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), ابو عمار (23-06-09), احمد بلال (08-01-10), باسط (24-09-09), سائرہ علی (25-11-09), سحر (22-06-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
کمائي نے ام طلحہ کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
28-11-09 ایس اے نقوی ایک سچی کہانی 50
پرانا 22-06-09, 02:25 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس واقعے کے دو پہلو ہیں ۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ اس خاتون کی شادی شدہ ذندگی کے دو ادوار ہیں
ایک سسرال اور دوسرا شوہر
سسرال والوں کا معاملہ تو ایسا ہوتا کہ ۔ جو ڈرتا ہے اسکو ڈراتے ہیں اور جو دبتا ہے اس کو دباتے ہیں ۔
اور جو نہیں ڈرتا اس سے خود ڈرتے ہیں ۔
سسرال میں اس خاتون کے اوپر کو ظلم ہو اس میں ان خاتون کی اپنی بے وقوفی کا بھی عمل دخل ہے ۔
سسرال میں کبھی لڑنا نہیں چاہیے لیکن یہ توقع کرنا کہ ہمارا خیال ہمارے سسرال واکے کریں گے یہ بے وقوفی ہے ۔
ان خاتون کو اپنی بساط کے مطابق کام لرنا ۔ چاہیے تھا اور باقی وہ کہہ سکتی تھی کہ مجھ سے نہیں ہوتا ۔
جب کام کرکے بھی باتیں سننی ہیں تو کام نہ کرکے باتیں سننا ذیادہ بہتر نہیں ۔

اب شوہر کا رویہ
شوہر یا مرد کی نفسیات ہوتی کہ وہ ایسی عورت سے امپریس ہوتا ہے یا رعب میں رہتا ہے ۔ جس میں تھوڑی اکڑ ہوتی ہے ۔ میں بے جا غرور کی بات نہیں کررہی ہوں ۔ میں بے جا دبنے کی بات کرہی ہوں ۔
شوہر کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ اس کی بیوی کو مار کھانے کی عادت ہو چکی ہے ۔ اس لیے اس کی نظر میں اس کی اہمیت نہیں رہی ۔
بیوی کو بھی اپنے شوہر کو اس کی لمٹ بتانی چاہیے لہ بلا وجہ مارنا یا کسی کے سامنے بے عزتی کرنا میں برداشت نہیں کروں گی ۔

شوہر کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کریں ۔
یا تو ان کے شوہر احساس کمتری ہے ۔ جس کا اظہار وہ مار کی شکل میں کرتے ہیں ۔
اس کا علاج ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بے جا تعریف کریں اور ان کو غصہ نہ آنے دیں ۔

اور ان کے شوہر ان سے محبت کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ہی یہ آگے پڑھ سکیں اور نوکری کررہی ہیں ۔
اس محبت کو اپنے حق میں استعمال کریں
جو شوہر اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی بیوی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں
اگر شوہر کو غصہ آئے تو لڑنے کے بجائے رونا شروع کردیں
شوہر کا غصہ خودبخود ختم ہوجائے گا ۔
میں گھر توڑنے کا مشورہ نہیں دوں گی
میرے خیال سے ان کے شوہر کو سدھارا جا سکتا ہے
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ALIA (04-08-09), فیصل ناصر (22-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (22-06-09), ام غزل (28-06-09), احمد بلال (08-01-10), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (28-06-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
28-11-09 ایس اے نقوی ایک سچی کہانی 50
پرانا 22-06-09, 02:27 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام

کل ھی ایک کہانی لکھنی شروع کی تھی جس کا آغاز اور اختتام کچھ الگ ھے مگر حالات کچھ ایسے ھی ھیں

ابو کے پاس ایک کیس آیا تھا اس میں عورت کے خلعے کا مقدمہ کیا تھا اس کا کہنا تھا ساری عمر اس آس پہ زندگی گزاری کیا پتا شوہر کی عادت چینج ھو جائے مگر اب اس عمر میں جوان بچوں کے سامنے گالیاں اور مار نہیں کھائ جاتی

کچھ لوگوں کی عادتیں ساری عمر نہیں بدلتیں
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-06-09), منتظمین (22-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (22-06-09), ام غزل (28-06-09), احمد بلال (08-01-10), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
کمائي نے Haya 786 کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
28-11-09 ایس اے نقوی ایک سچی کہانی 50
پرانا 22-06-09, 03:00 PM   #8
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو شوہر اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی بیوی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں
اگر شوہر کو غصہ آئے تو لڑنے کے بجائے رونا شروع کردیں
شوہر کا غصہ خودبخود ختم ہوجائے گا ۔

ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس کے رونے کی بھی اس بندے کے نزدیک کوئی حیثیت نہ ہو۔ مجھے حیرت تو اسی بات کی ہے کہ اس انسان کی شخصیت کے یہ دو پہلو بالکل الگ ہیں۔ ایک طرف مشکل سے مشکل سٹینڈ لے لیتا ہے اور دوسری طرف-----------؟
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), باسط (24-09-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 03:09 PM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
جو شوہر اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی بیوی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں
اگر شوہر کو غصہ آئے تو لڑنے کے بجائے رونا شروع کردیں
شوہر کا غصہ خودبخود ختم ہوجائے گا ۔

ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس کے رونے کی بھی اس بندے کے نزدیک کوئی حیثیت نہ ہو۔ مجھے حیرت تو اسی بات کی ہے کہ اس انسان کی شخصیت کے یہ دو پہلو بالکل الگ ہیں۔ ایک طرف مشکل سے مشکل سٹینڈ لے لیتا ہے اور دوسری طرف-----------؟
اسی لیے تو میں نے کہا کہ اس کو سدھارا جا سکتا ہے ۔
اچھا یہ بتائیں کہ ذیادہ تر غصہ آنے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (28-11-09), ام غزل (28-06-09), باسط (24-09-09), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 03:19 PM   #10
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عموماً بے ترتیبی جو بچوں نے ماں کی غیر موجودگی میں پھیلائی ہوتی ہے یا گھر کے کسی کام کا لیٹ ہونا جبکہ اس کے پاس گھر کے تمام کاموں کیلئے صرف شام 6 بجے سے رات تک کا وقت ہوتا ہے یا پھر صبح نماز سے دفتری اوقات کے آغاز تک کا جس میں اسے بچوں کو تیار کرا کے سکول بھجوانا ہوتا ہے ناشتہ وغیرہ شوہر کی تیاری۔ باقی وجوہات تو ان خاتون کو ہی زیادہ پتہ ہونگی لیکن کیا اس قدر مصروف زندگی میں چھوٹے چھوٹے کاموں کا بہانہ نکال کر لڑنا اور مار پیٹ جائز ہے کیا؟؟؟
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (24-09-09)
پرانا 22-06-09, 03:46 PM   #11
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں سمجھ گئی
یہ ان مردوں میں سے ہیں ۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کی اصل ذمہ داری گھر اور بچے ہیں ۔ اور اگر وہ نوکری کررہی ہیں وہ بھی اس کے شوہر کا احسان ہے ان پر ۔
اس کا علاج
کیا وہ خاتون کوئی نوکرانی نہیں رکھ سکتی ہیں ۔
اور بچوں کو اپنی غیر موجودگی میں اپنے گھر چھوڑنے کے بجائے اپنی امی یا اپنی بہن کے گھر چھوڑیں
اس کی ایک اور وجہ بھی سمجھ آرہی ہے کہ
ان کے شوہر آفس سے ان سے پہلے آجاتے ہونگے ۔
شوہر کے لیے یہ بہت تکلیف دہ بات ہوتی ہے کہ وہ گھر آئیں اور ان کی بیوی گھر پر موجود نہ ہوں ۔
پھر کہوں گی کہ وہ خاتون اپنے شوہر کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں ۔
مرد اپنے مسئلے عموماً نہیں بتاتے لیکن ان مسائل کی وجہ سے دوسرے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-06-09), منتظمین (22-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (28-06-09), احمد بلال (08-01-10), شاہ جی 90 (28-06-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
28-11-09 ایس اے نقوی ایک سچی کہانی 50
پرانا 22-06-09, 04:49 PM   #12
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ اسی طرح کا مسئلہ آجکل میرے خاندان میں بھی ہورہا ہے
اس پر اہل علم کی رائے لینے کے لئے آج ہی میں نے ایک تھریڈ لگانے کا سوچا تھا
ابھی وقت ملتا ہے تو لگاتا ہوں

اس قسم کے مردوں کی نفسیات کچھ بگڑی ہوئی ہوتی ہے
شوہروں کی ان قسموں کے بارے میں میری رائے یہ ہے عورت کو کوئی نا کوئی اسٹینڈ ضرور لینا چاہئے اور ایسے روئے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے
اکثر جگہوں پر میں نے دیکھا ہے کے خواتین سسرال میں ہونے والے مظالم اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو بتاتے ہوئے کتراتی ہیں اور اسی باعث یہ واقعات انتہائی سطح تک پہنچ جاتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), احمد بلال (08-01-10), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 04:56 PM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کچھ اسی طرح کا مسئلہ آجکل میرے خاندان میں بھی ہورہا ہے
اس پر اہل علم کی رائے لینے کے لئے آج ہی میں نے ایک تھریڈ لگانے کا سوچا تھا
ابھی وقت ملتا ہے تو لگاتا ہوں

اس قسم کے مردوں کی نفسیات کچھ بگڑی ہوئی ہوتی ہے
شوہروں کی ان قسموں کے بارے میں میری رائے یہ ہے عورت کو کوئی نا کوئی اسٹینڈ ضرور لینا چاہئے اور ایسے روئے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے
اکثر جگہوں پر میں نے دیکھا ہے کے خواتین سسرال میں ہونے والے مظالم اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو بتاتے ہوئے کتراتی ہیں اور اسی باعث یہ واقعات انتہائی سطح تک پہنچ جاتے ہیں
اسٹینڈ لینے سے آپ کی کیا مراد ہئے ۔ ذرا وضاحت کردیں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (08-01-10), شاہ جی 90 (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 06:05 PM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسٹینڈ لینے سے مراد یہ ہے کے اس قسم کی باتوں چپ چاپ برداشت کرنے کے بجائے اپنے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے
اگر شوہر ناجائز بات پر غصہ ہورہا ہے تو اس کو سمجھائے اور نا ماننے پر خود بھی جوابی غصہ کرے
اور شوہر اگر ناجائز مار پیٹ کرتا ہے تو فورا یہ خبر اپنے میکے والوں کو کی جائے تاکہ وہ شوہر کو پریشر ڈال کر اس قسم کی حرکتوں سے باز رکھ سکیں

کچھ لوگ خاموشی اور ایثار کو کمزوری سمجھنے لگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (28-06-09)
پرانا 22-06-09, 06:12 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی
میرا مشاہدہ ہے کہ جب بھی میکے والے بیچ میں آتے ہیں ۔ تو نوبت طلاق تک آجاتی ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار (23-06-09)
جواب

Tags
فورم, فرض, قید, قصہ, لوگ, نوکری, موقع, ممکن, ماں, محبت, معلوم, اللہ, بچوں, حکم, حل, حال, دوست, رشتے, زندگی, عزت, غزل, صلاح, صحیح, صحت, صدا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger