واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


داغ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-12-11, 07:11 AM   #1
داغ
رضی رضی آف لائن ہے 29-12-11, 07:11 AM

‎"داغ" میرے دوست کا لکھا ہوا افسانہ

سعید صاحب ہماری گلی میں رہتے تھے- عمر کوئی پچاس پچپن کے آس پاس رہی ہو گی- جوانی میں کافی دراز قامت تھے مگر بڑھاپے میں پاؤں پڑنے کی وجہ سے اب شانے کچھ ڈھلک سے گۓ تھے- رنگ گندمی، آنکھیں سیاہ مگر کسی قدر اندر کو دھنسی ہوئیں، چہرے پر متانت اور سنجیدگی کے واضح آثار جو عموما اس عمر کا خاصہ ہوتی ہے، سر اور داڑھی کے بال سفید جن کو وہ خضاب کی دبیز تہہ میں چھپائے رکھتے تھے، اور ماتھے پر محراب کا نشان جو انکے ضعف اور وقار میں مزید اضافہ کرتا تھا- وہ محلے کے ان چند دانا اور معاملہ فہم افراد میں شمار کیئے جاتے تھے جن کی رائے کو سب کی تائید حاصل ہوتی تھی- خصوصا محلے کے وہ قضئیے جو گھر کی چار دیواری میں حل نہیں ہو پاتے تھے ان میں سعید صاحب کی رائے کو طرفین بخوشی بطور ختمی فیصلہ قبول کر لیتے تھے- پنج وقتہ نمازی تھے اس لئے مسجد آتے جاتے میری ان سے ملاقات ہو جاتی تھی- عموما جب میں گلی کی نکڑ پر بنے تھڑے پر بیٹھ کر اپنے دوستوں سے خوش گپیوں میں مصروف ہوتا تو وہ گلی کے اس سمت سے نمودار ہو کر ایک ہانک لگاتے " سیف میاں! چھوڑو یہ ہلڑ بازی اور آؤ نماز پڑھ آئیں-"
میں انکی بات سن کر شرمندہ سا ہو جاتا اور وہ مزید کچھ کہے بغیر آگے بڑھ جاتے-
سعید صاحب کے تین بچے تھے- سب سے بڑی بیٹی تھی صائمہ جس نے حال ہے میں چارٹرڈ اکاونٹینسی (CA) مکمل کر کے ایک غیر ملکی کمپنی میں جاب سٹارٹ کی تھی- صائمہ عمر کی پچیس بہاریں دیکھ چکی تھی- لانبا قد، دودھیا رنگت، بلوری آنکھیں اور ان پر گلاب کی پتیوں کی طرح گھنی پلکوں کا سایہ، کمر تک بل کھاتی سیاہ زلفیں جن میں کہیں کہیں گھونگر پڑتے تھے اور چال میں نیم متوالا پن- اسکو محلے کے سب جوان لڑکے چندا کہتے تھے-دل میں تو سب کے ہی یہ خواہش بکل مارے بیٹھی تھی کہ کاش زمین پر اترے اس چاند کا اگر لمس نہیں تو کم از کم اس سے شرف ہمکلامی ہی ہاتھ آ جائے- مگر سعید صاحب کی خاندانی شرافت اور انکے ضعف کا ایسا اثر تھا کہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی-
سعید صاحب کے دو لڑکے بھی تھے- فیصل جو صائمہ سے چار سال چھوٹا تھا اور دوسرا قاسم جس کی عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی- فیصل گورنمنٹ کالج سے بی اے کر رہا تھا جبکہ قاسم بھی اسی کالج میں ایف ایس سی کا طالب علم تھا- سعید صاحب خود ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے جو کچھ سال پہلے ہی پنشن ہو کر گھر آئے تھے- سرکاری زندگی ایمانداری کے ریگزاروں پر گزاری تھی اسی وجہ سے اپنے لئے صرف دو کمروں کا ایک چھوٹا سا مکان ہی کھڑا کر پائے- انکا گھرانہ معاشی استطاعت کے لحاظ سے ثانوی درمیانے طبقے (Lower middle Class ) کا بہترین عکاس تھا- سعید صاحب اور انکی بیوی نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کی اور انکو زیور تعلیم سے آراستہ کیا- اور اب صائمہ کے نوکری لگ جانے سے سعید صاحب کافی مطمین تھے کہ چلو آمدن کا کوئی اور ذریعہ بھی پیدا ہوا ورنہ اس مہنگائی بھرے دور میں اتنی قلیل پنشن میں بھلا کب تک سفید پوشی کا بھرم قائم رہ سکتا ہے-
انہی دنوں مجھے بھی نوکری مل گئی اور میں ٹریننگ کے سلسلے میں دوسرے شہر چلا گیا- سال بھر کی ٹریننگ تھی جس دوران میں گھر نہ جا سکا- گھر والوں سے رابطہ بس خط و کتابت پر قائم رہا جس سے مجھے محلے والوں کا بھی جال احوال مل جاتا تھا- ٹریننگ کے بعد اسی شہر میں تقرری ہو گئی جہاں مجھے مزید ایک سال رہنا پڑا- دو سال بعد ہفتے کی چھٹی پر جب میں گھر آیا تو پتا چلا کہ محلے میں کافی بدلاؤ آ چکا ہے- میرے کافی دوست روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جا چکے تھے- اس دوران سعید صاحب سے تو میری ملاقات نہ ہو سکی مگر اتنا پتہ چلا کہ اب انکے گھریلو حالات کافی بہتر ہو چکے ہیں- پرانے مکان کی جگہ نئی طرز کے دو منزلہ مکان نے لے لی تھی- گھر میں اب آسودگی کا دور دورہ تھا- صائمہ اب بھی جاب کرتی تھی اور اب کسی اچھے عہدے پر پہنچ چکی تھی- بڑی شدید خواہش کے با وجود میں اسکے درشن نہ کر سکا- فیصل بی اے کے فائنل امتحان میں فیل ہو گیا تھا جسکا زیادہ تر وقت اب محلے کے اوباش نوجوانوں کے ساتھ گزرتا تھا- البتہ قاسم اب بھی کسی قدر سنجیدگی کے ساتھ اپنی پڑھائی میں مگن تھا-
چھٹی کے اختمام پر واپس پہنچا تو وقت کیسے گزرا پتہ ہی نہ چلا- مجھے اب گھر سے نکلے پانچ سال گزر چکے تھے- مہینے دو مہینے بعد ایک آدھ دن کی چھٹی مل جاتی تھی جو عموما گھر میں پڑے پڑے ہی گزر جاتی- محلے والوں سے اب اتنی صاحب سلامت بھی نہ رہی تھی- سعید صاحب کے گھر کا نقشہ اب کافی بدل چکا تھا- دومنزلہ سادہ سی عمارت کی جگہ اب ایک دل فریب کوٹھی تعمیر کی جا چکی تھی جسمیں خوبصورت قالین، جدید طرز کے صوفہ سیٹ اور انتہائی مہنگے پردوں سے آراستہ دیدہ زیب مہمان خانہ، کھلے روشن رہائشی کمرے جن کے باتھ رومز متصلہ تھے، وسیع باغیچہ جسمیں انواع اقسام کے پھول بوٹے تھے جو گھر میں ایک نئی بہار کی آمد کا اعلان کر رہے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ایک کشادہ کار پورچ جس میں اب ایک نئے ماڈل کی کار کھڑی تھی- سعید صاحب اب گھر سے کم ہی نکلتے تھے اور غالبا نمازیں بھی گھرمیں ہی ادا کرتے تھے اس لئے ان سے ملاقات کی کوئی صورت نہ ہو سکی- البتہ فیصل سے میری ملاقات ضرور ہوئی جس کو دیکھ کر مجھے شدید جھٹکا لگا- کہاں وہ خوبصورت آنکھوں والا کڑیل جوان اور کہاں یہ دبلا پتلا ہڈیوں کا ڈھانچہ جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں اور چہرے سے گوشت کا آخری لوتھڑا بھی پچکی ہوئی گالوں کے کہیں نیچے دب چکا تھا- ہونٹ سیاہ ہو چکے تھے اور دانتوں پر پیلاہٹ کی جمی پپڑیاں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ اب نشہ کرتا ہے- کچھ دوستوں کی زبانی معلوم ہوا کہ فیصل اب عادی نشئی بن چکا ہے- ہیروئن کے ساتھ ساتھ اس نے مختلف ڈرگز کے بھرے انجکشن بھی لگانے شروع کر دئیے تھے- قاسم بھی بی اے میں بری طرح فیل ہونے کے بعد پڑھائی کو خیر باد کہہ چکا تھا- اور اب اسکا شمار بھی محلے کے لفنگے لڑکوں میں ہونے لگا تھا-
صائمہ بدستور جاب کر رہی تھی- اسکے چہرے کی رعنا ئی تو ماند نہ پڑی مگر اب اسکی آنکھوں میں وہ پہلی سی چمک باقی نہ رہی تھی- اسکو دیکھ کے لگتا کہ جیسے وہ کسی اندرونی اضطراب میں مبتلا ہے-کوئی غم اندر ہی اندر اسکو دیمک کی طرح کھائے جا رہا ہے- اتنے بڑے گھر کے شاہانہ خرچے اسکی تنخواہ سے ہی پورے ہوتے تھے- اپنی والدہ کی زبانی مجھے پتہ چلا کہ صائمہ کے کئی رشتے آ چکے ہیں مگر سعید صاحب ہر بار کوئی نہ کوئی ہیچ نکال کر انکار کر دیتے ہیں- محلے والوں میں جن کا سعید صاحب کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا انھوں نے اپنے تئیں کچھ سمجھانے کی کوشش بھی کی " اب صائمہ کی عمر نکلی جا رہی ہے سعید- کوئی ڈھنگ کا رشتہ دیکھ کر بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دو- اگر کہو تو ہم کچھ مدد کریں؟"
مگر سعید صاحب جیسے انکی باتوں کو در خور اعتنا ہی نہ سمجھتے ہوں- بس "ہوں" کہہ کر بات آئی گئی کر جاتے- سعید صاحب کی یہ لا تعلقی دیکھ کر رفتہ رفتہ محلے والوں نے بھی کہنا چھوڑ دیا-
روزگار کے سلسلے میں مزید چار سال گزر گئے-اور اس دوران میری شادی ہو گئی-اب کی بار جب میں چھٹی پر آیا تو پتہ چلا کہ فیصل نشہ آور ادویات کے کثرت استعمال کی وجہ سے اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے اور ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے- قاسم اپنے ہی محلے کی ایک لڑکی کو گھر سے بھگا کر لے گیا ہے اور اب غالبا دوسرے شہر میں روپوش ہے- سعید صاحب بیمار رہنے لگے ہیں- اور انکی بیوی سارا دن انکے سرہانے بیٹھ کر اپنے گھر کی بربادی پر آنسو بہاتی ہے- صائمہ ابھی بھی جاب کر رہی ہے اور اب عمر کے چھتیسویں برس میں قدم رکھ چکی ہے- مگر اسکے چہرے کی بشاشت حیرت انگیز طور پر اب پھر سے لوٹ آئی ہے اور چال میں وہ عشوہ بھر آیا ہے جیسے دیکھنے والوں کو دعوت عام دے رہا ہو- وہ رات کو اب لیٹ گھر آتی ہے- اور جو کار اسکو محلے کی نکڑ پر ڈراپ کرتی ہے اسکے سیاہ شیشوں کے پیچھے کون ہے یہ کوئی نہیں جانتا- سعید صاحب روز اس کار کی آواز سنتے ہیں اور گلی کے اس نکڑ سے صائمہ کے گھر میں داخل ہونے تک وہ اپنے من میں اٹھنے والے بھیانک اندیشے کو یہ سوچ کر رام کر لیتے ہیں کہ " صائمہ بڑی با حیا بچی ہے- وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتی-"
مگر محلے کے لڑکوں کا خیال ہے کہ اب چاند پر داغ لگ چکا ہے-

(لا سیفی)
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

Last edited by سحر; 29-12-11 at 09:18 AM..

 
رضی's Avatar
رضی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 205
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
wajee (29-12-11), حیدر (29-12-11)
پرانا 29-12-11, 07:16 AM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سیفی صاحب یہ افسانہ نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے اور آپ نے ہمارے معاشرے میں موجود اس برائی کی طرف نشاندہی کی ہے ۔ ھوسکتا ہے آپکے اس افسانے میں صائمہ کوئی افسانوی کردار ہو ہمارے معاشرے میں کتنی ہیں حقیقی صائمہ ز اس کا شکار ہیں۔
ایک حساس موضوع پر قلم اٹھا کر آپ نے اچھا کیا اور امید کرتا ہوں معاشرے میں موجود ان بیماریوں کی بچھی چادروں پر آپ اپنے قلم کی نوک سے اسی طرح سوراخ کرتے رہیں گے۔

ویل ڈن
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (29-12-11), wajee (29-12-11), حیدر (29-12-11)
پرانا 29-12-11, 08:27 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

او مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ (29-12-11)
پرانا 29-12-11, 11:39 AM   #4
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
او مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بچھتائے کیا ہوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger