بنت حوا کی کوک
کبھی ہم نے سوچا حوا کی بیٹی کیا ہے
اور ابن آدم کیا ہے دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں یا انس
اپنے آس پاس کے موحول کو دیکھ کر ہم ضرور بتا سکتے ہیں مرد بمقابل بنت حوا کی کیا حثیت ہےایک بے کار سی چیز سمجھی جانے والی چیز
سچ ہے ہم ابن آدم بنت حوا کو ایک چیز ہی سمجھتے ہیں بس
ایک سچی کہانی بیان کرنا چاہتا ہوں جو مختصر لفظوں پر بیان کرنے کی کوشش کرونگا
میاں بیوی کی کہانی میاں اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے
وہ دن مجھ پر قیامت ڈھا گیا تھا میں اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھا قہقے ہی قہقے تھے
اچانک ایک درد بھری آواز میرے کانو سے ٹکرائی
بچاو بچاو خدا کے لیے مجھے بچاووہ اسے بے دردی سے مار رہا تھا اس کی مارنے کی آواز میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھی
دھادھا کی آواز اس کے جسم پر لگنی والی کی لکڑی کی تھی میں بےہوشی کی کیفیت میں تھا میرے انکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
تھے میں بے ساختہ دوستوں کو کہنے لگا کوئی اس عورت کے بھائی کو خبر کرے وہ اسے مار دے گا پلیز کچھ کرو
ایک دوست نے میری غیر حالت دیکھ کر اس کے بھائی کو فون کیا پر اس کا فون بند جا رہا تھا
اس کی چیخ و پکار نے مجھے بے ہوش کر دیا تھا مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا وہاں کچھ دیر بعد ہوش میں آیا ہوش میں آتے ہی وہی چیخ و پکار میرے کانوں
سے ٹکرا رہی تھی میرے انکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے میں اس کے لیے کچھ نہ کر سکا
خیر کچھ دن بعد ان کی صلح ہو گی میاں نے بیوی سے معافی مانگ لی
وجہ معلوم ہوئی میاں اپنی بیوی سے پیسے مانگ رہا تھا اس نے کہا کہ میں چک لکھ دیتی ہوں نکلوا لے چک ڈھونڈنے میں دیر ہوئی
دیر کیا ہوئی قیامت آگئی یہ سلسلہ بند کہا ہوا ایسا کئی بار ہوا وہ مار کھاتی رہی
کچھ دن پہلے وہی سلسلہ جاری ہوا 4دن مسلسلہ وہ اسے مارتا رہا وہ سہتی رہی دو دن پہلے اس کے بیگ سے کچھ رقم ملی تو ابن آدم نے کہا پیسے خود رکھے ہوئے ہیں مجھے نہیں دیئے واہ ابن آدم تیرے کیا کہنےمیاں نے بیوی کو اتنا مارا اس کا بازو توڑ دیا اور علاج بھی نہیں کرایا میاں کے ایک کزن ڈاکٹرکولے آیا اور علاج کرایا
کیا قصور ہے بنت حوا کا وہ کام کرتی وہ بے چاری ہلتھ ورکر ہے اتنا پیسے کہاں سے لے آئے جو اسے دیتی رہے اور اس کے بھائی واہ ان کے کیا کہنے بہن کی خبر تک نہیں لیتے ان کو ان حالات کی خبر ہے وہ اس کو دیکھنے تک نہیں گئے
وہ مارتا رہے گا وہ مار کہاتی رہی گی کچھ دن پہلے سنا تھا اس نے سپرٹ پی لی تھی ادھا لیٹر سپرٹ پینے کے باوجود وہ اس جہنم سے سے ازاد نہ ہو سکی
آخر ایک دن وہ خود کشی کر ہی لے گی کون قسور وار رہے گا؟ ہم سب یا اس کا خاوند نامدار یعنی سرتاج؟
--------------------------------------------------------------------
عورت سچا پیار کرنے والی ہستی ہے ہم عورت کو برباد کرتے ہیں عورت پیار کی بھوکی ہے نہ کے حوس کی ابن آدم ہی عورت کو غلط راستہ
دیکھاتا ہے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح مارتا ہے وہ ایک دن بغاوت پر اتر آتی ہے پھر ابن آدم اپنی غیرت دیکھاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے
اور خوش ہوتا ہے کہ میں نے ناسور ختم کر دیا یہاں تو ابن آدم ہی ناسور ہے ایسے ناسور کو ختم کرنا ہمارا فرض ہے
صرف یہی دنیا نہیں آگے بھی ایک دنیا ہے وہاں ہم جیسے کو سخت عذاب میں مبتلا کردیا جائےگا اس دن
کیا ہوگا کبھی ہم نے نہیں سوچا۔۔۔ میں یہ سوچتا ہوں وہ اپنے میاں کو ہی مار ڈالے پر وہ ایسا نہیں کرے گی اس 5 بچے ہیں۔ بنت حوا صرف مرد کے ظلم سہتی ہے اور چپ رہتی ہے ایک دن ہم سب کو حساب دینا ہے
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------