واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


بھابھی اور نندیں (وردہ انجم)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-11, 06:46 PM   #1
بھابھی اور نندیں (وردہ انجم)
skjatala skjatala آن لائن ہے 15-06-11, 06:46 PM

شاہ تاج کے حجلہ عروسی میں داخل ہوتے ہی بڑی نند سکینہ نے دو موٹے موٹے آنسووں کے ساتھ استقبال کیا اور گویا ہوئی کہ بڑی بھابھی تو روٹھ کرمیکے جا بیٹھی ہیں آپ ہماری امی کے ساتھ ایسا نہ کیجیے گا جیسا انہوں نے کیا پھر دروازہ کی دستک سے گھبرا کر بولی کہ بھائی کو نہ بتایئے گا کہ ہم نے آپ سے کیا کہا۔ شاہ تاج جو خوب صورت خیالات لے کر حجلہ عروسی میں آئی تھی سکینہ اس کو الجھا کر چلتی بنی۔ دوسری نند سے سامنا ہوا تو وہ بولی ہمیں سلام کرتی رہنا ورنہ ساری زندگی گیٹ پر چوکیدار بنی رہو گی بھیا کی۔ خیر سے شاہ تاج کے شوہر منکسرالمزاج اور اچھی عادت کے تھے جلد ہی شاہ تاج اور ان کی انڈراسٹینڈنگ ہوگئی دونون ایک جان دو قالب ہوگئے۔

شاہ تاج بھابھی بن کر کیا گھر آئی اس کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپا ساس کا پیار‘ عروسی چھوٹی نند کا سکھیوں جیسا رویہ اور دیور جی کا بھابھی کہنا اس کو بہت بھایا اور وہ شادی شدہ نندوں کے منہ دکھائی کے جملے بھول بھال گئی اور گھر کی دنیا میں مگن ہوگئی۔ صبح سب کے جاگنے سے پہلے سب کے لیے انڈے پراٹھے بنا کر‘ پاپے مکھن اور چائے کے تھرماس میں چائے بنا کر ٹیبل سجا دیتی۔ دیور جی دیر سے اٹھتے تھے پھر ناشتا کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے ہوئے ہاف فرائی انڈا ہاتھ میں اٹھا کر شاہ تاج کو کہتے یہ انڈا ہے یا ربڑ اور یہ سوکھا پراٹھا۔ شاہ تاج کو ہنسی آجاتی اور کہتی پہلے آیئے پہلے پایئے جو سویا اس نے کھویا۔ شاہ تاج چھوٹی نند عروسی کو روز اسکول چھوڑنے جاتی۔ عروسی نے نعت خوانی میں حصہ لیا۔ شاہ تاج نئی نویلی دلہن تھی کامدار جوڑا پہن کر عروسی کے ساتھ چلی گئی۔ اسکول کی بچیاں شاہ تاج کو عروسی کے ساتھ دیکھ کر سکھیوں کو کہنے لگیں دیکھو دلہن آئی ہے دلہن!! شاہ تاج کو آج بھی یاد آتا ہے تو بہت ہنسی آتی ہے کہ وہ کوئی سادہ جوڑا ہی پہن جاتی۔ پھر عروسی جب کالج میں پہنچی تو شاہ تاج عروسی کے کالج گئی ایڈمیشن کرایا۔

ساری معلومات حاصل کرکے مضامین منتخب کروائے اور فارم حاصل کرکے عروسی کے ساتھ فارم بھر کر جمع کروا دیا اور عروسی کالج اسٹوڈنٹ ہوگئی۔ شاہ تاج اور عروسی فارغ وقت میں مختلف موضوعات پر بات چیت کرتیں۔ عروسی آخر تک اپنی بات منوانے کی کرتی۔ پھر دونوں نند بھاوج عروسی کے امتحانات سر پر ہوئے تو مل کر دعا کرتیں۔ عروسی اپنے امتحانوں میں کامیابی کی دعا کرتی اور شاہ تاج سب گھر والوں کی صحت و تندرستی آپس میں اتفاق و محبت اور رزق اور مال میںفراوانی کی دعائیں کرتی۔ رمضان کے دن قریب آئے تو سحری کے وقت شاہ تاج سب کے لیے انڈے پراٹھے بناتی۔ چائے بناتی‘ کھجلے اور پھینی دودھ کے ساتھ دستر خوان کی رونق بڑھاتے۔ جتنی دیر شاہ تاج کچن میںکام کرتی ٹیپ ریکارڈ پر نعتیں لگا دیتی اور ایک ماحول بن جاتا۔ سب اٹھ جاتے اور قرآن پاک کی تلاوت اور نفل نمازوں اور تہجد کی نماز ادا کرنے میں لگ جاتے پھر جب سحری کے وقت سائرن بجتا اور ڈھول بجانے والا ڈھول بجا کر سحری کا اعلان کرتا تو سب مل کر سحری کرتے اور پھر سحری ختم ہونے پر پھر سائرن بجتا سب پانی پی کر روزہ کی نیت کرکے فجر کی نماز ادا کرتے اور پھر نرم گرم بستروں میں گھس جاتے اور شاہ تاج سپارہ پڑھ کر روشنی نمودار ہونے کا انتظار کرتی۔

جب میاں آفس کے لیے روانہ ہوجاتے تو اپنا کمرہ جھاڑ پونچھ کر کچن صاف کرکے برتن سمیٹ کر کمر سیدھی کرنے لیٹ جاتی اور ابھی آنکھ نہیں لگی ہوتی کہ ماسی وارد ہوجاتی۔ عروسی اپنے گھر کی ہوگئی اور چھوٹے بھائی کی شادی ہوگئی۔ تو رمضان کی یہی روٹین رہی بس اب عروسی کی جگہ بچوں نے اور دیورانی نے لے لی اور سحری کے وقت وہی نورانی سا ماحول رہتا ہے۔ اور جب ماسی آجاتی تو شاہ تاج سارے گھر کی جھاڑ پونچھ کرواتی۔ کپڑے دھلنے دیتی۔ ماسی جھاڑو پوچا کرلیتی تو شاہ تاج سبزی کاٹ کر رکھ دیتی۔ اماں جی خود کھانا پکاتی تھیں کہ بچے کہتے تھے کہ ہم اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہیں۔ اماں جی بھی شاہ تاج سے اس لیے کھیر نہ پکوائی۔ شاہ تاج ان کی مدد کے لیے انہیںآرام دینے کے لیے بنانے بھی کھڑی ہوجاتی تو اماں یہ کہہ کر ہنڈیا ہاتھ سے لے لیتیں کہ بیٹا تم خراب کردوگی۔ بے برکتا ہوجائے گا.... لیکن کبھی شاہ تاج سے توا لے کر یہ نہیں کہا کہ بیٹا روٹی صحیح نہیں بنے گی بے برکتی ہوجائے گی۔ شادی شدہ نندیں اور مہمان گھر آئے تو شاہ تاج ڈھیروں روٹی پکاتی لیکن ماتھے پر شکن نہ آتی۔

بیٹوں کو پھر بھی اماں کا غم ستاتا کہ ہماری اماں کو ہمارے لیے کتنا کرنا پڑتا ہے اور اماں بھی یہ کہنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں کہ پکی پکائی مل رہی ہے۔ اماں کے ہاتھ کے نوالے توڑ رہی ہیں وغیرہ۔ خیر جہاں برتن ہوتے ہیں وہ کھنکتے تو ہیں ہی۔ شاہ تاج ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے نکال دیتی۔ اماں جی ویسے تو ماں جیسا رویہ رکھتیں لیکن کبھی کبھار ساس بن جاتیں اور کہتیں کہ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا ہمارے طور طریقے الگ ہیں۔ شاہ تاج جتنی بھی صفائی ستھرائی کرلیتی یا گھر کو اجلا کرتی وہ مین میخ ضرور نکالتیں۔ شاہ تاج نہ شوہر سے بیان کرتیں اور اپنے بچوں کو بھی دادی‘ تایا‘ چاچو‘ پھپھووں کا احترام سکھاتی کہ یہ آپ کے ابا کی امی بھائی اور بہن ہیں۔ رشتوں کی پہچان شاہ تاج نے ہی بچوں کو کروائی ورنہ آج کل کے ماحول کی پروردہ لڑکیاں آنٹی انکل پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔ عید سر پر آئی تو چھوٹے بھیا نے شاہ تاج کو سو روپے عیدی دی۔ شاہ تاج بہت خوش ہوئی۔ شام کو شوہر کے ساتھ عید کا جوڑا اور سینڈل خریدنے گئی۔ سینڈل کی دکان پر پیسے کم پڑے تو شاہ تاج نے جھٹ پرس میں سے سو روپے کا نوٹ نکال کر شوہر کو دیا کہ چھوٹے بھیا نے عیدی دی تھی۔ شوہر نے دکاندار کو پیسے پکڑائے تو اس نے پہلے شاہ تاج کے شوہر کو غور سے دیکھا اور پھر ساتھ والے آدمی سے کھسر پھسر کرتے ہوئے نوٹ دکھایا۔ اس نے شاہ تاج کے شوہر کو گھورا تو اسے دال میں کچھ کالا نظر آیا۔

دکاندار کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو دکاندار گویا ہوا کہ جناب آپ نے نقلی نوٹ دیا ہے سو کا۔ شاہ تاج کے شوہر نے نوٹ دیکھا تو اس پر عید مبارک لکھا تھا جو چھوٹے بھیا نے شاہ تاج کو شرارتاً دے دیا تھا۔ شاہ تاج سیدھی تھی اسے معلوم نہ تھا کہ یہاں پر عید مبارک لکھے ہوئے نقلی نوٹ چھپے ہوئے ملتے ہیں اور شاہ تاج کو چھوٹے بھیا نے بے وقوف بنایا۔ شاہ تاج کے شوہر نے دکاندار سے معذرت کی اور کم قیمت کی دوسری سینڈل خرید کر گھر کی راہ لی۔ گھر آکر بھائی کی شرارت کا ذکر کیا تو سب گھر والوں نے شاہ تاج کو قہقہوں اور ٹھٹھوں سے خوب آڑے ہاتھوں لیا اور آج بھی شاہ تاج کے شوہر سب کو یہ قصہ سنا کر مزے لیتے ہیں کہ بال بال بچ گئے ورنہ بیگم نے تو مروا ہی دیا تھا۔ شاہ تاج نے چھوٹے بھائی کی خوب خبر لی۔ ایک روز بھیا نے ایک تصویر دکھائی ایک بچی کی جو فراک پہنے ہوئے تھی بولے شاہ تاج پہچانیے۔

شاہ تاج بھابھی تھیں بھیا نے اصرار کرکے پوچھا بتایئے یہ کون ہے۔ شاہ تاج نے بغور دیکھا کہنے لگی معلوم نہیں آپ ہی بتا دیجیے۔ بولے یہ ہماری منگیتر ہیں۔ شاہ تاج خوب ہنسی اور تصور جھپٹ کر سارے گھر والوں کو دکھا دی کہ اپنی منگیتر کی ایسی تصویر لیے پھرتے ہیں جب وہ فراک پہنتی تھی اور شاہ تاج نے اپنا بدلہ پورا کرلیا۔ آج بھی شاہ تاج کے دیور جی کے چہرے کے برا منانے کے زاویئے یاد آتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔ شاہ تاج نے وہ تصویر سنبھال کر رکھی ہوئی ہے۔ بس سسرال کے رشتے کچھ ایسے انمول رشتے ہوتے ہیں جن کا کوئی مول نہیں ہونے والی بہو جب بھابھی بن کر آتی ہے تو ان رشتوں کی محبتیں‘ چاہتیں اس کو مل جائہیں تو زندگی جنت سے بھی حسین بن جاتی ہے۔ ہنسی مذاق اپنا پن پا کر بھابھی کا رشتہ مختلف محبتوں کو گندھ کر بنتا ہے۔ جب تک اس میں پیار‘ محبت کی چاشنی اور مٹھاس نہ ڈالی جائے تو اس وقت تک یہ پائیدار نہیں ہوتا پھر بھابھی بھی ماں بن کر دکھاتی ہے۔ رشتے اور مضبوط بندھنوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ نندیں بہووں سے بھی زیادہ عزیز ہوجاتی ہیں اور چھوٹی نند بیٹی کی طرح اور دیور بیٹے کی طرح عزیز ہوجاتا ہے۔ سسرال ایسا گھر ہے جہاں بھابھی کو احترام‘ محبت اور خلوص ملتا ہے تو وہ بھی بے غرض اور بے لوث خدمت اور محبت سے گھر کو خوشیوں اور مسکراہٹوں سے سجا دیتی ہے اور زندگی نبھ جاتی ہے۔




ربط:بھابھی اور نندیں (وردہ انجم)
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

 
skjatala's Avatar
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 493
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
سام (16-06-11), سحر بٹ (15-06-11), عروج (15-06-11)
پرانا 15-06-11, 07:52 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ بھائی جان۔ کیا تحریر لائے ھیں آپ۔ مزے کے زمانے یاد دلاگئیں یہ نوک جھوک والی باتیں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (15-06-11)
پرانا 15-06-11, 07:57 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بالکل درست۔

صرف سمجھنے کی بات ھوتی ھے۔ پھر وقت اس مثبت سوچ رکھنے کا میٹھا پھل دے دیتا ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (15-06-11)
پرانا 15-06-11, 11:02 PM   #4
Senior Member
 
سحر بٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 255
کمائي: 2,733
شکریہ: 873
137 مراسلہ میں 244 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب
شیئرنگ کا شکریہ
سحر بٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-06-11, 04:06 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
کمائي: 17,990
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اتنی گت بننےکےبعدبھی بہوcomfortableہیں داددینی پڑےگی۔عام طورپربہوؤں کی خاموشی صبرنہیں جبرکی وجہ سےہوتی ہے۔صبروہ جواللہ کی خاطرکیاجائے۔ہمارےہاں مجبوری کوصبرکانام دیاجاتاہے۔
بہوسالوں جانفشانی سےکام لےپھربھی نکتہ چینی ہو۔اسکاہاتھ لگنےسےبےبرکتی ہووہ پھربھی ہنس کےٹال دے۔2،4 دن نہیں سالوں۔اتنی بی بی بہو اللہ سب کودے۔
hats off to her
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (16-06-11), shafirajput (16-06-11), skjatala (16-06-11)
پرانا 16-06-11, 08:05 AM   #6
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,100
شکریہ: 1,348
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

Nice Fairytale.....
ميرا ايک سوال ہے ......
لفظ "بہو" كے لئے شرعى علوم كے جتنے بهى مأخذ هيں، ان ميں كيا مترادف استعمال هوا ہے؟
اس لفظ "بہو" كا اصل ياoriginكيا ہے؟
mama_shalla آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-06-11, 08:37 PM   #7
Senior Member
 
فخر بٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب انکل جیییییییییییییییییییییییی یییی
شیئرنگ کا شکریہ
فخر بٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فارم, کالج, پہچان, پاک, قرآن, قصہ, نظر, محبت, معذرت, آدمی, انمول, بھائی, بچوں, تاج, تصویر, جلد, خوش, خبر, دیکھو, دعا, روزہ, رمضان, زندگی, سحری, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
بجٹ میں کچھ نہیں ملا ،آدھی حکومت جلوس ،آدھی ان کا استقبال کر رہی ہے،پرویز عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:05 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger