واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-11, 11:03 PM   #1
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا
سیپ سیپ آف لائن ہے 08-02-11, 11:03 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک بہترین ایمانی وروحانی سلسلہ شروع کرنے کی سعادت حاصل کررہی ہوں
وہ ہے جمیع ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن اجمعین کی مختصر سوانح حیات اور پاکیزہ سیرت
ان شاء اللہ امھات المؤمنین کی پاکیزہ زندگی کےمتعلق مضمون پیش کرنے کی بھرپور کوشش کروں گی
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام ونسب

خدیجہ نام ام ہند کنیت طاہرہ لقب سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے
خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ،قصی پر پہنچ کر آپ کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سےمل جاتاہے۔
والدہ کانام فاطمہ بنت زائدہ تھااورلوی بن غالب کے دوسرےبیٹے عامر کی اولاد تھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والداپنے قبیلے میں نہایت معززشخص تھےمکہ آکر اقامت کی عبدالدارابن قصی کے جو ان کے چچا کے بیٹے تھےحلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی جن کے بطن سے عام الفیل سے ۱۵ سال قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پیداہوئی
(بحوالہ طبقات ابن سعدج۸ ص ۸،۱۰)
سن شعور کو پہنچیں تواپنے پاکیزہ اخلاق کی بناپرطاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں(بحوالہ۔اصابہ ج ۸ ص ۶۰)
نکاح
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادرزادہ اور تورات وانجیل کےبہت بڑے عالم تھے منتخب کیا ۔لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہیں ہوسکی اور ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہوگیا

(بحوالہ۔استیعاب ج ۲ ص ۳۷۵)

ابو ہالہ کے بعدعتیق بن عابدمخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔
اسی زمانہ میں حرب الفجار(جنگ)چھڑی جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد لڑائی کے لیے نکلےاور مارے گئے
(بحوالہ۔طبقات ج۸ ص ۹)
یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے
۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عقد نکاح میں
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی دولت وثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنالیا تھااور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھالیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اورپر پڑ چکی تھی۔آنحضرت
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال تجارت لیکر ملک شام سے واپس آئے توحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہانےشادی کا پیغام بھیجا۔نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ )اس خدمت پر مامور ہوئی۔آپصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منظور فرمایا

(بحوالہ۔طبقات ج ۱۔ص ۸۴)

اور شادی کی تاریخ مقررہوگئی ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کےوالد محترم اگرچہ وفات پاچکے تھے تاہم ان کے چچاعمروبن اسد زندہ تھےعرب میں عورتوں کویہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگوکرسکتی تھیں۔اسی بناپر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے چچا کے ہوتے ہوئےبراہ راست تمام مراتب ومراسم طے کیے۔
معین تاریخ پر حضرت خواجہ ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لے کر آئےحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھاحضرت خواجہ ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا عمروبن اسد کے مشورے سے500 سوطلائی درہم مہرقرار پایا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حرم نبوت ہوکرام المؤمنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں۔ اس وقت آنحضرتصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 25 سال کے تھےاورحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی یہ بعثت سے 15 سال پہلے کا واقعہ ہے
(بحوالہ۔صحیح بخاری ج ۱ص ۲،۳)۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام قبول کرنا
15 برس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمپیغمبر ہوئےاور فرائض نبوتکواداکرناچاہاتوسب سے پہلے حضرت حدیجہ رضی اللہ عنہاکو یہ پیغام سنایاوہ سننے سے پہلے مؤمن تھیں،،سبحان اللہ۔۔کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صدق دعوی کاکوئی شخص فیصلہ نہیں کرسکتاتھا۔(بحوالہ۔صحیح بخاری ج۱ باب بدء الوحی)
اولاد
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہت سی اولاد ہوئی ابوہالہ سے جوان کے پہلے شوہر تھےدوبچے پیداہوئےجن کے نام ہالہ اور ہندتھے ۔دوسرے شوہریعنی عتیق سے ایک لڑکی پیداہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چھ اولادیں ہوئیںدوصاحبزادےجو بچپن میں انتقال کرگئےاور چار صاحبزادیاں سب کے نام درج ذیل ہیں
(1)حضرت قاسم رض ۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھےان ہی کے نام پرآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ہے وہ صغر سنی میں ہی انتقال کرگئے جب بمشکل چلنا شروع ہوئے تھے
(2)حضرت زینب رضی اللہ عنہا یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں
(3)حضرت عبداللہ رض انھوں نے نہایت کم عمر پائی ۔یہ چونکہ زمانہ نبوت میں پیداہوئے تھےاس لیے طیب اورطاہرکے لقب سے مشہورہوئے
(4)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
(5)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
(6)حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا
(بحوالہ۔طبقات ابن سعد ج8 ص۱۱)۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کےفضائل ومناقب
آپ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تو بہت ہے لیکن یہاں میں مختصرا کچھ ذکرکررہاہوں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا بہت احترام کیا کرتے تھےﹺ، آپ کی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی دوسری شادی نہیں کیﹺ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی اکثر ان کا ذکر فرمایا کرتے تھے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:" خدا کی قسم مجھے خدیجہ سے بہتر بیوی نہیں ملی، وہ اس وقت ایمان لائیں جب سارا عرب کافر تھا اور انہوں نے اپنا ساری مال و دولت مجھ پر قربان کر دی
ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی عظمت وفضیلت کا اندازہ آپ اس سے بھی لگاسکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نبوت اداکرنا چاہاتو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپ کی تائید میں نہ اٹھی ۔ کوہ حرا،وادی عرفات،جبل فاران،غرض تمام جزیرۃ العرب آپ کی آواز پرایک پیکر تصویربناہواتھالیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیداکررہی تھی۔یہ آواز حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قلب مبارک سے بلند ہوئی تھی جو اس ظلمت کدہ کفر وضلالت مین انوارالہٰی کا دوسراتجلی گاہ تھا۔۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاوہ مقدس خاتون جنت ہیں جنھوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی ترک کردی تھی۔چنانچہ مسند ابن حنبل میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے فرمایابخدا میں کسی لات وعزیٰ کی پرستش نہیں کروں گا۔انھوں نے جواب دیا لات کو جانے دیجیے عزیٰ کو جانے دیجیے یعنی ان کا ذکر بھی نہ کیجیے

(بحوالہ۔صحیح مسلم ج۲ص۳۳۳)
وفات
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد۲۵ برس تک زندہ رہیں
اور۱۱ رمضان ۱۰ نبوی اور ہجرت سے تین سال قبل۶۴ سال ۶ ماہ کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوکرعقبی کی طرف رخت سفر باندھ کر مالک حقیقی سے جاملیں
(بحوالہ۔بخاری ج۱ص۵۵۱)
چونکہ نماز جنازہ اس وقت تک تک مشروع نہیں ہوئی تھی اس لیےان کی لاش اسی طرح دفن کردی گئی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کوداعی اجل کے سپرد کردیا
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبرجحون میں ہے اور مرجع خلائق ہے
(بحوالہ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۱
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء *
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

 
سیپ's Avatar
سیپ
Administrator


تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
شکریہ: 5,802
6,280 مراسلہ میں 15,258 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 136
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
مون (09-02-11), محمدخلیل (10-02-11), رضی (08-02-11)
پرانا 09-02-11, 11:49 PM   #2
Senior Member
 
مون's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 1,672
کمائي: 14,886
شکریہ: 2,817
893 مراسلہ میں 1,674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مون آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کوشش, کلثوم, لڑکی, نماز, اللہ, اسلام, بہترین, بچپن, ترک, جواب, خدا, رمضان, زندگی, زمانہ, سفر, سال, شام, عقد, عالم, عبداللہ, عظمت, غالب, صفات, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب ابن یعقوب اقسام حدیث 16 24-05-10 10:03 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 0 28-10-09 09:28 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 3 12-10-09 01:53 AM
سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 02:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger