|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2620
|
||||
| 22 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | ALIA (04-08-09), ibrahimraza (05-08-09), shafresha (22-06-09), فیصل ناصر (04-08-09), وجدان (10-08-09), میاں شاہد (25-06-09), منتظمین (22-06-09), محمدمبشرعلی (14-02-10), محمدعدنان (26-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام غزل (28-06-09), ابو عمار (23-06-09), ابن جلال (22-06-09), ابرارحسین (22-06-09), احمد بلال (08-01-10), باسط (24-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (05-08-09), سائرہ علی (25-11-09), سحر (22-06-09), شاہ جی 90 (28-06-09), عبداللہ حیدر (04-08-09) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بس بیان کا حوصلہ ختم ہو چکا ہے۔ مجھے کچھ بریک دیں۔
Last edited by ام طلحہ; 22-06-09 at 03:21 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سر ورق پر اپلائی کریں ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ام طلحہ آپ اپنی بات مکلمل کرلیں
پھر بات کرتے ہیں ۔ اس موضوع پر۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بس بات تو یہی ہے۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ یہ کس قسم کا کردار ہے۔ مرد کا کردار جو ایک طرف اس عورت کی خاطر اتنا بڑا فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسکیلئے مقروض ہو کر اسے اپنی چھت لے دیتا ہے۔ اسکا تعلیم کا خواب پورا کرتا ہے اس سے قطع نظر کہ بیوی کی تعلیم اس سے زیادہ ہو جائے گی اور دنیا کے طعنوں کا سامنا ہو گا۔ خاندان کی مخالفت مول کر نوکری کی اجازت دیتا ہے دوسری طرف اسکا غصہ کیسا ہے کہ وہ ہاتھ اٹھانے اور گالی گلوچ کو مذاق سمجھتا ہے۔وہ جو اس کی عزت ہے اسے دنیا کی ہنسی کا نشانہ بنانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ وہ واقعہ جو سٹاف کے سامنے اسکے ساتھ ہوا اگر میرے ساتھ ہوتا تو میں شاید خودکشی کر لیتی۔پتہ نہیں اسے کیا کرنا چاہئے تھا۔
پھر اس عورت کا کردار جو اتنے سالوں سے مار کھائے جا رہی ہے جبکہ اسکے بچے بھی اب بڑے ہو رہے ہیں اور بڑی بیٹی ماں کے سامنے ڈھال بن کر مار کھاجاتی ہے۔کیا وہ جو قربانی بچوں کی خاطر دے رہی ہے وہ ٹھیک ہے؟جبکہ اس میں معاشی پہلو بھی نہیں ہے۔ وہ اتنی مضبوط تو ہے کہ اکیلے بھی اپنے بچوں کو پال سکے۔لیکن کیا اسے اپنا گھر توڑ دینا چاہئے یا اس شخص کو کم ازکم ایک جھٹکا دینے کا رسک لینا چاہئے؟میں کچھ نہیں تو کم ازکم مشورہ تو دینا چاہتی ہوں مگر میری خود سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔آپ لوگ ہی کچھ بتائیں! Last edited by ام طلحہ; 22-06-09 at 02:06 PM. |
|
|
|
| کمائي نے ام طلحہ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 28-11-09 | ایس اے نقوی | ایک سچی کہانی | 50 |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس واقعے کے دو پہلو ہیں ۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ اس خاتون کی شادی شدہ ذندگی کے دو ادوار ہیں
ایک سسرال اور دوسرا شوہر سسرال والوں کا معاملہ تو ایسا ہوتا کہ ۔ جو ڈرتا ہے اسکو ڈراتے ہیں اور جو دبتا ہے اس کو دباتے ہیں ۔ اور جو نہیں ڈرتا اس سے خود ڈرتے ہیں ۔ سسرال میں اس خاتون کے اوپر کو ظلم ہو اس میں ان خاتون کی اپنی بے وقوفی کا بھی عمل دخل ہے ۔ سسرال میں کبھی لڑنا نہیں چاہیے لیکن یہ توقع کرنا کہ ہمارا خیال ہمارے سسرال واکے کریں گے یہ بے وقوفی ہے ۔ ان خاتون کو اپنی بساط کے مطابق کام لرنا ۔ چاہیے تھا اور باقی وہ کہہ سکتی تھی کہ مجھ سے نہیں ہوتا ۔ جب کام کرکے بھی باتیں سننی ہیں تو کام نہ کرکے باتیں سننا ذیادہ بہتر نہیں ۔ اب شوہر کا رویہ شوہر یا مرد کی نفسیات ہوتی کہ وہ ایسی عورت سے امپریس ہوتا ہے یا رعب میں رہتا ہے ۔ جس میں تھوڑی اکڑ ہوتی ہے ۔ میں بے جا غرور کی بات نہیں کررہی ہوں ۔ میں بے جا دبنے کی بات کرہی ہوں ۔ شوہر کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ اس کی بیوی کو مار کھانے کی عادت ہو چکی ہے ۔ اس لیے اس کی نظر میں اس کی اہمیت نہیں رہی ۔ بیوی کو بھی اپنے شوہر کو اس کی لمٹ بتانی چاہیے لہ بلا وجہ مارنا یا کسی کے سامنے بے عزتی کرنا میں برداشت نہیں کروں گی ۔ شوہر کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کریں ۔ یا تو ان کے شوہر احساس کمتری ہے ۔ جس کا اظہار وہ مار کی شکل میں کرتے ہیں ۔ اس کا علاج ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بے جا تعریف کریں اور ان کو غصہ نہ آنے دیں ۔ اور ان کے شوہر ان سے محبت کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ہی یہ آگے پڑھ سکیں اور نوکری کررہی ہیں ۔ اس محبت کو اپنے حق میں استعمال کریں جو شوہر اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی بیوی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں اگر شوہر کو غصہ آئے تو لڑنے کے بجائے رونا شروع کردیں شوہر کا غصہ خودبخود ختم ہوجائے گا ۔ میں گھر توڑنے کا مشورہ نہیں دوں گی میرے خیال سے ان کے شوہر کو سدھارا جا سکتا ہے شکریہ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | ALIA (04-08-09), فیصل ناصر (22-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (22-06-09), ام غزل (28-06-09), احمد بلال (08-01-10), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (28-06-09), عبداللہ حیدر (04-08-09) |
| کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 28-11-09 | ایس اے نقوی | ایک سچی کہانی | 50 |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام
کل ھی ایک کہانی لکھنی شروع کی تھی جس کا آغاز اور اختتام کچھ الگ ھے مگر حالات کچھ ایسے ھی ھیں ابو کے پاس ایک کیس آیا تھا اس میں عورت کے خلعے کا مقدمہ کیا تھا اس کا کہنا تھا ساری عمر اس آس پہ زندگی گزاری کیا پتا شوہر کی عادت چینج ھو جائے مگر اب اس عمر میں جوان بچوں کے سامنے گالیاں اور مار نہیں کھائ جاتی کچھ لوگوں کی عادتیں ساری عمر نہیں بدلتیں |
|
|
|
| کمائي نے Haya 786 کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 28-11-09 | ایس اے نقوی | ایک سچی کہانی | 50 |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جو شوہر اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی بیوی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں
اگر شوہر کو غصہ آئے تو لڑنے کے بجائے رونا شروع کردیں شوہر کا غصہ خودبخود ختم ہوجائے گا ۔ ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس کے رونے کی بھی اس بندے کے نزدیک کوئی حیثیت نہ ہو۔ مجھے حیرت تو اسی بات کی ہے کہ اس انسان کی شخصیت کے یہ دو پہلو بالکل الگ ہیں۔ ایک طرف مشکل سے مشکل سٹینڈ لے لیتا ہے اور دوسری طرف-----------؟ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اچھا یہ بتائیں کہ ذیادہ تر غصہ آنے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عموماً بے ترتیبی جو بچوں نے ماں کی غیر موجودگی میں پھیلائی ہوتی ہے یا گھر کے کسی کام کا لیٹ ہونا جبکہ اس کے پاس گھر کے تمام کاموں کیلئے صرف شام 6 بجے سے رات تک کا وقت ہوتا ہے یا پھر صبح نماز سے دفتری اوقات کے آغاز تک کا جس میں اسے بچوں کو تیار کرا کے سکول بھجوانا ہوتا ہے ناشتہ وغیرہ شوہر کی تیاری۔ باقی وجوہات تو ان خاتون کو ہی زیادہ پتہ ہونگی لیکن کیا اس قدر مصروف زندگی میں چھوٹے چھوٹے کاموں کا بہانہ نکال کر لڑنا اور مار پیٹ جائز ہے کیا؟؟؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (24-09-09) |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں سمجھ گئی
یہ ان مردوں میں سے ہیں ۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کی اصل ذمہ داری گھر اور بچے ہیں ۔ اور اگر وہ نوکری کررہی ہیں وہ بھی اس کے شوہر کا احسان ہے ان پر ۔ اس کا علاج کیا وہ خاتون کوئی نوکرانی نہیں رکھ سکتی ہیں ۔ اور بچوں کو اپنی غیر موجودگی میں اپنے گھر چھوڑنے کے بجائے اپنی امی یا اپنی بہن کے گھر چھوڑیں اس کی ایک اور وجہ بھی سمجھ آرہی ہے کہ ان کے شوہر آفس سے ان سے پہلے آجاتے ہونگے ۔ شوہر کے لیے یہ بہت تکلیف دہ بات ہوتی ہے کہ وہ گھر آئیں اور ان کی بیوی گھر پر موجود نہ ہوں ۔ پھر کہوں گی کہ وہ خاتون اپنے شوہر کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں ۔ مرد اپنے مسئلے عموماً نہیں بتاتے لیکن ان مسائل کی وجہ سے دوسرے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (22-06-09), منتظمین (22-06-09), ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (23-06-09), ام غزل (28-06-09), احمد بلال (08-01-10), شاہ جی 90 (28-06-09), عبداللہ حیدر (04-08-09) |
| کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 28-11-09 | ایس اے نقوی | ایک سچی کہانی | 50 |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ اسی طرح کا مسئلہ آجکل میرے خاندان میں بھی ہورہا ہے
اس پر اہل علم کی رائے لینے کے لئے آج ہی میں نے ایک تھریڈ لگانے کا سوچا تھا ابھی وقت ملتا ہے تو لگاتا ہوں اس قسم کے مردوں کی نفسیات کچھ بگڑی ہوئی ہوتی ہے شوہروں کی ان قسموں کے بارے میں میری رائے یہ ہے عورت کو کوئی نا کوئی اسٹینڈ ضرور لینا چاہئے اور ایسے روئے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اکثر جگہوں پر میں نے دیکھا ہے کے خواتین سسرال میں ہونے والے مظالم اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو بتاتے ہوئے کتراتی ہیں اور اسی باعث یہ واقعات انتہائی سطح تک پہنچ جاتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسٹینڈ لینے سے مراد یہ ہے کے اس قسم کی باتوں چپ چاپ برداشت کرنے کے بجائے اپنے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے
اگر شوہر ناجائز بات پر غصہ ہورہا ہے تو اس کو سمجھائے اور نا ماننے پر خود بھی جوابی غصہ کرے اور شوہر اگر ناجائز مار پیٹ کرتا ہے تو فورا یہ خبر اپنے میکے والوں کو کی جائے تاکہ وہ شوہر کو پریشر ڈال کر اس قسم کی حرکتوں سے باز رکھ سکیں کچھ لوگ خاموشی اور ایثار کو کمزوری سمجھنے لگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فورم, فرض, قید, قصہ, لوگ, نوکری, موقع, ممکن, ماں, محبت, معلوم, اللہ, بچوں, حکم, حل, حال, دوست, رشتے, زندگی, عزت, غزل, صلاح, صحیح, صحت, صدا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|